Skip to content
محاسبۂ نفس
ایک مؤمن کی پہچان
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
حمد و ثناء اس اللّٰہ کے لیے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے، جو اپنی مخلوق پر مہربان اور رحم فرمانے والا ہے، اور جس کے قبضۂ قدرت میں ہر چیز کی بادشاہی ہے۔ درود و سلام نازل ہو نبی اکرمﷺ پر، جو تمام انسانیت کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجے گئے، اور جن کی سیرت و تعلیمات ہر دور کے لیے رہنمائی کا سر چشمہ ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے اور انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ خود احتسابی، اصلاحِ نفس، اور توبہ جیسے اصول اسی نظام کا حصّہ ہیں، جو فرد اور معاشرے کو اخلاقی و روحانی ترقی کی طرف گامزن کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ بارہا ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے، نیکیوں کو بڑھانے، اور گناہوں سے بچنے کی تلقین فرماتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا بھیجا ہے، اور اللّٰہ سے ڈرو، بے شک اللّٰہ تمہارے اعمال سے خوب خبردار ہے” (سورۃ الحشر 59:18)۔ یہی اصول اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہے، جو ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے تاکہ ہم اپنی اصلاح کر سکیں اور اللّٰہ کی رضا کے مستحق بن سکیں۔ یہی روحانی بالیدگی کا راز اور کامیابی کی کنجی ہے۔
خود احتسابی ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اپنی اصلاح اور بہتری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں خود احتسابی کو نہ صرف نجات کا ذریعہ بلکہ روحانی ترقی اور تقویٰ کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیث مبارکہ میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر شخص کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر سکے اور نیکی کے راستے پر گامزن ہو۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر خود احتسابی کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ الحشر (59:18) میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور اللّٰہ سے ڈرو، بیشک اللّٰہ تمہارے اعمال سے خوب خبردار ہے”۔ یہ آیت ہمیں اس بات کی یاددہانی کراتی ہے کہ ہمیں ہر لمحہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرنا چاہیے اور اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔
سورۃ الحشر کی آیت ایک نہایت اہم پیغام دیتی ہے، جو خود احتسابی، تقویٰ اور آخرت کی تیاری پر زور دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو دو مرتبہ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا: "اتقوا اللّٰہ” یعنی اللّٰہ سے ڈرو، جو کہ عمومی حکم ہے کہ ہر کام اللّٰہ کے خوف اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ "وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ” یعنی ہر شخص یہ دیکھے کہ وہ اپنی آخرت کے لیے کیا بھیج رہا ہے۔ یہ آیت ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم صرف دنیاوی زندگی میں ہی نہ مگن رہیں، بلکہ اپنی آخرت کی فکر کریں، کیونکہ ہماری نیکیاں اور برائیاں ہی وہاں کی کامیابی یا ناکامی کا سبب بنیں گی۔
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ” یعنی اللّٰہ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے۔ یہ جملہ درحقیقت ایک تنبیہ ہے کہ کوئی بھی عمل، خواہ وہ ظاہر میں چھوٹا ہو یا بڑا، اللّٰہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ آیت ہمیں خود احتسابی (Self-accountability) کی دعوت دیتی ہے، تاکہ ہم اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور آخرت کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔
سورۃ الزلزال (99:7-8) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا”۔ اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ انسان دنیا میں ہی اپنا جائزہ لے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرے۔
نبی اکرمﷺ نے بھی خود احتسابی کی تلقین فرمائی ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "اپنے حساب سے پہلے اپنا محاسبہ کر لو اور اپنے اعمال کو تولنے سے پہلے خود ہی ان کا وزن کر لو، کیونکہ کل قیامت کے دن تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے گا” (ترمذی)۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور نادان وہ ہے جو خواہشات کی پیروی کرے اور اللّٰہ سے امیدیں لگائے رکھے” (مسند احمد)۔
