Skip to content
کیا مہاراشٹر میں پیشوائی لوٹ آئی ہے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر کی حکومت مہایوتی سرکار نے ابھی صرف تین ہی ماہ مکمل کیے مگر اس دوران اس قدر ہنگامہ آرائی ہوئی کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے پہلے والے پانچ سالوں میں بھی نہیں ہوئی تھی ۔ پربھنی میں ڈاکٹر بابا صاحب کے مجسمہ کی بے حرمتی سے شروعات ہوئی ۔ ان کے ہاتھ میں آئین کی علامت کو دن دہاڑے بھیڑ بھاڑ میں توڑ دیا گیا ۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو پاگل بتا کر بچانے کی کوشش کی گئی مگر احتجاج کرنے والوں سے میں سے ایک طالبعلم کو پولیس حراست میں قتل کردیا گیا۔ اس شودرکے اہل خانہ سے ملنے کی خاطر برہمن وزیر اعلیٰ خود تو نہیں گیا مگر راہل گاندھی سمیت جو سیاسی رہنما مزاج پرسی کے لیے گئے ان پر تنقید کردی ۔ اس کے بعد بیڑ میں ایک سرپنچ کو ریاستی وزیر کا قریبی نے سفاکی سےقتل کردیا ۔ قاتل کو پہلےسرکاری تحفظ دیا گیا مگر دباو بڑھنے پر اس نے شان سےگرفتاری دی اور پولیس نے اس پر قتل کا الزام لگانے سے گریز کیا ۔
ان مظالم پر پردہ داری کے لیے چھاوا فلم کی مدد لی گئی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کو ظالم بتا کر سمبھاجی راجے کو گرفتار کروانے کا الزام او بی سی شرکے برادران پر ڈالا گیا۔ شرکے خاندان نے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کی دھمکی دی تو فلمساز نے معافی مانگ کر یہ اعتراف کرلیا کہ جھوٹ کا یہ پلندہ فلم حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ رقص میں سمبھاجی کے مناظر کا نکلنا بھی ثابت کرتا ہے کہ اس میں حقائق کم اور فسانہ زیادہ ہے ۔ بات بڑھی تو لوگ باگ گولوالکر کی کتاب ’بَنچ آف تھاٹس‘ اور ساورکر کی تحریروں میں چھترپتی سمھاجی کے خلاف توہین آمیز باتیں نکال لائے ۔ سمبھا جی بریگیڈ کے ترجمان گنگا دھر بربرے نے اپنے عوامی خطاب میں ثابت کیا کہ اورنگ زیب عالمگیر نے سمبھاجی سے تبدیلیٔ مذہب کا مطالبہ ہی نہیں کیا ۔ وہ خزانوں کی معلومات چاہتے تھے۔ سمبھا جی نے جب وہ دینے سے انکار کردیا تو اورنگ زیب نے انہیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا مگر برہمنوں نے انہیں اپنے مذہب کی خلاف ورزی کرنے کےجرم میں ہندوصحیفوں کے مطابق سزا دلوائی۔ اس طرح بازی الٹ گئی ۔
معروف تاریخ داں اندرجیت ساونت نے تاریخی شواہد کی بنیاد پر ثابت کیا کہ شرکے برادران نے نہیں بلکہ برہمنوں نے سازش کرکےسمبھاجی کو گرفتار کروایا تھا تو ان کو فون پر دھمکی دے کر یاد دلایا گیا کہ ’یہ ریاست ہماری ہے‘۔ یعنی فی الحال ایک برہمن پیشوا (فڈنویس ) اقتدار پر فائز ہے۔ اس پر مہاراشٹر میں کانگریس کے صدر ہرش وردھن سکپال نے سوال کیا کہ مہاراشٹر میں کیا ’گھاشی رام کوتوال‘ کا راج ہے؟ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر گھاشی رام کوتوال ہی مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ کو چلا رہے ہیں تو اسے نہیں برداشت کیا جائے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ ملزم پرشانت کورٹکر پولیس کے ریسٹ ہاؤس میں کس کی اجازت سے رہ رہا ہے؟ اسے سیکورٹی کیسے ملی؟ کون سے وزرائے اعلیٰ اور وزراء کے دور میں اس کی جائیداد بڑھی؟ یہ سب مہاراشٹر کے عوام جانتے ہیں۔ اگر سرکاری سرپرستی میں ایسے عناصر دھمکیاں دے رہے ہیں تو یہ سنگین معاملہ ہے اور وزیر اعلیٰ کو اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔
اندر جیت ساونت کی ویڈیوز کے وائرل ہونے سے چراغ پا ہوکر لگی پرشانت کورٹکر نے توان کو فون پر دھمکی دی کہ وہ برہمنوں کو بدنام کرنا بندکریں۔ اس دھمکی کے دوران کورٹکر نے چھترپتی شیواجی کے تعلق سے توہین آمیز باتیں بھی کہیں مثلاً تمہارے یعنی مراٹھوں کے راجہ فرار ہوگئے تھےمگر جب اس گفتگو کا آڈیو بھی ذرائع ابلاغ پر چھا گیا وہ کاغذی شیرخود دم دبا کر فرار ہو گیا ۔ قائدے سے دھمکی دینے والے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی مگر فڈنویس کی پولیس بھلا اس کو پکڑ نے کی غلطی کیسے کرسکتی ہے؟ اس دوران کورٹکر کے وکیل نے کولہاپور کی عدالت سے اس کے لیے قبل از گرفتاری ضمانت بھی حاصل کرلی ۔ پرشانت کورٹکر کے خلاف امراوتی میں `شیوسمان مارچ کا انعقاد کرکے مطالبہ کیا گیا کہ اس کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔ مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل اس احتجاجی جلوس نے پراس کی تصویر کو جوتوں کا ہار پہنایا گیااور اسے جوتوں سے روندا بھی گیا۔
اس زبردست احتجاج میں یشومتی ٹھاکر نے کہا ’’جب بھی چھترپتی شیواجی کی توہین ہوتی ہے یہ حکومت خاموش رہتی ہے، لیکن مہاراشٹر ان عظیم ہستیوں کی توہین کو برداشت نہیں کرے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کورٹکر کے ساتھ راہل شولاپورکر کے خلاف بھی معاملہ درج کیا جائے۔ یہ دیکھ کر پرشانت کورٹکر ڈر گیا اور اپنی برہمنی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک منافقانہ بیان جاری کرکےکہا کہ ’’چھترپتی شیواجی میرے لیے نمونہ ہیں۔ ان کے اس ریاست پرکئی احسانات ہیں۔ وہ پوری ریاست کیلئے قابل احترام ہیں۔ انہوں نے بڑی جانفشانی اور قربانیوں کے بعد مہاراشٹر میں سوراج کی داغ بیل ڈالی تھی۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں اس لئے آج میں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ان کی مورتی کو ہار پہنا کر خراج عقیدت پیش کیا‘‘ ۔اس بیان کے ساتھ مجسمہ کو پھول مالا پہناتے ہوئے ویڈیو بھی منسلک کردی مگر وہ ہنوز فرار ہے ۔
پرشانت کورٹکر کی طرف سے توجہ ہٹانے کی خاطر میڈیا کو رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کے پیچھے چھوڑدیاگیا حالانکہ انہوں نے تو صرف اورنگ زیب عالمگیر کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ شیواجی مہاراج سے ان کی لڑائی کو مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تھی ۔ ابو عاصم اعظمی نے گوکہ شیواجی کے خلاف کچھ نہیں کہا لیکن پرشانت اور راہل شولاپورکر کی پردہ داری کے لیے ابو عاصم اعظمی کو نشانہ بنایا گیا۔ بی جے پی اور اس کے حواری جب بھی مشکل میں پھنستے ہیں تو ہندو مسلمان کا کھیلنے لگتے ہیں ۔ اس کام کے لیے مہایوتی نے نتیش رانے نامی بدزبان کو پال رکھا ہے۔ وہ آئے دن مسلمانوں کے خلاف کھلے عام اشتعال انگیز بیان دیتا رہتاہے۔ وہ مسلمانوں کو مسجد میں گھس کر مارنے کی دھمکی تو دیتا ہے لیکن قریب آنے کی جرأت نہیں کرتا۔ ایس ایس امتحان کی طالبات کے برقع پہننے پر پابندی عائد کرنےکا مطالبہ کرتا ہے مگر صوبائی وزیر تعلیم اسے مسترد کردیتے ہیں۔ مڈھی میں کانف ناتھ یاترا کے اندر مسلمان تاجروں کے بائیکاٹ کی تجویز کو ضلع انتظامیہ کے ذریعہ منسوخ کر دیئے جانے پر پورے مہاراشٹر میں اسے نافذ کرنے گیدڑ بھپکی دیتا ہے گا۔
