Skip to content
’’قیمتی ہے لمحہ لمحہ وقت کا‘‘
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
’’وقت ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں ایک عظیم نعمت ہے ، وقت کو زمانہ بھی کہاجاتا ہے ، وقت اس قدر عظیم ، قیمتی اور بیش بہا نعمت ہے کہ جس کا اندازہ لگانا انسان کے بس میں نہیں ہے ،یہ ایسی قیمتی شے ہے کہ پوری دنیا مل کر بھی اس کی قیمت بن نہیں سکتی ، جس طرح دنیا کی ہر ایک چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح وقت کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم نعمت کے ساتھ کئی ایک نعمتوں کو جوڑ دیا ہے ،وقت کی قدر کئی نعمتوں کی قدردانی کا ذریعہ بنتی ہے اور اس کی ناقدری کئی ایک نعمتوں کی ناقدری کا ذریعہ بنتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو وقت کے ساتھ جوڑ دیا ہے چنانچہ وقت گزرتا ہے تو چیزوں میں تبدیلی رونما ہوتی ہے اور جیسے جیسے وقت بدلتا ہے تو چیزوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی زندگی کو بھی وقت کے ساتھ جوڑ دیا ہے ،وقت گزرنے کے ساتھ انسان کی مقررہ زندگی گھٹنے اور کم ہونے لگتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان اپنی مقررہ زندگی گزارکر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ،وقت کے قدردانوں نے وقت کے بارے میں یہ بات کہی ہے جو صد فیصد درست ہے کہ وقت اپنے قدردانوں کی نہ صرف قدرکرتا ہے بلکہ انہیں قابل قدر بنادیتا ہے اور اس کے ساتھ ناقدری کرنے والوں کا ایسے انتقام لیتا ہے کہ انہیں ناکامی اور گمنامی کے غار میں دفن کردیتا ہے ،یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ وقت کسی کا پابند اور کسی کا ماتحت نہیں ہے بلکہ ہر ایک وقت کا پابند اور اسی کے ساتھ جڑا ہوا ہے ،وقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک رفتار عطا کی ہے وہ اسی رفتار کے ساتھ گھومتا رہتا ہے ،اس کی خاصیت یہ ہے کہ وہ کسی کے روکنے پر رکتا نہیں ،حکم دینے پر ٹہر تا نہیں اور خریدنے پر بکتا نہیں بلکہ سچی بات یہ ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ و اُمراء ،تخت وکرسی کے مالک اور سرمایہ دار بھی وقت کے پیچھے ہی دوڑتے ہیں اور اسی کے اسیر ہو کر زندگی کا کاروبار چلاتے ہیں ،بلاشبہ وقت اپنے قدردانوں کو کامیابی کی شاہِ راہ دکھاتا ہے اور ناقدروں کو راستے سے ہٹا دیتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے کے کامیاب لوگوں نے وقت کی قدر دانی کی ہے ، اس کے ایک ایک لمحہ کی حفاظت کی ہے اور اسے اسی طرح احتیاط سے خرچ کیا ہے جس طرح سحر ا ئی مسافر اپنے پاس موجود قلیل پانی کے ایک ایک بوند کو حفاظت سے خرچ کرتا ہے اور بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت اس کا استعمال کرتا ہے ، وقت کے قدردان اور کامیاب زندگی گزارنے والے اکثر کہا کرتے ہیں کہ جو انسان وقت کا پابند بن گیا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے اسے برباد کر دیا وہ خاک میں مل گیا ،عقلمند وں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ ہوش میں رہ کر وقت کو کام میں لاتے ہیں اورکم عقلوں کا معاملہ ہوتا ہے کہ وہ بے ہوش ہوکر وقت کو ضائع کر دیتے ہیں اور اس وقت ہوش میں آتے ہیں جب سب کچھ لٹ گیا ہوتا ہے اور ان کے لئے سوائے افسوس کے کچھ باقی نہیں رہتا ہے ۔
