Skip to content
ظریفانہ:لوٹ کے بدھو گھر پہ آئے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن پنجابی نے کلن گجراتی سے پوچھا یار یہ بتاو کہ کیا ہمارے پردھان جی پکنک منانے کے لیے امریکہ گئے تھے ؟
کلن نے کہا یہی سمجھ لو سرکاری خرچ پر اگر پکنک پر جانے کا موقع ملے تو اس کو ن پاگل گنوائے گا ؟ لیکن تم یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہو؟
بھیا اس لیے ان کے جانے سے پہلے بھی ہمارے لوگوں کو ہتھکڑیا ں اور بیڑیاں ڈال کر امریکہ سے بھیجا جارہا تھا اور اب بھی وہ سلسلہ جاری ہے۔
ارے بھائی للن کیا تم جاوید اختر کے دادا کا وہ مشہور شعر نہیں سنا؟
کون سا شعر؟ مگر کیا شاعری جاوید صاحب کے باپ دادا کا پیشہ رہا ہے کیونکہ جاں نثار اختر بھی تو شاعر تھے؟
للن بولا جی ہاں مگر فرحان اختر نے شعر بنانے کاروبار چھوڑ کر فلمیں بنانے کا دھندا شروع کردیا ہے خیر شعر سنو :
وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد
ہاں بھائی ماننا پڑے گا کہ ٹرمپ نے کم ازکم اتنی مہربانی تو کی کہ پردھان جی کی موجودگی میں جہاز نہیں بھیج دیا ورنہ پکنک کے رنگ میں بھنگ پڑجاتا
بھیا دورے کا مزہ تو ٹرمپ نے پردھان جی پریس کانفرنس رکھ کربگاڑدیا۔ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارے پردھان اس بکھیڑے میں نہیں پڑتے۔
کلن بولا ہاں مگر امریکہ میں تو ٹرمپ کی مرضی چلے گی ہمارے پردھان جی کی نہیں کیا سمجھے؟
للن نےبگڑ کرکہا یہ کیا بات ہوئی ؟ مودی جی سبزی خور ہیں یعنی نورا انٹریو دیتے ہیں تو کیا ٹرمپ ان کو زبردستی گوشت کھلا دیں گے؟
لیکن اگر ہمارا پردھان جی بائیڈن کو دہلی میں پریس کانفرنس کرنے سے روک سکتےہیں تو وہ انتقاماً کانفرنس کرنے پر کیوں نہیں مجبور کر سکتے؟
ارے بھیا ٹرمپ تو بائیڈن کا جانی دشمن ہے۔
توکیا ہوا؟ آخر ہے تو امریکی نا؟ ؟ وہ اپنے بائیڈن کی طرف سے بدلہ کیوں نہیں لے گا؟؟؟
دیکھو کلن تم نے نہیں دیکھا کہ جب بائیڈن کا موازنہ ٹرمپ سے کیا گیا تو کیا ہوا؟
کلن نے کہا جی نہیں مجھے انگریزی نہیں آتی اس لیے میں امریکہ کے پروگرام نہیں دیکھتا ۔
ارے بیوقوف پردھان جی کو کہاں آتی ہے ۔ وہ بھی تو ٹیلی پرومپٹر پر دیکھ کر ہندی میں جواب دے رہے تھے۔
پریس کانفرنس میں ٹیلی پرومپٹر دیکھ کر جواب دینا کچھ سمجھ میں نہیں آیا؟
ارے بھائی ان کا سیکریٹری انگریزی میں سوال سن کر ہندی میں جواب لکھ دیتا ہوگا اور پردھان جی اس کو اپنی اسٹائل میں سنا دیتے ہوں گے۔
ہاں یار آج میری سمجھ میں نقلی ذہانت کا ستعمال آگیا۔ خود اپنے پاس جواب نہ ہو تو دوسرے کا جواب اپنے نام سے پیش کردو ۔
ارے واہ لیکن یہ فرق ٹرمپ کی سمجھ میں نہیں آیا اس لیے انہوں نےاے آئی کو بجلی سے جوڑ دیا ۔ پریس کانفرنس میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے
کلن بولا یار تم بائیڈن اور ٹرمپ کے موازنہ والے سوال کو بھول کر مودی اور ٹرمپ کا مقابلہ کرنے لگے ۔
بھیا ذرا پھسل گیا تھا معذرت چاہتا ہوں ۔ مودی سوال سمجھ نہیں سکے تو ہنسنے لگے اس پر ٹرمپ نے قہقہہ لگا کرکہا آپ کا سوال ا ورمیرا جواب حاضر ۔
