Skip to content
ظریفانہ:مسکان خان سے مسکان رستوگی اور شیوانی سنگھ تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن مشرا نے کلن شرما سے کہا کہ یار سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ کیسا ہندو راشٹر بن رہا ہے؟
کلن بولا اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے؟ جیسا ہندو راشٹر منو مہاراج بنانا چاہتے تھے ویسا ہی بن رہا ہے ۔
اچھا یہ بتاو کہ منومہاراج کیسا ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں ؟
وہی اونچ نیچ اور بھید بھاو کا سماج جس میں اونچی ذاتوں و دیگر طبقات کے لیے مختلف قانون اور نظام ؟ کیا یہ نہیں ہورہا ہے؟
ہاں بھیا یہ تو ہورہا مسلمانوں کو کالی پٹی لگانے پر دو لاکھ کا بانڈ اور راجپوتوں کو تلوار لہرانے کی کھلی چھوٹ ؟ منو بابا تو یہی چاہتے تھے کیا؟
وہی نہیں ۔ ہم نے یوپی میں امبیڈکر جینتی کے موقع پر مجسمہ لگانے والوں کو روک کر ایک دلت کو زندہ جلا دیا اور کیا چاہیے؟
یار وہ ٹھیک ہے مگرکیا منو مہاراج ایسا ملک بناناچاہتے تھے کہ جس میں بیوی اپنے شوہر کا قتل کر دے یا ساس اپنے داماد کے ساتھ بھاگ جائے۔
تم یہ کیا بکواس کررہے ہو؟ منو بابا تو بیوی کو اپنے شوہر کے چتا پر ستی ہونے کی تعلیم دے کر گئے ہیں ۔
اچھا تو لگتا ہے تم نے مسکان کا کارنامہ نہیں سنا ؟
ارے یار تم بھی کس مسکان خان کا قصہ چھیڑ بیٹھے۔ اس لڑکی نے بدمعاشوں کے خلاف اللہ اکبر کیا کہہ دیا کہ تم جیسے لوگوں نے اسے سر پر بیٹھا لیا۔
اوہو للن کیا کرناٹک کی باحجاب مسکان خان تمہیں اب بھی یاد ہے؟ میں تو بھول ہی گیا تھا ۔
یار اس لڑکی کا بھگوادھاری نوجوانوں کے درمیان اللہ اکبر کا نعرہ لگانا اور میڈیا میں دلیری کے ساتھ اسے جائز ٹھہرانا میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
کلن بولا حیرت ہے تمہیں ان کی مسکان خان کا تو خیال ہے مگراپنی مسکان رستوگی کی فکر نہیں؟
بھیا سچ بتاوں میں نے کچھ اور سوچ کر اس ویڈیو کو دیکھا تھا مگر اندر سے ایک الگ کہانی نکل آئی ورنہ تم تو جانتے ہم برہمچاری سنگھ پرچارک ۰۰۰
اب بس کرو یہ ناٹک اور اپنے سماج کی فکر کرو اپنے اترپردیش کی مسکان رستوگی نے پورے ہندوسماج کو شرمسار کردیا ہے ۔ قسم سے!
