Skip to content
دبئی،24فروری،(ایجنسیز) چند روز سے اس طرح کی خبریں گردش میں ہیں کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شام کے جنوب میں بعض علاقوں کی آبادی کو پُر کشش پیش کشیں کی جا رہی ہیں۔ یہ سلسلہ سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد سے جاری ہے جب اسرائیلی فوج نے جبل الشیخ اور القنیطرہ صوبے کی پہاڑیوں اور دیہی علاقوں کا کنٹرول لے لیا تھا۔
اگرچہ اسرائیل کی جانب سے سرکاری طور پر اس حوالے سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا تاہم شام کے جنوبی حصے میں تعینات اسرائیلی فوج نے وہاں فوجی اڈے قائم کر لیے اور اپنے فوجیوں کے لیے رہائشی عمارتیں بھی بنا لیں۔ القنیطرہ میں ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی کی آبادی کو معاشی پیش کش بھی کی ہے۔
مذکورہ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر شام کے جنوب میں ان علاقوں میں آبادی کا شمار کیا جہاں اس کی فورس تعینات ہیں۔ اس کا مقصد رہنے والوں کی تعداد، عمر، تعلیمی قابلیت اور کام کے بارے میں جان کاری حاصل کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقامی آبادی کو اسرائیلی اراضی کے اندر روزگار کے مواقع دینے کا وعدہ بھی کیا۔
البتہ مقامی ذرائع کے مطابق یہ وعدے اسرائیل میں شامیوں کی بھرتیوں کی حد تک نہیں پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بعض لوگوں کو کام کی پیش کش کی ہے کہ وہ صبح اسرائیل میں داخل ہوں اور کام کے بعد رات میں واپس شام لوٹ آئیں جیسا کہ غزہ کی پٹی میں ہوا کرتا تھا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان لوگوں کے لیے ورک پرمٹ (اجازت نامے) پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ بالکل وہ ہی معاملہ ہے جو اسرائیلی فوج اپنے زیر کنٹرول اراضی میں کام کرنے والے فلسطینیوں کے ساتھ کرتی تھی۔ اس سلسلے میں جس تنخواہ کی پیش کش کی گئی ہے وہ شام میں ملنے والی تنخواہ کے مقابلے میں بڑی شمار ہوتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے وعدہ کیا ہے کہ ہر کام کرنے والے کو روزانہ 75 سے 100 ڈالر کی اجرت ملے گی۔ یہ درحقیقت شام میں اقتصادی بحران کی روشنی میں وہاں کے ایک شامی ملازم کو ملنے والی کئی ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے۔
Like this:
Like Loading...