Skip to content
روزہ صرف مسلمانوں پر ہی نہیں دوسری امتوں پر بھی فرض تھا
ازقلم:ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی۔بجنور
9897334419
اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں رمضان کا مقدس مہینہ مل گیا ۔آج ہم روزے کے معانی ،مفہوم اور اس کی فرضیت پربات کریں گے۔روزے کو عربی میں ’’ صوم‘‘ کہتے ہیں۔صوم کے لغوی معنی کسی چیز سے رکے رہنے کے ہیں۔ چنانچہ جو شخص کھانے پینے یاکسی کام سے رکا رہے اسے عربی میں ’’صائم‘‘ کہتے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں صبحِ صادق سے غروب ِ آفتا ب تک کھانے پینے اور جنسی خواہشوں سے رکے رہنے کا نام ’’ صوم ‘‘ (روزہ) ہے۔
مسلمان دوسری اقوام کی طرح ایک قوم نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ علامہ اقبال ؒ نے فرمایا:
اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پہ نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم مقصد کے لیے برپا کیا ہے ،وہ مقصد یہ ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم ہو۔اس مقصد کے حصول کے لیے تقویٰ ضروری تھا۔(تقوے پر ان شا ء اللہ ہم آئندہ بات کریںگے) تقویٰ حاصل کرنے کے لیے اللہ نے روزے فرض کیے۔ روزے کی فرضیت قرآن سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
یٰا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (البقرۃ: 183)
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
اس آیت کریمہ میںتین باتیں کہی گئی ہیں ۔
۱۔اہل ایمان پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔
۲۔ان کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان متقی ہوجائیں۔
۳۔روزے تمام امتوں پر فرض رہے ہیں۔آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہندو بھائی روزے رکھتے ہیں ۔خواہ ان کا طریقہ الگ ہو لیکن وہ اسے ’برت ‘یعنی روزہ ہی کہتے ہیں۔
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
بُنِیَ الإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ.( متفق علیہ)
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔
نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اسلام کے ان پانچ ارکان پر جس شخص نے بھی حسب استطاعت عمل کیا اس کی مغفرت ہوجائے گی ،دنیا اور آخرت میں اس کو کامیابی ملے گی ۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلام کے احکامات بتدریج نازل ہوئے ہیں ۔ایک ساتھ پورا قرآن پاک نازل نہیں ہوا۔اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کے لیے مشکل پیش آجاتی ۔حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اگر اسلام کے تمام احکام ایک ساتھ نازل ہوجاتے تو لوگ اسلام نہ لاتے۔اس لیے کہ انسان ایک ساتھ تمام احکامات کی ادائیگی نہیں کرسکتا ۔اس لیے اللہ تعالیٰ جو رحمان ورحیم ہے ،جو ہماری کمزوریوں سے واقف ہے اس نے ہم پر اپنے احکامات ایک ایک کرکے نازل فرمائے اور پورا قرآن 23 سال کی مدت میں نازل ہوا۔
شراب کی حرمت بھی تین مرحلوں میں ہوئی اسی طرح روزے بھی تین مرحلوں میںفرض ہوئے۔سب سے پہلے اللہ کے رسول ﷺ نے ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حکم دیا۔آپؐ خود بھی ہر مہینے تین روزوں کا اہتمام کرتے ،یہ روزے فرض نہ تھے بلکہ نفل تھے۔اس طرح صحابہ کرام کو روزوں کی مشق ہوئی ۔پھر روزے کا پہلا حکم بذریعے وحی نازل ہوا جیسا کہ پچھلی آیت میں گزر چکا ہے ۔مگر اس میں ایک رعایت رکھی گئی ۔اللہ کا ارشاد ہے :
اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ،فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ، وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْرٌ لَّہٗ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (البقرہ 184)
’’گنتی کے چند روز، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کر لے، اور ان پر جو اس کی طاقت رکھتے ہیں فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا، پھر جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔‘‘
