Skip to content
ون پوائن ویژن اور مشن-
نئی نسل کی اچھی اور معیاری تعلیم
ازقلم:ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
ہم بھارت کے مسلمان ہیں۔ بھارت کی دو قدرتی پہچان ہے۔ ایک ہمالیہ پہاڑ اور دوسری گنگا ندی۔ ہمالیہ پہاڑ اتنا وسیع و عریض، اونچا اور مضبوط ہے کہ نہ کوئی اس کو توڑ سکتا ہے اور نہ مٹا سکتا ہے۔ مدر آف آل بومب بھی اس کے وجود کو مٹا نہیں سکتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح بھارت کے مسلمانوں کو کوئی ختم نہیں کرسکتا ہے۔ جب تک بھارت ہے اور جہاں تک بھارت ہے یہ مسلمانوں کا وطن مالوف ہے۔ اسی طرح گنگا ندی چاہے اس میں کوئی کتنی بھی گندگی ڈالے اور اس کے پانی کو ٹوکیٹ بنانے کی کوشش کرے گنگا ندی ہمیشہ سے پاک تھی اور پاک رہے گی۔ یہ دوسروں کی گندگی دھوتی ہے۔ دوسروں کو پاپ سے مکت کرتی ہے لیکن خود کبھی ناپاک اور گندہ نہیں ہوتی ہے۔ ٹھیک یہی فطرت مسلمان کی ہے۔ تو اسے پیمانہ امروز فردہ سے نہ ناپ۔ برتر از اندیشہ سود و زیاںہے زندگی۔ ہمیں اس ملک میں ہمالیہ پہاڑ کی طرح مضبوط اور بلند اور گنگا کی طرح پاک اور پوتر بن کر جینا ہے۔
آزادی کے پچھتر سال بیت گئے اور ہم ابھی تک تاریخ کی اندھیری راہ داریوں سے باہر نکل نہیں سکے ہیں۔ اس وقت جو لوگ اس ملک کے کرتا دھرتا ہیں ان کاایجنڈا بہت واضح ہے۔ اس سے نہ ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ ماتم کنا ںاور نوحہ خواں ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کا جواب سختی سے اپنے ایمان موقف پر جمے رہنا ہے، اور صبر و عزیمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ حالات دن رات کی طرح ہیں۔ ابھی رات ہے کچھ دیر کے بعد انشاء اللہ ضرور صبح ہوگی اس ایمان اور یقین کے ساتھ یہ کالی مدت گزارنی ہے۔ صبح سے پہلے جتنا ممکن ہے چراغ جلاکر اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کیجیے اور صبح میں تازہ دم اور حوصلہ مند بن کر کیسے جاگنا ہے اس کی تیاری میں لگ جائیے۔
ان پچھتر برسوں میں نہ جانے گنگوتری نے کتنا کروڑ کیوبک میٹر صاف اور پاک پانی گنگا ندی میں بہادیا مگر لوگوں کی بداعمالیوں نے اس کوگدلا، گندہ، ناپاک اور ناقابلِ استعمال بنادیا ہے۔ اس ایک مثال سے ملک کے سماج اور سیاست کو سمجھا جاسکتا ہے۔ جب لوگ اپنی آستھا کے ساتھ کھلواڑ کرسکتے ہیں تو آپ کے ساتھ اگر ان کا مجرمانہ رویہ ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ بہرحال میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایک زندہ اور باحوصلہ قوم کی طرح اپنا ایک پچیس سالہ ویژن اور مشن طے کرنا چاہتے تاکہ ملک جب آزادی کے سو سال کا جشن منا رہا ہو تو ہم بھی اپنی کامیابی کا جشن منانے میں پیچھے نہ رہیں۔
کل کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا ہے۔ حالات بہتر بھی ہوسکتے ہیں اور بدتر بھی ہوسکتے ہیں۔ مستقبل کی خبر صرف اللہ کو ہے۔ ہمیں سخت ترین حالات میں بھی اللہ سے اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ مگر اس وقت جو ملک کے حالات اور قرائین ہیں اس سے اس بات کا اندیشہ قوی ہے کہ مستقبل قریب میں حالات مزید خراب ہوں گے۔ لہٰذااس بات کو جان سمجھ کر اپنی منصوبہ بندی یعنی مشن اور ویژن طے کرنا ہوگا۔ قرآن پاک نے پکے اور سچے مومنوں کی ایک صفت یہ بیان کی ہے کہ جب آزمائشوں کا ریلا ان کی طرف آتا ہوا نظر آیا تو وہ بالکل نہیں گھبرائے بلکہ ان کا ایمان بڑھ گیا اور وہ پکار اٹھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں جن حالات سے باخبر کیا تھا وہ چیز ان کے سامنے آگئی اور اس نے ان کے ایمان کو بڑھایا اور راہِ مستقیم پر ان کے قدم جمادئیے اس کا نتیجہ یہ ہوا جو چیز ناممکن نظر آرہی تھی اور لگتا تھا کہ سب کچھ مٹ جائے گا اہلِ ایمان کی استقامت اور اللہ کی مدد نے اس کو ممکن کردکھایا۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی اسی طرح سے قائم ہے۔ لہٰذا ہمیں ہر طرح کے حالات کا جائزہ لے کر اپنے مشن اور ویژن کو طے کرنا ہے تاکہ آزمائشوں کی سختی ہمارے منصوبے میں خلل پیدا نہ کرسکے۔ یہاں میں صرف ون پوائنٹ مشن کی بات کروں گا، باقی باتیں آئندہ ہوں گی۔
ہمارا پہلا مشن اور ویژن یہ ہے کہ اس وقت جو مسلمان بچے اور بچیاں پرائمری اسکولوں اور ہائی اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور جو جنوری اور فروری 2025میں پیدا ہوئے ہیں یا اس سال ہوں گے ملک جب آزادی کا سو سال منا رہا ہوگا اس وقت ان کی عمر 25 سال ہوگی۔ ہم اس نسل کو اپنا ٹارگٹ گروپ بنائیں اور اپنے اس ہیومن ریسورس کو ورلڈ کلاس ریسورس میں تبدیل کردیں۔ جس کے لیے ہمارے پاس واضح منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ ہمارا ایک ایک بچہ قیمتی ہے، سونے چاندی میں تلنے کے لائق ہے، چاہے وہ جھگی جھونپڑی میں پیدا ہوا ہے یا محل میں۔ اس کی اچھی بنیادی اور معیاری تعلیم اس کا اولین انسانی اور ایمانی حق ہے۔ لہٰذا اس کی اچھی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اولاً ماں باپ کی، دوسری سرکار اور تیسری سماج کی ہوگی۔ تعلیم کے معاملے میں ہمیں تین باتوں پر دھیان دینا ہے (۱) بچوں کی ذہنی نشوونما(Cognitive Development) (۲) جسمانی نشوونما(Physical Development) اور (۳) اخلاقی نشوونما(Moral Development) اس طرح تعلیم کا مقصد مکمل شخصی نشوونما(Total Personality Development) ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اچھی معیاری اور وقت کے مطابق تعلیم اور مضبوط جسم اور مضبوط کردار اور اعلیٰ اخلاق کے بغیر ملت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اس لیے آزادی کے پچھتر سالوں میں ملت کو جن مسائل میں الجھا کر رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں ایک فورم بناکر یہ ذمہ داری ان کو سونپ دینی چاہیے اور ملک میں ملک گیر سطح پر، ریاستی سطح پر، ضلعی اور سب ڈویژن کی سطح پر، بلاک، پنچایت، میونسپلٹی اور وارڈ کی سطح پر ایک تعلیمی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے جو نیشنل لیول کی تعلیمی کمیٹی کے زیرِ نگرانی تعلیم کا ہمہ گیر منصوبہ بنانے اور اس کو مشن موڈ میں نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ قومی تعلیمی پالیسی کا وہ حصہ جو ہمارے لیے مفید ہے اور ہوسکتا ہے اس کو سامنے رکھ کر اور بین الاقوامی حالات اور سائنس، ٹکنالوجی، آرٹی فیشنل انٹی جینس کو دھیان میں رکھ کر ایک اعلیٰ درجہ کی ملی تعلیمی پالیسی بنانے چاہیے اور اس کو نافذ کرنے کااہتمام کرنا چاہیے۔ ہم کو ہر چیز سے زیادہ اس پر توجہ دینی ہے اور سند باد کی طرح راستے میں چاہے جتنے مشکلات آئیں اپنی منزل پر پہنچنا ہے۔ میں تمام زعمائے ملت سے اور ملک میں جتنے بھی ملی تعلیمی اداروں کے ذمہ دار ہیں ان سے درخواست کروں گا کہ آپ سب ایک جگہ جمع ہوں اور ایک واضح تعلیمی پالیسی بناکر ملی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کریں۔ یہی شاید ہماری بقا کا ضامن ہے۔
Website: abuzarkamaluddin.com, Mobile: 9934700848
Like this:
Like Loading...