Skip to content
ناگپور تشدد: گڑے مردے، نئی لاشیں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ناگپور میں تشدد کی واردات سے دو دن قبل شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راوت نے اورنگ زیب کے نام پر سیاست کرنے والے بی جے پی رہنماوں پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ان کی وفات کو 400 سال ہو چکے ہیں، اسے بھول جاؤ۔ مہاراشٹر میں کسان خودکشیاں کر رہے ہیں، کیا اس کی وجہ اورنگ زیب ہے؟ نہیں، اس کا سبب آپ کی ناکام پالیسیاں ہیں۔‘‘ اس وقت سنجے راوت نے بلاجھجک کہا تھا کہ ’’اگر اورنگ زیب نے ناانصافی اور مظالم کیے تھے، تو آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ کسان مر رہے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، خواتین خود کشی کر رہی ہیں۔ اورنگ زیب کی حکومت ختم ہو چکی ہے، لیکن آپ کی حکومت اس سے بھی زیادہ بری ثابت ہو رہی ہے۔‘‘ سنجے روات نے مذہب کے نام پر نشہ دے کر آزادی سلب کرنے سے منع کیا تھا اگراس مشورے پر عمل کیا جاتا تو انہیں فساد کے بعد ایوان پارلیمان میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پیش آتی کہ کل تک منی پور جل رہا تھا اب مہاراشٹر کو بھی جلا دیا۔ لاشیں بچھانے کے لیے آپ نے اورنگ زیب کے نام پر گڑے مردے اکھاڑ دئیے ۔ راجیش ریڈی نے بھی یہی کہا تھا؎
نئی لاشیں بچھانے کے لیے ہی
گڑے مردے اکھاڑے جارہے ہیں
ناگپور کے اندر پچھلے 68سالوں میں کوئی فرقہ وارانہ تشدد نہیں ہوا۔ وہاں پر نہ صرف سنگھ کا صدر دفتر بلکہ ڈاکٹر امبیڈکر دکشا بھومی بھی ہے جہاں انہوں نے ہندو مذہب کو چھوڑ کر بودھ مت قبول کیا تھا ۔ 2014سے قبل جن سنگھ یا بی جے پی کو وہاں صرف ایک بار کانگریس سے آنے والے بنواری لال پروہت کامیابی دلا سکے تھے ۔ ایسے پر امن شہر میں فساد کو سیاسی مبصرین خود دیویندر فڈنویس کے اندر وزارت عظمیٰ کے ارمانوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانشینی پر سنگھ پریوار میں سر د جنگ ایک حقیقت ہے۔ شاہ اور یوگی کے ساتھ اب اس دوڑ میں فڈنویس بھی شامل ہونے کےآرزومند ہیں۔ گیا رہ سال قبل جب وہ وزیر اعلیٰ بنے تو’نریندر کے بعد دیویندر‘ کا نعرہ لگ چکا ہے۔ اب وہ چاہتے ہیں اورنگ زیب کے مقبرے کو بابری مسجد کی مانند تنازع بناکر اپنی مقبولیت بڑھائیں۔
اس فتنہ و فساد کی ابتداء وشو ہندو پریشد کے قومی ترجمان ونود بنسل کے اس اعلان سے ہوئی جس میں انہوں نے کہا 17 مارچ کو شیواجی جینتی پر اورنگ زیب کی قبر کا خاتمہ ہوگا۔ ونود بنسل کے مطابق چونکہ شیواجی مہاراج نے ہندوی سوراجیہ (ہندوستانی جمہوریت) کے قیام اور حفاظت کے لیے اپنی 3 نسلیں وقف کر دیں اور دہشت گرد مغلوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے اس لیے ملک کے وقار کو بحال کرنے کی خاطر محکومیت کی علامتوں کے ساتھ ساتھ محکوم ذہنیت کو بھی شکست دی جائے۔ بنسل کے مطابق اورنگ زیب کے بعد اب ان کی قبر کے خاتمے کا وقت بھی آ رہا ہے۔اس لیے وی ایچ پی اور بجرنگ دل کےلوگ شیو جینتی کے دن پورے مہاراشٹر میں قبر کو ہٹانے کے لیے مقامی ضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ حکومت کو میمورنڈم پیش کر کے شیواجی مہاراج کی مقدس سرزمین سے قبر اور اورنگ زیبی ذہنیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر مہاراشٹر کے اندر ڈبل انجن سرکار کے ہوتے اس نوٹنکی ضرورت کیا ہے ؟ وہ لوگ براہِ راست وزیر اعظم یاوزیر اعلیٰ سے کیوں نہیں ملتے؟ ونود بنسل تو اورنگ زیب کے نام پر پوری ریاست میں نفرت پھیلانا چاہتے تھے مگر اتفاق سے تشددناگپور میں ہوگیا۔