حاضر جواب تو سنا تھا مگر جواب حاضر یہ خوب ہےلیکن ٹرمپ نے کیا بولے؟
وہی جو یہاں مودی حزب اختلاف کے ساتھ کرتے ہیں ،پھبتی کسی ، تمسخر اڑایا اور تحقیر کی ۔ بات ختم ۔
کلن خوش ہوکر بولا یعنی دونوں کے درمیان چور چور موسیرے بھائی کا رشتہ ہے۔ مجھے تو لگتا ہے دونوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔
بالکل سہی پکڑے ۔ یہ تو اس کہاوت کی طرح ہے ’رام ملائی جوڑی ایک اندھا ایک کوڑھی‘۔
یار میں جمہوریت کو دنیا کا سب سے اچھا نظام سمجھتا تھا لیکن اس نے عظیم ترین اور وسیع ترین جمہوریت کو ایسے رہنماوں سے نواز دیا تعجب ہے؟
بھائی دیکھوپہلے ملوکیت میں جیسا راجہ ویسی پرجا کا رواج تھا اب جمہوریت میں جیسی پرجا ویسا راجہ کا معاملہ ہے۔
بھیا یہی تو چالاکی ہے کہ دولت اور میڈیا کی مدد سے بیوقوف لوگ اقتدار میں آکر اپنی حماقت کا الزام عوام کے سر منڈھ دیتے ہیں ۔
للن بولا بھیا تمہاری یہ منطق میری پگڑی کے اوپر سے نکل گئی ۔ ذرا آسان کر کے سمجھاو تاکہ دماغ میں جائے۔
بھائی دماغ میں جانے کے لیے اس کا ہونا شرط ہے ۔ملوکیت میں بادشاہ اپنی غلطی کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جاتا تھا اب الزام ووٹر پر لوٹ آتا ہے۔
الزام کوچھوڑو اامریکہ سے لوٹنے والوں کی سوچو ۔ امریکہ انہیں ذلیل و رسوا کرکے بھیج رہا ہے جبکہ دہشت گرد حماس تحفے دے کررہا کر رہے ہیں
کلن بولا امریکہ خود دہشت گرد ہے اس کے کہنے سے کوئی دہشت گرد نہیں ہوجاتا۔ اسلام میں جنگی قیدیوں کے ساتھ اچھے سلوک کا حکم ہے۔
للن نے کہا یار لیکن اپنے پردھان کو دیکھو وہ ہمارےپنجاب کو بدنام کرنے کے لیے سارے جہاز امرتسر اتروا رہے ہیں جبکہ وہ مقدس شہر ہے۔
ارے بھائی پنجابیوں کو توان کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ جہاز سےاتر کر چند گھنٹوں میں گھر ۔ ہمیں تو بس سے دہلی اور پھر احمد آبادجاناپڑتا ہے۔
یار یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ٹرمپ کو نمستے کرنے کے لیے احمد آباد بلایا جاتا ہے اور جب وہ ہندوستانیوں کو لوٹاتا ہے تو امرتسر؟یہ کیا چکر ہے؟
ہاں یار یہ پریشانی تو ہے مگر ہم پھر بھی مودی بھگت ہی رہیں گے کیونکہ طہور رانا کو پھانسی دینے کے لیے لا یا جارہا ہے اس خوشی کے آگے سب ہیچ ہے
للن نے سوال کیا اچھا تو دہلی اسٹیشن پر اور کمبھ میلے کی بھگدڑ میں مرنے والوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں جن کی تعدادسرکار چھپا رہی ہے؟
ارے بھیا اس سےکوئی فرق نہیں پڑتا ۔ وہ تو موکش(نجات) حاصل کرنے والے خوش قسمت عقیدتمند ہیں ۔
اچھا تو کیا تو ان میں شامل ہونے کے لیے گیا تھا؟
کلن ہنس کر بولاجی نہیں میں پاگل ہوں کیا ؟ مجھے وی آئی پی پاس کا انتظار ہے مل جائے گا تو ہیلی کاپٹر میں چلا جاوں گا ورنہ ٹا ٹا بائی بائی۔
بھیا تم تو امریکہ سے سیدھے پریاگ راج پہنچ گئے اور فوجی جہاز سے اتر کر گنگا میں ڈبکی لگانے لگے ۔ اچھا یہ بتاو کہ امریکی شراب کا کیا چکر ہے؟
ارے بھائی اس پر ڈیوٹی نصف کردی گئی ہے کیونکہ اس کا نشہ ڈبل ہوتا ہےاور پردھان جی اسی کے نشے میں جھوم رہے ہیں۔
