Skip to content
عید الفطر: جشن کی روشنی میں غم کے سائے
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
عید — روشنیوں کا تہوار، دعاؤں کی قبولیت کا لمحہ، محبتوں کے گلاب بکھیرنے کا دن۔
عید… خوشبوؤں میں بسی صبح، چمکتے سورج کی پہلی کرن کے ساتھ مسکراتی دنیا،
خلوص و اپنائیت سے معمور لمحے، اپنوں کی قربت کا احساس، اور انمول خوشیوں کی برسات! لیکن کیا واقعی عید سب کے لیے یہی رنگ، یہی خوشبو، یہی راحت لے کر آتی ہے؟
کیا ہر دروازے پر مسکراہٹ دستک دیتی ہے؟
کیا ہر گلی میں خوشیوں کی صدا گونجتی ہے؟ کیا ہر آنکھ امید کی روشنی سے جگمگاتی ہے؟
نہیں! — دنیا کے نقشے پر ایک سر زمین ایسی بھی ہے جہاں عید کے رنگ سرخ ہیں، جہاں عید کی صبح چیخوں سے جاگتی ہے، جہاں عید کی خوشبو بارود کی سڑاند میں کھو جاتی ہے، جہاں عید کی ہنسی گولیوں کی گرج میں دب جاتی ہے، جہاں عید کا چاند گہرے دھوئیں میں چھپ جاتا ہے، جہاں عید کی اذانیں بین میں بدل جاتی ہیں، جہاں معصوم بچّوں کی ہنسی گم ہو چکی ہے، جہاں ماؤں کی ممتا نوحوں میں ڈھل چکی ہے، جہاں بیواؤں کے آنسو چمکتے موتیوں نہیں، بلکہ خون میں ڈوبے نوحے ہیں!
یہ ہے غزہ کی عید! — سسکتی ہوئی، بلکتی ہوئی، زخموں سے چور، آنکھوں میں سوال لیے، اندھیرے میں ڈوبی، خاموش چیخوں سے بھری، لہو میں نہائی ہوئی! یہ وہ عید ہے جہاں بچّوں کے لیے کھلونے نہیں، بلکہ اسپتالوں کے ٹھنڈے فرش ہیں۔ یہ وہ عید ہے جہاں ماں کی گود میں دودھ نہیں، بلکہ خالی ہاتھوں کی حسرت ہے۔ یہ وہ عید ہے جہاں چمکتے لباس نہیں، بلکہ کفن ہیں، جہاں دعوتوں کے خوان نہیں، بلکہ اجڑے گھروں کی راکھ ہے۔
یہاں عید کے دن دسترخوان سجے نہیں،
بلکہ مسمار گھروں کے ملبے پر مائیں اپنے بچّوں کو ڈھونڈتی ہیں۔ یہاں عید پر ہنسی کی گونج نہیں، بلکہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ ہے۔
یہاں نئے لباسوں کی خوشبو نہیں، بلکہ جلتے گھروں کے دھوئیں کا بوجھ ہے۔ یہاں عید گاہوں میں صفیں نہیں بنتیں، بلکہ جنازے اٹھائے جاتے ہیں۔ یہاں بچّے عیدی لینے کے لیے قطار میں نہیں لگتے، بلکہ امداد کے انتظار میں ٹھٹھرتے رہتے ہیں۔ یہاں باپ بیٹے کو سینے سے نہیں لگاتا، بلکہ مٹی کے نیچے دفن کر دیتا ہے۔
یہاں عید، خوشی نہیں بلکہ سوال بن کر آتی ہے: "میری عید کہاں ہے؟”۔ "میری ہنسی کیوں چھین لی گئی؟”۔ "میرے خواب کیوں مسمار کر دیے گئے؟”۔ "میرے ہاتھ میں چوڑیاں کیوں نہیں، زخم کیوں ہیں؟”۔ "میری ماں کی ہنسی بین میں کیوں بدل گئی؟”۔ دنیا کے دوسرے کنارے پر وہ بھی ہیں جو اپنی خوشیوں میں مگن ہیں، جن کے چہرے عید کی تازگی سے دمک رہے ہیں، جن کے بچّے خوشی سے قلقاریاں مار رہے ہیں، جو نئے ملبوسات میں، قیمتی خوشبوؤں میں مہک رہے ہیں۔
لیکن — کیا وہ جانتے ہیں کہ انہی لمحوں میں غزہ کی گلیوں میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہاں کی عید ایک مستقل المیہ کیوں بن چکی ہے؟ کیا وہ سوچتے ہیں کہ یہ دن وہاں ہر سال ایسے ہی ادھورے خوابوں کے ساتھ کیوں آتا ہے؟ یہ ہے وہ عید الفطر جو کچھ کے لیے رنگ و نور ہے، اور کچھ کے لیے خون و آنسو!
