Skip to content
احمد آباد میں کانگریس کا اجلاس۔ مسلمانوں پر نا انصافی پر خاموشی
ازقلم: شیخ سلیم
(ویلفئیر پارٹی آف انڈیا)
8 اور 9 اپریل 2025 کو احمد آباد میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کا اجلاس بڑی شان سے منعقد ہوا۔ پارٹی کے سرکردہ لیڈران جیسے ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی اور راہول گاندھی اس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں "سمویدھان بچاؤ پدیاترا” کا اعلان کیا گیا اور بی جے پی کی عوام دشمن پالیسیوں پر تنقید کی گئی، لیکن اس سارے شور و غل میں مسلمانوں پر ہو رہے مظالم پر مکمل خاموشی رہی۔ آج ملک میں اقلیتوں پر کھلے عام ظلم ہو رہا ہے کبھی مساجد پر حملے، کبھی درگاہوں پر بھگوا جھنڈے، کبھی گھروں پر بلڈوزر، اور کہیں بے قصور نوجوانوں پر تشدد۔ کانگریس جیسے قومی پلیٹ فارم کی اس مجرمانہ خاموشی نے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ کانگریس نے وقف ترمیمی بل جیسے اہم مسئلے پر بھی کوئی واضح مؤقف نہیں اپنایا۔ یہ بل دراصل وقف کی زمینوں پر قانونی طور پر قبضے کی کوشش ہے، جو مدارس، یتیموں، مساجد اور فلاحی اداروں کے لیے مخصوص تھیں۔ نہ صرف کانگریس نے اس بل کی مخالفت نہیں کی، بلکہ ان لوگوں کی اخلاقی یا سیاسی حمایت بھی نہ کی جو اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ کانگریس اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے کتراتی ہے، گویا وہ صرف آئینی نعروں تک محدود ہو چکی ہے۔
اگر کانگریس واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے، تو اسے محض تقریروں اور ریلیوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ سچ بولنا پڑے گا، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا، اور جہاں ظلم ہو، وہاں ظالم کا نام لے کر اس کے خلاف ڈٹ جانا ہوگا چاہے وہ اقتدار میں ہو یا حزبِ اختلاف میں۔ اگر کانگریس مسلمانوں اور اقلیتوں کے ووٹ چاہتی ہے، تو اسے ان کے درد کو سمجھنا اور بے خوف ہو کر بولنا ہوگا۔ سوفٹ ہندوتوا سے آپ کو ووٹ نہیں ملنے والا جتنی جلدی سمجھ آ جائے اچّھا ہے خاموشی، منافقت یا مصلحت اب کام نہیں آئے گی۔
Like this:
Like Loading...
بھلی ہم سمجھتے ہو کہ کانگرس کھلے انداز میں جو ہے وقت بل کی مخالفت نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے مسائل پر کھل کر بات کر رہی ہے یہ کانگرس کا موقع پرستانہ رویہ ہو سکتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں اپنی طاقت اور اپنی بیداری کا احساس دلانا ہوگا ،وہ ضرور ائے گا کہ لوگ ہمارا نام کھل کر لیں گے اور ہماری حمایت کی ضرورت ہے ہر کسی کو پڑے گی انشاءاللہ