Skip to content
رمضانُ المبارک
ایک تربیتی مہینہ یا محض ایک رسم؟
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
┄─═✧═✧═─┄
یہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں دینی شعور اور اسلامی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کا مقصد ہی یہی تھا کہ ذہنی غلامی کو راسخ کر دیا جائے، تاکہ مسلمان فکری، سماجی اور تہذیبی سطح پر اپنے دین سے دور ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنی ثقافت، روایات اور اسلامی تشخص کو کھوتے جا رہے ہیں، جب کہ مغربی افکار اور تہوار ہمارے تعلیمی نصاب اور عملی زندگی کا حصّہ بنتے جا رہے ہیں۔ رمضان جیسے بابرکت مہینے میں جب دل تقویٰ، عبادت اور للہیت کی طرف مائل ہوتا ہے، تو یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ہمیں کہاں سے کہاں لے آیا ہے۔
لیکن اس صورت حال پر افسوس کرنے کے بجائے ہمیں اپنی سطح پر انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنی ہوں گی۔ اپنے گھروں میں، اپنے حلقہ احباب میں اور حتیٰ کہ تعلیمی اداروں میں جہاں ممکن ہو، وہاں دین کی روشنی کو عام کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچّوں کو اسلامی تاریخ، قرآن و حدیث اور سیرتِ نبویﷺ سے روشناس کرانا ہوگا تاکہ وہ شعوری طور پر اپنی اصل پہچان کو سمجھ سکیں۔ یہی رمضان کا پیغام بھی ہے—تزکیہ، اصلاح، اور واپسی اپنی اصل کی طرف!
یہ ایک المیہ ہے کہ ہم ایک ایسے تعلیمی و معاشرتی نظام کا حصّہ بن چکے ہیں جہاں رمضان کی آمد پر وہ خشوع و خضوع، وہ تیاری، اور وہ روحانی وابستگی باقی نہیں رہی جو ہونی چاہیے۔ جدید تعلیم و معاش کی دوڑ میں ہم اس قدر الجھ گئے ہیں کہ یہ بابرکت مہینہ بھی ہمیں محض ایک رسمی عبادات کے سلسلے کی طرح محسوس ہونے لگا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ ہم اپنی بے بسی پر آنسو بہائیں یا اس معمول پر خوشی منائیں جو ہمیں رمضان کی اصل روح سے دور کرتا جا رہا ہے؟ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دین کو پسِ پشت ڈال کر دنیاوی ترقی کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم بالکل بے بس ہیں؟ شاید نہیں! اگر ہم اپنی نیتوں کو درست کریں، اپنے وقت کو بہتر طریقے سے منظم کریں، اور اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں بھی اللّٰہ کی یاد کو زندہ رکھیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ اگر ہم چاہیں تو اپنی ذاتی زندگی میں رمضان کو اس کی اصل روح کے ساتھ گزار سکتے ہیں، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ یہ ایک اجتماعی ذمّہ داری بھی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو اس غلامی سے نکالنے کے لیے شعوری اقدامات کریں، چاہے وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اگر ہم نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو آنے والی نسلیں شاید رمضان کو بھی محض ایک ثقافتی رسم سمجھنے لگیں گی۔
سلف صالحین کا رمضان اور ہمارا طرزِ عمل
سلف صالحین رحمہم اللّٰہ رمضان کی برکات سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے لیے اپنی علمی اور تدریسی سرگرمیوں کو موقوف کر دیتے اور خود کو عبادت، تلاوت، ذکر، دعا اور دیگر روحانی مشاغل میں مشغول کر لیتے تھے۔ ان کے نزدیک رمضان صرف ایک عام مہینہ نہیں تھا، بلکہ اللّٰہ سے تعلق کو گہرا کرنے اور اپنے نفس کو سنوارنے کا سنہری موقع تھا۔ امام مالکؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ رمضان میں حدیث کی مجالس بند کر دیتے اور صرف قرآن کی تلاوت و تدبر میں مشغول ہو جاتے۔ یہی حال دیگر محدثین، فقہاء اور اولیاء اللّٰہ کا بھی تھا، جو اس مہینے کو خصوصی عبادات اور خشوع و خضوع کے ساتھ گزارنے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔
یہ طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ رمضان محض رسمی عبادات کا مہینہ نہیں، بلکہ ایک مکمل انقلابی تجربہ ہے جو ہمارے دل و دماغ کو بدلنے اور ہمیں اللّٰہ کے قریب کرنے کے لیے آتا ہے۔ اگر ہم بھی اپنے وقت کو صحیح طریقے سے منظم کریں، غیر ضروری مشغولیات سے بچیں، اور عبادات میں انہماک پیدا کریں، تو ہم بھی رمضان کی حقیقی روح کو پاسکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج ہم اسی نظامِ تعلیم اور مصروف زندگی کے اسیر ہیں، جہاں رمضان کو بھی بس ایک رسمی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی لمحۂ فکریہ ہے!