ارے بھائی کیا کردیا یہ بھی بتاوگے یا پہیلیاں بجھواتے رہوگے؟
بھیا اس چنڈال نے اپنے عاشق ساحل شکلا کے ساتھ مل کر شوہر سوربھ راجپوت کا قتل کردیا ۔
کیا بکواس کرتے ہو کلن؟ رستوگی، راجپوت اور شکلا ! سب کے سب سوورن ؟ ہمارے سنسکار اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ نہیں ہوسکتا ۔
وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ اترپردیش میں بابا جی نے رام راج قائم کردیا ۔ اس کے باوجود یہ سب کیوں ہورہا ہے ؟
یار مجھے تو یہ کسی دشمن کی چال لگتی ہے۔ وہ لوگ اپنے دھرم کو بدنام کرنے کے لیے اسی طرح کی افواہیں اڑاتے رہتے ہیں ۔
کلن بگڑ کر بولا جھوٹی خبریں بناکر پھیلانا اپنے آئی ٹی سیل کا کام ہے ۔ یہ جھوٹی نہیں بلکہ صد فیصد سچی خبر ہے ۔
اچھا تم تو ایسے بول رہے ہو جیسے خود تفتیش کرکے آئے ہو۔
ارے بھائی للن تفتیش کی کیا ضرورت ؟ وہ چڑیل خود اپنے کرتوتوں کا اعتراف کررہی ہے ۔
اچھا تو اس نے تمہیں یہ سب تفصیل بتائی ہے ؟
وہ جیل میں چکی پیس رہی ہے اس لیے مجھے کیسے بتائے گی ؟ یہ سارے انکشافات پولیس نے کیے ہیں ۔
للن ہنس کر بولا پولیس نے کہا اور تم مان گئے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے بابا کی پولیس جھوٹ بولنے میں کتنی ماہر ہے۔
بھیا کوئی سپائی یا کانگریس یہ بہتان لگاتا تب تو ٹھیک تھالیکن مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ بابا کی پولیس کے بارے میں یہ بات کہوگے۔
ہاں یار ہماری پولیس مسلمانوں اور دیگر طبقات کے بارے میں تو جھوٹ گھڑتی ہے مگراپنے شکلا ، اور رستوگی کے خلاف یہ ناممکن ہے۔
یہی تو میں کہہ رہا تھا کہ آخر کب تک شتر مرغ کی مانند حقائق سے چشم پوشی کروگے ؟ اب یہ جام چھلکنے لگا ہے۔ پانی سر سے اونچا ہورہا ہے۔
للن نے کہا ہاں بھائی لگتا تم نے اس معاملے میں خاصہ مطالعہ کررکھا ہے اس لیے مجھے بھی اختصار سے بتا دو کہ کیا چکر ہے؟
میں تو بتا چکا ہوں کہ مسکان نے ساحل کے ساتھ مل کر سوربھ کو مارڈالا ۔ اب اور کیا بولوں؟
لیکن یار کوئی اپنے شوہر کو کیوں مارے ؟ کیا ان کی کوئی اولاد نہیں تھی؟؟
تھی کیوں نہیں ؟ قتل سے قبل وہ اپنی پانچ سالہ بیٹی کو میکےمیں چھوڑ آئی تھی ۔
اچھا تو مطلب یہ کوئی اچانک جذبات میں آکر کیا جانے والا بے ساختہ قتل نہیں بلکہ منصوبہ بندسازش تھی ؟
جی ہاں قتل سے پہلے اور بعد کی ساری کہانی منصوبہ بند تھی ۔
للن نے سوال کیا یار پہلے اور بعد میں والی تفریق سمجھ میں نہیں آئی ؟
دیکھو بھیا مسکان اور ساحل نے سوربھ کو شراب پلاکر مدہوش کرنے کے بعد چاقو سے ٹکڑے کیے اور ڈرم میں ڈال کر سیمنٹ بھردی ۔
اچھا ! ایسی سفاکی؟ لیکن یہ تو قتل سے پہلے کی منصوبہ بندی ہے ۔ اس کے بعد کیا ہوا؟
بعد میں ان دونوں نے قتل کا جشن منایا اورسیر و تفریح کے لیے ہماچل پر دیش نکل گئے ۔ یار ایسا تو اورنگ زیب نے بھی نہیں کیا؟
