Skip to content
"شعاؤوں کے بیچ لگائی گئی فلسطینیوں کی آہیں”
از: مفتی محمّد سلمان قاسمی محبوب نگر
خادم تدریس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد
"نداء ہند” ایک سوشیل میڈیا چینل یا پیج ہے جو خاص طور پر "مسئلہ فلسطین” پر آواز اٹھانے اور اس کو ہائلیٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے،کل پیج ہولڈرز نے مختلف سوشیل میڈیا پلیٹ فارمز سے ماخوذ کچھ اہل فلسطین کی آہ و فغاں اور چیخیں جو انہوں نے سنی اور سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں ایک عنوان "أصوات من تحت النار” کے نام سے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر نشر کیا ہے،
یعنی وہ فغائیں جو شعلوں کی لپیٹوں کے بیچ سنی گئیں ہیں،جن کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید اللہ نے قرآن پاک میں اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے: "مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ(البقرہ:214)
ترجمہ: انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟
قارئین دل کی آنکھوں سے ان کو پڑھ کر عبرت حاصل کریں اور اپنی ایمانی حمیت کو مہمیز دیں کہ آخر اہل فلسطین کس قدر قیامت خیز دور سے گزر رہے ہیں،اور ہمارا حال کیا ہے۔
سوزان اغزہ نامی ایک خاتون کی صدا سنیں:
میں یہ بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ مجھے یقین نہیں ہورہا ہے کہ ہم پھر سے جنگ میں جھونک دیے گئے۔
حمزہ نامی ایک شخص کہتا ہے:
"خدا کے لیے، بس کریں جنگوں کو! ہم بہت برداشت کر چکے ہیں، ہم واقعی تھک چکے ہیں؛ خداوندا! ہمارے پاس اب مزید طاقت نہیں رہی۔
مجھے لگتا ہے میرا دل مزید بمباری اور دھماکوں کی آوازیں سننے کا متحمل نہیں ہے”۔
ہمارے لیے دعا کریں، ہم اپنی زندگی کے سب سے مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔
صفیہ نامی ایک لڑکی کہتی ہے:
"صبح سے میں ہر اس شخص کو الوداع کہہ رہی ہوں جسے میں جانتی اور محبت کرتی ہوں، اب مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ میرا اختتام قریب ہے”۔
اچانک بمباری پر ایک ماں اپنی کیفیت بیان کرتی ہے:
میں گہری نیند میں تھی،تو اچانک رات 2 بجے بمباری کے دھماکوں اور ایمبولینس کے سائرن کی آواز نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ میں نے خود کو گھبراہٹ میں ادھر ادھر چلتے ہوئے پایا، بالکل بے خبر کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ خوف نے ایک بار پھر میرے دل کو جکڑ لیا۔ میرے بچے پکارنے لگے، "امی،امی!” میں نے خود کو ان کے لیے سنبھالا اور کہا، "ہم ٹھیک ہیں، یہ صرف دور کی آوازیں ہیں۔” لیکن اندر سے میں بالکل ٹوٹ چکی تھی، خوف اور صبر کے درمیان جھول رہی تھی، اے خدا! غزہ آپ کے حوالے۔
دینا نامی لڑکی کی فریاد سنیں!
"کیا ہمیں حق ہے کہ ہم ایک پُر امن زندگی گزاریں اور اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ سوچیں؟ ہم بہ مشکل اس تکلیف سے نکلے تھے جس سے گزر رہے تھے، اور ہم ابھی تک جذباتی طور پر سنبھل بھی نہیں پائے۔ اے خدا، تو ہی ہے جو ہماری مدد کر سکتا ہے!
روا ابو سالم نامی شخص کہتا ہے:
"جنگ کے واپس آنے کے بارے میں سوچ کر ہی میرا دل تیز دھڑکنے لگ گیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں، دنیا! ہم مزید جنگیں نہیں چاہتے”۔
یہ کچھ لوگوں کی فریاد نہیں،ایک ایک فلسطینی کے دل کی صدا ہے،خدا خدا کر کے بہ امن آدھا رمضان نہیں گزارا کہ پھر ان پر آفت کی بجلیاں کوندنے لگی ہیں،پھر ان پر بموں کی بارش شروع کردی گئی ہے،ایک فلسطینی خاتون انسٹاگرام پر رات میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ خوشی خوشی پوسٹ شئیر کرتی ہے یہ کیپشن لکھ کر” خوش حال پریوار” اور صبح تک اس کے سارے خاندن کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے،نہ جانے ایسے کتنے خاندان ہیں،کتنے معصوم بچے ہیں،کتنی ساری بے بس خواتین ہیں،ذرا تصور کریں سوچیں کہ رات میں اس ارادے سے محو خواب ہوئے کہ صبح سحر میں اٹھنا ہے،اور صبح ہوتے ہوتے وہ نیند زندگی کی آخری نیند بن گئی،اب ہمیشہ کے لیے سو گئے۔
غرض ہم اپنی غفلت میں پڑے مست ہیں،ایک بڑے طبقے کو تو ان مجاہدین کی قربانیوں کا احساس تو کیا! علم بھی نہیں ہے،بالکل بے پرواہ ہوکر اپنی زندگی کے ڈگر پر رواں ہیں،خواہشات کی نگری میں مزے کر رہے ہیں،لکھنے کو بہت کچھ ہے،دل کا حال بتائیں تو بس ایسا لگتا ہے کہ فرط غم میں دم گھٹ رہا ہو،آنکھیں خون رونا چاہتی ہیں،ان کی بے بسی اور حکام عرب کی بے حسی کو دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکل جاتا ہے” متی نصر اللہ”۔
غرض وہ خالق کون و مکاں ہے،وہ اسی کے حلم کے شایان شان ہے کہ اپنی رعیت پر اس قدر ظلم دیکھ کر بھی مہرِ سکوت تھامے ہوئے ہے،ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے ان مجاہدین فلسطینی بھائیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،یہ بس ظالم اسرائیل اور ملعون نیتن یاہو کے حق میں استدراج ہے،فلسطین کا اختتام نہیں۔
اور یہی آیت ہمارا سہارا ہے: وما الله بغافل عما يعمل الظالمون.
"ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا”
Like this:
Like Loading...