یہ ہماری عملی زندگی کا سب سے بڑا تضاد ہے کہ ہم سلف صالحین سے محبت و عقیدت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر ان کے طرزِ عمل کو اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ رمضان کے مہینے میں ہر غیر ضروری سرگرمی ترک کر کے خود کو عبادت، تلاوتِ قرآن، دعا اور ذکر میں مشغول کر لیتے تھے، جب کہ ہم انہی ایام میں اپنی دنیاوی مصروفیات میں پہلے سے زیادہ الجھ جاتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ عصری علوم اور دنیاوی مصروفیات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی رمضان کو اس کی اصل روح کے ساتھ گزار رہے ہیں؟ ہم قیام اللیل اور تہجد تو دور، فجر اور دیگر فرض نمازوں سے بھی غافل ہو جاتے ہیں، اور اگر روزے رکھ بھی لیں تو ان کے ساتھ وہ روحانی تزکیہ حاصل نہیں کر پاتے جو مقصود ہے۔
یہ صورتحال ہمیں ایک لمحۂ فکریہ پر لے آتی ہے۔ کیا ہم صرف زبانی دعوؤں تک محدود رہیں گے یا اپنی عملی زندگی میں بھی سلف صالحین کی روش اختیار کریں گے؟ ہمیں اپنے وقت کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہوگا، تاکہ ہم دنیاوی ذمّہ داریوں کے ساتھ ساتھ رمضان کی اصل برکات سے بھی مستفید ہو سکیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج ہمارا رمضان سلف صالحین کے رمضان سے یکسر مختلف ہو چکا ہے۔ وہ رمضان کو عبادت، توبہ، قرآن سے تعلق اور خشیتِ الٰہی میں بسر کرتے تھے، جب کہ ہم نے اسے سستی تفریح، غیر ضروری مصروفیات اور دنیاوی لذتوں میں کھو دیا ہے۔
روزے کے ساتھ جو وقت ملتا ہے، وہ ہمارے لیے اپنے نفس کو سنوارنے، دل کو اللّٰہ کی طرف متوجہ کرنے اور آخرت کی تیاری کرنے کا موقع ہوتا ہے، مگر ہم اسے ڈراموں، شاپنگ، فضول گفتگو، سوشل میڈیا، اور رمضان کے نام پر ہونے والے غیر سنجیدہ پروگراموں میں برباد کر دیتے ہیں۔ رمضان ٹرانسمیشن جیسے پروگرام جن میں دین کا مذاق بنایا جاتا ہے، مصنوعی روحانیت پیش کی جاتی ہے، اور لایعنی مباحث کو ہوا دی جاتی ہے، وہ لوگوں کو دین کی اصل روح سے مزید دور کر دیتے ہیں۔
سلف صالحین کی روش یہی تھی کہ وہ رمضان کو لغویات سے پاک رکھتے، اپنی زبان کو بے مقصد باتوں سے روکتے، اپنی نظریں باطل سے بچاتے اور اپنے دل و دماغ کو اللّٰہ کی یاد میں مگن رکھتے۔ ہمیں بھی ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جو شخص لغویات میں پڑ جاتا ہے، وہ یقیناً بامقصد کاموں سے محروم ہو جاتا ہے، اور جو باطل کو اختیار کر لیتا ہے، اس کے لیے حق کی راہ مسدود ہو جاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں اور فیصلہ کریں کہ آیا ہم رمضان کو سچ میں ایک روحانی انقلاب کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا اسے صرف ایک رسمی مہینہ سمجھ کر گزار دینا چاہتے ہیں؟
روزے کا حقیقی مقصد: "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ:-
جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ روزے کا بنیادی مقصد "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” یعنی تقویٰ کا حصول ہے، تب تک ہم اس عبادت کا حقیقی حق ادا نہیں کر سکتے۔ "کُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّيَامُ” (تم پر روزہ فرض کیا گیا) محض ایک ظاہری حکم نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری روحانی حقیقت ہے۔ روزہ محض بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ نفس کی تربیت، خواہشات پر قابو، دل کی پاکیزگی، اور اللّٰہ کی قربت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ مگر افسوس! ہم نے روزے کو ایک رسم بنا دیا ہے۔ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے باوجود ہمارے اخلاق، کردار، معاملات، اور سوچ میں وہ تبدیلی نہیں آتی جو اللّٰہ چاہتا ہے۔ اگر ہماری زبان بدستور جھوٹ، غیبت اور فضول گوئی میں مصروف رہے، اگر ہماری نظریں حرام سے نہ بچیں، اگر ہمارے دل میں غرور، حسد اور کینہ باقی رہے، تو پھر ایسے روزے سے "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” کیسے حاصل ہوگا؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رمضان ایک مدرسہ ہے، جہاں ہمیں اپنے دل و دماغ، کردار اور اعمال کی اصلاح کرنی ہے۔ اگر ہم نے روزے کے ذریعے تقویٰ حاصل نہ کیا، تو پھر ہمارا روزہ صرف بھوک اور پیاس کی مشقت بن کر رہ جائے گا، جس کے بارے میں رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔” (ابن ماجہ)۔ لہٰذا، ضروری ہے کہ ہم اپنے روزے کی روح کو سمجھیں اور اسے محض رسمی عبادت کے بجائے اصلاحِ نفس، ضبطِ نفس، اور تقویٰ کے حصول کا ذریعہ بنائیں۔ تبھی ہم "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” کا حقیقی مفہوم پا سکتے ہیں۔
تقویٰ محض کچھ مخصوص عبادات کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں اللّٰہ کی رضا کو مقدم رکھنے کا طرزِ عمل ہے۔ یہ اس بات کا نام ہے کہ انسان اپنی ہر پسند اور ناپسند کو اللّٰہ کی بھیجی ہوئی شریعت کے تابع کر دے۔ اگر کسی چیز کو ہمارا نفس پسند کرتا ہے لیکن اللّٰہ نے اسے حرام قرار دیا ہے، تو ہمیں اسے چھوڑ دینا ہی تقویٰ ہے۔ اسی طرح، اگر کسی چیز کو ہمارا نفس ناپسند کرتا ہے لیکن اللّٰہ نے اسے فرض یا مستحب قرار دیا ہے، تو ہمیں اسے اپنانا ہی تقویٰ ہے۔
قرآن کہتا ہے: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ۔ (کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللّٰہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو وہ اپنے معاملے میں خود کوئی اور فیصلہ کریں۔) (الاحزاب: 36)۔ یعنی اصل بندگی یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو اللّٰہ کے احکام کے تابع کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں روزہ تقویٰ کی عملی تربیت دیتا ہے—ہم اپنی جائز خواہشات (کھانے، پینے، ازدواجی تعلق) کو بھی اللّٰہ کے حکم پر چھوڑ دیتے ہیں، تاکہ سیکھ سکیں کہ زندگی کے ہر معاملے میں اللّٰہ کی رضا کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جس دن ہم نے اپنی پسند اور ناپسند کو مکمل طور پر اللّٰہ کے دین کے مطابق ڈھال لیا، وہی دن حقیقی تقویٰ کا دن ہوگا!
