Skip to content
بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں پر مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے خدشات اور اعتماد کا تزلزل
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
————————–
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں، بھارت کی سپریم کورٹ کو آئینی طور پر تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا حتمی محافظ قرار دیا گیا ہے، قطع نظر ان کے مذہب کے۔ تاہم، بھارت کی بڑی مسلم اقلیت کے بہت سے افراد کے نزدیک، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پر اعتماد میں واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران سامنے آنے والے متعدد عدالتی فیصلے اور بعض اوقات عدالتی کارروائی میں تاخیر یا گریز کے واقعات نے ان خدشات کو ہوا دی ہے کہ عدالت عظمیٰ سیاسی دباؤ اور اکثریتی جذبات سے تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی بے چینی حال ہی میں وقف (ترمیمی) بل 2025 کی پارلیمانی منظوری کے بعد ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے، جو مسلم اوقاف (املاک) کے انتظام سے متعلق ہے۔ اس قانون کو حزب اختلاف کے اراکین پارلیمان اور مسلم رہنماؤں نے فوری طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، جس سے عدلیہ ایک بار پھر اقلیتی حقوق سے متعلق تنازعات کے مرکز میں آ گئی ہے – ایک ایسا شعبہ جہاں اس کا حالیہ ریکارڈ قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور خود مسلم کمیونٹی کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بہت سے مسلمانوں کے لیے سپریم کورٹ سے منصفانہ یا حتیٰ کہ مساویانہ فیصلوں کی امید رکھنا، ایک ایسی خوش فہمی بنتا جا رہا ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ نقطہ نظر کئی اہم مقدمات سے تقویت پاتا ہے جن میں عدالت کے فیصلے مسلم مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھے گئے، یا جہاں طویل عدالتی تاخیر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایجنڈے کے لیے بالواسطہ طور پر فائدہ مند دکھائی دی۔
مودی حکومت کے دور میں فیصلوں کا ایک سلسلہ اور اٹھنے والے سوالات:
اگرچہ عدلیہ کے حوالے سے مسلمانوں کے خدشات مودی دور سے پہلے بھی موجود تھے، تاہم مبصرین 2014 کے بعد ان خدشات میں واضح شدت نوٹ کرتے ہیں۔ کئی اہم مثالیں قابل ذکر ہیں:
-
بابری مسجد کا فیصلہ (2019) : عدلیہ پر مسلمانوں کے اعتماد کو سب سے زیادہ ٹھیس پہنچانے والا واقعہ شاید بابری مسجد کے دہائیوں پرانے تنازعے کا اختتام تھا۔ یہ مسجد 1992 میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید کر دی گئی تھی، حالانکہ سپریم کورٹ نے صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اپنے 2019 کے فیصلے میں، عدالت نے تسلیم کیا کہ مسجد کا انہدام "قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی” تھی اور 1949 میں مسجد کے اندر ہندو مورتیاں رکھنا بھی غیر قانونی تھا۔ اس کے باوجود، عدالت نے پوری متنازع زمین ہندو فریق کو رام مندر کی تعمیر کے لیے دے دی، جس کی بنیاد آثار قدیمہ کی ایک ایسی رپورٹ پر رکھی گئی جس پر ماہرین میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا، اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل، مگر کم اہم جگہ پر، زمین فراہم کرے۔ قانونی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے پر وسیع پیمانے پر تنقید کی کہ یہ بظاہر ہندو عقیدے ("آستھا”) کو مسلم دعوؤں اور قانونی اصولوں پر فوقیت دیتا نظر آیا۔ بعد ازاں، بابری مسجد انہدام کی سازش کے الزام میں ملوث بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کی بریت، سپریم کورٹ کے سابقہ مشاہدات کے باوجود، نے کمیونٹی کی مایوسی کو مزید گہرا کیا۔ اس فیصلے کے بعد بنچ کے سربراہ، چیف جسٹس رنجن گگوئی کی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد حکمران جماعت کی جانب سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں نامزدگی نے عدلیہ کی غیر جانبداری اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ پر شدید خدشات کو جنم دیا۔
-
آرٹیکل 370 کا خاتمہ (2019/2023): حکومت نے اگست 2019 میں اچانک آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا، جو بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا، اور ریاست کو دو وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ چار سال سے زائد کی تاخیر کے بعد، دسمبر 2023 میں عدالت نے حکومت کے اقدام کو آئینی قرار دے دیا، اور بڑی حد تک ریاست کے "قومی مفاد” اور "انضمام” کے دلائل کو قبول کر لیا۔ ناقدین نے استدلال کیا کہ عدالت نے پیچیدہ آئینی سوالات کو مناسب اہمیت نہیں دی اور کشمیری عوام کی خواہشات اور علاقائی خود مختاری پر پڑنے والے اثرات کو نظر انداز کیا۔
-
شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) (2019 تا حال: یہ قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن کے لیے بھارتی شہریت کا راستہ آسان کرتا ہے لیکن واضح طور پر مسلمانوں کو اس سے خارج رکھتا ہے۔ اسے وسیع پیمانے پر امتیازی اور بھارت کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اس کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے، خاص طور پر مسلمانوں کی جانب سے۔ اس کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے 200 سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں، جن میں اسے آئین کے آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے برابری) کے منافی قرار دینے کی استدعا کی گئی۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر فوری سماعت کرنے یا قانون پر عملدرآمد روکنے کے لیے کوئی حکم امتناعی جاری کرنے سے مسلسل گریز کیا۔ سالہا سال گزرنے کے باوجود، ان کلیدی درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں آیا، جبکہ حکومت نے مارچ 2024 میں اس قانون کے نفاذ کے لیے قواعد و ضوابط بھی جاری کر دیے۔ عدالت کی یہ تاخیر اور حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا رویہ، بہت سے قانونی ماہرین کے نزدیک، حکومت کو بالواسطہ طور پر مدد فراہم کرنے کے مترادف ہے اور مسلمانوں کے آئینی خدشات کو دور کرنے میں عدلیہ کی ناکامی کا تاثر دیتا ہے۔
-
کرناٹک حجاب پابندی کیس (2022): کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ یہ معاملہ مسلم خواتین کی مذہبی آزادی، تعلیم کے حق اور ذاتی انتخاب کے بنیادی آئینی حقوق سے متعلق تھا۔ اکتوبر 2022 میں، سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے منقسم فیصلہ دیا؛ ایک جج نے پابندی کو آئینی قرار دیا جبکہ دوسرے نے اسے بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا۔ اس منقسم فیصلے کے نتیجے میں، معاملہ ایک بڑی بنچ کے سپرد کر دیا گیا، لیکن اس پر تاحال کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس عدالتی تعطل کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ حجاب پر پابندی عملی طور پر برقرار ہے، جس سے ہزاروں مسلم طالبات کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ یہ کیس بھی ایک اہم آئینی اور مذہبی آزادی کے معاملے پر واضح اور بروقت فیصلہ صادر کرنے میں عدلیہ کی مبینہ ہچکچاہٹ کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔
-
گیان واپی اور دیگر مساجد کے سروے: وارانسی کی تاریخی گیان واپی مسجد اور چند دیگر مساجد میں ہندو دیوتاؤں کی علامات کی موجودگی کے دعوؤں پر مقامی عدالتوں نے سروے کے احکامات جاری کیے۔ سپریم کورٹ نے ان کارروائیوں کو مکمل طور پر روکنے سے گریز کیا، حالانکہ 1991 کا "عبادت گاہوں سے متعلق قانون” (Places of Worship Act, 1991) واضح کرتا ہے کہ 15 اگست 1947 کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا (سوائے بابری مسجد کے)۔ سپریم کورٹ کے اس رویے سے یہ تاثر قوی ہوا کہ وہ اکثریتی طبقے کے دعوؤں کو جگہ دینے کے لیے قانونی رکاوٹوں کو نظر انداز کرنے پر آمادہ ہے، جس سے ملک بھر میں دیگر تاریخی مساجد کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
-
نفرت انگیز تقاریر کے معاملات: حالیہ برسوں میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے متعدد مواقع پر اس رجحان پر زبانی تشویش ظاہر کی ہے اور کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے، لیکن عملی طور پر ان ہدایات پر مؤثر عمل درآمد کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ نفرت پھیلانے والے عناصر اکثر قانون کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عدالت کی مداخلت اکثر ہدایات تک محدود رہتی ہے اور زمینی سطح پر اس کا ٹھوس اثر نظر نہیں آتا۔
-
عمر خالد کا معاملہ اور انصاف میں تاخیر کے سوالات: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد ستمبر 2020 سے دہلی فسادات (فروری 2020) کی مبینہ سازش کے الزام میں سخت گیر قانون (UAPA) کے تحت قید ہیں۔ ان کی طویل قید اور ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں غیر معمولی تاخیر نے عدالتی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ یہ کیس اس امر کی مثال ہے کہ کس طرح سخت قوانین مبینہ طور پر حکومت مخالف آوازوں، بالخصوص مسلم نوجوانوں اور دانشوروں، کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ان کی ضمانت پر فیصلہ کرنے میں طوالت اس تاثر کو تقویت بخشتی ہے کہ جب معاملہ حکومت کے ناقدین کا ہو، خاص طور پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کا، تو فوری انصاف یا بنیادی حقوق کے تحفظ کی امید کمزور پڑ جاتی ہے۔
اعتماد میں کمی کی ممکنہ وجوہات: ایک تجزیاتی جائزہ:
یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت، جسے آئین کا محافظ سمجھا جاتا ہے، کیوں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو، بروقت اور منصفانہ انصاف فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتی ہے؟ مبصرین اور ناقدین درج ذیل ممکنہ عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں:
-
ججوں کا سماجی پس منظر اور ممکنہ لاشعوری تعصب: یہ خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں کہ جج حضرات بھی اسی سماجی ماحول کا حصہ ہیں جس میں اکثریتی قوم پرستی اور اقلیت مخالف جذبات موجود ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ براہ راست تعصب کا ثبوت دینا مشکل ہے، لیکن حساس معاملات میں فیصلوں کے مجموعی رجحان (جیسے بابری کیس میں ‘آستھا’ کو دی گئی اہمیت) ان خدشات کو تقویت دیتے ہیں۔