غزہ کے بچّوں کی عید: مسکراہٹوں کے بیچ آنسو
عید— بچپن کی معصوم مسکراہٹوں کا تہوار،
عید— کھلونوں، چاکلیٹ، رنگ برنگے لباسوں اور خوشبوؤں میں بسی ایک حسین صبح،
عید… ماں کی محبت بھری بوسہ لیتی پیشانی، باپ کی مضبوط بانہوں میں جھولتے لمحے، بہن بھائیوں کی شوخیاں، دوستوں کے ساتھ بے فکری کی ہنسی! لیکن— یہ سب کچھ غزہ کے بچّوں کے نصیب میں کہاں؟ جب دنیا بھر میں ننھے ہاتھ نئے کپڑوں کی خوشی میں تھرکتے ہیں، جب مہندی رچی ہتھیلیوں سے عیدی وصول کی جاتی ہے، جب چمکدار کھلونے بانہوں میں جھولتے ہیں، جب عید گاہ میں بچّوں کی چہکار گونجتی ہے، تو غزہ کے بچے محرومی اور کرب کے سائے میں دبک جاتے ہیں۔
یہاں عید کا چاند خون میں بھیگا ہوا طلوع ہوتا ہے، یہاں عید کے کپڑے ماتم کی سیاہ چادر میں لپٹے ہوتے ہیں، یہاں عیدی میں کھلونے نہیں، بلکہ آنکھوں میں ٹھہرے آنسو دیے جاتے ہیں۔ یہاں معصوم بچّوں کے کھیلنے کے میدان نہیں، بلکہ اجڑے ہوئے کھنڈر ہیں،
یہاں چمکدار جوتے نہیں، بلکہ راکھ اور مٹی میں اٹے پیروں کے نشانات ہیں، یہاں ماں کی گود میں سکون نہیں، بلکہ فضا میں گونجتی چیخیں ہیں۔ یہ وہ بچّے ہیں جنہوں نے ہوش سنبھالتے ہی لوری کے بجائے دھماکوں کی گونج سنی، جن کے لیے چمکدار کھلونوں کی جگہ بموں کے ٹکڑے ہیں، جن کی گڑیا ملبے میں دفن ہو چکی ہے، جن کے کارٹون کی کتابیں خون میں بھیگ چکی ہیں۔
جب دنیا کے کسی اور گوشے میں ایک بچّہ باپ کے ساتھ عیدگاہ جاتا ہے، تو غزہ کے بچّے قبرستان کے خاموش پتھروں سے لپٹ کر سسکیاں بھرتے ہیں۔ جب کہیں کسی ماں کی ہنسی اپنے بچّے کی تیاریوں پر کھلتی ہے،
تو غزہ کی ماں کے آنسو اپنے شہید بچّے کی تصویر پر گرتے ہیں۔ جب کہیں بہن بھائی عیدی پر جھگڑتے ہیں، تو یہاں بہن اپنے بھائی کے بے جان ہاتھوں کو تھام کر بلکتی ہے۔
یہاں عید کے معنی بدل چکے ہیں! یہاں مسکراہٹوں کی جگہ آنسو، خوشبوؤں کی جگہ بارود، چمکتے رنگوں کی جگہ خون،
قہقہوں کی جگہ آہیں لے چکی ہیں۔ یہاں بچّے جیتے نہیں، بلکہ بچپن ہی میں مار دیے جاتے ہیں، یہاں عید ماتم میں ڈھل جاتی ہے، یہاں ہر گھر میں ایک قبرستان آباد ہوتا ہے۔ دنیا کے دوسرے کونے میں عید کا چاند ہنسی اور روشنی لاتا ہے، لیکن غزہ میں وہی چاند لہو رنگ ہو کر نکلتا ہے۔ یہاں ہر سال عید کی چمک ماند پڑ جاتی ہے، یہاں عید خوشی نہیں، بلکہ ایک سوال بن کر آتی ہے: "کیا ہمیں بھی کبھی حقیقی عید نصیب ہوگی؟”