تقویٰ محض ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ دل، نیت، ارادے، اور ہر عمل کو اللّٰہ کے لیے خالص کر دینے کا مقام ہے۔ اگر انسان حقوق اللّٰہ (عبادات، اطاعت، ذکر و فکر) اور حقوق العباد (عدل، احسان، خیر خواہی) میں سے کسی کو بھی نظر انداز کرتا ہے، تو وہ تقویٰ کے اصل مفہوم سے دور ہو جاتا ہے۔ تقویٰ ایک متوازن طرزِ زندگی ہے، جہاں بندہ ہر حال میں اللّٰہ کی رضا کو ہی مقدم رکھتا ہے اور اس کے احکام سے روگردانی نہیں کرتا۔
"روزہ” کے لغوی معنی "رک جانا اور بچ جانا” اسی حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ روزہ ہمیں جائز چیزوں (کھانے، پینے، ازدواجی تعلق) سے رکنے کی مشق کراتا ہے، تاکہ ہم ناجائز چیزوں سے رکنا سیکھیں۔ روزہ ہمیں حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچنے کا سبق دیتا ہے، تاکہ ہم اپنی زندگی کے ہر گوشے میں تقویٰ اختیار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ نے روزے کو "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” یعنی تقویٰ حاصل کرنے سے جوڑا ہے۔ روزہ صرف ظاہری بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ خواہشات کو قابو میں رکھ کر اللّٰہ کے حکم پر سرِ تسلیم خم کر دینے کی مشق ہے۔
تقویٰ اللّٰہ کا ایک انمول تحفہ ہے، جو صرف انہی کو نصیب ہوتا ہے جو اس کے لیے اپنے دل کو خالص کر لیتے ہیں۔ یہی وہ دولت ہے جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ (بے شک، تم میں سب سے زیادہ عزّت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔) (الحجرات: 13)۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں تقویٰ کی یہ عظیم نعمت نصیب ہو، تو ہمیں اپنی نیتوں کو اللّٰہ کے لیے خالص کرنا ہوگا، اپنی زندگی کے ہر معاملے کو شریعت کے تابع کرنا ہوگا، اور ہر حال میں اللّٰہ کی رضا کو مقدم رکھنا ہوگا۔ یہی "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” کی حقیقی روح ہے!
اللّٰہ کو محض معدے کا روزہ مقصود نہیں، بلکہ دل، دماغ، آنکھوں، زبان، اور پورے وجود کا روزہ درکار ہے۔ اگر ہم کھانے پینے سے رک بھی جائیں، مگر ہماری نگاہیں، زبان، خیالات، اور اعمال اللّٰہ کی نافرمانی میں مشغول رہیں، تو ایسا روزہ ہمیں "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” کے درجے تک نہیں پہنچا سکتا۔ روزہ محض ایک عبادت نہیں، بلکہ ایک جامع تربیت گاہ ہے جہاں بندہ اپنی خواہشات پر قابو پانے، ضبطِ نفس، اور اللّٰہ کی بندگی کے حقیقی تقاضے سیکھتا ہے۔ رمضان ہمیں قرآن، عبادات، اور ذکر و فکر کا ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں ہم اپنے دل و دماغ کی اصلاح کر سکتے ہیں۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں اس تربیت گاہ سے تقویٰ اور بندگی کا سرٹیفکیٹ لے کر نکلیں، تو ہمیں حضرت ابراہیمؑ کا تعلیمی نظام دوبارہ اپنانا ہوگا، جس کی بنیاد "اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ” (میں نے اپنے آپ کو ربّ «العالمین کے سپرد کر دیا) پر رکھی گئی تھی۔ یہی اصل مقصد ہے: ہر حال میں، ہر گوشے میں، ہر لمحے میں اللّٰہ کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کر دینا! اگر ہماری تعلیم، تربیت، اور روزمرّہ کی زندگی اسلام، اطاعت، اور خالص بندگی پر قائم ہو، تبھی ہم رمضان کی حقیقی روح کو سمجھ سکیں گے اور تقویٰ کی دولت سے بہرہ مند ہو سکیں گے۔
حقیقی کامیابی کا راستہ: رمضان کو منشورِ حیات بنائیں:-
