Skip to content
پاپولزم کا جال: جب لیڈر خود اپنے بیانیے کے اسیر ہوتے ہیں
✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
دنیا کے سیاسی منظرنامے میں پاپولزم (Populism) ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس نے کئی ممالک میں روایتی سیاست کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عوام کے جذبات سے کھیلنے، امیدوں کے خواب بیچنے، اور ایک بڑے دشمن کی تصویر کشی کے ذریعے کئی عالمی رہنما اقتدار میں آئے، لیکن جب انہیں عملی فیصلے لینے کا وقت آیا تو وہ خود اپنے ہی بیانیے کے قیدی بن گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور وولودومیر زیلنسکی اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ دونوں ایک "انقلابی تبدیلی” کے نعرے پر اقتدار میں آئے، دونوں نے اپنے عوام کو ایک عظیم مستقبل کا خواب دکھایا، اور دونوں نے روایتی سیاستدانوں کے خلاف سخت موقف اپنایا۔ لیکن جب عالمی سفارت کاری اور طاقت کی سیاست کا سامنا ہوا، تو انہیں احساس ہوا کہ حقیقت جذباتی نعروں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں جو کچھ ہوا، اس میں نہ صرف ٹرمپ اور زیلنسکی کا طرزِ عمل بلکہ پبلک اسکروٹنی (Public Scrutiny) اور میڈیا کے دباؤ نے بھی ایک بڑا کردار ادا کیا۔ کیمروں کے سامنے لیڈران کو "کمزور” دکھائی دینے کا خوف ہوتا ہے، کیونکہ ان کے فالورز انہیں ایک "ہیرو” کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات سفارتی تعلقات اور قومی مفادات کے بجائے، سیاسی بقاء اور مقبولیت زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ یہ رجحان صرف امریکہ یا یوکرین تک محدود نہیں۔ بھارت میں نریندر مودی، برطانیہ میں بورس جانسن، پاکستان میں عمران خان، اور برازیل میں بولسونارو—سبھی نے کسی نہ کسی شکل میں قوم پرستی، کرپشن مخالف بیانیے اور اسٹیبلشمنٹ دشمنی کو استعمال کرکے اقتدار حاصل کیا۔ لیکن جب عملی فیصلوں کا وقت آیا، تو ان میں سے بیشتر کو یا تو پالیسی سے یوٹرن لینا پڑا یا پھر نئے جذباتی بیانیے گھڑنے پڑے تاکہ عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
پاپولزم کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے:
جب کوئی لیڈر عوام کے جذبات کو بھڑکا کر اقتدار میں آتا ہے، تو وہ لچکدار پالیسی اختیار کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے فالورز اسے ایک "مسلسل جنگ لڑنے والے” کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر وہ حقیقت پسندی کی طرف آتا ہے، تو اس کی مقبولیت کم ہو جاتی ہے، اور اگر وہ سخت گیر موقف پر قائم رہتا ہے، تو اس کے ملک کو عملی نقصانات پہنچتے ہیں۔ یوں، وہ خود اپنے بیانیے کا قیدی بن جاتا ہے، اور اس کے لیے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں بچتا۔ کیا پاپولزم ہمیشہ ایک نقصان دہ چیز ہوتی ہے؟ یا کیا کوئی ایسا راستہ ہے کہ ایک پاپولسٹ لیڈر اپنی عوامی مقبولیت اور قومی مفادات کے درمیان توازن قائم رکھ سکے؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جوابات آنے والے وقت میں عالمی سیاست کی سمت متعین کریں گے۔