آپ ملاحظہ کیجیے ۔ہمارا رب کتنا رحیم ہے ،کتنے اچھے انداز میں فرما رہا ہے ،اے میرے بندو،تم گھبرائو نہیں یہ چند دن کے روزے ہیں اور اس میں بھی چند گھنٹے تمہیں یہ مشقت برداشت کرنا ہے اوراس حکم میں یہ رعایت رکھی گئی کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی قوت اور طاقت کے باوجود روزہ نہ رکھیں وہ اس کا فدیہ دیں ،ایک روزے کا فدیہ ایک غریب کو ایک وقت کا کھانا کھلا نا ہے۔اس حکم کے بعد مزید روزے رکھنے کی تربیت ہوئی ۔یہ روزے چونکہ فرض تھے اس لیے شاذ و نادر نے ہی فدیہ کی رخصت کا فائدہ اٹھایا۔اس کے بعد تیسرے مرحلے میں یہ رخصت ختم کردی گئی اور اللہ پاک کا ارشاد ہوا۔
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (البقرہ 185)
’’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اورہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے، سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پا ئے تو اس کے روزے رکھے، اور جو کوئی بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے، اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر تنگی نہیں چاہتا، اور تاکہ تم گنتی پوری کرلو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
اس حکم کے بعدروزہ رکھنے کی استطاعت رکھنے والے کو روزے رکھنے ہی ہیں ۔بلا عذر روزہ کا چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔اس بات پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہیں۔ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی اس سلسلہ میں اختلاف نہیں کیا۔ اس صورت میں اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ کی فرضیت کا انکار کرے تو وہ کافر کہلائے گا اور اگر کوئی شخص شرعی عذر کے بغیر روزہ نہ رکھے گا تو وہ فاسق کہلائے گا۔البتہ مریض، مسافر، حاملہ، دودھ پلانے والی عورت کے لیے دوسرے دنوں میںروزہ رکھ لینے کے رعایتی حکم کو باقی رکھا گیا۔
قرآن نے امت محمدیہ کو خیر امت کا خطاب دیا ہے اور اس کا مقصد وجود یہ بتایا ہے کہ یہ امت اللہ کی زمین پر نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے ۔یہ ایک انقلابی امت ہے ۔یہ امت وسط ہے۔یہ خدا کے آخری پیغام کی امین امت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (آل عمران110)
’’تم سب امتوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کے لیے بھیجی گئی ہو اچھے کاموں کا حکم کرتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔‘‘
اس اہم مقصد کو حاصل کرنے اور اپنے مقصد وجود کو پورا کرنے کے لیے جس صبرو ثبات اور عزم و ارادے کی پختگی کی ضرورت ہے وہ روزے سے پوری ہوتی ہے۔اس لیے اس ماہ مبارک کو غنیمت جانئے ۔معلوم نہیں کہ آئندہ یہ ماہ عظیم ہمیں ملے گا یا نہیں ،ہمارے درمیان کتنے ہی وہ لوگ تھے جو گزشتہ رمضان میں ہمارے ساتھ تھے مگر اب نہیں ہیں۔ہوسکتا ہے اگلے سال ہم نہ ہوں۔اس مہینے کے ہر ہر لمحے کی قدر کیجیے ۔اللہ کی جناب میں عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنے گناہوں ،کوتاہیوں اور غلطیوں کی معافی مانگئے،خود بھی دوسروں کو معاف کردیجیے۔اور وہ زادسفر مہیا کر لیجیے جو آخرت میں کام آنے والا ہے۔یہ موقع ہمیں ملا ہے ،اس پر اللہ کا شکر ادا کیجیے ۔روزہ صرف اللہ کو خوش کرنے کے لیے رکھیے ،حالانکہ روزے کے طبی فائدے بھی ہیں ،اس سے بہت سی بیماریاں دور ہوتی ہیں ،مگر وہ فائدے ضمنی ہیں ،روزہ رکھتے وقت طبی نقطۂ نظر سے نیت مت کیجیے ،بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت کیجیے ،کیوں کہ روزے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور اسی پر اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَاناً وَاِحْتَسَاباً غُفِرَ لَہٗ مَاتَقَدَّمَہٗ مِنْ ذَنْبِہٖ (بخاری)
’’جس نے حالت ایمان میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھا اس کے تمام گناہ معاف ہوگئے۔‘‘
گناہ معاف کرانے کا کتنا آسان نسخہ ہمیں دیا گیا ہے ،یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ ہمیں رمضان ملے اور ہم مغفرت کا سامان فراہم نہ کرسکیں۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، اس دعا پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ السلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنا، اس سے ہمیں رمضان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری بخشش کا سامان فرمائے۔آمین
Like this:
Like Loading...