ابراہیمی جذبہ وہی جذبہ ہے جو اللّٰہ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار کرتا ہے، جو بندگی کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ زندگی کے ہر گوشے میں فرمانبرداری کا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ دوبارہ اپنے مقام کو پہچانے، تو ہمیں ابراہیمی تعلیم و تربیت کو از سرِ نو زندہ کرنا ہوگا۔ اس کا بنیادی تقاضا ہے قرآن کی طرف رجوع— اس کی گہرائی سے تعلیم و تفہیم، دین کو بصیرت کے ساتھ سمجھنا اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنا۔ اس کے ساتھ تزکیۂ نفس ناگزیر ہے— یعنی دل کی اصلاح، نیت کی پاکیزگی اور خواہشات پر قابو پانا۔ عبادات کو محض رسمی اعمال کے بجائے روحانی تربیت کا ذریعہ بنانا ہوگا، تاکہ وہ دلوں میں تقویٰ اور تعلق باللّٰہ پیدا کریں۔ اسی طرح، توبہ و دعا کے ذریعے اللّٰہ سے جڑنا، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور اس کی رحمت کی طلب وہی طریقۂ کار ہے جو حضرت ابراہیمؑ نے اپنی نسل کے لیے اپنایا اور جسے نبی اکرمﷺ نے اپنی امت میں زندہ کیا۔
طالوت کی نہر ایک علامتی آزمائش تھی، جو آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔ جس نے چلو بھر پانی پیا یعنی دنیا کی ضرورت کے مطابق لیا اور اللّٰہ کے حکم پر قناعت کی، وہ فلاح پا گیا۔ جس نے اپنی خواہشات کے تحت ضرورت سے زیادہ پیا، وہ حق کے لشکر سے محروم ہو گیا۔ یہی دنیا کا امتحان ہے! ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ضرورت کے مطابق دنیاوی وسائل اختیار کرتے ہیں، یا خواہشات کے غلام بن کر اپنے اصل مشن سے ہٹ جاتے ہیں؟ جو آج بھی خواہشات کی نہر میں غرق ہو کر دنیا پرستی میں مبتلا ہو جائے گا، وہ اللّٰہ کے سپاہیوں کی صف سے نکل جائے گا! جب کہ جو دنیا کو ایک عارضی ذریعہ سمجھ کر "اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ” کا عملی نمونہ بنے گا، وہی حقیقی کامیاب ہوگا۔
رمضان صرف ایک ماہ کی عبادت نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے ایک تربیتی نصاب ہے۔ اگر ہم اس تربیت کو اپنی زندگی کا مستقل حصّہ بنا لیں، تو یہی ہمیں دنیا کی آزمائشوں میں ثابت قدم رکھے گی اور حق کے لشکر میں شامل رہنے کا استحقاق دے گی۔ اُمتِ وسط کو اگر دنیا میں قیادت کا مقام چاہیے، تو اس کے لیے دو بنیادی چیزیں ضروری ہیں:
اول:- علم میں برتری: تاکہ فکری، سائنسی اور عملی میدان میں دنیا کی رہنمائی کر سکے۔
دوم:- جسمانی و روحانی استقامت: تاکہ آزمائشوں، فتنوں اور دشمنوں کے مقابلے میں کمزور نہ پڑے۔
یہ سب رمضان کے فلسفے کو اپنانے کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے جو ہمیں تقویٰ، صبر، استقامت، قناعت، اخوت، اور قربانی کی عملی مشق کرواتا ہے۔ جب امت رمضان کی حقیقی روح کو اختیار کرے گی، تو پھر اسے، صبر جمیل کی دولت نصیب ہوگی، یعنی مشکلات میں شکایت کے بجائے اللّٰہ پر مکمل بھروسہ۔ قدموں میں ثبات آئے گا، یعنی ایمان میں استقامت اور کسی دباؤ میں نہ جھکنے کا حوصلہ۔ ربّ کی نصرت حاصل ہوگی، جیسے بدر کے میدان میں روزہ داروں پر ہوئی تھی۔
اور جب امت تقویٰ، علم اور استقامت کے اس مرحلے پر پہنچے گی، تب ہی اسلامی حکومت کا قیام ممکن ہوگا— ایک ایسی حکومت جو عدل، حکمت، اور اللّٰہ کے دین کی سربلندی پر قائم ہوگی۔ لہٰذا، اگر ہمیں دنیا میں حقیقی کامیابی اور آخرت میں سرخروئی چاہیے، تو رمضان کو محض ایک مہینے کی عبادت نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی پوری زندگی کا منشور بنا لیں!