بی جے پی اور شندے کی شیوسینا اس موضوع پر شیو سینا (یو بی ٹی) سے اس کے حامیوں کو بددل کرکے دور کرنا چاہتی ہیں اس لیے سنجے راؤت کے لیے ونود بنسل کے متنازعہ بیان پر جوابی حملہ کرنا لازمی ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک تقسیم کی جانب بڑھ رہا ہےکیونکہ آج کی صورتحال 1947 کے پہلے والے حالات جیسی لگ رہی ہے۔ پاکستان بناتے وقت کچھ لوگوں نے ایسے ہی حالات پیدا کر دیئے تھے۔ پنڈت نہرو نے اس وقت کہا تھا کہ ہندوستان کو ’ہندو پاکستان‘ نہیں بننے دیں گے۔سنجے راؤت نے اپنے مخصوس بیباک انداز میں کہا کہ ملک مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیے خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، لیکن آج بدقسمتی سے یہ ملک انہیں طاقتوں کے ہاتھوں میں چلا جارہا ہے۔ سنگھ پریوار کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر وہ بولے بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا اپنے کارکنان پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ ان تنظیموں کا واحد کام فسادات کرانا، مساجد پر حملے کرنا اور ہندو نوجوانوں کو مشتعل کرنا ہے ۔ یہ صاف گوئی قابلِ مبارکباد ہے۔
آر ایس ایس کے ترجمان سنیل امبیکر نے اپنے ایک بیان کہا تھا کہ ’اورنگ زیب کا جاپ بند ہونا چاہیے‘۔ اس کا نہایت موثر جواب تو شیو سینا (یو بی ٹی) کے ترجمان سامنامیں دیا گیا۔ اتفاق سے اس کے مدیر بھی سنجے راوت ہی ہیں۔ انہوں نے اداریہ میں لکھا کہ وہ(بی جے پی) آج کل مغل بادشاہ کو چھترپتی شیواجی مہاراج سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ وہ آگے لکھتے ہیں :’’چھترپتی شیواجی مہاراج کی حکمرانی مذہب پر مبنی نہیں تھی اور یہ خیال بی جے پی کو پہلے بھی قابل قبول نہیں تھا اور اب بھی قابل قبول نہیں ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کبھی بھی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا بی جے پی کے نظریے کی علامت نہیں تھے، اب وہ ’’شیو جی جی‘‘ کہہ رہے ہیں۔ لہذا، اورنگ زیب بی جے پی کے نئے شیواجی ہیں‘‘۔ اداریہ مزید لکھتا ہے کہ لوک سبھا میں، اڑیسہ کے بی جے پی رکن پارلیمان، پردیپ پروہت کا کھلے عام مودی کو پچھلے جنم میں چھترپتی شیواجی کہنا ثابت کرتا ہے کہ اب بی جے پی نے ایک نئے شیواجی کو جنم دیا ہے ۔ اس لیے ان کا منصوبہ چھترپتی شیواجی مہاراج کو ختم کرنے کی خاطران کی تاریخ کو ختم کرنا ہے تاکہ و ہ خود بخود تباہ ہو جائے۔پی ایم مودی کو چھترپتی شیواجی کی تشبیہ کو سامنا نے خوفناک کہہ کر سوال کیا کہ کیا چھترپتی کی اولاد ادین راجے بھوسلے اور شیوندراجے بھوسلے مودی کی اس تعریف کو منظور کرتے ہیں؟‘‘
