Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نیکیوں کا موسم بہار: رمضان المبارک کی منصوبہ بندی، کیوں اور کیسے؟
بقلم: امدادالحق بختیار
( )استاذ حدیث وعربی ادب جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد – انڈیا،
Mob: +91 9032528208- E-mail: ihbq1982@gmail.com
بےشمار برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ، لا تعداد بندوں کی مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ، غم خواری اور ہمدردی کا مہینہ، جہنم کے بند ہونے اور جنت کے کھلنے کا مہینہ، یعنی رمضان مقدس کی مہینہ آمد آمد ہے، ایسا مہینہ جس کا ایک ایک سیکنڈ () انمول ہے، ایسا مہینہ جس کا دن بھی عبادتوں سے لبریز اور جس کا دن بھی عبادت اور تلاوت سے پُرنور ہے، ایسا مہینہ جس میں ذرا سی غفلت بھاری نقصان کا سبب ہو سکتی ہے؛ کیوں کہ یہ کمائی (Earning)کا ایسا موسم ہے، جس میں محنت کرنے والوں کو پورا پورا حق اور بہترین اور بڑا معاوضہ دیا جاتا ہے۔
اس لیے اس مہینہ کی ایسی پلاننگ کرنا، ایسا نظام بنانا کہ اس کا کوئی وقت اور حصہ ضائع نہ جائے، بہت ضروری ہے؛ کیوں کہ جیسےایک کامیاب تاجر سیزن (Season)آنے سے تین چار مہینہ پہلے ہی اپنی تجارت کی مکمل منصوبہ بندی کرتا ہے، جیسے مال کہاں سے لانا ہے، کہاں سپلائی کرنا ہے، لیبرس (Labors)کو کیسے ہائر (Hire)کرنا ہے؛ چنانچہ جو یہ سب تیاری کرلیتا ہے، وہ سیزن آنے پر اپنی تجارت سے بھرپور نفع کماتا ہے۔ اسی طرح ایک کسان بھی ایسا ہی کرتا ہے، کسی بھی فصل کے موسم سے دو تین مہینہ پہلے سے ہی زمین کی تیاری شروع کرتا ہے، بیج (Seed)فراہم کرتا ہے، سنچائی کا انتظام کرتا ہے؛ تاکہ عین سیزن کے آنے کے وقت ہر چیز (Intact)رہے اور سیزن سے وہ فائدہ اٹھائے۔
لہذا رمضان المبارک جو نکیوں، برکتوں، رحمتوں، عبادتوں، تلاوت، اور مغفرت وغیرہ کا سیزن ہے، اللہ تعالی کی طرف سے بلا حساب وکتاب یہ تمام نعمتیں اطاعت گزار بندوں کو عطا کی جاتی ہیں، ہمیں بھی اس ماہ کی آمد سے قبل، ان تمام نعمتوں کو بھر پور طریقے سے حاصل کرنے کے لیے پوری تیاری اور پلاننگ کرنی چاہیے؛ تاکہ ہمارے حصے میں یہ نعمتیں زیادہ سے زیادہ آسکیں اور ہم خدا نخواستہ اس ماہ کے محرومین میں سے نہ ہو جائیں، اس کے لیے ہمیں بالترتیب درج ذیل کام کرنے چاہیے:
رمضان کی آمد کا اشتیاق اور اس کی دعا
اس کے لیے سب سے پہلے ہمارے اندر رمضان کی تڑپ اور اس کا اشتیاق ہونا چاہیے، جس کی ظاہر علامت یہ ہے کہ ہم رمضان کے انتظار میں ایک ایک دن شمار کرنے والے اور اہتمام سے کیلنڈر دیکھنے والے ہوں، جس طرح ہم کسی سفر یا اپنی کسی تقریب کی تاریخ کے انتظار میں رہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی میں ہمیں یہ نمونہ ملتا ہے، نبی ﷺ کا ارشادِ پاک ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ». (سنن الترمذي، بَابُ مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، 739) ترجمہ: رمضان کی آمد کے لیے شعبان کے مہینہ کے چاند (کی تاریخوں) کو شمار کرو۔