مذہب اسلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ جہاں انسانوں کی قدم قدم پر رہنمائی کی ہے اور زندگی گزارنے کا انہیں طریقہ بتایا ہے ،اور واضح طور پر انہیں اچھے اور بُرے کا فرق بتلایا ہے ،کامیابی وناکامی کا راستہ دکھایا ہے وہیں اس نے انسانوں کے سامنے بڑی وضاحت کے ساتھ وقت کی اہمیت اور اس کی قدر وقیمت بھی اجاگر کردیا ہے ، رسول اللہ ؐ ؐ نے بہت سی احادیث میں وقت کی اہمیت کو بیان کیا ہے اور بڑی وضاحت کے بتایا ہے کہ وقت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت بلکہ ایسی نعمت ہے کہ جس کا کوئی بدل نہیں ہے ،رسول اللہؐ نے وقت کی قدردانی کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دلا ئی ہے بلکہ آپؐ نے وقت کے ایک ایک لمحہ کی قدر کرتے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ وقت کس قدر اہم ہے اور اس کی کس طرح قدرکرنی چاہئے ، ایک موقع پر آپؐ نے صحابہؓ کو بتایا کہ قیامت کے دن وقت کی ناقدری کرنے والے اللہ تعالیٰ کے سامنے مجرم بن کر کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے وقت کے متعلق سوال فرمائے گا اور وقت ضائع کرنے والوں کو اس جرم پر کڑی سزا دی جائے گی ،وقت کی اہمیت کے لئے یہ بات کافی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وقت کی قسم کھائی ہے ، سورہ عصر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَالْعَصْرِ (العصر:۱)’’زمانہ کی قسم‘ ‘، یہاں وقت کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ اس کی اہمیت بتانا چاہتے ہیں اور اس کی قدردانی کی جانب لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اہل علم فرماتے ہیں کہ وقت کا ضائع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی نظر میں نہ صرف مجرم ہے بلکہ اس لحاظ سے سخت اور بڑا مجرم ہے کہ ا س نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو بے کار اور یوں ہی ضائع کردیا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مرضیات میں استعمال کرنے کے بجائے اس کے ذریعہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے ، اہل علم یہ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندوں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ وقت کے قدردان ہوتے ہیں برخلاف نافرمانوں کے وہ وقت کو ضائع کرنے والے ہوتے ہیں ،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تعریف فرمائی ہے جو وقت کے قدردانی کرتے ہیں اور اپنے اوقات غفلت میں گزارنے سے احتیاط کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (مؤمنوون :۳)(اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی پہنچان یہ ہوتی ہے کہ )وہ لوگ بے کار لایعنی باتوں سے اعراض کرتے ہیں (اور بے کار چیزوں میں پڑکر اپنے قیمتی اور بے حد قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں)‘‘ ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو زندگی عطا کی ہے وہ وقت ہی کے ساتھ ملحق ہے ،انسان کی کامیابی اور ناکامی دونوں کا تعلق بھی وقت کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے ، وقت کا صحیح اور درست استعمال اسے دنیا میں بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے تو آخرت میں نجات دلاتا کر اسے جنت اور اس کی لامحدود نعمتوں کا حقدار بنادیتا ہے ، دنیا میں کونسا ایسا شخص ہوگا جو کامیاب ہونا نہ چاہتا ہوگا یقینا ہر شخص کامیابی چاہتا ہے اور ایسی نعمتیں چاہتا ہے جو اس کے پاس ہمیشہ ہمیشہ رہے تو اہل علم فرماتے ہیں کہ اس کے لئے اسے دو کام کرنے ہوں گے ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبرؐ پر اسے