یہ تجزیہ سیاست اور سفارت کاری میں "پبلک اسکروٹنی” (Public Scrutiny) کے کردار کو بہت عمدگی سے بیان کرتا ہے۔ جب معاملات بند دروازوں کے پیچھے ہوتے ہیں، تو سیاست دان یا سفارت کار اپنی انا کو ایک حد تک قابو میں رکھ سکتے ہیں اور مفاہمت کی طرف جا سکتے ہیں، کیونکہ وہاں براہِ راست عوامی ردعمل کا دباؤ نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے ہی وہی گفتگو کیمروں کے سامنے آتی ہے، تو ہر لفظ، ہر اشارہ، ہر ردعمل ایک پرفارمنس بن جاتا ہے، جو نہ صرف وہاں موجود افراد بلکہ پوری دنیا کے لیے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات عالمی رہنما کیمروں کے سامنے ضرورت سے زیادہ سخت موقف اختیار کر لیتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ نرم پڑ گئے تو ان کے سیاسی کیریئر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے فالورز، ووٹرز اور قوم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کمزوری نہ دکھائیں، چاہے پسِ پردہ وہ جانتے ہوں کہ نرم رویہ اپنانا زیادہ سود مند ہوگا۔
یہ بھی سچ ہے کہ میڈیا اور کیمروں کی موجودگی بعض اوقات غیر ضروری سفارتی کشیدگی کو جنم دیتی ہے، کیونکہ وہاں سیاست دانوں کے پاس "بیچ میں رکنے” یا "بعد میں وضاحت دینے” کا موقع نہیں ہوتا۔ وہ لمحہ براہِ راست ان کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اسی لیے وہ فوری، سخت اور اکثر جذباتی ردعمل دے بیٹھتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ دو افراد اگر نجی طور پر کسی معاملے پر بحث کر رہے ہوں تو وہ زیادہ آسانی سے ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن وہی بحث اگر مجمع کے سامنے ہو تو "عزّت بچانے” کی نفسیات غالب آ جاتی ہے، اور پھر ضد، انا اور جذبات، مسئلے کو اور بڑھا دیتے ہیں۔
پچھلی دہائی میں عالمی سیاست میں پاپولزم (Populism) کا رجحان بہت زیادہ دیکھنے کو ملا، اور ٹرمپ اور زیلنسکی اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ ٹرمپ نے "Make America Great Again” کا نعرہ لگا کر خود کو ایک غیر روایتی لیڈر کے طور پر پیش کیا، جب کہ زیلنسکی نے یوکرین میں کرپشن کے خلاف سخت موقف اختیار کرکے عوام کو ایک نیا خواب دکھایا۔ پاپولزم کی سب سے بڑی طاقت یہی ہوتی ہے کہ یہ عوام کی مایوسی، غصّے اور امیدوں کو ایک جذباتی بیانیے میں ڈھال کر پیش کرتا ہے۔ لوگ روایتی سیاست دانوں سے تنگ آ چکے ہوتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ وہ کرپٹ ہیں، کمزور ہیں یا عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ ایسے میں جب کوئی لیڈر آکر کہتا ہے کہ "میں تمہیں عظیم بنا دوں گا، میں تمہیں دنیا میں سب سے آگے لے جاؤں گا، میں ان کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلاؤں گا”، تو یہ باتیں لوگوں کو بہت پرکشش لگتی ہیں۔
یہ صرف امریکہ یا یوکرین تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں یہی فارمولا کامیاب رہا ہے۔ چاہے وہ برازیل میں بولسونارو ہوں، بھارت میں نریندر مودی، برطانیہ میں بورس جانسن، یا ترکی میں اردگان—سبھی نے کسی نہ کسی شکل میں قوم پرستی، قومی عظمت اور روایتی سیاستدانوں کے خلاف بیانیہ بنا کر اقتدار حاصل کیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان نعروں کو عملی جامہ پہنانا اکثر مشکل ہوتا ہے، کیونکہ دنیا کی سفارتی، اقتصادی اور داخلی حقیقتیں نعرے بازی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ جب یہ لیڈر اقتدار میں آتے ہیں، تو یا تو وہ اپنے نعروں پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، یا پھر وہ ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جو ملکی اور عالمی سطح پر مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔
پاپولسٹ سیاستدان صرف ایک لیڈر نہیں ہوتے بلکہ اکثر اپنے فالورز کے لیے ایک نظریہ، ایک امید، اور بعض اوقات ایک عقیدے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان پر کرپشن، بدعنوانی، یا کسی اور طرح کے الزامات لگتے ہیں، تو ان کے حامی ان الزامات کو یا تو جھوٹ قرار دیتے ہیں یا انہیں "اسٹیبلشمنٹ” کی سازش سمجھتے ہیں۔ لیکن جہاں تک 2020ء کے امریکی صدارتی انتخابات کی بات ہے، وہاں ٹرمپ جو بائیڈن سے ہار گئے تھے، نہ کہ جیتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور بے بنیاد دعوے کیے کہ ان سے دھاندلی ہوئی، لیکن وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس میں واپس نہیں آسکے۔ تاہم، ان کی مقبولیت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی، اور وہ اب بھی امریکی سیاست میں ایک بڑا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ پاپولزم کے فالورز کے لیے "لیڈر کی شخصیت” سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، نہ کہ ان کی پالیسیز یا اخلاقی اقدار۔ ان کے نزدیک وہ لیڈر ایک ایسا "نجات دہندہ” ہوتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ، روایتی سیاستدانوں، اور کرپٹ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ اس لیے جب ان پر کوئی الزام لگتا ہے، تو ان کے حامی اسے مخالفین کی چال سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ یہ صرف امریکہ تک محدود نہیں، دنیا میں جہاں بھی پاپولسٹ لیڈر ابھرتے ہیں، وہاں ان کے فالورز میں ایک طرح کا "بلائنڈ فیتھ” (اندھا یقین) دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ کے خیال میں، کیا پاپولزم ہمیشہ ایک منفی چیز ہوتی ہے، یا کچھ مثبت پہلو بھی رکھتی ہے؟
پاپولزم کا اصل ہتھیار جذباتی نعرے ہوتے ہیں، جو وقتی طور پر عوام کو متاثر کرتے ہیں، لیکن ان کے عملی اثرات زیادہ دیرپا نہیں ہوتے۔ مودی، ٹرمپ، عمران خان، بورس جانسن—سبھی نے ایک ایسا خواب بیچا جو ان کے ووٹرز کو پرکشش لگا، چاہے وہ حقیقت پر مبنی ہو یا نہ ہو۔
1. مذہب اور قوم پرستی کا کارڈ:
مودی نے ہندو ازم، ٹرمپ نے سفید فام بالادستی اور عیسائی قدروں، عمران خان نے خودمختاری اور کرپشن کے خلاف جہاد، جب کہ بورس جانسن نے برطانوی خودمختاری کا نعرہ مارا۔ ہر لیڈر نے اپنے ملک کی عوام کو یہ باور کرایا کہ "ہم ایک عظیم قوم ہیں، لیکن ہمیں روایتی سیاستدانوں نے برباد کر دیا ہے، اور میں ہی وہ واحد لیڈر ہوں جو ہمیں دوبارہ اوپر لے جا سکتا ہوں۔”
2. حقیقت اور خواب میں فرق:
بریگزٹ: عوام کو یقین دلایا گیا کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ ایک خودمختار اور خوشحال ملک بن جائے گا، لیکن بعد میں پتا چلا کہ اس سے معیشت کو بڑا نقصان پہنچا، مہنگائی بڑھ گئی، اور درآمدات مہنگی ہو گئیں۔
ٹرمپ: "Make America Great Again” کے پیچھے ایک جذباتی قوم پرستانہ لہر تھی، لیکن اس کے دور میں امریکہ زیادہ تقسیم ہوا اور عالمی سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا۔
