Skip to content
ٹرمپ اور افغانستان:رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکی صدر نے اپنی پچھلی مدتِ کارمیں سب سے حقیقت پسندانہ فیصلہ طالبان کے ساتھ گفت و شنیدکا کیاتھا۔ ان کے دور میں دوحہ کے اندرامریکہ اور طالبان کے درمیان جو معاہدہ ہوااس سے طالبان کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموارہوگئی۔ 2020 میں اس پردستخط ہوگئےتھے۔ افغانستان سے امریکی انخلا عمل 2021 میں ان کے جانشین اور حریف جو بائیڈن کی زیر قیادت مکمل ہوا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ "ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ” ہے۔ یہ اگر درست ہے تو انہوں نے اس کی ابتداء کیوں کی؟ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو طالبان اور امریکی انخلاء سے مختلف انداز میں نمٹتے لیکن موصوف وہ مختلف طریقہ بتانے کی زحمت نہیں کرتے کیونکہ وہ خود اس سے ناواقف ہیں ۔ ٹرمپ کے لاابالی پن اور اپنے دعووں سے مکر نے کا مظاہرہ غزہ میں ہوچکا ہے۔ ان کو جب منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے تو اس کے حق میں جھک جاتے ہیں ۔
آئے دن بے پرکی ہانکنے والے امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر جنگ کے بعد فاتح کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں اور ہارنے والے کو انہیں برداشت کرنا پڑتاہے۔ طالبان کے ساتھ ان کا بات چیت کرنا اپنی شکست کے اعتراف کا اعتراف تھا ۔ بائیڈن کا وہاں سے نکل بھاگناطالبان کی فتحمندی تھی جو اس کی مرضی کے مطابق پایۂ تکمیل پر پہونچی۔ ٹرمپ انتظامیہ کو شکایت ہے کہ طالبان نے حزب اختلاف کے سارے رہنماوں کو ساتھ لے کر ایک جامع حکومت کی تشکیل کیوں نہیں کی اور قطر میں طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کیوں کی ؟ اس مطالبے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ان رہنماوں نے اپنے قومی مفادات سے غداری کرکے دشمنوں سے ہاتھ ملایا اور امریکہ کے دلال بن گئے تھے۔ ایسے میں امریکی شکست کے بعد ان سے بات چیت کے کیا معنیٰ ؟ جبکہ خود ٹرمپ انتظامیہ نے ان لوگوں کو طالبان کے ساتھ گفت و شنید میں شریک نہیں کیا تھا۔ دوسرے ان کا عوام میں کوئی اثر و رسوخ بھی نہیں ہے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ رہنما خود امریکہ کے نکل جانے کے بعد ملک سے نکل بھاگے تھے ۔ جو بائیڈن نے تو کم ازکم ان کو اپنے ملک میں آنے کا اجازت نامہ دے رکھا تھا جسے خود ٹرمپ انتظامیہ نے منسوخ کردیا۔ یعنی جن لوگوں کو خود ٹرمپ منہ نہیں لگاتے اور ان کی وفاداری کے صلے میں اپنے ملک کے اندر پناہ دینے کی رواداری نہیں دکھاتے ان سے طالبان کو بات چیت کرکے حکومت میں شامل کرنے کا مطالبہ نہایت مضحکہ خیز ہے۔ جہاں تک حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے یا ان کا احترام کرنے کی نصیحت کم از کم ٹرمپ کو نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے پچھلی بار انتخاب ہارنے کے بعد اپنے حواریوں کو قصرِ ابیض پر حملے کے لیے اکسایا ۔ یہاں تک کہ ان کے نائب صدر کو حمام کے راستے بھاگنا پڑا۔ اس کے بعد انھوں نے حملہ آوروں کی کھلے عام تعریف کی اور اب پھر سے منتخب ہونے کے بعد سب کو یکلخت معاف کردیا ۔ بائیڈن کی آئے دن تضحیک کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے اس کے باوجود طالبان کو حزب اختلاف کو ساتھ لے کرجامع حکومت کے تشکیل کی نصیحت بدترین منافقت ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ خام خیالی ہے کہ امریکہ کو طالبان کے لیے "85 بلین ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان چھوڑنے کے بجائے افغانستان میں بگرام کی ایئربیس اپنے پاس رکھنی چاہیے تھی۔” ان کا یہ مالیاتی تخمینہ سراسر غلط ہے۔ یہ امریکہ کی طرف سے حملے کے بعد سے افغان سکیورٹی فورسز پر کیا جانے والا کل خرچ ہے۔ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ یوکرین اور افغانستان کے درمیان کے فرق کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔ یوکرین کی مانند افغانستان نے روس کے حملے سے خوفزدہ ہوکر طالبان حکومت نے انہیں نہ تو اپنے ملک میں آنے دعوت دی تھی اورنہ خرچ کرنے کی درخواست کی تھی بلکہ امریکہ خود ایک بے بنیاد الزام لگاکر سارے نیٹو ممالک کے ساتھ وہاں چڑھ دوڑا تھا ۔اس نے اگر سوویت یونین کے انجامِ بد سے سبق سیکھا ہوتا تو اسے نہ ہی اس ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا اور یہ سزا بھی نہیں ملتی ۔
امریکی محکمہ دفاع نے سن 2022 کی تحقیقات میں ترک شدہ فوجی آلات کی مالیت تقریباً سات بلین ڈالر ہی بتائی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مطالبے سے ایک سوئے ہوئے شیر کو جگا دیا ہے۔ طالبان اب امریکہ سے بیس سالہ مسلط شدہ جنگ میں اپنے نقصان کی بھرپائی مانگ رہے ہیں اور یہ نہایت جائز مطالبہ ہے۔افغانستان کے اندر امریکہ کو چھوڑا ہوا اسلحہ تو وہ مالِ غنیمت ہے جس پر طالبان کا حق ہےاور اس پر دعویٰ کرتے ہوئے ٹرمپ کو شرم آنی چاہیے۔ امریکہ کی شرمناک واپسی کے فوراً بعد اگست 2021 میں ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ 85 بلین ڈالر میں سے "ہر ایک پیسہ” امریکہ کو واپس کیا جانا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو "ہمیں غیر واضح فوجی کارروائی کر کے اسے حاصل کرنا چاہیے، یا کم از کم اس پر اتنی بمباری کی جانی چاہیے کہ اسے جہنم بنا دیا جائے۔” ٹرمپ کے پیش رو جارج ڈبلیو بش اسی ناپاک ارادے سے وہاں گئے تھے مگر ناکام و نامراد ہوکر لوٹے ۔ ٹرمپ اگر اسی غلطی کو دوہراتے ہیں تو انہیں اپنے ہی ہتھیاروں سے مار کھا کر بھاگنا پڑے گا ۔
افغانستان عالمی طاقتوں کا وہ قبرستان ہے جس میں برطانوی استعمار اور سوویت کی سرکار دفن ہے ۔ امریکہ پہلے تو بچ گیا مگر ٹرمپ کی حماقت وہاں ایک اور قبر کا اضافہ کرسکتی ہے۔طالبان نے ٹرمپ کی واپسی پر محتاط اندازمیں امید ظاہر کی تھی کہ وہ "دوطرفہ تعلقات میں ٹھوس پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک عملی نقطہ نظر اپنائیں گے، جس سے دونوں ممالک باہمی مفاہمت کی بنیاد پر تعلقات کا ایک نیا باب کھول سکیں گے۔” افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب وزیر خارجہ نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جرأتمند لیڈر قرار دیا تھا۔ شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا تھا کہ ’ٹرمپ قوت فیصلہ رکھنے والے شخص ہیں، ہم ان کی حکومت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں‘۔