غزہ کی ماؤں کی عید: آنسوؤں کا موسم، یادوں کی بھوک
عید… ایک ماں کے لیے خوشیوں کا وہ لمحہ جب اس کے بچّے نئے لباس میں ملبوس، خوشبو میں بسے، ہنستے مسکراتے اس کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہاتھوں سے انہیں تیار کرتی ہے، ان کی مانگ سنوارتی ہے، ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتی ہے اور ان کے قہقہوں میں اپنی زندگی کا حاصل تلاش کرتی ہے۔ لیکن غزہ کی ماؤں کے لیے عید اب صرف ایک زخم ہے، ایک نہ ختم ہونے والا نوحہ، آنسوؤں کا موسم اور یادوں کی بھوک۔ یہ وہ مائیں ہیں جنہوں نے اپنے بچّوں کے تن پر نئے کپڑے نہیں، کفن ڈالے ہیں۔ یہ وہ مائیں ہیں جن کے ہاتھوں نے چوڑیوں میں کھنک نہیں سنی، بلکہ خون آلود لاشوں کو تھاما ہے۔
یہ وہ مائیں ہیں جو اپنے بیٹوں کو آخری بار چوم کر انہیں مٹی کے سپرد کر چکی ہیں، اور اب ہر عید ان کے لیے ایک نئے درد کی تجدید بن جاتی ہے۔ جب پورا جہاں خوشی میں مست ہوتا ہے، غزہ کی یہ مائیں ملبے کے ڈھیروں پر بیٹھی، ٹوٹی دیواروں سے لپٹ کر پکارتی ہیں:
"میرے بچّے! تم کہاں ہو؟ آج عید ہے!”
یہ وہ مائیں ہیں جو اپنے گھروں کی ویرانی میں اپنے بچّوں کی آوازیں تلاش کرتی ہیں۔
یہ وہ مائیں ہیں جو خالی جھولے دیکھ کر سسکتی ہیں، جو اپنی گود کی ویرانی پر نوحہ خواں ہیں۔ یہ وہ مائیں ہیں جن کی بیٹیوں کے ہاتھوں پر مہندی نہیں، زخموں کے نشان ہیں، اور جن کے بیٹوں کے نئے جوتے عید کے دن خون آلود ہو گئے۔ عید کے دسترخوان پر بیٹھنے والی مائیں خوشیوں کے نوالے چنتی ہیں، مگر غزہ کی مائیں خالی کرسیوں کو تکتی ہیں۔ دوسری ماؤں کے آنگن قہقہوں سے گونجتے ہیں، مگر ان کے آنگن میں خاموشی کی چادر تنی رہتی ہے۔
دوسری مائیں اپنے بچّوں کو نئے کپڑوں میں دیکھ کر مسکراتی ہیں، مگر یہ مائیں اپنے بچوں کی تصویروں کو سینے سے لگا کر آنسو بہاتی ہیں۔
ان کے لیے عید خوشی کا پیغام نہیں، ایک کرب ہے، ایک زخم ہے، ایک یاد ہے جو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ ان کی عید دعا ہے، آنسو ہے، اور اس سوال کا درد ہے جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے:
"میرے بچّے! تم کہاں ہو؟ آج عید ہے!”
