Skip to content
تحفظ ختم نبوت اور کرنے کے اہم کام.
نصیحت: مفتی سلمان صاحب منصور پوری.
بموقعہ چار روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ دار العلوم دیوبند
جمع و تربیت : محمد ریحان ورنگلی
اللہ نے جو دین عطا فرمایا ہے، وہ کامل و مکمل ہیں، اب اس میں کسی کو انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں ہیں؛ اس لئے کہ واجب الاطاعت ذات اللہ کی ہیں ،اور اللہ اپنی ھدایات بذریعہ کتاب یا بذریعہ رسول عطا فرماتے ہیں، اور کتاب کا سلسلہ بھی بند ہیں، اور رسول کا سلسلہ بھی بند ہیں، کتاب اللہ کے بعد نہ تو کوئی کتاب نازل ہونے والی ہیں اور نہ آپﷺ کے بعد کسی نبی کو نبوت سے نوازا جانے والا ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ جو دین اس وقت ہمارے سامنے ہیں وہ کامل ہوچکا ہیں؛ اب اس میں کسی بھی شخص کے ذریعہ اضافہ ممکن نہیں ہے؛ اگر نبوت کا تسلسل باقی مانا جائے گا تو لازما یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دین ابھی ناقص ہیں، نئے نبی کی بات اگر مانے تو پہر دین ناقص ہوگا کہ اب نیا نبی واجب الاطاعت ہوگیا؛ اگر دین کو کامل مانے تو واجب الاطاعت ذات آپﷺ کی ہیں؛ اس لئےجتنے لوگ پہلے گذرے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ لیا کہ آگے آنے والا اور خاتم النبیین کی پیروی کرنا ہے؛ اگر ہم اس وقت تک زندہ رہیں گے تو لازما ان کی اتباع کریں گے، یہ میثاق پچھلے انبیاء سے لیا گیا تھا، اب کے لوگوں سے یہ عہد لیا گیا کہ کتب سابقہ پر یقین رکھنا یہ معیار رکھا گیا ورنگلی”بما انزل الیک وما انزل من قبلک” اگر آپ کے بعد بھی نبوت کا مقام ہوتا تو ایک اور جملہ بڑھتا من بعدک لیکن قبلک پر بات ختم ہے یہ دلیل ہے کہ دین کی تکمیل ہوچکی ہیں؟ وباالآخرة ھم یوقنون اس کی واضح دلیل ہیں اور جو دعوے کرتے ہیں جھوٹے نبی ہونے کی حیثیت سے یا مہدی ہونے کہ حیثیت سے ان کی باتیں قابل قبول نہیں ہیں۔
ہمارے اکابرِ دیوبندؒ ام کا یہ امتیاز ہیں کہ ہم احقاقِ حق بھی کرتے ہیں اور ابطالِ باطل سے بھی غافل نہیں رہتے؛ وجہ یہ ہیں کہ ابطالِ باطل کے بغیر احقاقِ حق ممکن نہیں ہے؛ لہذا جو بھی باطل نظریات ہیں چاہے وہ قادیانی یا شکیلی کسی بھی شکل میں ہو ان سب کی تردید ان کی بنیادی باتیں معلوم کرنا یہ ہمارے منصب کی ذمہ داری ہیں ۔
اور عوام کے اندر بھی خوش اسلوبی کے ساتھ بات کریں، مخالف کے ساتھ بھی خوش اسلوبی سے بات پیش کی جائے تو وہ قبول کرلیتا ہیں؛ لیکن اگر اچھی بات بھی غلط طریقے سے کہا جائے تو وہ بیکار ہیں اس کو آگے والا قبول نہیں کرے گا، اور مناظر کا کمال یہ ہیں وہ کبھی غصے میں نہ آئے، غصے میں آنے والا سامنے والے کو کبھی مطمئن نہیں کرسکتا ہیں ۔
Like this:
Like Loading...