Skip to content
عیدکا دن بخشش کا دن
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
ہر قوم اور ہر مذہب میں خوشی و تہوار منانے ،کھیل کود کے ذریعہ جشن منانے اور بزم مسرت سجانے کیلئے کوئی نہ کوئی دن متعین ہے، اس دن وہ خوشی مناتے ہیں ،نئے نئے لباس پہنتے ہیں ،عمدہ عمدہ کھانے بناتے ہیں اور رقص وسرور کی مجلسیں سجا کر خوشی ومسرت کا اظہار کرتے ہیں، اسلام کی آمد سے قبل بلاد عرب میں عید وتہوار کے لئے مخصوص دن متعین تھے، لوگ اس میں مجلس مشاعرہ و محفل رقص وسرور منعقد کرکے خوشی ومسرت کا اظہار کرتے تھے، مدینہ منورہ میں بھی لوگ سال میں دودن خوشی اور تہوار کے طور پر مناتے تھے ،مسلمانوں کے ہجرت مدینہ کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور جاری تھا ،حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ ؐ ہجرت فرماکر مدینہ منورہ پہنچے تو یہاں کے لوگوں کو سال میں دودن( ’’مہر جان‘‘ اور ’’نوروز ‘‘ کو) بطور تہوار کے مناتے دیکھ کر ان سے اس کی حقیقت دریافت کی تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم جاہلیت میں بھی ان دودنوں میں تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے (بس وہی رواج ہے جو اب تک چلا آرہا ہے ) ، تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا :’’قد ابدلکم اللہ بھما خیرا منھما یوم الاضحی ویوم الفطر‘‘(ابوداود ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں انکے بدلے ان سے بہتر دودن عطا کئے ہیں ،ایک ’’یوم الفطر ‘‘ دوسرے ’’یوم الاضحی‘‘، اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ قدم قدم پر انسانیت کی رہنمائی ورہبری کرتا ہے چاہے خوشی ومسرت کا موقع ہو یا پھر غم وتکلیف کا وقت،وہ کسی بھی حالات میں انہیں کھلی چھوٹ دے کر بے لگام ہونے نہیں دیتا بلکہ ان کے لئے کچھ حدود وقیود کو لازم کرتا ہے تاکہ یہ خوشی میں بے خود ہوکر اور غم میں آپے سے باہر ہوکر کوئی ایسا کام نہ کر دے جو انسانیت کو شرم سا ر اور شریعت کی حدوں کو پامال کر بیٹھے، اسلام خوشی اور غم دونوں مواقع میں توازن برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی یہی خوبی ہے جو اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز کر تی ہے،دیگر مذاہب واقوام کے تہواروں میں بدتمیزی کا ایک طوفان بر پا ہوتا ہے ، شراب وکباب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ،بے شرمی وبے حیائی کا بازار گرم رہتا ہے اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے خوشی ومسرت حاصل کرنے اور دل ودماغ کو تسکین پہنچانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ، اس بر خلاف اسلام اپنے ماننے والوں کو تعلیم دیتا ہے کہ حقیقت میں خوشی ومسرت تو اللہ تعالیٰ عظیم نعمت ہے وہ جسے چاہتا ہے خوشیوں سے سرشار کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے دکھ اور مصیبتوں سے دوچار کرتا ہے ،لہذا جب مصیبت آپہنچے تو صبر وضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور خوشی میسر آئے تو باری تعالیٰ کے جناب میں ہدیۂ تشکر پیش کر تے ہوئے اس کی بڑائی اور بزرگی بیان کرنا چاہیے ، غم میں بے قابو ہوجانا اور خوشی میں حد سے تجاوز کر جانا یہ اسلامی مزاج ومذاق کے خلاف اور اس کی تعلیمات کے مغائر ہے۔
اسلام انسایت کو بتاتا ہے کہ اس کی اصل خوشی تو اپنے خالق ومالک کی فرما برداری اور اس کے احکامات کی عمل آوری میں ہے ، کھیل کود ،لہولعب اور مجالس رقص وسرور سے عارضی خوشی اور وقتی سکون تو حاصل ہوجاتا ہے مگر دائمی اور قلبی تسکین تو مالک الملک اور رب العالمین کو یاد کرنے اور اس کے احکامات کو پورا کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے ،جب بندہ اپنے آقا ومالک کی اطاعت وعبادت کرتا ہے اور اس کے احکامات کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی بندگی اور غلامی کا اظہار کرتا ہے تو اس کا یہ عمل بارگاہ الٰہی میں قبولیت کا مقام حاصل کر لیتاہے چنانچہ اایسے بندہ کو رب العالمین کی طرف سے رضامندی کا پروانہ دے دیا جاتا ہے ، دراصل بندہ کیلئے یہی سب سے بڑی خوشی اور حقیقی مسرت کا موقع ہے ، اسلام دو اہم ترین فریضوں کی ادائیگی کی تکمیل پر اہل ایمان کے لئے عید کا دن منتخب کر کے بتا نا چاہتا ہے کہ حقیقی خوشی ومسرت رب کی مرضیات پر چلنے اور اس کے احکامات کو پورا کرنے میں ہے ، مسلمانوں کے لئے عید کے دن کا انتخاب ایک تو رمضان المبارک میں ایک اہم فریضہ روزوں کی تکمیل پر کیا گیا اور دوسرے اسلام کے عظیم الشان اجتماع اور اہم ترین فریضہ یعنی حج بیت اللہ کی ادائیگی کے موقع پر کیا گیا ، اس طرح یکم شوال اور ۱۰؍ ذی الحجہ کو دواہم فرایض کی تکمیل پر بطور عید کے دو دن عید الفطر اور عید الاضحی کے نام سے متعین کئے گئے، اس لحاظ سے مسلمانوں کے عید کے دن دیگر مذاہب اور اقوام کے تہواروں پر فوقیت رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے ذریعہ جسمانی شادمانی کے ساتھ روحانی سکون بھی حاصل ہوتا ہے وہ اس طور پر کہ عبادات کی تکمیل پر خالق کا ئنات ان سے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اور فرشتوں کو گواہ بناتے ہوئے بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ،بھلا اس سے بڑھ اور کوئی دن عید کا ہوسکتا ہے۔