غاصب صہیونیوں کے ظلم کی عید: خون میں ڈوبی خوشیاں
جب دنیا عید کی روشنیوں میں نہا رہی ہوتی ہے، جب بازار رنگین ملبوسات اور خوشبوؤں سے مہک رہے ہوتے ہیں، جب گھر آنگن قہقہوں اور محبتوں سے بھرے ہوتے ہیں، تب غزہ کی فضاؤں میں دھواں اٹھ رہا ہوتا ہے، گلیوں میں بارود کی بو بسی ہوتی ہے، اور گھروں کے در و دیوار ماتم کناں ہوتے ہیں۔ یہ وہ عید ہے جس پر ظلم کا سایہ چھا چکا ہے، جہاں خوشیوں کی جگہ خوف نے لے لی ہے، جہاں بچّوں کی ہنسی کی جگہ سسکیاں سنائی دیتی ہیں، اور جہاں ہر گزرنے والا لمحہ ایک نئی قیامت بن کر ٹوٹتا ہے۔
یہ ظالموں کی عید ہے!
جہاں ایک اور صبحِ عید، کسی ماں کے جگر کے ٹکڑے کو چھین لیتی ہے۔ جہاں ایک اور عید، کسی معصوم کی میت پر روتی بہن کے آنسو جذب کر لیتی ہے۔ جہاں ایک اور عید، کسی بے سہارا باپ کے لیے قیامت بن جاتی ہے۔ جب دنیا میں تحفے بانٹے جا رہے ہوتے ہیں، تب غزہ میں جنازے اٹھائے جا رہے ہوتے ہیں۔ جب دنیا میں نئے کپڑوں میں خوشیاں منائی جا رہی ہوتی ہیں، تب غزہ میں کفن تقسیم کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ جب دنیا میں بچّے اپنی عیدی گن رہے ہوتے ہیں، تب غزہ کے یتیم اپنے والدین کی قبروں پر بیٹھے سسک رہے ہوتے ہیں۔
یہ عید ظالموں کے لیے ایک اور کامیابی کا دن ہے، کیونکہ انہوں نے ایک اور عید کو خون میں نہلا دیا۔ یہ عید ان کے لیے ایک اور فتح کا اعلان ہے، کیونکہ ایک اور عید معصوموں کے جنازوں میں ڈھل گئی۔ یہ عید ان کے لیے ایک اور جشن ہے، کیونکہ ایک اور عید یتیموں کی آہوں میں دفن ہو گئی۔ یہ کیسی عید ہے جہاں ظلم کا بازار گرم ہے؟ یہ کیسی عید ہے جہاں عالمی ضمیر بے حس اور مردہ ہو چکا ہے؟ یہ کیسی عید ہے جہاں انصاف خاموش ہے، اور ظالم اپنے ظلم پر نازاں ہیں؟ یہ وہ عید ہے جو خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ وہ عید ہے جس پر ماتم کے سائے ہیں۔ یہ وہ عید ہے جس پر دنیا خاموش ہے، مگر تاریخ کے صفحات چیخ رہے ہیں:
"یہ عید نہیں، یہ انسانیت کی شکست کا دن ہے!”
