Skip to content
ظریفانہ: عید کی سوغات اور چھٹی کی منسوخی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن ہریانوی نے کلن دہلوی سے کہا دیکھا تم نے ہمارے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کا رعب داب انہوں نے عید کی چھٹی کینسل کردی ۔
کلن بولا کیا ؟ اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ؟ ؟ وہ کون ہوتا ہے چھٹی کینسل کرنے والا؟
وزیر اعلیٰ ہوتا ہے اور کیا؟ لوگوں نے اس کی منتخب کیا ہے اس لیے جو مرضی میں آئے کرے ؟
یعنی جو چاہے حماقت کرے؟ یار اس نے یہ احمقانہ فیصلہ کیوں کردیا ؟
بھائی دیکھو معاشی سال 31؍ مارچ کو ختم ہوتا ہے۔ اس دن بہت سارے سرکاری کام کرنے ہوتے ہیں اسی لیے عام تعطیل منسوخ کردی گئی۔
کلن نے سوال کیا یار یہ بتاو کہ کیا صرف ہریانہ کا یہ نظام الاوقات ہے یا مرکز و دوسرے صوبوں میں اقتصادی کام 31؍ مارچ کو سمیٹا جاتا ہے ؟
بھیا مذاق کرتے ہو۔ الگ الگ ریاستوں اور مرکز میں مختلف نظام الاوقات کیونکر ہوسکتاہے اور ہم تو’ ایک ملک ایک قانون‘ میں یقین رکھتے ہیں ۔
اچھا اگر ایسا ہے تو قومی سطح پر چھٹی منسوخ ہونی چاہیے تھی یہ کیا کہ ہریانہ میں تو لازمی کام کرو اور اس سے سٹے دہلی، یوپی ا ور پنجاب میں چھٹی مناو۔
ہاں یار یہ تو گڑ بڑ ہوگئی ۔ پردھان جی کو پورے ملک میں چھٹی منسوخ کردینی چاہیے تھی لیکن ان کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے؟
کلن بولا بھیا سیدھے سیدھے کیوں نہیں بولتے کہ وہ ڈرتے ہیں ۔
یار مجھے بھی ایسا لگتا ہے ورنہ مسلمانوں کو ’عید کی سوغات‘ بانٹنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ابھی ہولی گزری ہے اس وقت کون سی سوغات بنٹی تھی؟
ارے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ اب وہ بانٹ رہے ہیں تو ہمیں بھی کچھ کمائی دھمائی کا موقع مل جائے گا ؟
افسوس ! ہمارے ٹیکس کا پیسہ ان مسلمانوں کی جیب میں جارہا ہے جو نہ ہمیں ووٹ دیتے ہیں اور آگے نہ دیں گے ۔ بڑی احسان فراموش قوم ہے۔
کلن نے پوچھا یار یہ بتاو کہ یہ تحفہ ہے یا رشوت ہے؟
ارے بھائی اس کے تو نام میں سوغات ہے۔ اس میں رشوت کہاں سے آگئی ؟
اگر ایسا ہے تو تحفہ دینے کے بعد اس کے بدلے ووٹ کی توقع کرنا اور نہ ملے تو احسان فراموشی کی تہمت لگانا کیسا ہے؟
یار سچ بتاوں کلن تو اس جمن کی دوستی چھوڑ دے ورنہ وہ تیرا دماغ خراب کردے گا ۔آج کل تو الٹا سوچنے لگا ہے۔
بھیا مجھے تو لگتا ہے کہ اپنے مالویہ جی کے واٹس ایپ یونیورسٹی نے ہمارا دماغ خراب کردیا ہے۔
اچھا تو اس خرابی کا تو نے کیا علاج تلاش کیا ہے؟
کلن بولا کوئی خاص نہیں ۔ میں ہر خبر کو قبول کرنے یا آگے بڑھانے سے قبل میں معروضی انداز میں اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے وہ فیک لگتی ہے۔
اچھا مجھے تو نہیں لگتی ویسے لگنے سے کیا ہوتا ہے۔ سچائی تو سچائی ہے۔
بھائی للن ہر بات کو آنکھ موند کر قبول کرنے سے قبل تھوڑا سا غور کریں تو دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجاتا ہے۔
لیکن ہم اس جھنجھٹ میں کیوں پڑیں ہمیں تو امیت شاہ سے زیادہ بھروسہ مالویہ جی پر ہے اوران کے ہر جھوٹ سچ میں مزہ آتا ہے۔ یہی کیا کم ہے؟