غزوۂ بدر اور فتحِ مکّہ جیسے تاریخی اور فیصلہ کن واقعات کا رمضان میں وقوع پذیر ہونا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ روزہ صرف ایک انفرادی بدنی عبادت نہیں، بلکہ یہ اجتماعی کامیابی اور اللّٰہ کی نصرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
غزوۂ بدر (17 رمضان 2 ہجری)
یہ جنگ محض ایک عسکری معرکہ نہیں تھی، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ تعداد میں کمزور، وسائل میں محدود، لیکن ایمان میں مضبوط مسلمانوں نے روزے کی حالت میں اللّٰہ پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان بدر میں دشمن کو شکست دی۔ یہ اللّٰہ کی وہ تائید تھی، جس کا ذکر قرآن میں آیا: "اور بے شک اللّٰہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل کمزور تھے، پس اللّٰہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بنو” (آل عمران: 123)۔
یہی ثابت کرتا ہے کہ جب ایک مومن اللّٰہ کے احکامات کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے، تو اللّٰہ کی مدد آسمانوں سے نازل ہوتی ہے۔
فتحِ مکّہ (20 رمضان 8 ہجری)
یہ اسلام کی بڑی ترین فتح تھی، جو بغیر کسی بڑے معرکے کے حاصل ہوئی۔ نبی کریمﷺ اور صحابۂ کرامؓ نے روزے کی حالت میں مکہ میں داخل ہو کر اللّٰہ کی کبریائی کا اعلان کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب ایک امت رمضان کی حقیقی روح یعنی تقویٰ، صبر اور قربانی کو اختیار کرتی ہے، تو اللّٰہ اسے کامیابی عطاء کرتا ہے۔ یہ فتح صرف عسکری برتری سے نہیں بلکہ ایمانی بالادستی اور رحمت اللعالمین کے اخلاق سے حاصل ہوئی۔
یہ دونوں واقعات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ روزہ محض بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ روحانی طاقت اور قرب الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ روزہ دار کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اور جب ایک پوری امت روزہ رکھ کر اخلاص کے ساتھ اللّٰہ سے مدد طلب کرے، تو غزوۂ بدر اور فتحِ مکّہ جیسی کامیابیاں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اگر امت مسلمہ آج بھی رمضان کی اصل روح کو اپنالے—یعنی تقویٰ، استقامت، قربانی اور توکل—تو اللّٰہ کی مدد آج بھی نازل ہو سکتی ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللّٰہ کی تائید انہی کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے نفس کی غلامی سے آزاد ہو کر اللّٰہ کی اطاعت میں خود کو فنا کر دیتے ہیں۔
رمضان المبارک کا استقبال محض روایتی جوش و خروش سے نہیں، بلکہ حقیقی ایمانی روح کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اور اس کے لیے "ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً” (البقرہ: 208) یعنی اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونے کا عملی مظاہرہ ناگزیر ہے۔ اگر ہم اپنے ماضی کی عظمت کو بحال کرنا، مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنا، اور دجالی فتنوں سے بچنا چاہتے ہیں، تو رمضان کو محض عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ اصلاحِ امت اور تجدیدِ ایمان کا مہینہ بنانا ہوگا۔
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، اور یہی کتاب امت کی علمی، فکری، اور عملی راہنمائی کا سر چشمہ ہے۔ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ اس کو سمجھنے اور زندگی میں نافذ کرنے کے لیے ہے۔ اگر امت قرآن کے پیغام کو اپنا لے، تو یہی اسے دجال کی سازشوں اور گمراہیوں سے بچا سکتا ہے۔ قیام اللیل (تراویح و تہجد) کو مضبوط کرنا ہوگا۔