دنیا کے مسلمانوں کی بے حسی کی عید: خاموش ضمیر، بجھی انسانیت
المیہ صرف یہ نہیں کہ غزہ میں خون بہایا جا رہا ہے، المیہ یہ ہے کہ ہم اسے دیکھ کر بھی خاموش ہیں۔ ظلم کی گونج فضاؤں میں بکھری ہوئی ہے، معصوم بچّوں کی چیخیں کانوں سے ٹکرا رہی ہیں، ماؤں کی آہ و زاری ہواؤں میں تحلیل ہو رہی ہے، لیکن امت مسلمہ کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہم نے اپنے کان بند کر رکھے ہیں، اپنی آنکھیں موند لی ہیں، اور اپنے دل پتھر کر لیے ہیں۔
یہ وہ عید ہے جو ہمارے مردہ ضمیروں کا اعلان ہے۔
یہ وہ عید ہے جو ہماری بے بسی اور غفلت کا نوحہ ہے۔
یہ وہ عید ہے جس پر ہمارا سکوت، ہمارے اجتماعی جرم کی گواہی دے رہا ہے۔
ہم میں سے کتنے ہیں جو عید کے دن خوشیوں کی چکاچوند میں غزہ کے سائے میں جینے والے یتیموں کو یاد کرتے ہیں؟
ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے سجے دستر خوان کے سامنے ان ماں باپ کی فکر کرتے ہیں جن کے پاس اپنے بچّوں کو دینے کے لیے ایک نوالہ بھی نہیں؟ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے بچّوں کو عیدی دیتے وقت ان معصوموں کے بارے میں سوچتے ہیں جن کے ہاتھ میں عیدی کے نوٹ نہیں، اپنے پیاروں کی خون آلود یادیں ہیں؟
ہم قیمتی لباس پہنے، خوشیوں میں مست، عید کے گیت گنگنا رہے ہیں، لیکن ہمارے یہ لباس بے حسی کے بوجھ سے بوجھل ہیں۔
ہمارے دسترخوان نعمتوں سے بھرے ہوئے ہیں، لیکن ان پر احساس کی کوئی روٹی نہیں۔ ہمارے قہقہے بلند ہو رہے ہیں، لیکن ان میں کوئی ایسی ہچکی شامل نہیں جو کسی مظلوم کے درد سے نکلی ہو۔
یہ ہماری بے حسی کی عید ہے!
یہ ہماری غفلت کی عید ہے!
یہ ہماری مردہ انسانیت کی عید ہے!
شاید وقت ہمیں کبھی معاف نہ کرے، شاید تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے، شاید وہ یتیم بچّہ جو آج غزہ کی مٹی پر بیٹھا اپنی خالی ہتھیلیاں تک رہا ہے، وہ روزِ قیامت ہمارے گریبان پکڑ کر ہم سے سوال کرے:
"جب میرا گھر اجڑ رہا تھا، جب میری ماں سسک رہی تھی، جب میرا باپ شہید ہو رہا تھا… تب تمہاری عید کیسے ہو سکتی تھی؟”
آگے بڑھنے کا راستہ: بے حسی کی زنجیروں کو توڑنے کا وقت
لیکن ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا!
ابھی بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں، اپنی غفلت کے پردے چاک کر دیں، اپنی بے حسی کی زنجیریں توڑ ڈالیں اور ظالموں کے خلاف ایک ایسی چنگاری بن جائیں جو ظلم کی تاریکی کو جلا کر راکھ کر دے۔ یہ سچ ہے کہ غزہ کی عید خون میں نہا چکی ہے، یہ سچ ہے کہ وہاں کے آنگن ویران ہو چکے ہیں، یہ سچ ہے کہ وہاں کی گلیاں ماتم کدہ بن چکی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم چاہیں تو غزہ کے یتیموں کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں۔
ہم چاہیں تو ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھ سکتے ہیں۔ ہم چاہیں تو ان کی عید کو خوشیوں کی عید بنا سکتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم جاگیں!