یاراس سنگدلی نے چھاوا فلم کو بھی شرمندہ کردیا۔ایساتوکوئی پیشہ ور مجرم بھی نہیں کرسکتا لیکن آخر مسکان اپنے شوہر سے اتنی ناراض کیوں ہوگئی؟
مسکان طلاق لے کر ساحل کے ساتھ رہنا چاہتی تھی مگر سوربھ چھٹکارہ نہیں دے رہاتھا الٹا ساحل کے ساتھ رنگ رلیاں منانے سے روکتا تھا ۔
ارے بھائی کوئی اپنی بیوی کو دوسروں کے ساتھ گھومنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟
نہیں دے سکتا مگر پچھلے چار سالوں سے وہ طلاق مانگ رہی مگر وہ اس پر نگرانی کروا رہا تھا۔تم ہی بتاو کہ آخر انسان کب تک برداشت کرے ؟
یار کلن تم تو مسکان کے بجائے بیچارے سوربھ کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہو ۔ یہ بہت غلط بات ہے۔ یہ نہ بھولو کہ مسکان نے اپنی بیٹی کو یتیم کردیا۔
بھیا دیکھو مجھے سوربھ سےبہت ہمدردی ہے لیکن اگر وہ طلاق دے دیتا تو اس طرح موت کے گھاٹ نہیں اتارا جاتا ۔
سوربھ اگر غلطی کررہا تھا تو ہمارے ملک میں قانون کا نظام ہے ۔ اس کو مداخلت کرکے مسئلہ حل کرنا چاہیے تھا۔
ہماری عدالتوں کے اندر انصاف میں تاخیرعام بات ہے۔ تمہیں یاد ہے اسی وجہ سے بنگلورو کے اے آئی انجنیئر اتل سبھاش نے خودکشی کرلی تھی۔
ٹھیک ہے۔ عدالت کا نظام ناقص ہو تب بھی سنگھ پریوار موجود ہے ۔ وہ ایسے مسائل پر توجہ کیوں نہیں دیتا ؟
دیکھو بھائی آج کل ہماری ساری توجہ مسلمانوں کی جانب مرکوز ہے۔ ہمیں دیگرجھنجھٹ جھمیلوں کے لیے فرصت نہیں ہے ۔ کیا سمجھے ؟
مطلب اسی طرح اندر ہی اندر ہندو سماج کھوکھلا ہوجاتا چلا جائے کوئی سوربھ قتل کردیا جائے اور اتل کی خودکشی کرلے ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا؟
للن بولا یار تم بھی یہ کیا رونا لے بیٹھے ۔ فی الحال ہماری سرکار بیساکھیوں پر ہے۔ اس سے جلدازجلد چھٹکارہ بہت ضروری ہے ۔سمجھتے کیوں نہیں؟
میں کیا سمجھوں؟ اب اس کہانی میں ایک نیا ٹویسٹ آگیا ہے؟تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسکان ۷؍ ہفتوں کی حاملہ ہے۔
ارے بھائی تو میں کیا کروں ؟ وہ جانے اور اس کا ہونے والا بچہ جانے تم اور ہم کیا کرسکتے ہیں؟
بھیا وہ عمر قید میں رہے گی۔ ۶؍سال کے بچے کو اس سے الگ کردیا جائے گا ۔ اب یہ بتاو کہ اس ہندو بچے کا کیا ہوگا؟
ارے ہاں بھائی لوگ تو مرتے ہی رہتے ہیں۔ سوربھ کے رشتے دار اپنے خاندان کے بچے کی پرورش کریں گے ۔
جی ہاں مگر سوربھ کے بھائی راہل کا کہنا ہے کہ بچے کا ڈی این اے ٹسٹ ہونےکے بعد اگر وہ سوربھ کا بچہ ثابت ہوجائے تبھی پرورش کی جائے گی۔
یہ تو سنگین اعتراض ہے ۔ اب مجھے بھی لگتا ہے کہ بروقت طلاق ہوجاتی تو باپ بیٹا محفوظ رہتے اور ماں بھی پھانسی نہیں چڑھتی لیکن ہم کیا کریں؟