ایمان لانا ہوگا اور دوسرے اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہؐ کی تعلیمات کے مطابق گزارنا ہوگا جو شخص یہ دوکام کرے گا اسے دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دوست قراردیا جائے گا اور آخرت جنت کی نعمت سے سرفراز کیا جائے گا اگر انسان وقت کی قیمت جاننے کے باوجود اس کی ناقدری کرے گا تو وہ خود اپنا ہی نقصان کرے گا ،ایسے شخص کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ آنکھیں رکھنے کے باوجود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنا ۔
محدث کبیر ،فقیہ النفس مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ نے سورہ ٔ عصر جس میں زمانہ کی قسم کھائی گئی ہے کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت خوبصورت اور اچھوتے انداز میں زمانہ اور وقت کی قدر وقیمت کو اجاگر کیا ہے، مفتی صاحب رقم طراز ہیں کہ ’’انسان کی عمر کا زمانہ اس کے سال اور مہینے اور دن رات بلکہ گھنٹے اور منٹ اگر غور کیا جائے تو یہی اس کا سرمایہ ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا وآخرت کے منافع عظیمہ عجیبہ بھی حاصل کر سکتا ہے اور عمر کے اوقات اگر غلط اور بُرے کاموں میں لگا دئیے تو یہی اس کے لئے وبال جان بھی بن جاتے ہیں،بعض علماء نے فرمایا ہے ؎
حیاتک انفاس تعد فکلما
مضی نفس منھا انتقصت بہ جز ء اً
ترجمہ :’’یعنی تیری زندگی چند گنے ہوئے سانسوں کا نام ہے ،جب ان میں سے ایک سانس گزرجاتا ہے تو تیری عمر کا ایک جزو کم ہوجاتا ہے‘‘،حق تعالیٰ نے ہر انسان کو اس کی عمر کے اوقات ِ عزیزہ کا بے بہا سرمایہ دے کر ایک تجارت پر لگایا ہے کہ وہ عقل وشعور سے کام لے اور اس سرمایہ کو خالص نفع بخش کاموں میں لگائے تو اس کے منافع کی کوئی حد نہیں رہتی اور اگر اس کے خلاف کسی مضرت رساں کام میں لگا دیا تونفع کی تو کیا امید رأس المال بھی ضائع ہوجاتا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں کہ نفع اور رأس المال ہاتھ سے جاتا رہا بلکہ اس پر سینکڑ وں جرائم عائد ہوجاتی ہیں اور کسی نے اس سرمایہ کو نہ کسی نفع بخش کام میں لگایا نہ مضرت رساں میں تو کم از کم یہ خسارہ تو لازمی ہی ہے کہ اس کا نفع اور رأس المال دونوں ضائع ہوگئے اور یہ کوئی شاعرانہ تمثیل ہی نہیں بلکہ ایک حدیث مرفوع سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے :کل الناس یغدو فبائع نفسہ فمعتقھا او موبقھا (ترمذی :۳۸۵۹)’’ یعنی ہر شخص جب صبح اُٹھتا ہے تو اپنی جان کا سرمایہ تجارت پر لگاتا ہے ،پھر کوئی تو اپنے اس سرمایہ کو خسارہ سے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر ڈالتا ہے‘‘،(معارف القرآن:۸؍۱۷۲)۔
وقت کی قدر وقیمت اور اس کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کی بہت سی عباداتوں کا تعلق وقت کے ساتھ خاص اور جڑا ہوا ہے اور اہم ترین عبادت نماز کا تعلق اوقات سے جڑا ہوا ہے جس کی پابندی ہر نمازی کے لئے ضروری اور لازمی ہے ،اگر کوئی شخص وقت کے اندر نماز ادا کرتا ہے تو اس کی نماز ادا کہلاتی ہے اور وقت کے بعد پڑھنے والے کی نماز قضا کہلائی جاتی ہے ،ادا اور قضا نمازوں میں جو بڑا اور زبردست فرق ہے وہ درحقیقت وقت ہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے بلکہ متعدد مستند احادیث میں نمازوں میں وقت کی پابندی کو ملحوظ نہ رکھنے والے کے لئے سخت وعید سنائی گئی ہے ،رسول اللہ ؐ نے وقت ضائع کرنے والے کو دھوکہ کھاجانے والوں میں شمار کیا ہے کہ جس طرح دھوکہ کھانے والے کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور وہ زبردست خسارہ سے دوچار ہوتا ہے اسی طرح بے فضول کاموں میں لگ کر وقت ضائع کرنے والا بھی بہت سے خیر وبھلائی کے کاموں سے محروم رہ جاتا ہے اور اسے دنیا کے ساتھ آخرت کا بھی زبردست نقصان پہنچتا ہے ،آپ ؐ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ ’’ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں مبتلا ہیں ،ایک تندرستی دوسرے فراغت وقت (یعنی فرصت )(بخاری:۶۴۱۲) ۔