حقیقت تو یہ ہے کہ ٹرمپ فیصلے میں جلدبازی خارجی و داخلی طورپر امریکی عدالتوں میں بھی مسترد ہورہی ہیں۔طالبان مے نائب وزیرِ خارجہ نے برملا کہا تھا کہ’’ دشمن اور دوست ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے۔ امریکہ اگر دوستی چاہے گا تو ہم بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے‘‘۔ یہ پروقار تعلقات ایسے نہیں ہیں کہ ٹرمپ تضحیک کریں یا دھمکی دیں تب بھی مودی مسکراتے نظر آئیں۔
شیر محمد ستانکزئی نے مثال دے کر کہا کہ ’’ماضی میں سوویت یونین نے ہمارے لاکھوں افراد کو مارا لیکن اب ہمارے روس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، امریکہ کو دوحہ معاہدے کا احترام کرتے ہوئے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ امریکی حکومت افغانستان کے منجمد اثاثے ریلیز اور طالبان رہنماؤں پر عائد پابندیاں ختم کرے۔دخل اندازی کے خلاف ان کی دھمکی تھی کہ:’ہم نے دشمنی کے دروازے بند کر دیئے اور امید کرتے ہیں کہ نئی امریکی حکومت بھی ہمارے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گی‘‘۔امریکہ فی الحال افغانستان کو سالانہ دو سے ڈھائی ارب ڈالر امداد دے رہا ہے اور آگے بھی ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کو امداد جاری رکھنا چاہتے مگر ان کا اصرار ہے کہ طالبان کو اسلحہ واپس دینا ہوگا چاہے اس کے لیے انہیں مزید رقم ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ٹرمپ کو طالبان کے امریکی گاڑیوں اور اسلحہ کے ساتھ پریڈ کرنا پسند نہیں ہے اور یہ دیکھ کر انہیں بہت غصہ آتا ہے مگر یہ ان کا اپنا مسئلہ ہے۔
امریکی صدر کا خیال ہے کہ امریکہ سے اچھا اور نیا فوجی سازو سامان تو طالبان کے پاس رہ گيا لیکن ایسا اس لیے ہوا کیونکہ امریکی فوجی اسے چھوڑ کر بھاگ گئے تو اس میں طالبان کیا قصور ؟ ٹرمپ نے طالبان پر یہ اوٹ پٹانگ الزام بھی لگا دیا کہ وہ ٹینکوں، گاڑیوں، ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی سمیت امریکی فوجی سامان فروخت کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسے کون خرید رہا ہے ؟ اور وہی سامان خود امریکہ کیوں نہیں بیچتا؟؟ اس طرح کے انگنت سوالات کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہےایسے میں ٹرمپ کا اپنے حکام کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا حکم دینا اور سازوسامان کی واپسی کے لیے اقدامات کرنا ایک بے معنیٰ مشق ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بار بار افغانستان سے امریکی فوجی سازو سامان کی واپسی کا ذکر کرنا نہایت آسان ہے مگر عملاً اسے واپس لانا ایک ناممکن عمل ہے۔ طالبان نے اربوں کی مالیت کا امریکی اسلحہ واپس کرنے کے مطالبے کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ طالبان کا واضح موقف ہے کہ وہ 2021 میں افغانستان سے نکلنے کے دوران امریکی فوجیوں کے پیچھے چھوڑا گیا کوئی بھی فوجی سازوسامان واپس نہیں کریں گے۔طالبان کا الٹا مطالبہ ہے کہ ہتھیار کی واپسی کا مطالبہ کرنے کے بجائے، امریکہ کو چاہیے کہ وہ داعش سے لڑنے کیلئے مزید جدید اسلحہ فراہم کرے ۔ اس طرح طالبان نے ٹرمپ کو پھنسا کر امریکہ پر اپنی سفارتی برتری قائم کردی ہے۔
Like this:
Like Loading...