اسی طرح رمضان جیسا عظیم مہینہ پانے کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں، نبی کریم ﷺ سے درج ذیل دعائیں منقول ہیں: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ». (الدعاء للطبراني، باب القول عند دخول رجب، 911) ترجمہ: اے اللہ! برکت عطا فرما ہمارے لیےرجب اور شعبان کے مہینہ میں اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔ عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ: «اللَّهُمَّ سَلِّمْنِي لِرَمَضَانَ، وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِي، وَتَسَلَّمْهُ مِنِّي مُتَقَبَّلًا» (الدعاء للطبراني، باب القول عند دخول رمضان، 913) سنده حسن. ترجمہ: اے اللہ ہمیں رمضان کے لیے صحیح سلامت رکھ اور رمضان کو ہمارے لیے سلامت رکھ، اور ہماری طرف سے رمضان (کی عبادتوں) کو قبول فرما۔
اپنا جائزہ اور رمضان سے متعلق آیات و احادیث ترجمہ کے ساتھ پڑھنا
رمضان کی پلاننگ میں سب سے پہلے اپنا جائزہ(Introspection) لیں، کہ ہماری زندگیوں کی حالت کیا ہے، ہم روحانی، ایمانی اور اسلامی طور پر کہاں کھڑے ہیں۔ اسلام کے لیے ہمارا کتنا کمٹمنٹ (Commitment)ہے، دین سے کتنی واقفیت ہے، قرآن ہم کتنا جانتے ہیں ؟ رمضان کے بارے میں ہماری معلومات کتنی ہے؟ چنانچہ ہم رمضان سے پہلے رمضان کے متعلق قرآن میں جتنی آیتیں ہیں، ان کا ترجمہ کے ساتھ مطالعہ کریں، رمضان سے متعلق جتنی صحیح احادیث ہیں، ہم ان کو ترجمہ ساتھ پڑھیں، تاکہ ہمیں رمضان کی صحیح قدر وقیمت معلوم ہو سکے، اگر ہمیں رمضان المبارک کے بارے میں ہی معلوم نہ ہوگا، تو پھر ہم اس سے کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟ روزہ کے احکام وفضائل کیا ہیں، سحر وافطار کے فضائل اور ثواب کیا ہیں، تراویح کا ثواب کیا ہے، وغیرہ وغیرہ ۔۔؟
اسی طرح اپنے مزاج اور اخلاق کے احتساب کی ضرورت ہے، اس مہینہ میں اخلاق اور مزاج کی تربیت ہوتی ہے، لہذا ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ہم اخلاقی طور پر کس لیول (Level) پر ہیں۔
نظام الاوقات بنانے کی ضرورت
اسی طرح منصوبہ بندی کے حوالے سے نظام الاوقات اور ٹائم منیجمنٹ (Time Management) کی ضرورت ہے، رمضان المبارک میں ہم اپنا نظام اس طرح بنائیں کہ زیادہ سے زیادہ وقت ہم عبادت میں گزاریں اور اپنی نیکیوں میں اضافہ کر سکیں، روحانیت میں اضافہ کر سکیں۔ خاص طور پر ہماری خواتین کا بڑا وقت عام طور پر کچن میں لگ جاتا ہے، لہذا اس کی پہلے سے اگر وہ صحیح منصوبہ بندی کر لیں، سحری اور افطار کا مینو (Menu)پہلے سے بنا لیں، اس کے ضروری لوازمات اور اشیاء پہلے سے انتظام کر لیں اور ٹائم کے ساتھ ساری چیزوں کا اہتمام کر لیں تو ان کا کافی وقت بچ سکتا ہے۔ اسی طرح کی عید کی شاپنگ کے نام پر ہمارا اور ہماری خواتین کا قیمتی وقت بازاروں کی نذر ہوجاتا ہے، کیا اچھا ہوتا کہ رمضان سے پہلے ہی ان سب ضروری چيزوں کی خریداری کر لی جاتی ۔
