Skip to content
گنٹور، 22 فروری (پریس نوٹ) مدرسہ عائشہ صدیقہ للبنات گنٹور آندھرا پردیش کا سالانہ اجلاس حافظ عبدالقادر فیضی کی صدارت میں نہایت روح پرور ماحول میں منعقد ہوا، جس میں طالبات نے خوبصورت تعلیمی مظاہرہ پیش کیا، اس کے علاؤہ جید علمائے کرام نے مدارس کی اہمیت، تعلیم نسواں کی ضرورت اور دینی تعلیمات کے فروغ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اس اجلاس کے مہمان خصوصی مفتی عبدالعزیز اللحجی قاسمی (استاد حدیث و فقہ، جامعہ اشرف العلوم حیدرآباد) مولانا رفیق قاسمی مولانا زاہد رضی اللہ بیگ قاسمی حیدرآباد مولانا شیخ احمد مظاہری مفتی خواجہ شریف مظاہری کاماریڈی تھے، مفتی عبدالعزیز اللحجی قاسمی اپنے خطاب میں دینی و تعلیمی خدمات کی قبولیت، اخلاص کی برکت اور اللہ کی مدد پر بصیرت افروز گفتگو کی۔ اور کہا کہ ہر کام کی قبولیت اللہ کی مرضی پر منحصر ہے، اور اگر اخلاص، لگن اور قربانی نہ ہو تو غیبی مدد حاصل نہیں ہوتی، اکابرین کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دعا صرف الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل سے اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے حضرت علامہ تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ذکر کیا کہ جس دعا کے بعد دل میں اطمینان اور آنکھوں میں آنسو آ جائیں، وہ دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے۔ انہوں نے سلسلۂ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب کوئی بندہ دین کی خدمت کے لیے مخلص ہو کر خود کو لگا دیتا ہے تو اللہ کی نصرت اس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔ امام رازی کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور بندے کی سخاوت پر توجہ دلائی اور سامعین کو تلقین کی کہ دین کے تمام کام اللہ کی مدد اور توفیق سے ہوتے ہیں، اس لیے مدارس کی مالی معاونت کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ دین کی شمع روشن رہے۔
مولانا اسماعیل قاسمی اور معلمات کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے مدرسے کی اراضی کی خریداری پر مبارکباد پیش کی اور تعمیراتی کاموں کی تکمیل کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی۔ مفتی عبدالباسط قاسمی (صدر مجلس العلماء و جمعیۃ علماء گنٹور) نے تمام معلمات کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ عصر حاضر میں عقائد کے تحفظ کے لیے بچیوں کی تعلیم و تربیت نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے مدرسے کے قرض کے بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے اہل خیر حضرات سے مالی تعاون کی پرزور اپیل کی تاکہ دین کی یہ عظیم خدمت جاری رہ سکے۔
مولانا حسین احمد مظاہری (امین عام مدرسہ دارالعلوم شفیقیہ گناورم وجئے واڑہ) نے اپنے خطاب میں علم اور اہلِ علم کی اہمیت پر مفصل روشنی ڈالی اور سامعین کو مدارس دینیہ کے استحکام میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دی۔ اس اجلاس میں علماء کرام، معلمات، معاونین، سرپرستوں اور اہل خیر حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مدرسے کی تعلیمی و دینی خدمات کو سراہا۔ اجلاس کا اختتام مولانا عبدالباسط قاسمی کی دعا پر ہوا، جس میں حاضرین نے اللہ تعالیٰ سے دین کی سربلندی اور مدارس کے استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ اس موقع پر مولانا محبوب مولانا جلال الدین مولانا مصطفی مولانا کلیم اللہ مولانا مجاہد ندوی، مفتی آصف ندوی، عبدالقوی رشادی، مولانا منور اسعدی، حافظ جیلانی کے علاؤہ دیگر موجود تھے۔
Like this:
Like Loading...