اصلاح نفس، جب انسان اپنی غلطیوں پر غور کرتا ہے، تو وہ انہیں درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تقویٰ میں اضافہ، خود احتسابی کا عمل اللّٰہ کے خوف کو بڑھاتا ہے اور انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ دنیا و آخرت میں کامیابی، جو شخص اپنا محاسبہ خود کرتا ہے، وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اجر پاتا ہے۔ خود احتسابی ہر مسلمان کے لیے ایک لازمی عمل ہے جو اسے اللّٰہ کے قریب کرتا ہے اور کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح کریں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ایک اچھا معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔
نبی کریمﷺ کی احادیث خود احتسابی کے اصول کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔ خود احتسابی کا عمل ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔ قیامت کے دن حساب میں آسانی، نبی کریمﷺ نے فرمایا: "اپنے اعمال کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے” (مصنف ابن ابی شیبہ)۔ یعنی جو شخص دنیا میں خود اپنا احتساب کرتا ہے، اس کا آخرت میں حساب آسان ہوگا۔ عبادت سے زیادہ اہم غور و فکر: حدیثِ مبارکہ کے مطابق، "آخرت کے معاملے میں گھڑی بھر غور و فکر کرنا 60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔” (کنز العمال)۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ محض عبادات ہی کافی نہیں، بلکہ اپنے اعمال پر غور و فکر بھی نہایت ضروری ہے تاکہ انسان غلطیوں کی اصلاح کر سکے۔
باطنی اصلاح، خود احتسابی صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں، بلکہ نیتوں، خیالات اور اخلاقیات کو بھی شامل کرتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اعمال کے ساتھ نیتوں کو بھی دیکھتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے دل اور ذہن کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم خود احتسابی کا عملی نمونہ تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے: "اپنا محاسبہ خود کرلو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو تول لو، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے خلاف تولے جائیں”۔
روزانہ اپنا جائزہ لیں، ہر رات سوچیں کہ دن بھر میں کیا اچھے اور برے کام کیے؟ نیت کی اصلاح کریں، ہر کام اللّٰہ کی رضا کے لیے کریں۔
وقت کا صحیح استعمال کریں، فضول کاموں سے بچیں اور آخرت کی تیاری میں وقت صرف کریں۔ حقوق العباد کا خیال رکھیں، دوسروں کے حقوق ادا کریں اور اپنی اخلاقی حالت بہتر بنائیں۔ خود احتسابی ایک مومن کی پہچان ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں اس عادت کو اپناتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بے حد تاکید کی گئی ہے، اور یہی کامیابی کا راز ہے۔
قرآنِ کریم کی یہ آیات انسان کی فطرت، اس کے اختیار، اور اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کو واضح کرتی ہیں۔ سورۃ الشمس کی آیات 7-8 میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "نفس کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا، پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈالی”۔ یہ آیات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر نیکی اور بدی کو پہچاننے کی صلاحیت رکھی ہے۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی کے لیے نیکی کے راستے کو اپناتا ہے یا بدی کی طرف جھک جاتا ہے۔
خود احتسابی کی ایک اہم علامت "توبہ” ہے، جو انسان کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے اور اپنی اصلاح کی طرف راغب کرتی ہے۔
سورۃ البقرہ میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بیشک اللّٰہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے” (البقرہ: 222)۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اپنی خطاؤں کو پہچان کر ان سے رجوع کرتے ہیں اور اپنے باطن اور ظاہر کو پاک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ توبہ کے فوائد یہ ہیں کہ اللّٰہ کی محبت حاصل ہوتی ہے (البقرہ: 222)۔ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہے (الفرقان: 70)۔ دل کی طہارت اور سکون کا باعث بنتی ہے۔ انسان کو گناہوں سے دور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
