Skip to content
فلم سنسربورڈ کا دوغلا معیار:
‘چھاوا’ قبول،’پُھلے’پر سوال کیوں؟
——
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(اکولہ، مہاراشٹر)
——
بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعو ے دار ہے، آج اظہارِ رائے کی آزادی اور تخلیقی خودمختاری کے سنگین بحران سے دوچار ہے۔ اس تشویشناک رجحان کی ایک تازہ مثال جدید بھارت کے عظیم سماجی مصلح، ماہرِ تعلیم اور مفکر جیوتی با پھلے اور ان کی اہلیہ ساوتری بائی پھلے کی زندگی پر بننے والی فیچر فلم ‘ پھلے’ کی ریلیز میں حائل رکاوٹیں ہیں۔ یہ فلم ان تاریخی شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک کوشش تھی، جنہوں نے ذات پات کے نظام اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف ایک بے مثال اور تاریخ ساز جنگ لڑی۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق، فلم سینسر بورڈ اور مہاراشٹر کی چند مخصوص ‘برہمن تنظیموں’ کے اعتراضات کے سبب، یہ فلم اپنی مقررہ تاریخ، 11 اپریل (جیوتی با پھلے کی یومِ پیدائش)، پر شائقین تک نہ پہنچ سکی۔ فلم سازوں کے بظاہر ان اعتراضات کے آگے جھک جانے کے بعد اب فلم کی نمائش 25 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یہ واقعہ محض ایک فلم کی نمائش تک محدود نہیں، بلکہ بھارت میں تخلیقی آزادی کے مستقبل پر کئی گہرے اور پریشان کن سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا اب ملک میں فن و ادب کی تخلیق، طاقتور سماجی و سیاسی حلقوں کی رضامندی کی محتاج ہو کر رہ جائے گی؟ ‘جذبات مجروح’ ہونے کے اس مبہم اور کثرت سے استعمال ہونے والے دعوے کا آخر معیار کیا ہے، اور یہ اظہارِ رائے کا گلا گھونٹنے کے لیے ایک آسان ہتھیار کے طور پر کب تک استعمال ہوتا رہے گا؟ سب سے بڑا تضاد تو یہ ہے کہ وہ مخصوص حلقے جو ‘چھاوا’ جیسی فلموں کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہیں، وہی ‘ پھلے’ جیسی تاریخ اور سماجی حقائق کی عکاسی کرنے والی فلم کے خلاف کمر بستہ کیوں ہو جاتے ہیں؟ آخر یہ دوہرا معیار اور منافقت کس لیے؟
درحقیقت، ‘جذبات مجروح ہونے’ کا بہانہ بھارت میں تخلیقی اظہار کو دبانے کا ایک آسان ہتھیار بن چکا ہے۔ کون، کب، اور کس بات سے مجروح ہوا، اس کا تعین کون کرے گا؟ کیا اس کا اطلاق صرف اکثریتی یا بااثر گروہوں تک محدود ہے؟ ‘ پھلے’ فلم کے معاملے میں، بعض برہمن تنظیموں کا یہ اعتراض کہ فلم سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، انتہائی قابل اعتراض ہے۔ تاریخ پر مبنی کاموں میں، خاص طور پر سماجی اصلاحات جیسے موضوعات پر، اس وقت کے سماجی ڈھانچے اور اس کے علمبرداروں پر تنقید ناگزیر ہوتی ہے۔ جیوتی با پھلے کی زندگی اور جدوجہد براہ راست اس وقت کی برہمنی بالادستی اور ذات پات کے نظام کے خلاف تھی۔ اس تاریخی حقیقت اور اس پر مبنی تنقید کو ‘جذبات’ کی آڑ میں روکنے کی کوشش کرنا، دراصل تاریخ کو جھٹلانے اور سماجی انصاف کی تحریکوں کی اہمیت کو کم کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
اس معاملے میں سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) کا کردار بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بورڈ نے نہ صرف فلم سے ‘منوسمرتی’ کا ذکر ہٹانے کا مطالبہ کیا بلکہ ذات پات کے نظام کی تاریخی قدامت کو بھی کم تر ظاہر کرنے کی تجویز دی۔ جب بورڈ کی تشکیل میں ہی ایسے اراکین شامل ہوں جن کا واضح نظریاتی جھکاؤ ہو یا وہ ‘کشمیر فائلز’ جیسی متنازعہ فلموں کے تخلیق کار ہوں، تو بورڈ کے فیصلوں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ کیا یہ فیصلے فنکارانہ اہلیت اور سماجی مطابقت کی بنیاد پر ہو رہے ہیں یا محض نظریاتی دباؤ کا نتیجہ ہیں؟ یہ دوہرا معیار اس وقت اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے جب تاریخی حقائق پر مبنی فلمیں (جیسے ‘ پھلے’) اعتراضات کی زد میں آتی ہیں، جبکہ دوسری جانب، ممکنہ طور پر متنازعہ اور تفرقہ انگیز مواد پر مبنی وہ فلمیں جو غالب ہندوتوا وادی بیانیے سے ہم آہنگ ہوں، نہ صرف سنسر بورڈ سے بآسانی منظوری حاصل کر لیتی ہیں، بلکہ انہیں مخصوص حلقوں کی جانب سے سراہا بھی جاتا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ایسی فلموں کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے باقاعدہ فروغ دیا جاتا ہے، جس میں ملک کے وزیر اعظم تک پیش پیش نظر آتے ہیں، اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں انہیں ٹیکس سے مستثنیٰ بھی قرار دے دیا جاتا ہے۔
‘ پھلے’ پر اعتراض کرنے والی ‘برہمن تنظیموں’ کی سماجی حیثیت چاہے جو بھی ہویہ اکثر بڑی ہندوتوا تنظیموں کی ذیلی شاخوں کے طور پر کام کرتی ہیں جن کا مقصد سماج پر نظریاتی کنٹرول قائم کرنا ہے۔ پھلے کے انقلابی نظریات آج بھی ان قوتوں کے لیے خطرہ ہیں جو ذات پات پر مبنی غیر مساوی سماجی ڈھانچے کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔
فلم ‘پھولے’ کا یہ واقعہ ہندوستان میں تخلیقی آزادی پر بڑھتے ہوئے حملوں کی ایک تشویشناک کڑی ہے۔ یہ محض ایک الگ تھلگ معاملہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں ملک بھر میں فلمساز، ادیب، صحافی اور فنکار مسلسل دھمکیوں، حملوں، قانونی ہراسانی اور سنسر شپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ دباؤ ایک ‘چِلنگ ایفیکٹ’ (خوف کا ماحول) پیدا کرتا ہے، جس کے تحت تخلیق کار یا تو خود سنسر شپ پر مجبور ہو جاتے ہیں یا پھر حساس اور تنقیدی موضوعات سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ مین اسٹریم میڈیا اور سنیما بڑی حد تک بے ضرر تفریح یا سرکاری پروپیگنڈے تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال کئی لحاظ سے ایمرجنسی کے دور سے بھی زیادہ پیچیدہ اور خطرناک قرار دی جا سکتی ہے، کیونکہ یہاں جبر زیادہ غیر محسوس اور تہہ دار طریقوں سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت کا 180 ممالک کی فہرست میں 159 ویں پائیدان پر ہونا، اسی المیے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اظہار رائے کی آزادی کا بنیادی مقصدکمزور اور پسماندہ طبقات کی آواز بننا اور طاقتوروں سے جواب طلبی کرنا ہے، نہ کہ غالب گروہوں کے ‘جذبات’ کا تحفظ۔ لیکن موجودہ دور میں اس اصول کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔ ہندتوا نظریات کے حامل گروہ اپنے ‘جذبات’ کو ڈھال بنا کر ہر اس آواز کو دبانا چاہتے ہیں جو ان کے لیے ناگوار ہو۔ یہ نہ صرف آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ایک صحت مند اور جمہوری معاشرے کے ارتقاء میں بھی ایک سنگین رکاوٹ ہے۔
بالآخر، فلم ‘ پھلے’ کا تنازعہ ایک انتباہ ہے۔ یہ صرف ایک فلم کا معاملہ نہیں، بلکہ بھارت کے جمہوری مستقبل اور آئینی آزادیوں پر منڈلاتے خطرات کی نشاندہی ہے۔ اگر تاریخی سچائیوں کو بیان کرنا، سماجی برائیوں پر تنقید کرنا اور مصلحین کی جدوجہد کو یاد کرنا ‘جذبات مجروح’ کرنے کا باعث بنتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے؟ عدلیہ، دانشوروں، فنکاروں اور عوام کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اظہار رائے کی آزادی کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ پھلے، شاہو، پے ری یار اور امبیڈکر جیسے عظیم رہنماؤں کی میراث کو زندہ رکھا جا سکے اور تنقیدی سوچ کو جرم نہ سمجھا جائے۔ تخلیق کاروں کو بھی ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حق کے لیے لڑنا ہوگا اور متبادل راستے تلاش کرنے ہوں گے تاکہ سچ کی آواز کو عوام تک پہنچایا جا سکے۔
Like this:
Like Loading...