Skip to content
غزہ،23فروری(ایجنسیز)حماس نے ہفتہ کے روز غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے ساتویں اور آخری تبادلے کے تحت چھ اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کردیا۔ حماس نے تین زیر حراست اسرائیلی فوجیوں کو نصیرات کیمپ میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور غزہ سٹی میں قید ہشام السید کو بغیر کسی عوامی تقریب کے حوالے کیا ۔ اس سے قبل رفح شہر میں دو یرغمالیوں کو حوالے کیا گیا۔
إيليا ميمون إسحق كوهن، وعمر شيم توف، وعومر فنكرت کو نصیرات کیمپ سے رہا کیا گیا۔ تال شوهام اور افيرا منجيستو کو رفح شہر میں حوالے کیا گیا۔ ھشام السید کو غزہ سٹی میں رہا کیا گیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیل نے تصدیق کی تھی کہ اس کو شیری بیباس کے نام سے ملنے والی لاش کی باقیات کا تعلق شیری سے ہی ہے۔ جمعہ کو اسرائیل نے کہا تھا کہ ملنے والی چار لاشوں میں سے ایک لاش طے کردہ لاش نہیں اور شیری کی جگہ کسی فلسطینی خاتون کی لاش حوالے کردی گئی ہے۔
رفح شہر میں حماس کے بندوق برداروں کی طرف سے تال شوهام اور افيرا منجيستو کو ایک پلیٹ فارم پر لے جانے کے بعد بین الاقوامی ریڈ کراس کے نمائندوں کے حوالے کیا گیا۔ یاد رہے یہ چھ قیدی 33 کے گروپ کے آخری زندہ یرغمالی ہیں جو 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے تھے۔
رہا ہونے والے چھ میں سے چار یرغمالیوں کو اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو یرغمال بنایا تھا۔ ہشام السید اور افيرا منجيستوکو اسرائیل نے تقریبا ایک دہائی قبل گرفتار کیا تھا۔ یہ دونوں الگ الگ واقعات میں غزہ میں داخل ہونے پر حراست میں لیے گئے تھے۔ حماس کی طرف سے کی گئی رہائی کے لیے ایک عوامی تقریب منعقد کی گئی ۔ تقریب میں یرغمالیوں کو ایک پوڈیم پر لایا گیا تھا اور ان میں سے کچھ کو بولنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے قیدیوں کی پریڈ کی مذمت کی گئی تھی۔
آئی ڈی ایف کے ترجمان اور شن بیت سکیورٹی سروس کے ترجمان کی طرف سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا واپس لوٹائے گئے دو یرغمالیوں کو اب غزہ کی پٹی میں آئی ڈی ایف اور شن بیٹ فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز اور شن بیٹ فورسز کی ایلیٹ یونٹ اس وقت واپس آنے والے دو یرغمالیوں کو اسرائیل لے جارہی ہے جہاں ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا جائے گا۔
فلسطینی قیدیوں کے کلب نے اعلان کیا ہے کہ ان یرغمالیوں کے بدلے میں 602 فلسطینی اسیران کو رہا کیا جائے گا جن میں سے 50 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں میں سے 108 کو فلسطینی علاقوں سے باہر بھیج دیا جانا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے، جو یکم مارچ کو ختم ہو رہا ہے، میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ حماس 33 یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔ جن میں سے آٹھ مر چکے ہیں۔ ان کے بدلے میں اسرائیل اپنی جیلوں میں قید 1900 فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔ ابھی تک حماس اور اس کے اتحادی دھڑوں نے حراست میں لیے گئے افراد کو حوالے کرنے کے عمل کو احتیاط سے منظم کیا تھا لیکن جمعرات کو لاشوں کے حوالے کرنے کے پہلے عمل میں چار تابوت ایک پلیٹ فارم پر آویزاں کیے گئے تھے جن کے اوپر نیتن یاہو کا خاکہ تھا۔
اس سے قبل جمعہ کی شام ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حماس نے لاشوں کی نئی باقیات اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ موصول شدہ باقیات اسرائیلی حکام کے حوالے کردی گئیں اور بعد میں حکام نے تصدیق کی کہ اسے شیری بیباس کی باقیات مل گئی ہیں۔ قبل ازیں اسرائیل نے تھا کہ چار لاشوں میں سے ایک لاش جسے شیری بیباس کی لاش کہا گیا تھا اصل میں بیباس کی لاش کی باقیات نہیں ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق تباہ کن اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں کم از کم 48,319 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت خواتین، بچوں اور عام شہریوں کی ہے۔ جنگ بندی نے لڑائی روک دی ہے لیکن جنگ کے مستقل خاتمے کے امکانات ابھی تک غیر واضح ہیں۔ غزہ کے مستقبل پر اختلافات کی وجہ سے پائیدار معاہدے کی امیدیں کم ہوتی جارہی ہیں۔
Like this:
Like Loading...