للن نے کہا یار عآپ دیسی شراب پر ڈیوٹی کم کرے تو پاپ اور پردھان جی امریکی دارو کو سستا کریں تو پونیہ؟ یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی۔
اوہو للن اتنا بھی نہیں جانتے اسے ’ہم کریں تو کتھا کلی اور تم کرو تو مجرا‘ کہتے ہیں ۔ ہارلی ڈیوڈسن چلانے سے قبل امریکی شراب کا مزہ ہی کچھ اور ہے
یہ ڈیوڈ سن کہیں طہوررانا کا وہ دوست تو نہیں جو ممبئی بم دھماکے کا ماسٹر مائنڈ تھا اور جس کو ہمارے پردھان جی بھول گئے۔
نہیں بھائی وہ تو ڈیوڈ ہیڈلی ہے۔ یہ اس امریکی موٹر سائیکل کا نام ہے جس پر بجٹ میں ٹیکس پچاس سے گھٹا کرتیس فیصد کردیا گیا ہے۔
للن نے کہااچھا یہ بات ہے مگر تم پردھان جی کےایف 35 کے بجائے موٹر سائیکل میں الجھ کر رہ گئے ۔ بہت چھوٹی سوچ ہے تمہاری ۔
چھوٹی سوچ میری نہیں پردھان جی کی ہے ورنہ وہ ایسا بھنگار جہاز خرید کر نہیں لاتے ۔
اچھا تو کیا وہ کباڑ ہے؟ اتنے مہنگے جہاز کو کباڑ کہنے میں تمہیں شرم نہیں آتی؟
مجھے کیوں ؟ پردھان جی کو آنی چاہیے۔ اس جنگی جہاز کو تو خود ٹرمپ کا دستِ راست ایلون مسک کباڈ کہہ چکا ہے۔
للن بولا اچھا اس کے باوجود ٹرمپ نے اس کو اپنی کابینہ میں شامل کرلیا۔ ٹرمپ کی کشادہ دلی تعجب خیز ہے۔
اس میں حیرت کی کیا بات ٹرمپ بھی مسک کا اسی طرح احسانمند ہے جیسے اڈانی کے مودی ہیں احسانمندی بہت بڑی چیز ہے۔
یار لیکن ٹرمپ کی مجبوری کو ہم کیوں ڈھوئیں ؟ ہم اس کا کچرا کیوں خریدیں؟
پردھان جی کی مجبوری اڈانی کو چھڑانا ہے۔ اس کے خلاف امریکہ میں وارنٹ ہے۔ کل کو اگر وہ گرفتار ہوجائے تو مودی کا کیا ہوگا؟
للن بولا مجھے معلوم ہے وہ پوشیدہ راز اگل دے گا تو خود پردھان جی بھی پھنس جائیں گے ۔ کیا اس لیے مجبوراً تھرڈ کلاس جہاز خریدنے پڑے۔
کلن بولا لیکن بھائی پاکستان کے خلاف وہ جنگی جہاز ضروری ہے۔
ارے بھائی اس سے بہتر جنگی جہازتو پاکستان کو چین دے چکا ہے۔
ہاں مگر ہمیں نہیں دے گا کیونکہ وہ ہم کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔
ارے بھائی چین نہ سہی روس تو ہمارا دوست ہے ۔ وہ ہمیں اس سے بہتر اور سستا جہاز دینے کے لیے تیار ہے ۔
کلن نے سوال کیا اچھا تو ہم نے اس پر امریکہ کو ترجیح کیوں دی؟
وہی اڈانی کو گرفتاری سے بچانے کی خاطر یہ مکھی نگلنی پڑی ۔ ورنہ روس تو ہمیں ٹکنالوجی بھی دے رہا تھا۔ ہم آگے چل کر اسے یہیں بناسکتے تھے۔
یار یہ توکھلی بلیک میلنگ کا معاملہ ہوگیا۔ اس طرح ہم لوگ کب تک امریکہ کے آگے اپنی قومی سلامتی کو داوں پر لگاتے رہیں گے۔
یہ بھی کوئی سوال ہے ؟ جب تک اڈانی اور ان کے سر پر گرفتاری کی تلوار لٹکتی رہے گی یہی ہوگا ۔
للن نے پوچھا اچھا تو کیا اس وقت تک ہمارے لوگ امریکہ سےرسوا ہوکر آتے رہیں گے اور مودی جی اس پر ایک حروف نہیں بولیں گے۔
جی ہاں لگتا تو ایسا ہی ہے لیکن ان کے پاس گودی میڈیا ہے جو ہے وہ ان کا ڈنکا بجا بجا کر عوام کو گمراہ کرتا رہے گااور وہ الیکشن جیتتے رہیں گے ۔
للن بولا ہاں بھائی ایسا ہے تو اور کیا چاہیے؟
Like this:
Like Loading...