Skip to content
کرنی سینا نے آگرہ میں رانا سانگا کی شکست یاد دلادی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی اپنی ذلت و رسوائی کے لیے کسی حریف کی محتاج نہیں ہے۔ اس کام کے لیے اس کی شیوسینا اور کرنی سینا جیسی حلیف جماعتیں کافی ہیں ۔ بی جے پی ہندووں کو مسلمانوں سے ڈرا کراز خود محا فظ بن جاتی ہے مگر یہ جماعتیں اپنی حماقت سے ثابت کردیتی ہیں کہ سنگھ پریوار حفاظت تو دور اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔ ممبئی میں کنال کامرا نےمہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا مذاق اڑایا تو شیوسینا کی بھلائی اس کو نظر انداز کرنے میں تھی مگر اس نے توڑ پھوڑ کرکے پہلے تو اس رسوائی کو مشہور کیا اور پھر کنال کامرا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکی اس لیے ثابت ہوگیا کہ ’یہ بھونکتے تو ہیں مگر کاٹ نہیں سکتے ‘ ۔ اترپردیش میں کرنی سینا نےشیوسینا سے سبق سیکھنے کے بجائےوہ غلطی دوہرا دی ۔ سماجوادی پارٹی کے رام جی لال سمن کا رانا سانگا سے متعلق بیان اگر بھلا دیا جاتا تو کوئی نہیں جانتا کہ انہوں نے راجپوتوں کو غدار کی اولاد کہہ دیا ۔ اس رسوائی کے بعد بیچاری بی جے پی کے لب پر غالب کا یہ شعر آگیا ہوگا؎
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟
رام جی لال سمن کے پارلیمانی خطاب کے بعد 26 مارچ کو کرنی سینا نے آگرہ میں شدید مظاہرہ کیا تھا۔اس دوران بڑی تعداد میں مظاہرین نے دو بلڈوزر سمیت رکن پارلیمان کے سنجے پلیس میں واقع رہائش گاہ پر حملہ کرکےتوڑ پھوڑ کی ۔ اس کے بعد جب پولیس سے جھڑپ میں متعدد اہلکار زخمی ہو گئے تو پانی سر سے اونچا ہوگیا ۔ یوگی کی پولیس نے جب ڈنڈا چلا کر دوڑا یا توسب رانا سانگا کے فوجیوں کی طرح سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آگے چل کر کرنی سینا اور دیگر راجپوت تنظیموں نے رانا سانگا کی یومِ پیدائش کے موقع پر ’رکت سوابھیمان مہا سمیلن‘ کا اعلان کردیا ۔ درمیان میں اس کے رد ہونے کی خبر آئی مگر وہ فیصلہ پھر بدل گیا ۔ اس میں چونکہ ڈھائی تین لاکھ لوگوں کی شرکت متوقع تھی اس لیے یوگی نے اسے شہر سے تقریباً30-40 کلومیٹر دور کْبیر پور علاقے میں گڑھی رامی کے مقام پر منعقد کرنے کی اجازت تودی مگرایک چوتھائی لوگ بھی نہیں آئے لیکن شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کردیئے گئے تھے ۔
یوگی اپنے لوگوں کو خوب جانتے ہیں اس لیے ان کو اندازہ تھا کہ یہ دنگائی شہر میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کریں گے اس لیے 4000؍ اہلکار تعینات کیے گئےنیز پی اے سی کی 9 کمپنیوں کو الرٹ رکھا گیا۔ شہر کے 800 مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ کئی مقامات پر چیک پوسٹس بھی قائم کی گئیں ۔اس اجلاس کا مقصد ہوا میں تلواریں اور ڈنڈے لہرا کر سماجوادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن رام جی لال سمن کو معافی مانگنے پر مجبور کرنا تھا ۔ سماجوادی پارٹی نے کرنی سینا کے آگے سپر ڈالنے کے بجائے اس خلاف محاذ کھول دیا۔ بڑی تعداد میں پارٹی کے کارکن اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے سمن کے گھر پر جمع ہوگئے۔ پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے19؍ اپریل کو آگرہ پہنچ کر رام جی لال سمن سے ملاقات کرنے کا اعلان کرکے کرنی سینا کے زخموں پر نمک پاشی کر دی۔اکھلیش یادو نے اس حملے کو پی ڈی اے یعنی پسماندہ، دلت اور اقلیتوں پر حملہ قرار دے کر بی جے پی کو مشکل میں ڈال دیا ۔ یوگی انتظامیہ کو رام جی لال سمن کے گھر پر ممکنہ خطرات کے پیش نظر تین سطحی سکیورٹی فراہم کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور اس کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا یعنی کرنی سینا اپنے دشمن کا بال بیکا کیے بغیر شور شرابہ کرکے بے نیل و مرام لوٹ گئی ۔
رانا سانگا کے یوم پیدائش پر ’رکت سوابھیمان سمّیلن‘ ریلی میں کرنی سینا کے کارکنان نے سرکاری آشیرواد کے سبب جم کر ہنگامہ کیا۔ پروگرام کے دوران افراتفری اور بے ضابطگی کا زبردست مظاہرہ ہوا۔ ریلی میں شامل ایک نوجوان نے گاڑی کی چھت پر چڑھ کر ڈبل بیرل بندوق لہرائی، جس کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں سنسنی پھیل گئی۔ یہ واقعہ لاء اینڈ آرڈر کے ساتھ عام لوگوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک چیلنج تھا۔تقریب کے مقام پر موجود ایک سر پھراکارکن ٹینٹ پر چڑھ گیا۔ اس سے اگر خیمہ گر جاتا تو بڑا حادثہ ہو سکتا تھا، کیونکہ اس کے نیچے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ پروگرام کے دوران غصے سے بھرے شرکاء ایک دوسرے کو دھکا مکی کرتے نظر آئے۔ کرنی سینا کا یہ پرتشدد مظاہرہ آس پاس کی سڑکوں پر پھیل گیا یہاں تک کہ ہائی وے اور ایکسپریس وے تک کو بھی بلاک کر دیا۔ اس کے سبب علاقے میں لمبا ٹریفک جام لگ گیا۔ ایسے میں دیکھتے ہی انکاونٹر کرنے والی یوگی پولیس ہاتھ جوڑ کر سرکاری دامادوں کو سمجھا بجھا کر مظاہرہ ختم کرانے کی کوشش کرتی نظر آئی۔
اتر پردیش کی یوگی حکومت صوبے میں جو نظم و نسق کے بہتر ہونے کے دعویٰ کرتی رہی ہے۔ کرنی سینا کی غنڈوں نےکھل کر تلواریں اور اسلحے لہرا کر اس دعویٰ کی پول کھول دی اور یوگی حکومت کی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ ڈاکٹر رام جی لال سمن کے خلاف اسٹیج سے ہونے والی اشتعال انگیزی پر اس نے کوئی اقدام نہیں کیاالٹا ایڈیشنل کمشنر بھی بھیڑ کے غصے کو دیکھتے ہوئے پولیس سمیت پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے ۔سماجوادی اور دلت تنظیموں نے الزام لگایا کہ یہ سارا تنازع جان بوجھ کر سیاسی فائدے اور ذات پات کے پولرائزیشن کی خاطر اٹھایا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس میں ایس پی کا بڑا فائدہ ہے کیونکہ راجپوت تو ویسے بھی اس کے دشمن ہیں مگر دلتوں کے مایاوتی کو چھوڑ اکھلیش کی جانب آنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس لیے کرنی سینا کے اس مظاہرہ نے ایک بار پھر ریاست کی سیاست کو نہ صرف گرما دیا ۔