نتیش رانے خود مراٹھا ہے اس کے باوجود اویناش کورٹکر پر غداری کے مقدمے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ مالون میں وشو ہندو پریشد کے ایک کارکن کے الزام پر بلڈوزر چلنے پر خوشی مناتا ہے۔ سمبھاجی کے معاملے میں برہمنوں کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک نوجوان پر الزام لگا دیا جاتا ہے کہ اس نے کرکٹ میچ کے دوران پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ اس الزام کی تصدیق کے بغیر محض شکایت درج کرنے پر سیکڑوں لوگوں کی بھیڑ جمع ہوکرنوعمر لڑکے کے والدین کی دوکان پر بلڈوزر چلانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ مکان مالک بھی ان میں شامل ہوجاتا ہے اورسپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بغیر نوٹس کے بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے۔ نفرت انگیزی کا یہ عالم ہے اس نوجوان کے چچا کی دوکان بھی بلڈوزر سے کچل دی جاتی ہے اور اس ناانصافی پر نتیش رانے خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ مالون کے اندر اس ظلم کے خلاف نہیں بلکہ مظلومین کو کڑی سزا دینے کے لیے ریلی نکالی جاتی ہے حالانکہ عدالت ملزمین کو فوراً ضمانت دے دیتی ہے اور لڑکے کو اس کے چچا کے حوالے کردیاجاتا ہے۔
نتیش رانے کہتا ہے کہ ہم ان غیر ملکیوں کو کوکن سے نکال دیں گے۔ کیا وہ اترپردیش کو اس ملک کا حصہ نہیں سمجھتا جو وہاں کے رہنے والوں کو نکالنے کی بات کرتا ہے۔ اس کاغذی شیر میں اگر جرأت ہوتی امریکہ سے بیڑیاں پہن کر آنے والے ہندوستانیوں پر اپنے غم وغصے کا اظہار کرتا یا کم ازکم مذمت ہی کردیتا لیکن جب اس کے آقا کے زبان پر قفل لگا ہوا ہے تو اس غلام کی کیا بساط ؟ بدزبان انسان کبھی نہ کبھی خود اپنے جال میں پھنس ہی جاتا ہے۔ اس کے ایک غیر آئینی بیان کے خلاف شیوسینا (ادھو) کے سابق رکن پارلیمان ونایک رائوت نے ایک معروف قانون داں اسیم سرودے کی معرفت قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نتیش رانے 15؍ دنوں کے اندر اپنے غیر آئینی بیانات واپس لیں ورنہ ان کے خلاف گورنرسے شکایت کی جائے گی۔
نتیش رانے پر 15؍ فروری 2025ء کو سندھو درگ کے ایک گائوں میں آئین کی دفعہ 164؍ (3) کی خلاف ورزی کا الزامہے۔ اس نے آئین کا حلف اٹھانے کے باوجود کہا تھا کہ جس گاوں میں مہا وکاس اگھاڑی کا سرپنچ ہوگا اس کو ترقیاتی فنڈ کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں ملے گا۔ اس لیے جسے فنڈ چاہئے وہ بی جے پی میں شامل ہو جائے۔ نتیش رانے کیا سرکاری خزانے کی رقم کو اپنے باپ کا مال سمجھتے ہیں یا لوگوں میں اس کی تقسیم کو بھیک مانتے ہیں؟ یہ عوام کا پیسہ جو ٹیکس کی صورت میں بلا تفریق لیا جاتا ہے اس لیے بغیر امتیاز کے تقسیم ہونا چاہیے۔ اسیم سرودے کے مطابق تفریق اور منافرت پر مبنی یہ بیان آئین کے خلاف ہے۔ معافی ویر ساورکر کی پیرو ی کرتے ہوئے بعید نہیں کہ نتیش رانے بھی اویناش کورٹکر کی طرح سپر ڈال دے ۔ ان چکنے گھڑوں کوئی شرم و حیا تو ہوتی نہیں ہے اس لیے بار بار کی رسوائی کے باوجود اپنی بدبختانہ روش پر قائم و دائم رہتے ہیں ۔
Like this:
Like Loading...