کلن بولا یار جھوٹ موٹ کے مزے کا کیا فائدہ؟ اس طرح ہم اپنے آپ کو بیوقوف بناتے ہیں ۔
جی ہاں وہ تو ہے ایک طرف مسلمانوں کا عید کی سوغات دے کر بھلا کیا جاتا ہے اور ہمیں جھوٹ سچ بول کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ بہت ناانصافی ہے۔
یار تم بار بار عید کی سوغات کا ذکر نہ کرو اس میں اپنا فائدہ ہے۔
پھر وہی بات ؟ اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے سمجھ میں نہیں آیا؟؟
یار دیکھو دہلی سے لاکھوں کِٹ بن کر تو آئیں گے نہیں۔ہمیں نقدی ملے گی اور اسی میں سے ہم اپنی دلالی نکال لیں گے ۔
للن بولا اس خوش فہمی میں نہ رہنا ۔ سمجھ لو کہ رقم کے ساتھ فہرست بھی آئے گی اور اگر وہ سب سامان تھیلے میں نہیں نکلا تو خیر نہیں کیا سمجھے ؟
ارے بھیا ہم لوگوں نے پچھلے گیارہ سال میں بہت سارے چور راستے نکال لیے ہیں اس لیے ہمیں اس کی فکر نہیں ۔
اچھا یار مجھے بھی کوئی چور راستہ دکھاو تاکہ موقع ملے تو کام آئے۔
بھائی سڑک کی مثال لے لو۔ اس کا فاصلہ تو طے ہوتا جسے ناپا جاسکتا ہے مگر معیار میں ہم لوگ ڈنڈی مار لیتے ہیں ۔
اچھا اب سمجھا کہ سڑک اور پُل افتتاح سے قبل کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ لیکن یہ مثال عید کی سوغات پر کیسے فٹ ہوتی ہے؟
ارے بھائی ہم لوگ اس میں سستی اور گھٹیا معیار کی چیزیں بھر کے اپنی دلالی نکال لیں گے۔
وہ تو ہے لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پردھان جی کو اس ضرورت کیوں پیش آئی ۔ ہمارے لیےمسلمانوں میں جاکر یہ بانٹنا بڑا تکلیف دہ کام ہے۔
ہاں بھائی للن منافقت کوئی اچھا عمل تھوڑی نا ہے؟ اس میں منافق کو بھی پاکھنڈ کا شکار ہونے والے جیسی پریشانی ہوتی ہے ۔
لگتا ہے پردھان جی پر عمر کا اثر ہورہا ہے کبھی اجمیر شریف چادر بھجوا نا تو کبھی بلا ضرورت امیر خسرو کی شان میں قصیدے پڑھنا ناقابل یقین ہے۔
بھیا تم اس کی ضرورت نہیں سمجھ سکتے آج کل پردھان جی کو ٹرمپ کی خوشنودی ستا رہی ہے اور ان سے نہ جانے کیا کیا کروا رہی ہے۔
یار میں تو کہتا ہوں ٹرمپ کو خوش کرنے بجائے ناراض کرنا چاہیے کیونکہ اس نے ہمارے لوگوں کو ہتھکڑیا ں ڈال کر ذلیل کیا ہے۔
ہاں بھائی لیکن مودی جی اپنے دوست اڈانی کو ہتھکڑیوں سے بچانے کی خاطر یہ ناز برداری کررہے ہیں ۔
لیکن اس کا عید کی سوغات سے کیا تعلق ؟
امریکہ میں عالمی سطح پرمذہبی آزادی سے متعلق ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے اس نے پردھان جی کو پریشان کردیا ہے۔
ارے بھیا ایسی نہ جانے کتنی رپورٹیں شائع ہوکر کوڑے دان میں جاتی رہتی ہے۔ ان پر کون توجہ دیتا ہے؟
یہ پرانی بات تھی تازہ جائزے میں مسلمانوں کے ساتھ مودی سرکار کی بدسلوکی کے سبب ٹرمپ سے پابندیاں لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
تو کیا ٹرمپ اس کیجرأت کرسکے گا؟
بھائی دیکھو جھکنے والے کو کون نہیں جھکاتا؟راستہ چلتا راہگیر بھی ٹپوّ ماریتا ہے۔
تو کیا اپنے پردھان کا یہ حال ہوگیا ہے۔ تب تو اس سے اچھا ہمارا نائب سنگھ ہے جس نے آؤ دیکھا نہ تاو عید کی چھٹی منسوخ کردی ۔