کرنی سینا کے احتجاج والی شب بڑی چالاکی سے اس فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ناکام کوشش بھی کی گئی۔ شاہی جامع مسجد میں مظاہرے کی رات ایک تھیلے کے اندر خنزیر کے گوشت کا ٹکڑا بلکہ سر رکھ کر امن و امان خراب کرنے کی سازش کی گئی۔ سی سی ٹی وی سے حاصل ہونے والی فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نے گوشت پھینکنے والے نذر الدین کو گرفتار تو کر لیا مگر ضرورت اس بات کی ہے اس کے پیچھے بنی گئی سازش کا پتہ لگایا جانا چاہیئے۔ پولیس نے ملزم سے پوچھ گچھ کے بعداس فعلِ قبیح کے پیچھے کی سازش اور اس کی نیت معلوم کرنے کا وعدہ تو کیا مگر تفتیش کی تفصیلات تادمِ تحریر ظاہر نہیں کی گئی ۔ یہ کام اگر ایمانداری سے کیا جائے تو لازماً کوئی نہ کوئی زعفرانی چہرا سامنے آجائے گا مگر یوگی کے انتظامیہ سے ایسی توقع کرنا فضول ہے ۔جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی کے صدر محمد زاہد قریشی نے مقامی لوگوں نے صبرو ضبط کا مظاہرہ کرکے ایک سازش کو ناکام کردیا ورنہ کرنی سینا اور انتظامیہ کو ایک مشترک دشمن مل جاتا اور سارا غم و غصہ رام جی لال سمن سے ہٹ کر مسلمانوں کی جانب مڑ جاتا۔
یہ کوئی خام خیالی نہیں ہے بلکہ وقف ترمیمی بل کے خلاف علامتی احتجاج کے دوران جمعۃ الوداع اور عید کی نماز کے دوران بازو پر سیاہ پٹی باندھنے والے 300 سے زائد مسلمانوں پر یو پی پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو لاکھ کا بانڈ جمع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس پر ملک بھر کے انصاف پسندوں نےاعتراض کیا اور اس کارروائی کو سراسر نا انصافی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ پولیس نے پہلے تو یہ کہا تھا کہ اور لوگوں کی تلاش جاری ہے مگر اب کہہ رہی ہے کہ اضافی افراد کی شناخت نہیں کی گئی ۔ مظفر نگر کے ایس ایس پی ابھیشیک سنگھ اس نوٹس کو قانونی تو کہہ رہے ہیں لیکن عدالت میں گمانِ غالب ہے کہ اسے ان کے منہ پر ماردیا جائے گا اور ماضی کی مانند پھر ایک بار یوگی انتظامیہ کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ اترپردیش کی پولیس جس دن اپنے اس اقدام کو جائز قرار دے رہی تھی اسی روز ایک اہم فیصلے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اس کو سخت ہدایت جاری کی کہ کسی شخص کو اس کی گرفتاری کی وجہ اور بنیاد بتائے بغیر گرفتار کرنا غیر قانونی ہے۔
الہٰ باد عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت دی ہےکہ گرفتاری کے وقت آئین کے آرٹیکل 22(1) اور سی آر پی سی کی دفعہ 50 (اب بی این ایس ایس کی دفعہ 47) کے تحت حقوق پر سختی سے عمل کیا جائے۔ عدالت نے ڈی جی پی یوپی کو ایک سرکلر جاری کرنے اور تمام ضلعی پولیس سربراہوں کو قانونی دفعات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رانا سانگا کی طرح کرنی سینا کو بھی اس بار سماجوادی پارٹی کے خلاف دونوں مرتبہ شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ پہلے وہ ابراہیم لودھی سے ہارا مگر پھر بابر کے ساتھ اسے فتح نصیب ہوئی ۔ اس کے بعد جب بابر کے خلاف میدانِ جنگ میں آیا تو پھر سے ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ لوگ نہ تو ماضی میں اپنے بل پر کامیاب ہوسکے اور نہ مستقبل میں ہوسکیں گے ۔ درمیان میں دوسروں کے سہارے انتخاب جیت گئے تھے مگر حالیہ تنازع نے ثابت کردیا ہے کہ مستقبل میں اس کامیابی کے سلسلے کو جاری رکھنا مشکل ہوگا ۔
Like this:
Like Loading...