مودی: ہندو قوم پرستی نے انہیں تین بار اقتدار دلوایا، لیکن اقلیتوں کے خلاف تشدد، معیشت میں سست روی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے مسائل ابھرے۔
عمران خان: اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور "غلامی سے آزادی” کا نعرہ دیا، لیکن جب اقتدار میں آئے تو ان کے اپنے قریبی ساتھیوں کے مالی سکینڈلز سامنے آنے لگے۔
3. فالورز کا اندھا اعتماد:
ایک بار جب عوام کسی لیڈر پر یقین کر لیتے ہیں، تو وہ اس کی خامیوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر الزام ایک سازش بن جاتا ہے، اور ہر اسکینڈل کو جھوٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے ٹرمپ پر درجنوں مقدمے ہوں، عمران خان پر کرپشن کے الزامات ہوں، مودی پر گجرات کے فسادات کا داغ ہو، یا بورس جانسن پر جھوٹ بولنے کے اسکینڈلز—ان کے حامی انہیں کبھی غلط تسلیم نہیں کرتے۔
4. پاپولسٹ لیڈرز کا فائدہ:
یہ لیڈر ایک خاص وقت کے لیے مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں، اقتدار حاصل کرتے ہیں، اور جب ان کے نعرے حقیقت میں تبدیل نہیں ہو پاتے، تو یا تو وہ کوئی نیا بیانیہ بنا لیتے ہیں (مثلاً عمران خان کا "امریکی سازش” والا بیانیہ) یا پھر وہ سیاست سے نکل کر آرام دہ زندگی گزارنے لگتے ہیں، جیسے بورس جانسن، جو اب مزے سے کتابیں لکھ رہے ہیں اور تقاریر کے لاکھوں پاؤنڈ کما رہے ہیں۔
5. عوام کب سمجھتی ہے؟
بریگزٹ کے بعد جب معیشت متاثر ہوئی، تو برطانوی عوام کو احساس ہوا کہ وہ ایک جھوٹے نعرے پر یقین کر بیٹھے تھے۔ اسی طرح، جب امریکہ میں ٹرمپ کی پالیسیاں ناکام ہوئیں، تو ان کے کئی ووٹرز مایوس ہوئے۔ لیکن بعض اوقات عوام کو حقیقت کا اندازہ بہت دیر سے ہوتا ہے، اور بعض دفعہ وہ دوبارہ اسی نعرے پر یقین کر لیتے ہیں۔
جدید سیاست میں پاپولزم کے اصولوں کو اگر سمجھنا ہو تو ٹرمپ، مودی، عمران خان، بورس جانسن، اور زیلنسکی جیسے لیڈرز بہترین مثالیں ہیں۔ عقل اور سفارتی مہارت سے زیادہ جذباتی نعرے بازی سیاست میں کامیابی دلاتی ہے، کیونکہ عوام کو ہمیشہ کوئی ایسا شخص چاہیے جو انہیں خواب بیچ سکے، نہ کہ حقیقت کی سختیاں سمجھائے۔
زیلنسکی اور یوکرین کی صورتحال:
زیلنسکی نے پاپولزم کا وہی فارمولا اپنایا جو دیگر لیڈرز نے اپنایا تھا—قوم کو عظیم بنانے کا خواب اور ایک بڑے دشمن کی تصویر کشی۔ انہوں نے روس کو سب سے بڑا دشمن قرار دیا اور نیٹو میں شمولیت کا وعدہ کیا، حالانکہ روس کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کا مطلب براہِ راست جنگ کی راہ ہموار کرنا تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ یوکرین کی جغرافیائی اور سیاسی حقیقتیں کسی جذباتی فیصلے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھیں۔ ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور یورپ صرف زبانی حمایت کریں گے، لیکن جنگ ہوئی تو لڑنا یوکرینی عوام کو پڑے گا—اور یہی ہوا۔
پاپولسٹ سیاست کے اصول:
1. نعرے سچ سے زیادہ اہم ہوتے ہیں
آپ کو حقیقت پسندانہ پالیسیاں نہیں، بس ایسا خواب بیچنا ہوتا ہے جو جذبات کو گرما دے۔
زیلنسکی نے نیٹو میں شمولیت اور روس کو سبق سکھانے کی بات کی، حالانکہ یہ زمینی حقائق کے خلاف تھا۔
