Skip to content
سپریم کورٹ سے بروقت فیصلہ—مسلمانوں کے وقف حقوق کے تحفظ کی اُمید
ازقلم: شیخ سلیم
کانگریس، ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے وقف ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے ملک میں اقلیتوں کے مذہبی و فلاحی اداروں کے تحفظ کا مسئلہ ایک بار پھر قومی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اب عدالت عظمیٰ کے سامنے ہے اور ملک بھر کے مسلمانوں کو اس وقت عدلیہ سے یہی اُمید ہے کہ انصاف محض قانونی نکتہ چینی نہیں بلکہ بروقت عمل بھی ہو۔
یہ قانون مسلمانوں میں خاصی تشویش کا سبب بنا ہوا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاستی وقف بورڈز کی خود مختاری متاثر ہو سکتی ہے اور ہزاروں مذہبی، تعلیمی اور فلاحی مقاصد کے لیے وقف املاک کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ ’’عوامی مفاد‘‘ جیسے غیر واضح الفاظ کی آڑ میں وقف زمینوں کو لیز پر دینے یا حاصل کرنے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
بھارت کا آئین مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کا ضامن ہے، خاص طور پر دفعہ 25 سے 30 کے تحت، جن میں اقلیتوں کو اپنے ادارے قائم کرنے، چلانے اور ان کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ایسے کئی مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں عدالت کے فیصلے تو آئے، مگر بہت دیر سے، اور تب تک زمینی حقائق بدل چکے تھے۔
بابری مسجد کا مقدمہ اس کی ایک واضح مثال ہے عدالت نے تسلیم کیا کہ مسجد کو غیر قانونی طور پر گرایا گیا، مگر فیصلہ زمین ہندو فریق کے حق میں گیا۔ شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور آرٹیکل 370 کے معاملات میں بھی برسوں کی تاخیر کے بعد جب فیصلہ آیا، تو حکومت پہلے ہی اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کر چکی تھی۔ نتیجتاً، جن آئینی حقوق کی بازیابی کے لیے مقدمے دائر کیے گئے تھے، ان کا عملی فائدہ محدود ہو گیا۔
اسی طرح الیکٹورل بانڈز اور شیو سینا کے سیاسی تنازعے میں بھی عدالتی فیصلے تب آئے جب حالات یکسر بدل چکے تھے، اور عدالت کے ہاتھ باندھے جا چکے تھے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ اگر فیصلہ وقت پر نہ آئے، تو انصاف کی حیثیت علامتی رہ جاتی ہے، اور اصل نقصان انہی طبقات کو ہوتا ہے جو پہلے ہی کمزور اور حاشیے پر ہوتے ہیں۔
وقف ترمیمی قانون اب عدلیہ کے سامنے ایک امتحان کی طرح ہے کیا سپریم کورٹ دستور کی روح کے مطابق اقلیتوں کے مذہبی و فلاحی حقوق کے تحفظ میں بروقت کردار ادا کرے گی؟ اگر یہ معاملہ جلد سنا جائے اور فیصلہ جلد آ جائے تو:
مسلمانوں میں عدلیہ کے تئیں اعتماد بحال ہو گا؛
ترمیمی بل کے ممکنہ غلط استعمال یا ناپسندیدہ تشریحات سے بچا جا سکے گا؛
یہ تاثر مضبوط ہو گا کہ آئینی سوالات جن کا تعلق مذہبی اور ثقافتی خود مختاری سے ہو، اُنہیں عدلیہ میں فوقیت دی جاتی ہے۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ مسلمان صرف فیصلہ نہیں، بلکہ بروقت فیصلہ چاہتے ہیں۔ اگر مقدمہ سالوں تک لٹکا رہا، تو انتظامیہ کے پاس تبدیلیاں کرنے کا وقت ہوگا، اور اگر بعد میں عدالت فیصلہ دے بھی دے، تو ممکن ہے بہت کچھ ناقابل واپسی ہو چکا ہو۔
وقف املاک محض زمینیں نہیں، بلکہ کئی علاقوں میں وہ تعلیمی، طبی اور فلاحی خدمات کی بنیاد ہیں۔ ان کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنا، صرف جائیداد کا نقصان نہیں بلکہ ایک پوری برادری کے فلاحی ڈھانچے کو متاثر کرنے کے مترادف ہو گا۔
اب جبکہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے دروازے پر ہے، مسلمانوں کو عدلیہ سے پرُامید نظروں سے یہ اُمید ہے کہ وہ صرف دستور کی حفاظت ہی نہیں کرے گی، بلکہ وقت کے تقاضے کو بھی سمجھے گی۔
یہ توقع کسی رعایت یا جانبداری کی نہیں، بلکہ اس یقین کی ہے جو دستورِ ہند نے ہر شہری کو دیا ہے یعنی قانون کی نظر میں برابری، مذہبی آزادی، اور اقلیتوں کے جائز حقوق کا تحفظ۔
Like this:
Like Loading...
معاملہ عدالت عظمی میں ہونے کے باوجود مسلمانوں کو احتجاجی تحریک جاری رکھنی ھوگی چاہے شکل جو بھی ہو مگر جہد مسلسل ہوں۔