عملی پہلو، توبہ اور خود احتسابی کو زندگی کا حصّہ بنائیں۔ روزانہ اپنی نیتوں اور اعمال کا جائزہ لیں۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً اللّٰہ سے معافی مانگیں۔ توبہ صرف زبان سے نہ کریں بلکہ عمل میں بہتری لائیں۔ برے خیالات اور برے اعمال سے بچنے کے لیے اللّٰہ کی مدد مانگیں۔ خود احتسابی اور توبہ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہیں۔ قرآن و حدیث ہمیں سکھاتے ہیں کہ جو شخص اپنی غلطیوں کو پہچان کر توبہ کرتا ہے اور اپنے کردار کو سنوارتا ہے، وہی اللّٰہ کے قریب ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر لمحے اپنے نفس کا جائزہ لیں اور اللّٰہ کی رضا کے لیے اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔
توبہ اور خود احتسابی ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ جب انسان اپنے اعمال پر غور کرتا ہے، اپنی کوتاہیوں کا احساس کرتا ہے، اور اللّٰہ کی بارگاہ میں جھک کر معافی مانگتا ہے، تو یہ خود احتسابی کا بہترین مظہر ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ کی حدیث "ہر ابن آدم خطاکار ہے، اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔” (ابن ماجہ: 4251) ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ غلطی انسان کی فطرت میں شامل ہے، لیکن اصل عظمت غلطی پر اصرار کرنے میں نہیں بلکہ اس کا اعتراف کرکے اصلاح کرنے میں ہے۔
خود احتسابی کا ایک اور اہم فائدہ تکبر سے بچنا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ سورۃ النجم میں فرماتے ہیں: "تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا” (النجم: 32)۔ یہ آیت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان کو خود ستائی اور غرور سے بچنا چاہیے اور اپنے اعمال کو اللّٰہ کے میزان میں تولنے کے لیے ہمیشہ فکر مند رہنا چاہیے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول "اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔” (سنن ترمذی: 2459) درحقیقت قیامت کے دن کی سختی سے بچنے کا نسخہ ہے۔ حضرت عمرؓ روزانہ رات کو اپنا محاسبہ کرتے اور اگر کوئی غلطی نظر آتی تو خود کو تنبیہ کرتے۔ وہ خلافت کے دوران بھی لوگوں کو اپنے اعمال پر نظر رکھنے اور اصلاح کرنے کی تاکید کرتے۔
خود احتسابی، دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ دنیا میں، خود احتسابی سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے، وہ اپنی غلطیوں کو پہچان کر بہتری کی طرف بڑھتا ہے۔ آخرت میں، جو دنیا میں اپنا جائزہ لیتا ہے، اس کے لیے آخرت میں حساب آسان ہو جاتا ہے۔ خود احتسابی اور توبہ ایک مومن کے لیے کامیابی کی کنجی ہیں۔ جو شخص اپنی غلطیوں کو پہچان کر اللّٰہ سے معافی مانگتا اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے، وہی حقیقی کامیاب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ غرور سے بچیں، ہر وقت اپنا محاسبہ کریں، اور اللّٰہ کی رحمت کے طلبگار بنیں۔
خود احتسابی نہ صرف فرد کی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی بہتری کی بنیاد بھی ہے۔ قرآن و حدیث میں ہمیں اس کی اہمیت اور اس کے اثرات پر بارہا غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"بے شک مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے” (سنن الکبریٰ للبیہقی: 21301)۔ یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد اخلاق کی بلندی ہے اور خود احتسابی اس کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ جب انسان روزانہ اپنے اخلاق، معاملات، اور رویوں کا جائزہ لیتا ہے، تو وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکتا ہے۔
حلم، صبر، صداقت، امانت، اور انصاف جیسے اوصاف خود احتسابی سے پیدا ہوتے ہیں۔ جو لوگ اپنی بدکلامی، غصّے، اور غیر مہذب رویوں پر غور کرتے ہیں، وہ وقت کے ساتھ بہتر شخصیت میں ڈھل جاتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ سورۃ الرعد میں فرماتے ہیں: "بے شک اللّٰہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں” (الرعد: 11)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ معاشرتی اصلاح کا آغاز فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ جب ہر شخص اپنی ذمّہ داریوں اور حقوق کا جائزہ لے گا، تو ایک صالح معاشرہ وجود میں آئے گا۔
