Skip to content
ناگپور فساد: میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر کے خلد آباد میں واقع مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے 300 سال قدیم قبر کے خلاف آر ایس ایس سے وابستہ تنظیمیں وشو ہندو پریشداور بجرنگ دل نے جومظاہرہ کیا اس کے بعدناگپور میں تشدد پھوٹ پڑا اور کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ شہر میں تشدد کیسے اور کیوں ہوا؟ اس کا ماسٹرمائنڈ کون تھا؟ اس کے اغراض و مقاصد کیا تھے ؟ اس جیسے بے شمار سوالات کے مختلف جوابات ہوسکتے ہیں مگر اس کے بعد اورنگ زیب کے حوالے سے جاری تنازعےپر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ترجمان سنیل امبیکر کا بیان بہت اہم ہے اور اس نے انتظامیہ سمیت اقتدار میں بیٹھے سیاسی آقاوں کو ایک ٹھوس پیغام دے دیا۔ آر ایس ایس لیڈر سے پوچھا گیا تھا کہ کیا اورنگ زیب عالمگیر کی عصرِ حاضر میں معنویت ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا ’نہیں‘۔ اس طرح صاف الفاظ میں یہ اعتراف کرلیا گیا کہ مغل بادشاہ اورنگ زیب آج کے دور میں ’’متعلقہ‘‘ نہیں ہے۔
آر ایس ایس کے قومی نشر و اشاعت شعبے میں سربراہ امبیکر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے امبیکر کا یہ بیان ناگپور میں جھڑپوں اور اورنگ زیب کی قبر کو مسمار کرنے کے تعلق سے ایک نامہ نگار کے سوال کے جواب میں تھا۔سنگھ پریوار کی وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے ناگپور میں اورنگ زیب کی قبر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بلا اجازت احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس موقع پر وہ کسی درگاہ سے ایک سبز چادر لے آئے جس پر مبینہ طور پرقرآن مجید کی آیات لکھی ہوئی تھیں ۔ اس چادر کی بے حرمتی کرکے اسے جلایا گیا جس کے خلاف مسلمانوں احتجاج کیا ۔ اول تو پولیس نے بلا اجازت احتجاج کو نہیں روکا اور اس کے کرنے والوں پر کارروائی نہیں کی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی شکایت لکھنے میں آنا کانی کرنے لگی نیز اس کی بنیاد پر کوئی کارروائی یعنی گرفتاری وغیرہ نہیں کی۔ اس سے لوگوں کا پیمانہ ٔ صبرلبریز ہوگیا ۔
اس کے بعد بھی ریاست کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس پولیس پر حملے کی آڑ میں بلا واسطہ مسلمانوں سے سختی کرنے کی دھمکی دیتے رہے ایسے میں امبیکر کا بیان آگیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’کسی بھی قسم کا تشدد معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پولیس نے اس کا نوٹس لیا ہے اور وہ اس کی تفصیلات تک پہنچیں گے۔ ‘‘یہ بیان آر ایس ایس کی سالانہ مجلس عاملہ کی نشست جو 21 سے 23 مارچ تک منعقد ہونی تھی کے پہلے ہوا۔ اس میں بنگلہ دیش کے اندر ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے قرارداد زیر غور تھی ۔ یہ چراغ تلے اندھیرا جیسی صورتحال ہے کہ اپنے ملک بلکہ خود اس شہر اور صوبے میں جہاں سنگھ کاصدر دفتر ہے اقلیتوں پر ہونے والے مظالم سے بے نیاز یہ لوگ بنگلہ دیش کے بارے میں فکر مند ہیں۔ اس موقع پر آر ایس ایس کے 100 سالہ سفر (1925-2025) اور مستقبل کے اہداف پر غوروخوض اور ہونا تھا ۔
سنیل امبیکر تو یہی چاہتے رہے ہوں گے کہ اس پریس کانفرنس میں ان سے ان امور پر سوال کیا جائے مگر اخباری نمائندوں نے ناگپور کا قضیہ چھیڑ کر رنگ میں بھنگ ڈال دیا اور بس اتنا ہی حصہ میڈیا میں وائرل بھی ہوا۔ سنیل امبیکر کے اس موقف نے اورنگ زیب عالمگیر معاملے میں بہت زیادہ اچھل کود کرنے والے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سمیت نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نتیش رانے جیسے لوگوں کی زبان پر لگام لگانے کا کام کیا۔مرکزی وزارت میں مہاراشٹر کے سب سے قدآور رہنما نیتن گڈکری اسی شہر سے آتے ہیں بلکہ تشدد زدہ علاقہ انہیں کے حلقۂ انتخاب میں ہیں۔ انہوں نے تشدد سے دودن قبل انجمن اسلام کے ایک کالج میں بہت اچھی تقریر کی تھی جو ذرائع ابلاغ میں خوب وائرل ہوئی اور اس میں مسلمانوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی دہائی دی گئی تھی ۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے کی خاطر وہ آر ایس ایس کے سب سے چہیتے امیدوار ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی عمر کے 75؍ برس امسال ستمبرمیں مکمل کررہے ہیں اس لحاظ سے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار سر سنگھ چالک سے ملاقات کے لیے آنا اور اس سے قبل تشدد کا پھوٹ پڑنا سیاسی افواہوں کو جنم دیتا ہے۔