جب عید کا دن آتا ہے تو ایک مسلمان نہا دھوکر ،دھلے ہوئے یا نئے سلے ہوئے کپڑے پہنکر اور خوشبو لگاکر خوشی کے جذبات سے لبریز ہوکر بارگاہ خدا وندی میں صدائے تکبیر بلند کرتے ہوئے نہایت عاجزی وبندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عید گاہ کی طرف چل پڑتا ہے ،راستے میں غرباء ومساکین کو صدقۃ الفطر دیتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت نوازی کا مظاہر ہ کرتا ہے ،عید گاہ پہنچ کر نماز عید مع زائد تکبیرات ادا کرتے ہوئے اسلام کے اہم ترین فریضہ یعنی روزہ کی ادائیگی کی توفیق پر شکر بجا لاتا ہے اور بارگاہ ِ صمدی میں اپنی مغفرت ،معافی ،جہنم سے خلاصی اور رب کی رضا مندی چاہتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مہینہ بھر کی عبادتوں اور ریاضتوں کا ذکر فرشتوں کے سامنے فرماتے ہیں اوران کی اس عاشقانہ اور عاجزانہ ادا ؤں پر نظر رحمت ڈالتے ہوئے فرشتوں کو گواہ بناکر ان کی بخشش ومغفرت کا اعلان فرمادیتے ہیں چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ :عید کے دن صبح ہی سے فرشتے آبادیوں کی ہر گلی ،ہر کوچہ ،ہر بازار اور سڑک کے سِروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور امت محمدیہ ؐ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں ائے لوگو! اپنے اس رب ِ کریم کی طرف چلو جو تھوڑی عبادت قبول کر لیتا ہے اور زیادہ اجر وثواب دیتا ہے اور بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے ،رب العالمین فرشتوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ جب مزدور اپنا کام پورا کر لے تو اس کی جزا کیا ہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اسے مزدوری پوری ملنی چاہیے ،چنانچہ خدائے رحمن ورحیم فرشتو ں کو گواہ بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے بندے اور بندیوں نے (مقرر کردہ) فرض کو ادا کیا ،اب وہ گھروں سے دعا کے لئے عید گاہ کی طرف نکلے ہیں ،قسم ہے اپنی عزت کی ، اپنے جلال کی،اپنی بخشش ورحمت کی ،اپنی عظمت شان کی اور اپنی رفعتِ مکان کی کہ میں ان کی دعاؤں کو قبول کروں گا ،پھر فرماتے ہیں اے میرے بندو! اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کونیکیوں میں تبدیل کر دیا،آپ نے ؐ نے فرمایا پس مسلمان عید گاہ سے اس حال میں واپس ہوتے ہیں کہ ان کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں (بیہقی)۔
یقینا عیدکا دن مسلمانوں کے لئے بڑی خوشی ومسرت کا دن ہے کہ اس دن خدائے رحمن ورحیم اپنے بندوں کی طرف نظر عنایت فرماتے ہوئے ان پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے ،رمضان المبارک میں کی جانے والی تمام عبادتوں کو باوجود کوتاہیوں اور کمیوں کے محض اپنے فضل کرم سے انہیں قبول فرماتا ہے ،ان عبادات پر بے حساب اجر و ثواب عنایت فرماتا ہے اورعنایتوں کا سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنے معصوم فرشتوں کو گواہ بناکر رمضان المبارک کی عبادتوں کے صلہ میں ان کی مغفرت وبخشش کا اعلان فرماتا ہے ،بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے مہربان خدا کی مہربانیوں اور اس کی رحمتوں وعنایتوں کو ہر لمحہ یاد رکھتے ہوئے اپنی بقیہ زندگی کو بھی رمضان المبارک کی طرح پابند بناکر گزاردیں ،یہ دراصل حقیقی معنوں میں نعمت کا شکر ہے جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ مزید نعمتوں سے مالامال فرماتا ہے اور شکر گزار بندوں اپنی خاص مدد ونصرت فرماکر ان کی ہر طرح سے مدد فرماتا ہے ،مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد خدا کا شکر اداکریں اور اپنی بقیہ زندگی کو خدا تعالیٰ کی بندگی بناکر گزارنے کا عزم مصمم کرکے اپنے گھروں کو واپس لوٹیں اور پھر بھر پور کوشش کرتے ہوئے اس طرح زندگی گزاریں جس طرح رمضان المبارک میں گزارکر انعام خداوندی کے حقدار بنے تھے ،یہ بڑی ناشکری اور نالائقی ہوگی کے بندہ انعام حاسل کرنے کے بعد اس کی طرف پلٹ کر دیکھے جس نے اسے انعام واکرام سے نوازا تھا ،خدا تعالیٰ ہم مسلمانوں کو ہر وقت ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے ہم خدا تعالیٰ کی جانب سے دنیا وآخرت دونوں جہاں میں انعام کے حقدار بن جائیں ،آمین۔
Like this:
Like Loading...