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے پر اس کا کوئی اثر ہونے سے رہا ۔ انہوں نے شیوجینتی کے جلسۂ عام میں کہا کہ اورنگ زیب کی تعریف کرنے والے لوگ “غدار” ہیں۔ یہ دراصل ان کے اپنے دامن پر لگے غداری کے دھبے کو دھونے کی ایک کوشش ہے۔ شیوسینا سربراہ نے تھانے ضلع کے ڈومبیولی علاقے کے میں مجسمے کی نقاب کشائی کے موقع پر لوگوں سے شیواجی مہاراج کی کم از کم ایک خوبی کو اپنی زندگی میں اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے اسے مراٹھا حکمران کو حقیقی خراج عقیدت بتایا۔روزنامہ سامنا میں شیواجی کی بابت لکھا گیا ہےکہ شیواجی ریاست میں اتحاد لائےمگر اب مہاراشٹر تقسیم اور مذہب کے نام پر جل رہا ہے۔ شیواجی کا فرمان کہتا ہے کہ اگر آپ کو کہیں بھی قرآن کا نسخہ ملے تو اسے عزت کے ساتھ واپس کر دیں لیکن ناگپور میں قرآن کی آیات کو جلا دیا گیا۔ شندے کی نصیحت کے مطابق اگر اس خوبی کو اپنایا گیا ہوتا ناگپور میں تشدد نہیں ہوتا ۔
مہاراشٹر اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں کانگریسی رہنما وجے وڈیٹیوار نے نظم و نسق کے موضوع پرحکومت سے سوال کیا کہ ناگپور وزیر اعلیٰ کا گھر ہے۔ اس گھر میں آگ کیوں لگی؟ اور کس نے لگائی ؟اس کا پتہ لگانے میں وزیر اعلیٰ ناکام ہیں۔ جس شخص کا انتقال 350؍ سال پہلے ہو چکا ہے اس کے نام پر آج بھی نفرت پھیلائی جارہی ہے۔وجئے نے پوچھا اگرنائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے مطابق ناگپور میں پتھر ، ہتھیار اور پیٹرول بم لائے گئے تھے اور یہ فساد منصوبہ بند طریقے سے کیاگیا تومحکمہ پولیس اور انٹیلی جنس کیا کررہے تھے؟ مقامی چینلوں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ناگپور کے حالات کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا اس دوران باربار پولیس افسران کو فون کیا گیا لیکن وہ سب کچھ ہو جانے کے بعد موقع واردات پر پہنچی۔ اس لئے پولیس کے کردار پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے اعلان ’فسادیوں کو بخشا نہیں جائے گا‘ پر سوال کرتے ہوئے ویڈیٹیوار نے کہا آگ میں گھی ڈالنے کا کام کس نے کیا ؟آئین کا حلف لینے کے باوجود ایک وزیر(نتیش رانے) مسلسل زہر افشانی کر رہا ہے، اس کے بیانات سماج میں تفرقہ پیدا کررہے ہیں اور دو فرقوں کے درمیان نفرت بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں ، اس وزیر کو اب تک کیوں برداشت کیا جارہا ہے ؟وجے وڈیٹیوار نے شیواجی مہاراج کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کو بتایا کہ ان کی فو ج میں مسلمان بھی تھے۔شیواجی مہاراج کی لڑائی ہندو مسلم نہیں بلکہ سیاسی تھی ۔ اس کے باوجودیہ کہنا کہ ان کی فوج میں مسلمان نہیں تھے یا شیواجی مہاراج مسلمانوں کے خلاف تھے بالکل غلط اور بے بنیاد بات ہے۔ آئین کا حلف لینے والے وزیر ہی یہ کہنے لگیں کہ بابری مسجد کی طرح اورنگ زیب کی قبر کو بھی منہدم کیاجائے گا تو پھر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آگ میں گھی کون ڈال رہا ہے؟ اس سوال کا جواب تو سبھی جانتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس آگ کو بجھانے کے لیے کیا اور کیسے کیا جائے؟
Like this:
Like Loading...