بھائی للن، مسلمانوں سے سبق سیکھو وہ شریعہ کورٹ بناکر یہ مسائل حل کرلیتے ہیں۔ مسکان رستوگی اگر مسکان خان ہوتی تو اسے خلع مل جاتا۔
اچھا تو کیا ہم سب ختنہ کرکے مسلمان بن جائیں ۔ دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا کلن ۔
دیکھو للن غصہ کرنا فضول ہے۔ پہلے ساس بہو کی تو تو میں میں پر سیریل بنتے تھے اب ساس اور داماد کے فرار کا قصہ میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔
یہ تم نے کون سانیا قصہ چھیڑ دیا ۔ یار تم کہاں کہاں پھرتے رہتے ہو؟
بھیا میں کہیں نہیں گیا ۔ یہ معاملہ بھی اترپردیش کا ہے۔ اسی علی گڑھ کا جہاں واقع مسلم یونیورسٹی میں کبھی ہولی اور کبھی مندر کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
ہاں ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ ساس داماد کا کیا چکر ہے؟
بھائی جتندرنے اپنی بیٹی شیوانی کی شادی راہل سے طے کی کارڈ چھپ گئے مگر ۹؍ دن قبل داماد اپنی ہونے والی ساس کے ساتھ فرار ہوگیا۔
للن بیزاری سے بولا اچھا بھائی جو ہونا تھا سو ہوچکا اب ان لوگوں کا کیا کہنا ہے؟
ارے بھیا اس میں سبھی کی بات ایک دوسرے سے مختلف ہے تم کس کا خیال جاننا چاہتے ہو؟
یار یہ بتاو کہ جس بیچاری کا سہاگ اس کی اپنی ماں نے لوٹ لیا وہ لڑکی کیا کہتی ہے ؟
وہ کہتی ہے جو میری ماں نے کیا، کوئی ماں ایسا نہیں کرتی۔ وہ میرے لیے مر چکی ہے۔ دونوں کے جینے یا مرنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یار یہ تو بڑی سمجھدار لڑکی ہے لیکن وہ احمق داماد کیا کہتا ہے ؟ جو 19سالہ نئی نویلی نیک دلہن کو چھوڑ کر 40 سال کی پاجی ساس پر فدا ہوگیا ؟
اس نے اپنے نہ ہونے والے سسر کو دھمکی دے کر کہا کہ 20 سال اپنی بیوی کے ساتھ رہ لئے ، اب اس کو بھول جاؤ ۔ دوبارہ کال مت کرنا۔
اچھا یہ تو چوری اور سینہ زوری والی بات ہے۔ یہ بتاو کہ لڑکی کا باپ اب کیا کررہا ہے؟
مرتا کیا نہ کرتا ؟ اس نے پولیس سے مدد مانگی اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی سے رشتہ توڑ لیا ہے ۔
تب تو قصہ ختم ،پھر پولیس سے مدد مانگنے کی کیا ضرورت ؟
ارے بھائی اس نے بیٹی کی شادی کے لیے 5 لاکھ روپے کے زیورات اور 3 لاکھ 50 ہزار روپے کا انتظام کیا تھا مگر بیوی وہ بھی لے بھاگی۔
یعنی اب چوری کا معاملہ بن گیا؟ اچھاتو بابا جی کی پولیس کیا کررہی ہے؟ راہل کے گھر پر بلڈوزر چلایا یا نہیں ؟ اب تک توانکاونٹر ہوجانا چاہیےتھا۔
ارے بھیا وہ لوگ پہلے تو اتراکھنڈ بھاگے اور اب سنا ہے گجرات میں جاکر چھپ گئے ہیں ؟ پولیس کے ہتھے ہی نہیں چڑھے۔
یار کمال ہے؟ تینوں صوبوں میں ڈبل انجن سرکار ۔ ایک میں یونفارم سیول کوڈ نافذ اور دوسرے میں بن رہا ہے۔ تو آخر’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟‘
Like this:
Like Loading...