Skip to content
جمعہ نامہ:کمائے تم نے خسارے ہیں ، اپنے ہاتھوں سے
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر خشکی اور تری پر فساد غالب آگیا ہے‘‘۔ دنیا میں مصائبِ عام مثلاً قحط، وبائیں، زلزلے اور ظالموں کا تسلط کا سبب آزمائش کے علاوہ احکامات الٰہی کی خلاف ورزی ہے یعنی لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی بھی ہے۔ آگے اس کی یہ علت بیان کی گئی ہے کہ : ’’ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے‘‘۔ لوگ رنج و الم سے دوچار ہوکر اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان کے دل نرم پڑیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس طرح ٹھوکر کھانے کے بعد :’’ شاید یہ لوگ پلٹ کر (سیدھے) راستے پر آجائیں‘‘۔ یعنی ظالم و گمراہ لوگوں کو اپنے بُرے اعمال کی جلن اور تپش محسوس کرواکے اصلاحِ حال کا موقع فراہم کیا جائے۔ دنیا کے اندر حیاتِ انسانی کی اصلاح و فساد کا اعمال سےتعلق ہے۔ عقائد میں بگاڑآگے چل کر اعمال کی خرابی اوربالآخر نظام ارضی کی تباہی پر منتج ہوتا ہے ۔ اقدارِ حیات کا انحطاط خشکی اور تری میں فساد برپا کردیتا ہے۔ نظامِ عالم کا درہم برہم ہونا بےمقصد یا اتفاقی نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی تدبیر اور قوانین فطرت کےطابع ہوتا ہے۔
میامنار میں آنے والے زلزلے کو اس آیت کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ برما میں کل 14لاکھ 24ہزار روہنگیا مسلمان رہائش پذیر تھے ۔ ان میں سے ہزاروں کو شہید کرنے کے بعد6لاکھ 24ہزار لوگوں کو ملک بدر کردیا گیا یعنی وہ بیچارے بنگلادیش، پاکستان ، سعودی عرب ، تھائی لینڈ اور ملیشیا میں ہجرت پر مجبور کردئیے گئے۔ عالمی برادری اس قتل عام اورنقلِ مکانی پر مگر مچھ کے آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کرسکی ۔ دنیا کے لیے بامیان میں گوتم بدھ کا مجسمہ زیادہ اہم تھا مگر بودھ مت کے ماننے والوں کےہاتھوں ان انسانی جانوں کے ضائع ہونے کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔’ وسو دھیو کٹمبکم‘(ساری دنیا ایک کنبہ) کا نعرہ لگانے والے وشو گرو نے روہنگیا مسئلہ پر سیاست کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ایک روہنگیا بچی کو اسکول جانے کی خاطر عدالتِ عظمیٰ کی مدد لینی پڑی جبکہ وطن عزیز میں افغانی خواتین کی تعلیم پر آنسو بہانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایک تو امریکہ نے افغانی دولت کو ضبط کررکھا ہے اور وہ اپنے محدود وسائل کے سبب خواتین کو تعلیم دینے سے معذور ہیں تو اس کے لیے طالبان کی آڑ میں دین اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے مگر غزہ یا روہنگیا بچوں کے قتل عام پر کوئی زبان نہیں کھولتا اور اگر کچھ بول بھی دیتا ہے تو ٹھوس اقدام نہیں کرتا ۔
عالمی سطح پر اس فکر و عمل کے بگاڑ کی روشنی میں میانمار کے زلزلے پر ایک نگاہ ڈالیں ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق میانمار میں 7.7 شدت کے زلزلے نے ملک کے وسطی علاقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس زلزلے نے خانہ جنگی، پے درپے آنے والی قدرتی آفات اور معاشی گراوٹ سے متاثر لوگوں کی مشکلات میں زبردست اضافہ کر دیا ہے اوروہ بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ امدادی اداروں کے مطابق، زلزلے سے وسطی علاقوں میں شہری تنصیبات بشمول طبی مراکز، سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا اور تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ یعنی جو کام اسرائیل نے پندرہ ماہ کی تباہ کاری سے دنیا بھرمیں بدنامی مول لے کر کیا وہ پندرہ گھنٹے میں ہوگیا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نہ صرف بجلی اور پانی کی فراہمی اور طبی خدمات تک رسائی متاثر ہوئی بلکہ پانی اور خوراک کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے خدشات میں بھی اضافہ ہو گیا ۔ اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے 12 لاکھ زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے امدادی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔یعنی زلزلے کے سبب پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والوں کی تعداد نقلِ مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں سے دو گنی ہے ۔ ایسے میں اسد رضا کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
ملتی ہے خموشی سے ظالم کو سزا یارو
اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی
مذکورہ بالا آیت کے بعد فرمانِ قرآنی ہے :’’(اے نبیؐ) اِن سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے‘‘۔ پہلے والوں کے انجام بد میں دانشمندوں کے لیے سامانِ عبرت تو ہے مگر اس سے کم لوگ مائل بہ اصلاح ہوتے ہیں۔ قدرتی آفات کے علاوہ انسان اپنی سرکشی سے بھی دنیوی تباہی و بربادی کو دعوت دیتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی اور معاشی حکمت عملی ہے ۔ اس کے سبب دنیا بھر میں ایک بہت بڑا معاشی بحران برپا ہوگیا ہے ۔ راتوں رات لوگوں کے لاکھوں کروڈ حصص بازار سے صاف ہوگئے۔ بے شمار لوگوں پر بیروزگاری کی تلوار لٹکنے لگی ۔ کئی ممالک دیوالیہ ہونے کے کگار پر پہنچ گئے ہیں لیکن ٹرمپ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ آئے دن ایک نہ ایک نیا شوشا چھوڑ کر بزعمِ خود اپنی مقبولیت میں اضافہ کیے جارہے ہیں ۔ عوامی احتجاج بھی انہیں خوابِ غفلت سے بیدار نہیں کرپارہا ہے۔
ایسےبے حس و سفاک حکمرانوں کے بارے ارشادِ خداوندی ہے:’’انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خد ا کو گواہ ٹھیرا تا ہے‘‘ اس آیت کی روشنی میں وہ خوش کن وعدوں کو یاد کریں جو ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے تھے لیکن ان سب کو پتہ چل گیا ایسا شخص :’’ حقیقت میں بد ترین دشمن حق ہوتا ہے۔ جب اُسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے حالاں کہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا ‘‘۔ فی الحال دنیا بھر کے سیاسی رہنما اور دانشور ٹرمپ کو سمجھا رہے ہیں مگر ان کا حال یہ ہے کہ : ’’جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے‘‘۔ اس طرح کے ناعاقبت اندیش حکمراں کیفرِ کردار تک پہنچنے سے قبل دنیا کو جہنم زار بنا دیتے ہیں ۔
Like this:
Like Loading...
ماشاءاللہ ڈاکٹر صاحب آپ کے تبصرے سے ہمارے ہمت بندھ گی ہے بر وقت تبصروں اور راہنمائی کا شکریہ !
السلام علیکم ،
کاش کہ ہم عبرت لیں،
ہم اپنا محاسبہ کریں اور اللہ تعالیٰ رب کریم سے توفیق چاہیں آمین ۔