Skip to content
فلسسطین،14اپریل(ایجنسیز)فلسسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک سینیئر رہنما نے قیدیوں کے تبادلے کی بنیاد پر اور تمام اسرائیلی قیدیوں کی مشروط رہائی کی پیش کش کی ہے۔ یہ شرط ایسی ضمانتوں کی صورت ہو گی کہ اسرائیل جنگ کو ختم کر دے گا۔ حماس کے حکام کی طرف سے یہ پیش کش پیر کے روز کی گئی ہے۔
حماس کی طرف سے یہ پیش کش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس کے نمائندے قاہرہ میں ثالث ملکوں مصر اور قطر کے ساتھ جنگ بندی کے امور پر مذاکرات میں مصروف ہیں۔ نیز اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی اور سرپرست امریکہ بھی ان کوششوں میں مدد کر رہا ہے تاکہ زیر محاصرہ غزہ کی پٹی میں جنگ رک سکے۔
حماس کے حکام نے کہا ہے ہم تمام قیدیوں کو رہا کرنے کو تیار ہیں ۔ تاہم ان اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے یہ شرط ہو گی کہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل بھی رہائی دے گا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کی ضمانتیں دی جائیں گی۔ یہ بات حماس کے سینیئر رہنما طاہر النونو نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ اے ایف پی ‘ سے ملاقات میں کہی ۔ تام اس حماس رہنما نے اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا۔
حماس رہنما کا کہنا تھا ‘ ایشو یہ نہیں کہ کتنے اسرائیلی قیدی چھوڑیں جائیں گے اور کتنے نہیں۔ اصل ایشو یہ ہے کہ قبضہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے یا نہیں اور معاہدے پرعمل کرتا ہے یا نہیں۔ اور کیا جنگ بندی معاہدے کی شقوں کو پر عمل کو روک کر پہلے کی طرح جنگ جاری رکھتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ اسرائیل کو معاہدے کی روح کے مطابق پوری طرح عمل کرے اور اس کی ضمانت دی جائے کہ وہ عمل کرے گا۔’
معاہدے کے تحت حماس دس اسرائیلی قیدیوں کو رہائی دے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ یہ جمانتیں دے گا کہ اسرائیل دوسرے مرحلے کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع کرے گا۔ یاد رہے 19 جنوری سے شروع ہونے والے جنگ بندی کے پہلے مرحلے دونوں اطراف کے قیدیوں کو تبادلے میں رہا کیا گیا تھا۔ لیکن دو ماہ بعد پھر اسرائیل نے پھر سے جنگ چھیڑ دی۔
تازہ اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے لیے نئی کوششیں پھر سے رک گئی ہیں۔ کہ قیدیوں کی رہائی کی تعداد پر حماس سے تنازعہ جاری ہے۔۔ اس دوران حماس رہنما طاہر النونو نے حماس کے کسی صورت غیر اپنے عسکری ونگ کو گیر مسلح کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔ جبکہ اسرائیل کی طرف سے جنگی خاتمے کے لیے یہ بنیادی شرط ہے۔ طاہر النونو نے کہا ‘ ہتھیار مزاحمت کے لیے ہیں ان کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔’
Like this:
Like Loading...