کلن نے پوچھا یار تمہارے پاس وہ میسیج ہے جس میں چھٹی کی منسوخی کا اعلان کیا گیا ہے؟ میں نے نہیں دیکھا ذرا مجھے بتاو۔
للن نے موبائل بڑھا یا تو کلن پڑھ کر بولا تم نے یہ پوری خبر پڑھی یا صرف سرخی پڑھ کر اچھلنے لگے ۔
یار اتنا ٹائم کس کے پاس ہے ۔ کیوں اندر کچھ اور لکھا ہے کیا؟
جی ہاں اندر لکھا ہے کہ اسے عام تعطیل سے ہٹاکر اختیاری چھٹی بنا دیا گیا ہے ۔
یار یہ گول مول باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ اس دن مسلمان سرکاری ملازم کو کام کرنا پڑے گا یا نہیں ؟ یہ بتاو؟؟
ارے بھائی ہندووں کو کام کرنا پڑے گا مسلمان اپنی اختیاری تعطیل لے کر عید منائیں گے یہ لکھا ہے۔
یار میں تو کل سے ویڈیو دیکھ دیکھ کر خوش ہورہا تھا تم نے سارا موڈ خراب کردیا۔
کیوں ؟ اچھا ہے نا ان کو عید منانے کی چھٹی مل رہی ہے تم کو کیا تکلیف ہے۔
ان کوپریشانی نہ ہو یہی تو تکلیف ہے لیکن پھر اس اعلان اور اس پر اتنی ساری ویڈیوز کی ضرورت کیاتھی ۔ میرے نہ جانے کتنے گھنٹے ضائع ہوگئے۔
ارے بھیا تم جیسے بیروزگار لوگوں کو مصروف رکھنے اور بیوقوف بنانے کی خاطر یہ ناٹک کرنا پڑتا ہے۔ اور تم لوگ نرم چارہ بن جاتے ہو۔
دیکھو بھیا تم یہ سب کہہ کر میرے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہو۔ یہ بہت بری بات ہے ۔
جی ہاں تم لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس طرح کے فیصلوں کا مسلمانوں پر کتنا کم اثر پڑے گا ؟
للن نے کہا اب تم یہ انکشاف نہ کردینا کہ ہریانہ میں مسلمان نہیں رہتے اگر ایسا ہے تو وہاں سے اتنے سارے ارکانِ اسمبلی کامیاب کیسے ہوگئے؟
بھائی دیکھو سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ہریانہ کی آبادی 2.9 کروڈ ہے ان میں ۹؍ فیصد یعنی 25 لاکھ مسلمان ہیں ۔
ارے تو کیا یہ پریشان کرنے کے لیے کم تعداد ہے؟
ارے بھیاوہ سارے سرکاری ملازم تھوڑی ناہیں ۔ ہریانہ نے اندر سارے سرکاری ملازمین کی تعداد ایک فیصد سے کم یعنی 2.85 لاکھ ہے۔
اچھا یعنی مسلمانوں کی آبادی سے بھی دس گنا کم ۔
جی ہاں مسلمان ویسے ہی سرکاری نوکری کے لیے کٹورہ لے کر دفتر سے دفتر کا چکر نہیں لگاتے۔ وہ اپنی محنت سے کاروبار کرکے پیٹ بھرتے ہیں۔
لیکن پھر بھی سنا ہے وہاں کے 16لاکھ میو آبادی کو ریزرویشن ملا ہوا ہے اس لیے سرکاری نوکری بھی ملتی ہوگی ۔
جی ہاں مگر اعلیٰ افسران میں یہ تعداد بہت کم ہے۔
للن نے سوال کیا پھر بھی کتنی ہے؟
بفلاح و بہبود کے محکمہ میں وہ 3.37% ہیں، تعلیم کے شعبے میں 6.06% ت اوروانائی یعنی بجلی گھر وغیرہ میں 6.53% ۔
اچھا ہے ہر جگہ وہ اپنی آبادی سے کم ہیں ۔ ہمارے یہاں بیروزگاری بہت ہے اس لیے امریکہ جاکر ہتھکڑیوں کے ساتھ ہریانوی واپس آتے ہیں۔
لیکن للن محکمہ داخلہ یعنی پولیس وغیرہ کے اندر مسلمان اپنی آبادی کے مطابق 8.73% ہیں ۔
یار یہ تو خطرناک بات ہے لیکن تم کہہ رہے ہو کہ وہ عید کی اختیاری چھٹی لے سکتے ہیں۔ یہی جان کر میر ا موڈ خراب ہوگیا ۔
کلن بولا چلو اپنے جمن کے یہاں عید کی شیر خورمہ پیتے ہیں تیرے ساتھ میرا بھی موڈ بن جائے گا ۔
للن بولا یہ اچھا ہے۔چل بہت دنوں بعد اچھے گوشت کا ناشتہ بھی مل جائے گا ۔
Like this:
Like Loading...