رات کی تنہائیوں میں ربّ سے آہ و فغاں اور گریہ و زاری کرنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔
قیام اللیل ہی وہ ذریعہ ہے جس سے روح کی صفائی، قلب کی روشنی، اور عقل کی بیداری حاصل ہوتی ہے۔ دجالی فتنے اور امت کی ذمّہ داری، آج اُمتِ مسلمہ کو میڈیا، تعلیم، سیاست اور معیشت میں دجالی سازشوں کا سامنا ہے۔
رمضان کا پیغام یہی ہے کہ غفلت سے بیدار ہو جاؤ، فکری و عملی قوت پیدا کرو، اور قرآن و حدیث کی روشنی میں امت کی راہنمائی کرو۔ رمضان کی حقیقی مہمان نوازی یہی ہے کہ اس کے ایک ایک لمحے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے، اور اسے ایک اصلاحی تحریک میں بدلا جائے۔ جب ہم قرآن، قیام اللیل، اور تقویٰ کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو بدلیں گے، تب ہی امت مسلمہ کے "بہترین کل” کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔
اسلام محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے، اور اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نوجوانوں کو خوابِ غفلت سے جگانا ہوگا۔ یہ وہی نوجوان ہیں جو امت کا مستقبل ہیں، لیکن اگر وہ "ابھی تو ہم بچّے ہیں” کی سوچ میں رہے، تو امت کے شاندار ماضی کی وراثت کھو جائے گی۔ نوجوان نسل کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ اسلام کی بقاء اور سربلندی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، محمود غزنوی، الپ ارسلان اور صلاح الدین ایوبیؒ کی تاریخ محض سننے کے لیے نہیں، بلکہ عمل کے لیے ہے۔ یہ رمضان وہ سنہری موقع ہے، جہاں اپنے نفس کی کمزوریوں کو شکست دی جا سکتی ہے، اور ایک نئی قوت و حوصلہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔
یہ رمضان چند دنوں کا مہمان ہے، اور اگر ان دنوں کو سستی میں گزار دیا، تو ہم ہمیشہ کے لیے ایک بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ جو اسلام کے دروازوں پر کھڑے رہتے ہیں، لیکن اندر داخل نہیں ہوتے، وہ سب سے پہلے باہر نکلنے والے بن جاتے ہیں۔ جو دین کے کناروں کو پکڑ کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ یاد رکھیں کہ سب سے پہلے کنارے ہی خشک ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اصل سے زیادہ فاصلے پر ہوتے ہیں۔ جو شاخ سے اپنی وابستگی پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ جان لیں کہ شاخ سے جدا ہونے والا پتہ زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا۔ یہ وقت ہے کہ نوجوانوں کو محض تفریحی کلچر اور بے مقصد زندگی سے نکال کر، ان کے اندر ایک اسلامی انقلابی روح بیدار کی جائے، تاکہ وہ خود کو امت کا حقیقی سرمایہ ثابت کر سکیں۔
حقیقت یہی ہے کہ نوجوان نسل ہی اسلام کا حقیقی سرمایہ ہے، اور اگر وہ اپنی ذمّہ داریوں کا شعور نہ پائیں، تو امت کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم یہ طے کریں، ہم رمضان میں نفس کی غلامی سے نکل کر اللّٰہ کے دین کی سربلندی کے لیے خود کو تیار کریں گے، یا پھر وقت کے ساتھ بہہ کر کسی کنارے پر خشک ہو جائیں گے؟ اللّٰہ کرے کہ رمضان کا یہ مبارک مہینہ ہمیں حق پر استقامت، دین کی گہرائی کو سمجھنے، اور اسلام کے عملی سپاہی بننے کی توفیق عطاء فرمائے! اللّٰہ ہمیں اس مبارک مہینے کی برکتوں کو مکمل طور پر سمیٹنے، اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونے، اور حقیقی معنوں میں تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے! آمین ثمّ آمین یا ربّ العالمین
(04.03.2025)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...