-
مبینہ دباؤ اور خوف کا ماحول: موجودہ سیاسی ماحول میں، حکومت اور اس سے وابستہ گروہوں کی طرف سے عدلیہ پر دباؤ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات حکومت کے خلاف یا اقلیتوں کے حق میں فیصلہ دینے والے ججوں کو تنقید یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "سربمہر لفافہ انصاف” کا بڑھتا ہوا رجحان، جہاں حساس معلومات عوام یا متاثرہ فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں، شفافیت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
-
ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات اور عدالتی آزادی پر سوالات: حالیہ برسوں میں متعدد ججوں نے ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد حکومتی عہدے قبول کیے ہیں (جسٹس گگوئی کی مثال سب سے نمایاں ہے)۔ یہ رجحان لازمی طور پر یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ممکنہ مستقبل کے فوائد دورانِ ملازمت فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ یہ شکوک و شبہات عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔
-
ادارہ جاتی کمزوری اور انتظامیہ کا بڑھتا اثر: بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ سمیت دیگر ادارے بتدریج اپنی خود مختاری کھو رہے ہیں اور انتظامیہ (حکومت) کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔ عدلیہ کا قومی سلامتی یا عوامی مفاد کے نام پر کیے گئے حکومتی فیصلوں کو چیلنج کرنے سے گریز کرنا، اسی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ عدالتی تقرریوں کے نظام (کولیجیم) پر حکومتی دباؤ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
-
اعلیٰ عدلیہ میں سماجی تنوع کا فقدان: متعدد مطالعات بتاتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی اکثریت روایتی طور پر مراعات یافتہ ‘اعلیٰ ذاتوں’ سے تعلق رکھتی ہے۔ سماجی تنوع کی یہ کمی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا پسماندہ طبقات اور اقلیتوں (بشمول پسمناندہ مسلمانوں) کے مسائل اور نقطہ نظر کو عدالتی فیصلوں میں مکمل طور پر سمجھا اور شامل کیا جا رہا ہے۔
-
جج لویا کی موت کا حل طلب معمہ: سی بی آئی کے خصوصی جج برج گوپال لویا کی 2014 میں پراسرار موت، جو ایک حساس مقدمے (جس میں موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ ملزم تھے) کی سماعت کر رہے تھے، اور بعد میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس کی آزادانہ تحقیقات کی درخواستوں کو مسترد کرنا، عدلیہ پر ممکنہ دباؤ اور سمجھوتوں کے خدشات کو مزید گہرا کرتا ہے۔ اگرچہ عدالت نے تحقیقات کی ضرورت نہیں سمجھی، لیکن اس کیس نے عدلیہ کی غیر جانبداری کے بارے میں عوامی تاثر کو متاثر کیا۔
-
اکثریتی بیانیے کا بڑھتا ہوا اثر: میڈیا اور سیاست میں غالب ہندو قوم پرست بیانیہ بظاہر عدالتی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتا نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدالتیں بھی عوامی مقبولیت یا اکثریتی جذبات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے سے گریزاں ہیں، خاص طور پر مذہبی اور قومی شناخت سے جڑے معاملات میں۔
حاصلِ کلام:
مذکورہ بالا تجزیے اور حالیہ عدالتی فیصلوں کے رجحانات کی روشنی میں، یہ نتیجہ اخذ کرنا شاید قبل از وقت نہ ہو کہ بھارتی مسلمانوں کے ایک بڑے حصے کے لیے سپریم کورٹ سے غیر جانبدارانہ انصاف کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔ بابری مسجد، آرٹیکل 370، سی اے اے، حجاب پابندی، اور گیان واپی جیسے معاملات میں عدالتی فیصلوں یا کارروائیوں نے اس تاثر کو گہرا کیا ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت بھی اکثریتی سیاست کے دباؤ، حکومتی اثر و رسوخ اور ممکنہ اندرونی کمزوریوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہی ہے۔
ججوں پر مبینہ دباؤ، ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات کا رجحان، سماجی تنوع کی کمی، اور معاشرے میں اکثریتی تعصب جیسے عوامل انصاف کی راہ میں ممکنہ رکاوٹیں سمجھے جا رہے ہیں۔ جب تک عدلیہ اپنی ساکھ اور آئینی خود مختاری کو مکمل طور پر بحال نہیں کرتی اور آئین کی بالادستی کو ہر قسم کے دباؤ اور مفادات سے بالاتر ہو کر قائم نہیں کرتی، اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے لیے اس ادارے پر مکمل اعتماد بحال کرنا ایک چیلنج رہے گا۔
لہٰذا، مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو عدالتی جنگوں کے ساتھ ساتھ، سیاسی اور سماجی سطح پر منظم ہونے، جمہوری طریقوں سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے، اور اپنی آواز داخلی و خارجی سطح پر بلند کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ حالات میں، عدالتی نظام پر مکمل انحصار کرنا ایک پیچیدہ سوال بن گیا ہے، اور زمینی حقائق ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں۔
________________________________________
Like this:
Like Loading...