طلبہ اور نوجوان حضرات سونے کا وقت متعین نہیں کرتے، ان کے سونے کا وقت طویل ہو جاتا ہے، جب کہ (6-8) گھنٹے کی نیند جسم اور صحت کے لیے کافی ہے، لہذا اگر وہ سونے کے اوقات متعین کر لیں، تو باقی سولہ گھنٹے کی وہ تعلیم کے ساتھ منصوبہ بندی کر سسکتے ہیں۔
روحانی ترقی کے لیے تیاری
یہ مہینہ روحانی ترقی (Spiritual Development) کا موسم ہے، یہ روحانی ترقی کا زمانہ ہے، گیارہ مہینوں کی کمی پوری کرنا، روزہ، قرآن، نماز یہ سب روحانی ترقی کا زینہ ہیں، دعاؤں کی تیاری ہو، دعاؤں کی کتابوں کا انتظام پہلے سے کر لیں، ان سب سے سپرچول ڈویلپمنٹ ہوگا۔ اسی طرح روحانی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ رمضان سے قبل ہی حقوق واجبہ ادا کر دیں، کسی کا قرض لیا ہے، تو اسے واپس کر دیں، کسی کا پیمنٹ (Payment)باقی ہے، تو اسے پے (Pay) کر دیں، کسی کی کوئی اور چیز ہمارے پاس ہو یا ہمارے ذمہ میں ہو، جیسے کسی کا مکان، دوکان، زمین وغیرہ ہو، تو اسے واپس کر دیں، کسی کو تکلیف پہنچائی ہے، کسی کو برا بھلا کہا ہے، کسی کو طعنہ دیا ہے، تو اس سے معافی تلافی کر لیں۔ یاد رکھیں! کہ اگر کوئی شخص ساری رات تہجد پڑھے، دن بھر روزے رکھے، لیکن دوسروں کا دل دکھائے، تو اس کو اللہ تعالی کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی، ایک روایت میں ہے کہ ایک عورت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان کیا گیا کہ وہ دن میں روزے رکھتی ہے اور رات بھر تہجد پڑھتی ہے، لیکن پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جہنمی ہے۔ (مسند احمد: 9298)
حقوق اللہ سے متعلق جو کمی اور کوتاہی ہوئی، ان سب کو پورا کرلیں، نمازیں قضا ہوں، تو وہ ادا کر لیں، روزے قضا ہوں تو انہیں رکھ لیا جائے، اماں عائشہ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں قضاء روزہ شعبان میں پورے کرتے تھے۔
نیز رمضان سے پہلے سچی پکی توبہ کر کے، اپنے آپ کو پاک و صاف کر لیں، اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوکر، روئیں، گڑگڑائیں، تمام گناہوں کے چھوڑنے کا عہد کریں، دوبارہ نہ کرنے کا عزم کریں، اور ان گناہوں پر اپنی شرمندگی اور غلطی کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ کے حضور میں خوب روئیں، ان شاء اللہ ، اللہ تعالی ہمارے تمام گناہ معاف کر دے گا۔
اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش
اپنی شخصیت میں تبدیلی لانے، یعنی (Self-Improvement) کی فکر کریں، اپنے اخلاق کی درستگی کی طرف توجہ کریں، جیسے حدیث میں آتا ہے کہ کوئی روزہ کی حالت میں جھگڑا کرے، تو اس سے لڑے نہ؛ بلکہ کہہ دے میرا روزہ ہے۔ یعنی رمضان میں اپنے غصہ پر قابو کرنے کی مشق کرنی ہے اور ارادہ رکھنا ہے کہ رمضان کے بعد بھی یہ نہیں کرنا ہے۔
روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنے کی ممانعت ہے؛ لہذا اپنی زبان کی نگرانی کرنا نہایت ضروری ہے، اسی طرح رمضان کے مہینہ میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی کے برتاؤ کی ہدایت ہے، یہ تمام کام ہماری شخصیت کے ڈویلپمنٹ (Personality Development) کے لیے ہے، یہ پرسنالٹی کا گروتھ (Personality Growth)ہے۔ اسی طرح اس ماہ مبارک میں ہم اپنے ایموشنس (Emotions)کو کنٹرول (Control)کریں، اپنے ریلشن شپس (Relationship)کو بہتر بنانے کی فکر کریں۔
کمیونیٹی ڈویلپمنٹ (Community Development)پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، رمضان مواسات اور غم گساری کا مہینہ ہے، امت مسلمہ کی صورت حال یہ ہے کہ ہماری ایک بڑی آبادی غربت سے جوجھ رہی ہے، سلمس (Slums )علاقوں میں جاکر غربت اور افلاس کی حقیقت دیکھ سکتے ہیں، کتنے بچے ہیں جو اسکول کی فیس نہیں دے سکتے ۔ کتنی خواتین غربت کی وجہ سے برائیوں میں مبتلا ہیں۔ وہاں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ امت مسلمہ کی معاشی اور اخلاقی صورت حال کو بہتر بنائیں اور اس کی منصوبہ بندی کریں۔
روحانی ترقی میں موبائل فون کی رکاوٹ
موبائل فون اور ٹی وی کے استعمال پر کنٹرول کریں، یہ ایک اڈکشن (Addiction)ہے، یہ ایک بیماری ہے، یہ ایک اضطراری کیفیت ہے؛ لہذا ان کے اوور یوسیز (Over Uses)پر اسٹاپ لگائیں، بہت افوس ہوتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں بھی یہ شیطانی ڈوائس (Device) ہمارے ساتھ لگی رہتی ہے، ہم مسجد میں بھی اس کی اسکرین سے نگاہیں نہیں ہٹا پاتے، روزہ کاٹنے کا کھلونہ اس کو بنا رکھا ہے، ہماری بعض خواتین موبائل اور ٹی وی پر روزہ کے اوقات گزارتی ہیں اور رمضان کی رحمتوں کی شب کے قیمتی اوقات ضائع کرتی ہیں، جس کی نحوست سے اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے رحمتیں اور عنایتیں بھی واپس ہو جاتی ہیں۔
ان کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا
آخری بات، ہماری زندگی میں متعدد رمضان آتے جاتے ہیں؛ لیکن نہ ہماری روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے، نہ اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، نہ بری عادتیں چھوٹتی ہیں، نہ گناہ چھوٹتے ہیں، نہ نمازوں کی پابندی ہوپاتی ہے، ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں کہ ہم نے یہ تمام رمضان تیاری اور منصوبہ بندی کے بغیر گزاردیے؛ لہذا رمضان آیا اور گیا اور ہم جہاں تھے وہیں رہے، ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہ آسکی، ہم رمضان سے صحیح طریقہ پر مستفید نہیں ہو سکے؛ لہذا ضرورت ہے، اس بات کی کہ ہم رمضان کی آمد سے پہلے اس کی پوری پلاننگ کریں، نظام الاعمال بنائیں، اس مہینہ کی شب و روز کی ترتیب بنائیں؛ کیوں کہ کامیاب اور ہوشیار بندہ مومن وہی ہے، جو رمضان کے آنے کے بعد منصوبہ بندی نہیں کرتا؛ بلکہ پہلے سے اس کی تیاری کرتا ہے اور اس کے اعتبار سے رمضان المبارک گزارکر اور زیادہ سے زیادہ سے وقت عبادت اور تلاوت وغیرہ میں صرف کرکے رمضان کی خیرات وبرکات، رحمت و مغفرت سے مالا مال ہو جاتا ہے ۔
Like this:
Like Loading...