2. سمجھداری کم، جذبات زیادہ چلتے ہیں
اگر آپ حقائق پر بات کریں گے تو لوگ آپ کو بزدل یا روایتی سیاستدان سمجھیں گے۔
اگر آپ کہیں کہ جنگ سے تباہی آئے گی، تو لوگ کہیں گے کہ آپ میں حوصلہ نہیں ہے۔
اگر آپ کہیں کہ دشمن سے بات چیت ہونی چاہیے، تو آپ پر غداری کا الزام لگے گا۔
3. "دشمن” کو بڑا بنا کر پیش کرنا لازمی ہے
پاپولسٹ سیاست میں آپ کو ایک ایسا دشمن دکھانا ہوتا ہے جو آپ کے خواب کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہو۔
مودی کے لیے وہ مسلمان اور پاکستان ہیں، ٹرمپ کے لیے تارکین وطن اور لبرلز، عمران خان کے لیے اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ، اور زیلنسکی کے لیے روس۔
اگر دشمن نہ ہو تو قوم کو متحد کرنے کے لیے کوئی اور ہتھیار نہیں بچتا۔
4. عظمت اور انقلاب کے نعرے ہمیشہ کام کرتے ہیں
"ہم غلام نہیں ہیں”، "ہم عظیم قوم بنیں گے”، "ہم دنیا کو دکھا دیں گے”—یہ نعرے ہمیشہ ووٹرز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
عمران خان کا غلامی کے خلاف بیانیہ، مودی کا ہندوتوا، بورس جانسن کا "Take Back Control”، اور زیلنسکی کا "ہم دنیا میں اپنا مقام بنائیں گے”—سب ایک ہی اصول پر مبنی ہیں۔
پاپولزم کا مسئلہ کیا ہے؟
یہ الیکشن جیتنے کے لیے بہترین، لیکن ملک چلانے کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ کیونکہ جب خواب بیچے جاتے ہیں، تو حقیقت کی زمین پر آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
یوکرین میں یہی ہوا—زیلنسکی نے قوم کو ایک خواب دکھایا، لیکن جب روس نے حملہ کیا، تو یورپ اور امریکہ نے محدود مدد کی اور یوکرینی عوام کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
کیا پاپولزم ہمیشہ برا ہوتا ہے؟
نہیں، اگر پاپولسٹ لیڈر نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندانہ فیصلے بھی کرے، تو وہ تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر پاپولسٹ لیڈرز ایسا نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے جذباتی بیانیے سے ہٹ کر حقیقت پسندانہ بات کریں تو ان کی مقبولیت کم ہو سکتی ہے۔
جب کوئی لیڈر پاپولزم کے زور پر اقتدار میں آتا ہے، تو وہ اپنے فالورز کے سامنے کمزور یا لچکدار نظر آنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کے حامی اسے ایک "ہیرو”، "نجات دہندہ” اور "انقلابی لیڈر” کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جیسے ہی وہ کوئی سمجھوتہ کرتا ہے، یا حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرتا ہے، تو اس کی "عظمت” کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اور زیلنسکی، دونوں ہی کسی بھی قیمت پر اپنے فالورز کے جذباتی بیانیے سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔
وائٹ ہاؤس میں جو کچھ ہوا، اس میں دونوں کیوں مجبور تھے؟
1. زیلنسکی: وہ یوکرین میں ایک "انقلابی” لیڈر کے طور پر ابھرے تھے، جو نوجوان نسل کو یقین دلا چکے تھے کہ وہ یوکرین کو آزاد، طاقتور اور نیٹو کا حصہ بنا کر روس کو شکست دیں گے۔ اگر وہ کسی بھی قسم کا نرمی کا اشارہ دیتے، تو ان کے حامی انہیں "کمزور” یا "روسی ایجنٹ” سمجھ لیتے۔
2. ٹرمپ: ان کا پورا سیاسی بیانیہ یہی تھا کہ "میں امریکہ کو عظیم بنا رہا ہوں، اور میں کمزور نہیں ہوں۔” اگر وہ زیلنسکی کو زیادہ دھکا دیتے، تو یہ ان کے فالورز کو ایک "کمزوری” لگتا۔ دوسری طرف، اگر وہ زیلنسکی کو کھل کر سپورٹ کرتے، تو ان پر روس کے ساتھ سازباز کے الزامات مزید بڑھ جاتے۔
پاپولزم کی یہ سب سے بڑی کمزوری ہے: جب آپ ایک جذباتی بیانیہ بنا لیتے ہیں، تو پھر آپ کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ آپ کو ہر حال میں "سخت گیر” نظر آنا ہوتا ہے، چاہے حقیقت میں یہ نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ نرم رویہ اپنائیں، تو آپ کے اپنے فالورز آپ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر، ٹرمپ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑی، لیکن امریکی معیشت کو خود نقصان پہنچایا، پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹے، کیونکہ وہ "کمزور” نہیں لگنا چاہتے تھے۔ مودی نے زرعی قوانین بنائے، لیکن جب کسانوں نے احتجاج کیا، تو وہ کئی مہینے اَڑے رہے، کیونکہ اگر فوراً پیچھے ہٹتے تو ان کی "سخت گیر لیڈر” کی امیج متاثر ہوتی۔ عمران خان نے امریکی سازش کا بیانیہ بنایا، اور اب اگر وہ امریکہ سے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، تو ان کے اپنے فالورز ناراض ہو جائیں گے۔
تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ پاپولسٹ لیڈر صرف جیتنے کے لیے سیاست کرتا ہے، حکومت چلانے کے لیے نہیں۔ وہ سخت موقف اپناتا ہے، کیونکہ نرمی دکھانے سے اس کے فالورز بدظن ہو سکتے ہیں۔ جب وہ ایک بار جذباتی بیانیہ بنا لیتا ہے، تو اسے خود بھی اس بیانیے کا قیدی بننا پڑتا ہے۔
پاپولزم ایک طاقتور سیاسی ہتھیار ہے جو عوام کے جذبات، امیدوں اور خوف کو نعرے اور بیانیے میں ڈھال کر اقتدار تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہوتی ہے کہ یہ حقیقت کی پیچیدگیوں سے زیادہ جذباتی بیانیے پر انحصار کرتا ہے۔ پاپولسٹ لیڈرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل ایک سخت گیر اور انقلابی موقف اپنائے رکھتے ہیں، چاہے وہ پالیسیوں کے لحاظ سے عملی نہ ہو۔
زیلنسکی، ٹرمپ، مودی، عمران خان، بورس جانسن اور دیگر پاپولسٹ رہنما اس حقیقت کی زندہ مثالیں ہیں کہ عوامی مقبولیت حاصل کرنا ایک چیز ہے، لیکن پائیدار اور حقیقت پسندانہ قیادت فراہم کرنا بالکل الگ معاملہ ہے۔ جو لیڈر اپنی مقبولیت کو پائیدار اصلاحات میں تبدیل نہیں کر پاتے، وہ یا تو عوام کی توقعات کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں یا پھر اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں پر ڈال کر نئے بیانیے تشکیل دیتے ہیں۔
حقیقی قیادت کا تقاضا یہ ہے کہ نعرے بازی سے آگے بڑھ کر عملی پالیسیاں بنائی جائیں جو قوم کو ترقی اور استحکام کی طرف لے جائیں۔ ایک ایسے دور میں جہاں عوامی جذبات کو بھڑکانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے، یہ ضروری ہے کہ سیاست کو وقتی نعروں کے بجائے طویل المدتی سوچ اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی پر استوار کیا جائے۔ ورنہ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جذباتی سیاست کا انجام یا تو مایوسی ہوتا ہے، یا تباہی۔
(02.03.2025)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...