Skip to content
جمعہ نامہ: قرآن اور فرقان
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: ’’اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے‘‘۔ معرفتِ خداوندی ایک نہایت فطری خواہش ہے۔ انسان جاننا چاہتا ہے کہ اس کا خالق و مالک کون ہے؟ کیسا ہے؟ وہ اس سے کیا چاہتا ہے ؟ اپنے کرم فرما کے بیش بہا احسانات کا شکر ادا کرکے خوشنودی کی طلب فطرت کا تقاضہ ہے ۔ قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نےاپنا تعارف فنا سے بالاتر کائنات کے نظام کو چلانے والی ایک ایسی زندہ و جاوید ہستی کے طور پر کرایا کہ جس کاکوئی شریک کار نہیں ہے یعنی وہ شرک کی آلودگی سے پوری طرح پاک صاف ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے مادی احسانات سے عظیم تر روحانی کرم یہ ہے کہ :’’اُس نے یہ کتاب نازل کی ، جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے‘‘۔ معرفت ِ الٰہی کی ازلی ضرورت کو پورا کرنے کا اہتمام ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اور اب تاقیامت قرآن حکیم اس حاجت کو پورا کرتا رہے گا۔
قرآن مجید کتابِ ہدایت و عمل ہے۔ اس کے مطابق زندگی گزارنےوالے بندۂ مومن کو راہِ راست سے بھٹکانے کی خاطر شیطان لعین وسوں کا شکار کرکے کنفیوژ کردیتا ہے۔ ایسے میں اہل ایمان کو فرقان یعنی حق باطل کا فرق د کھانے والی ہدایت درکار ہوتی ہے۔ قرآن مجید ہی اس ضرورت کو بھی پورا کرتا، آگے ارشادِ فرقانی ہے:’’ اور اس (اللہ) نے وہ کسوٹی اتاری ہے ‘‘۔ فرقانی صحیفہ ٔ ہدایت سےنوازنے کے بعد خبردار کردیا گیا کہ ’’اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں، ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے‘‘۔ اس آیت میں انسان کا مقصدِ حیات بیان کردیا گیا۔ اسے بتایا گیا کہ اگر وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے ہر عمل کو فرقانِ عظیم کی کسوٹی پر جانچ کر دین حنیف پر کاربند ہوجائیں تو خود اپنی ذات کو رب کائنات کے انعام و اکرام کا مستحق بنا سکتا ہے۔
ماضی کے حوالے سے فرمانِ ربانی ہے:’’اور ہم نے موسٰی ؑ اور ہارون ؑ کو حق و باطل میں فرق کرنے والی وہ کتاب عطا کی جو ہدایت کی روشنی ہے‘‘۔ اس کے بعد فرمایا کہ :’’(یہ) ان صاحبانِ تقویٰ کے لئے یاد الٰہی کا ذریعہ ہے جو بے دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرنے والے ہیں اور قیامت کے خوف سے لرزاں ہیں‘‘۔ بروزِ قیامت حساب و کتاب کے کھٹکےسے فکرمند خشیت الٰہی کے حاملین کو اس طرح دعوتِ عمل دی گئی ہے کہ : ’’اور ہم نے موسٰی ؑ کو کتاب اور حق و باطل کو جدا کرنے والا قانون دیا کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ‘‘۔ فرقانی قانون کی عملی مثال سورۂ انفال میں ملاحظہ فرمائیں۔ فرمانِ ربانی ہے:’’اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے اور رسول (ﷺ) کے لئے اور (رسول ﷺ کے) قرابت داروں کے لئے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے‘‘۔
مالِ غنیمت کی تقسیم کاقانون بیان کرنے کے بعد اس پر عمل در آمد کو ایمانی تقاضہ سے جوڑ کر بشارت دی گئی کہ :’’ اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دُور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے‘‘۔شریعت اسلامی کی پیروی سے نہ صرف فرقان سے سرفراز کیا جاتا ہے بلکہ بھول چوک سے درگزرکرکے فضل وکرم نوازہ جاتا ہے۔ یہ قانون اس دور میں نازل کیا گیا جبکہ مالِ غنیمت یا توپوری طرح بادشاہ کی ملکیت تھا یا فوجی اس کا مالک بن جاتا تھا۔ اس رواج کےسبب زیادہ سے زیادہ مالِ غنیمت کی خاطر فتحیاب فوجیوں کے درمیان آپسی خانہ جنگی تک چھڑ جاتی تھی یا پھر ان کے اندر چوری چھپے بادشاہ کا مال دبا لینے کا مزاج پیدا ہوتا تھا۔ دین اسلام نے ان دونوں انتہاوں کے درمیان کی یہ راہ بتائی کہ سارا مالِ غنیمت بیت المال میں جمع کردیا جائے اور پھر اس میں 20 فیصد سے نبی ﷺ ،اہل بیت اور معاشرے کے یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کی ضرورت کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے علاوہ مالِ غنیمت کی مساوی تقسیم کے باعث مختلف ذمہ داریوں پر فائز محرومین ِ غنیمت کو ان کا حق ملتا ر ہے۔ اس دور میں فرقانِ عظیم کے اس قانون نے ایک عظیم معاشرتی اصلاح و انقلاب برپا کردیا۔
مالِ غنیمت کا یہ قانون جس موقع پر نازل ہوا اس کی بابت فرمایا:’’اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدانِ بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ اپنی طاقت کے غرور میں مبتلا کفارانِ قریش نے میدانِ بدر میں ازخود یہ اعلان کردیا تھا کہ یہ یومِ فرقان ہے اور اس دن کی کامیابی حق و باطل کی کسوٹی ہوگی ۔ ان کی شکست پر قرآنی تبصرہ اس طرح ہے: ’’ ( اے کافرو! ) اگر تم نے فیصلہ کن فتح مانگی تھی تو یقیناً تمہارے پاس (حق کی ) فتح آچکی اور اگر تم ( اب بھی ) باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ، اور اگر تم پھر یہی ( شرارت ) کرو گے ( تو ) ہم ( بھی ) پھر یہی (سزا ) دیں گے اور تمہارا بہت بڑا لشکر بھی تمہاری کفایت نہیں کرسکے گا اور بیشک اللہ مومنوں کے ساتھ ہے‘‘۔ یوم البدر ایک یوم الفرقان ہے مگر وہ قیامت تک وارد ہوتی رہے گی۔ اس کا تازہ ترین مظاہرہ غزہ میں ہوا ہے کہ صہیونی لشکروں تعداد و اسلحہ نیز دنیا بھر کے حامی اس کے کسی کام نہیں آئے اور مجاہدین اسلام کو رب کائنات نے فتحیاب کیا ۔ مولانا ظفر علی خان نے کیا خوب کہا ہے؎
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
Like this:
Like Loading...