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی دعاؤں میں غزہ کے مظلوموں کو شامل کریں، ان کے لیے رحمت، صبر اور فتح کی دعائیں کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں ان کے درد کو محسوس کریں، ان کی تکلیف کو اپنا دکھ سمجھیں، ان کی بے بسی کو اپنی ذمّہ داری مانیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مال و دولت میں ان کا حق تسلیم کریں، انہیں بھول نہ جائیں، بلکہ ان کی مدد کو اپنا فریضہ جانیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی آواز بلند کریں، ظالموں کو للکاریں، اور دنیا کے سامنے سچائی کا علم بلند کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیں اور اپنے ایمان کو جگائیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم صرف غزہ کے لیے نہیں، بلکہ پوری اُمتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی صبح کی بنیاد رکھیں۔
کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا، اگر ہم نے اپنی بے حسی کو برقرار رکھا، اگر ہم نے اپنے ضمیر کو مردہ رہنے دیا، تو وہ دن دور نہیں جب تاریخ ہم سے سوال کرے گی:
"جب غزہ کے بچّے عید کے دن یتیم ہو رہے تھے، جب مائیں اپنے جگر گوشوں کے لاشے اٹھا رہی تھیں، جب مظلوموں کی آہیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں… تو تم کیا کر رہے تھے؟”
یہ سوال ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ یہ سوال ہمیں بیدار کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ یہ سوال ہمیں عمل پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم یا تو بے حسی کی چادر اوڑھ کر اپنی عید مناتے رہیں، یا پھر وہ چراغ جلائیں جو غزہ کی اندھیری رات میں روشنی بن جائے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی!
یہ وقت جاگنے کا ہے! یہ وقت اٹھنے کا ہے!
اب مزید خاموش رہنا ممکن نہیں! یہ وقت جاگنے کا ہے، وقت کی دھڑکنوں کو محسوس کرنے کا ہے، اپنی بے حسی کے خول کو توڑنے کا ہے۔ یہ وقت اٹھنے کا ہے، غلامی کی زنجیروں کو جھٹک دینے کا ہے، ظالموں کے خلاف سینہ سپر ہونے کا ہے، اپنے کھوئے ہوئے شعور کو واپس پانے کا ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک عید کو خون میں نہاتے دیکھا ہے، ہم نے اپنے کانوں سے ماؤں کی چیخیں سنی ہیں، ہم نے اپنے دلوں میں وہ درد محسوس کیا ہے جو غزہ کی جلتی ہوئی گلیوں میں ہر یتیم بچّہ سہہ رہا ہے۔
تو پھر ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟
کیسے اپنی راحت میں مگن رہ سکتے ہیں؟
کیسے اپنی عید کو مکمل سمجھ سکتے ہیں جب ہمارے بھائیوں کی عید ویرانی اور تباہی میں ڈوب چکی ہے؟ یہ وقت وہ عید واپس لینے کا ہے جو ہم نے ظلم کے ہاتھوں کھو دی ہے! وہ عید جس کی خوشبو ہمیں بارود کی بدبو میں دفن کر دی گئی، وہ عید جس کی ہنسی ہمیں معصوم لاشوں کے ماتم میں تبدیل کر دی گئی، وہ عید جس کے قہقہے ہم نے اپنے سکوت کی قیمت پر ظالموں کو بیچ دیے۔
لیکن نہیں! اب ہم اپنی عید واپس لیں گے!
ہم اسے انصاف کے وعدے سے، اتحاد کی طاقت سے، اور اپنے ایمان کی روشنی سے واپس لیں گے۔ ہم وہ چراغ جلائیں گے جو ظلم کی سیاہ رات کو چیر ڈالے گا، ہم وہ صدا بلند کریں گے جو ہر مظلوم کے دل کو امید بخشے گی، ہم وہ پہچان بنیں گے جو ظالموں کے ایوانوں کو لرزا دے گی۔
یہ وقت جاگنے کا ہے!
یہ وقت اٹھنے کا ہے!
