Skip to content
نفرت کی سیاست بند کریں، امن اور ترقی پر توجہ دیں – ہاتھ جوڑ کر اپیل
ازقلم:شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
ناگپور میں ہونے والے فسادات مہاراشٹر کی گنگا-جمنی تہذیب پر ایک اور حملہ اور داغ ہیں۔ پچھلے کچھ مہینوں سے سماج میں نفرت کا زہر گھولنے کا سلسلہ تیز ہو گیا تھا، جس کا نتیجہ آج سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔ مہینوں سے اورنگزیب کو ہندو مخالف بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، نفرت پھیلانے والی فلموں کو فروغ دیا جا رہا تھا، قبریں کھودنے کی باتیں ہو رہی تھیں، زہریلی تقریریں دی جا رہی تھیں، اور اب جب آگ بھڑک اٹھی ہے، تو امن کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس آگ کو لگانے والے اصل مجرموں پر کوئی کارروائی ہوگی یا نہیں؟ کیا ان فسادیوں کو گرفتار کیا جائے گا جنہوں نے اورنگزیب کے پتلے پر قرآن کی آیات لکھ کر اسے جلایا؟ وہ ویڈیو وائرل ہوئی، کیا ان تمام لوگوں کو سزا ملے گی جنہوں نے فلموں کے ذریعے نفرت کا زہر پھیلایا؟ کیا ان سیاستدانوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا جو دن رات مغلوں کے بہانے سماج کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک رہے ہیں؟
تاریخ کو بدلا یا مروڑ کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مغل بھی اتنے ہی ہندوستانی تھے جتنے کہ کوئی اور قوم۔ لیکن نفرت نے سب کو اندھا کر دیا ہے۔ قبروں پر زور آزمائی کر کے تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا۔ مغل ہوں، مرہٹے ہوں، انگریز ہوں، یہ سب ہمارے تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ تاریخ کو بدلنے کے بجائے، ہمیں اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مگر یہاں تاریخ کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور سماج میں زہر گھولا جا رہا ہے۔
مہاراشٹر میں گزشتہ سال دو ہزار سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کر لی۔ وہ کس طبقے سے تعلق رکھتے تھے؟ ان کی موت پر کوئی بحث کیوں نہیں ہوتی؟ انہیں بچانے کے لیے کوئی مضبوط قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، حکومت کیا کر رہی ہے؟ جو نوجوان ڈگری لے کر بھی ڈیلیوری بوائے بننے پر مجبور ہیں، ان کے لیے کوئی منصوبہ کیوں نہیں بنایا جا رہا؟ لاکھوں ریڑی والے بے روزگار ہو گئے ہیں، ان کی روزی روٹی کی فکر کسی کو کیوں نہیں؟ جو محنت کش نوجوان چھوٹی موٹی نوکریاں( جیسے ڈیلیوری ہوئے)کر رہے ہیں، کم از کم ان کے لیے پروویڈنٹ فنڈ جیسی بنیادی سیکیورٹی دینے کا کوئی قانون تو بنائیے!
اسکول، کالج اور اسپتالوں کی کیا حالت ہے، کوئی بتا سکتا ہے؟ سرکاری اسپتالوں میں جگہ جگہ ڈاکٹروں کی کمی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حکومت کے کچھ وزیر خود نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں اور انہیں کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ میڈیا دن رات اشتعال انگیز باتیں پھیلا رہا ہے، لیکن اس پر کوئی روک ٹوک نہیں لگائی جا رہی۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج کو بانٹنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے، چاہے وہ کسی بھی نظریے سے وابستہ ہوں۔
مہاراشٹر کی پہچان اس کی ترقی پسند ہونے میں ہے اس کی رواداری مشہور ہے اصل چیز اس کی ترقی پسند سوچ ہے۔ اسے نفرت کی سیاست میں جھونکنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جانا چاہیے۔سبھی کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے،حکومت کو نفرت اور تشدد کو فروغ دینے والوں پر قانونی شکنجہ کسنا ہوگا نفرت پھیلانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔
Like this:
Like Loading...