آر ایس ایس پچھلے سو سالوں سے ہندو سماج کو مسلمانوں سے خوفزدہ کررہا ہے اور مسلمانوں کو بھی ڈرا نے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسے میں اس کے صدر دفتر سے قریب تشدد اس کی ناکامی کی جانب اشارہ ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہنوز اپنے مؤخرالذکر مقصد میں کامیاب نہیں ہوا ورنہ یہ ردعمل نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فذنویس نے اس تشدد کو منصوبہ بند کہہ کر خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارلی کیونکہ اچانک پھٹ پڑنے والے تشدد کا تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا لیکن اگر اس کا منصوبہ بناتھا تو ان کی خفیہ ایجنسیاں کیا کررہی تھیں۔ َ اس کا سراغ لگانے میں ناکامی کی ذمہ داری کس پر ہے؟کیا ریاست کے وزیر داخلہ فڈنویس اس مجرمانہ کوتاہی کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگوں نے تشدد کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ پر ڈال کر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ تک کردیا ہے۔
شیواجی کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے افضل خان کا مقبرہ بنوایا ۔ شیواجی کے پوتے شاہو جی مہاراج نے جن کی پرورش خود اورنگ زیب نے کی تھی اپنے محسن کی قبر پر جاکر خراج عقیدت پیش کیا مگر اب نتیش رانے جیسے لوگ شیواجی کے وارثین سے بڑے شیوبھگت ہونے کا ناٹک کررہے ہیں ۔ نتیش رانے کے مطابق اورنگ زیب نے چھترپتی شیواجی اور سنبھاجی مہاراج کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے سبب وہ مقبرہ ہماری ریاست میں رکھنے لائق نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اورنگ زیب کے بعد ڈھائی سو سال مہاراشٹر میں مراٹھوں کی حکومت رہی ۔ خود نتیش رانے کے والد نرائن رانے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بنے مگر کسی کو قبر کے ہٹانے کا خیال کیوں نہیں آیا ؟ نتیش رانے نے ایودھیا کی مانند اورنگ زیب عالمگیر کے مقبرے کو مسمار کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر اعلیٰ کا یہی موقف اور صحیح وقت پر آپ کو بریکنگ نیوز مل جائے گی۔سچ تو یہ ناگپور تشدد کے بعد نتیش رانے کی بدزبانی پر ایک بریک ضرور لگ گیا۔یہ بریک کب تک لگا رہتا ہے کہ یا ان وزارت کا گلا کب گھونٹ دیا جاتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن جتنی جلدی یہ اقدام کردیا جائےصوبے کی عوام کے لیے بہتر ہوگا۔
آر ایس ایس کی جانب سے تنبیہ ملنے کے بعد خود مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے بلا واسطہ نتیش رانے کی تردید کردی ۔ انہوں نے اپنے ساتھی وزرا سے کہا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے بیانات سے معاشرے میں دشمنی نہ پھیلے۔ بی جے پی لیڈر کے مطابق ’’بعض اوقات نوجوان وزیر کچھ تبصرے کرتے ہیں۔ میں نے ایسے مواقع پر ان سے بات چیت کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ آپ ایک وزیر ہیں اور آپ کو خود پر قابو رکھنے کی ضرور ت ہے۔‘‘ یہ اشارہ اپنے آپ کو خود ساختہ وزیر اعلیٰ کا لاڈلہ وزیر کہلانے والے نتیش رانے کی طرف تھا ۔ فڈنویس کو اس موقع پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی نصیحت یاد آگئی جس میں انہوں نے گجرات فساد کے بعد موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھرے مجمع میں نصیحت کی تھی کہ ’’ بطور وزیر، ہمیں راج دھرم کی پیروی کرنی ہے۔ لہٰذا، ہمیں اپنی انفرادی رائے، پسند اور ناپسند کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔ ہم نے آئین کا حلف اٹھایا ہے اور آئین نے ہم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ ہم کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے 10 مارچ کو اورنگ زیب کے مقبرہ ہٹانے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے کیونکہ یہ مقام آثار قدیمہ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنا بیان دوہراتے ہوئے کہا کہ حکومت مقبرے کی حفاظت کرنے کی ذمہ دار ہے، جو ایک محفوظ مقام ہے، لیکن وہ اورنگ زیب کی میراث کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقبرے کا تحفظ احترام کی بجائے تاریخی ریکارڈ کا معاملہ ہے۔ناگپور کے حالیہ تشدد میں حکومت مہاراشٹر پولیس اہلکاروں پر حملہ اور بدتمیزی کا شور مچا کر ہمدردیاں سمیٹ رہی ہے۔ اس کے ساتھ پولیس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکائی جارہی ہے حالانکہ پستول بردار پولیس کے پیر پر کلہاڑی سے حملہ اور پھر بھی جواب نہ دینا ناقابلِ یقین ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی ہے کہ آر سی پی اسکواڈ کی ایک خاتون پولیس افسر کی وردی اور جسم کو چھونا یا دیگر خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ فحش اشارے اور بدسلوکی کے باوجود کوئی کارروائی نہ کرنا کس کے کہنے پر ہوا؟ بے قصور مسلم نوجوانوں پر سختی اور وی ایچ پی کے غنڈوں سے نرمی ظاہرکرتا ہے کہ وہ ایک طے شدہ تماشا تھا اور اس حکومت سے اسی نوٹنکی کی توقع ہےکیونکہ بقول سدرشن فاکر؎
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا مرے حق میں فیصلہ دے گا
Like this:
Like Loading...
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