یہ وقت وہ عید واپس لینے کا ہے جو ہم نے ظلم کے ہاتھوں کھو دی ہے!
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی احتجاجی صورت اختیار کی جائے ؟ کیا کسی مخصوص رنگ یا لباس احتجاج کی نشانی کی طور پر ہندستانی مسلمان کواختیار کرنے کا اعلان کیا جاسکتا ہے جیسے جمعۃ الوداع کے مواقع پر بازو پر کالی پٹی باندھنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ واقعی ایک احتجاج کی ضرورت ہے شاید ہمارے اس عمل سے صیہونیوں پر کوئی اثر نہ ہو لیکن غزہ کی عوام کو یہ احساس ہو کم ان کے غم میں شریک ہیں ۔بھلے ہی صیہونیوں کو ہمارے اس عمل سے مذاق کا موقع ہاتھ آجاۓ لیکن جسکا جسم زخموں سے چور ہو وہ کہاں کسی کے مذاق کی پرواہ کرتے ہیں ۔کیا کوئی کوڈ دیا جاسکتا ہے کہ دوسرے ملک کے لوگوں کو کچھ تو غیرت آہی جائے ۔ اک دکھی دل کا خیال ہے یہ کہاں تک ممکن ہے اس کا اندازہ تو لگایا بھی نہیں جاسکتا ۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
آپ کا یہ احساس ایک بے قرار دل کی پکار ہے، جو نہ صرف غزہ کے لہولہان چہرے کو دیکھ کر لرز رہا ہے بلکہ امت کی بے حسی پر بھی مضطرب ہے۔ یہ سوال کہ "کیا کوئی احتجاجی صورت اختیار کی جائے؟” ایک فرد کا نہیں، ایک زخمی ضمیر کا سوال ہے، جو چیخ چیخ کر اپنی بیداری کا اعلان کر رہا ہے۔
احتجاج محض شور مچانے کا نام نہیں، بلکہ ایک پیغام دینے کا ہنر ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہمارے احتجاج سے ظالموں کے کانوں پر کوئی جوں رینگے، لیکن یہ تو ممکن ہے کہ غزہ کے معصوم بچے، جو راکھ میں دبے اپنے کھلونے تلاش کر رہے ہیں، یہ محسوس کریں کہ دنیا کے کسی کونے میں ان کے لیے دل دھڑک رہے ہیں، ان کی تکلیف کو اپنا درد سمجھنے والے موجود ہیں۔
کسی مخصوص رنگ، لباس یا علامت کو احتجاج کا ذریعہ بنانا محض ایک رسمی اقدام نہیں ہوگا، بلکہ یہ اس عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہوگی جو بے حسی کے خول میں قید ہے۔ اگر ایک سیاہ پٹی کسی کے ضمیر کو جگانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، اگر کوئی مخصوص رنگ کسی قوم کی خاموش چیخ بن سکتا ہے، تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ شاید ہمارے اس عمل کو ظالم مذاق سمجھیں، لیکن جو ظلم کی چکی میں پس رہا ہو، اسے اس مذاق کی کب پرواہ؟
یہ وقت ہے کہ اُمتِ مسلمہ اپنی موجودگی کا احساس دلائے، اپنے زخموں کو زبان دے، اور اپنی اتحاد کو ایک واضح پیغام میں ڈھالے۔ احتجاج کی صورت چاہے جو بھی ہو، اگر وہ اخلاص اور شعور کے ساتھ ہو تو وہ پتھروں میں بھی ارتعاش پیدا کر دیتی ہے۔ کیا معلوم، ہماری ایک چھوٹی سی علامتی کوشش، کسی سوئے ہوئے ضمیر کو جگا دے، کسی غافل آنکھ کو اشکبار کر دے، اور کسی بے حس دل میں رحم پیدا کر دے؟
یہی سوچ، یہی احساس، یہی تڑپ— یہی تو زندگی ہے، یہی تو بیداری ہے۔