ظلم، ناانصافی، بے ایمانی، اور بدعنوانی جیسی برائیاں تب ہی ختم ہو سکتی ہیں جب ہر شخص اپنا محاسبہ کرے اور اپنی اصلاح کرے۔ مثال: اگر ایک تاجر خود احتسابی سے کام لے اور ایمانداری اپنائے، تو پورے بازار میں اعتماد پیدا ہوگا۔ اگر ایک عالم یا استاد اپنی نیت، علم، اور طریقہ تدریس کا خود محاسبہ کرے، تو علم کا معیار بلند ہوگا۔ خود احتسابی فرد اور معاشرے کی ترقی کی کنجی ہے۔ یہ اخلاقی بہتری، معاشرتی فلاح، اور دینی ترقی کا ذریعہ ہے۔ جو قومیں اجتماعی طور پر خود احتسابی کی عادی ہوتی ہیں، وہی دنیا میں ترقی اور فلاح پاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ روزانہ اپنے اخلاق، رویے، اور کردار پر غور کریں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی حقیقی کامیابی ہے۔
خود احتسابی ایک مسلسل اور مستقل عمل ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ انسان کو اپنی کوتاہیوں کا احساس دلاتا ہے اور اسے بہتری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں اور گناہوں پر غور کرتا ہے، تو اس کے اندر عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔ وہ خودپسندی اور تکبر سے بچتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی کامیابی صرف اللّٰہ کی رحمت سے ممکن ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللّٰہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بیشک اللّٰہ سب گناہ بخش دیتا ہے، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے” (الزمر: 53)۔ یہ آیت اللّٰہ کی بے پایاں رحمت کی نشاندہی کرتی ہے اور انسان کو امید دلاتی ہے کہ اگر وہ اپنی اصلاح کر لے اور توبہ کرے، تو اللّٰہ اسے معاف کر دے گا۔ نفس کا محاسبہ انسان کو اللّٰہ کے قریب کرتا ہے۔ وہ اپنے اخلاق، اعمال، اور نیت کا جائزہ لیتا ہے اور نیکی میں اضافہ اور برائی سے اجتناب کی کوشش کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے” (ترمذی: 2459)۔ یعنی جو اپنے اعمال کا محاسبہ کر کے نیکیوں میں اضافہ اور گناہوں سے توبہ کرتا ہے، وہی حقیقت میں عقل مند ہے۔
جو شخص اپنے اعمال کی اصلاح کرتا ہے، وہ دنیا میں عزت اور کامیابی پاتا ہے۔ معاشرے میں ایمانداری، دیانت داری، اور خیر خواہی فروغ پاتی ہے۔ آخرت میں حساب آسان ہوگا اور اللّٰہ کی رضا نصیب ہوگی۔ خود احتسابی ہر مسلمان کی زندگی کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ یہ اصلاحِ نفس، روحانی ترقی، اور معاشرتی بہتری کا ذریعہ ہے۔ اللّٰہ کی رحمت سے امید اور مسلسل اصلاح ہی ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کر سکتی ہے۔ ہمیں روزانہ اپنے اعمال، نیتوں، اور کردار پر غور کرنا چاہیے تاکہ اللّٰہ کے قریب ہو سکیں اور کامیاب زندگی گزار سکیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے خود احتسابی ایک ایسا لازمی عمل ہے جو انسان کو نہ صرف دنیا میں بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی غلطیوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کرتا ہے، اور اللّٰہ کے حضور توبہ کرتا ہے، وہ اللّٰہ کے قریب ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت و مغفرت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور نادان وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللّٰہ سے امیدیں وابستہ رکھے” (مسند احمد)۔ یہ حدیث ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے افعال پر غور و فکر کریں، اپنی اصلاح کریں اور اپنی آخرت کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کریں۔
خود احتسابی کی برکت سے انسان کے اندر عاجزی، خوفِ خدا اور نیکی کی جستجو بڑھتی ہے، جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسروں کے حقوق کی ادائیگی، اپنے فرائض کی انجام دہی اور اخلاقی و روحانی پاکیزگی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول "اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے” ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ خود احتسابی ہی قیامت کے دن کے سخت حساب سے نجات کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا، ایک سچے مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کا مسلسل جائزہ لیتا رہے، اپنی کوتاہیوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کرے اور اللّٰہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ خود احتسابی کا یہ عمل نہ صرف فرد کی نجات کا ذریعہ ہے بلکہ ایک صالح اور پُرامن اسلامی معاشرے کی تشکیل کی بنیاد بھی ہے۔ اللّٰہ ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اپنی غلطیوں کو پہچان کر توبہ کرتے ہیں اور اپنے اعمال کو بہتر بناتے ہیں۔ آمین!
(13.03.2025)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Like this:
Like Loading...