مذہب اسلام کی نظر میں وقت کی اس قدر قدر وقیمت کے باوجود اور رسول اللہؐ کی اس کے صحیح استعمال کی جانب توجہ دلانے کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعدداد جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں فضولیات میں لگ کر اپنے وقت کو ضائع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں بلکہ راتوں میں بلاوجہ جاگنا اور دن کے اکثر اوقات سوتے رہنا ،کاروبار و تجارت چھوڑ کر دستوں کے ساتھ وقت گزارنا ،موبائل کا بلا ضرورت استعمال کرتے ہوئے وقت گزردینا اور تقریبات کا سہارا لے کر ساری ساری رات گپ شپ میں گزاردینا مسلمانوں کی پہچان بن گیا ہے ،انہیں اس طرح کے کاموں میں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وقت کا ضیاع مسلم نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے ،نوجوانوں کے علاوہ بعض زائد عمر رکھنے والے حضرات بھی وقت کو بنا کسی مصرف کے ضائع کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ،دن کے قیمتی اوقات ولمحات کو حلال روزی کے طلب کرنے میں استعمال کرنے کے بجائے بغیر کسی مقصد کے برباد کرنے میں لگے ہوتے ہیں ،رات کی نیند انسانی صحت کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اسے آرام کرنے میں گزارنے بجائے ہوٹلوں ،چوراہوں اور چبوتروں میں گزار کر ضائع کرتے نظر آتے ہیں ،بہت سے نوجوانوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقصد زندگی سے بالکل لاعلم ہیں ،ان کے وقت ضائع کرنے کو دیکھ کر سنجیدہ لوگ اپنے بچوں کو ان سے دور رہنے کی نصیحت کر رہے ہیں بلکہ ان نوجوانوں نے اپنی ان نادانیوں اور اوچھی حرکتوں سے نہ صرف اپنے اوقات ضائع کرتے ہوئے اپنا مستقبل تاریک کر رہے ہیں بلکہ اپنے والدین کے لئے شرمندگی کے ساتھ بوجھ بنے ہوئے ہیں نیز ان کی اس حرکتوں سے مذہب اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں ، حالانکہ موجودہ عالمی اور خصوصا ملکی حالات میں مسلمانوں کو زیادہ مرتب اور حساس ہوکر زندگی کی گزارنے کی ضرورت ہے ،انہیں ہر طرح سے منظم ہونے کی ضرورت ہے ،ایک طرف اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اسے عبادتوں میں گزارنا ہوگا تو دوسری طرف اسے تعلیم کے حصول میں لگاکر اپنے اندر قابلیت وصلاحیت پیدا کرنا ہوگا تو تیسری طرف کاروبار وتجارت میں وقت صرف کرتے ہوئے معاشی ترقی کرنا ہوگا اور یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کامیابی انہیں لوگوں کا استقبال کرتی ہے جو اپنے وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور دنیا میں وہی قوم ترقی کرتی ہے جو وقت کی قدر وقیمت جانتے ہیں ۔
افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ کسی زمانے میں قوم مسلم کی نقل وحرکت اور وقت کی پابندی دیکھ کر دیگر قومیں ان سے سبق سیکھا کرتی تھیں آج انہیں دیکھ کر شرم شرم کے نعرے لگا رہی ہے اور ہم پر طعنے کس رہی ہے اور اپنے قوم کے بچوں کو ان سے دور رہنے کی تلقین کر رہی ہے ،مزید افسوس تو اس بات پر ہے کہ صبح کی آذانوں کی گونج کے باوجود یہ قوم سونے میں پڑی ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ بعض مسلم نوجوان اس وقت اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں جس وقت موذن کے اذان کی آواز سے سوئے ہوئے لوگ بیدار ہوتے ہیں ،موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
ہوکر اپنے کاموں میں مشغول ہو رہے ہیں ، ٓٓواز دے کر انہیں مسجد کی طرف بلاتا ہے اس میں معاش ضیاع وقت کا شکار ہو چکے ہیں اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرے وقت ، مزید افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مسلم محلوں میں رات دیر گئے تک جاگنا نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بنتا جارہا ہے ،محلہ کے چبوتروں اور چوراہوں پر ہوٹلوں کے آس پاس رات دیر گئے تک نوجوانوں کی ایک بھیڑ نظر آتی ہے جو گپ شپ ،فضولیات اور لایعنی گفتگو میں اپنے قیمتی اوقات ضائع کرتے دکھائی دیتے ہیں،رات کے قیمتی اوقات تو اپنے رب سے سر گوشی کرنے اور رب دو جہاں کے حضور حاضر ہوکر اس کی خوشنودی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں،بہت سے خوش نصیبوں نے راتوں میں رب دو جہاں کے حضور حاضر ہوکر ولایت کے اعلیٰ مقا مات طے کر چکے ہیں اور یہ نوجوان ہیں کہ بڑی بے فکری کے ساتھ راتوں کے قیمتی لمحات ضائع کرتے ہوئے اپنی صحت کے ساتھ زندگی کی برکت سے محروم ہوتے جارہے ہیں،حیدرآباد شہر میں چند مہینوں قبل پولیس نے چبوترہ مہم چلائی تھی غالباًابھی بھی اس کا سلسلہ جاری ہے جس کے ذریعہ مسلم محلوں سے سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کو پکڑ کر ان کی کونسیلنگ کی ،جب اس کی خبریں پرنٹ میڈیا کے ذریعہ سامنے آئی تو پڑھ کر شرم سے سر جھک گیا کہ جن محلوں میں چبوترہ مہم کے ذریعہ نوجوانوں کو پکڑا گیا ان میںتقریباً مسلم محلے تھے اور تقریباً تعداد مسلم نوجوانوں ہی کی تھی،مسلم نوجوانوں کی دین سے دوری اور غیر ضروری مشاغل سے دلچسپی کے پیچھے ان کے والدین کی بے توجہی اور دینی تربیت نہ کر نا ہے، تعلیم سے عدم دلچسپی ،کاروبار وتجارت سے دوری ،گھر کے ضرورتوں سے لاپرواہی اور دوست واحباب کے ساتھ مل کر اوقات کا ضیاع مسلم معاشرہ کی شناخت بنتی جارہی ہے،اس پر اگر توجہ نہ دی جائے تو حالات نہایت سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں ،وقت کی ناقدری ایک ایسا جرم ہے کہ جس سے دیگر جرائم وجود میں آتے ہیں اور آدمی ضیاع وقت کی وجہ سے بے اصول ہوکر مالی دشواریوں میں گھر تاجاتا ہے اور اگر بر وقت اس کوتاہی کا ازالہ نہ کیا گیا تو دوسروں کے مال پر بُری نظر کے بعد چوری اوردھوکہ دہی جیسے بھیانک جرائم اس سے سرزد ہونے لگتے ہیں،ضیاع وقت معاشرہ کے لئے دیمک ہے جو دھیرے دھیرے پورے معاشرہ کو اپنے لپیٹ میں لے کر اس کا قیمتی اثاثہ نوجوان کی صلاحیت کو کھا جاتی ہے ،مسلم معاشرہ کے بااثر اور ذمہ داران کو اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے اور شدت سے مہم چلاکر معاشرہ کو اوقات کی پابندی کا عادی بنانے کی ضرورت ہے ،نیز والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی وقت کی پابندی کریں اور اپنے عمل سے اپنی اولاد کو پابندی کی تلقین کریں اور انہیں گاہے بگاہے بتاتے رہیں یہی وہ وقت ہے جس سے دنیوی زندگی کی رنگت اور اخروی زندگی کی دائمی نعمت خریدی جاسکتی ہے ،جو وقت جس کام میں صرف ہوگا آگے چل کر اسی کا فائدہ حاصل ہوگا ،دنیا کے لئے صرف کیا گیا وقت دنیا کے کام آئے گا اور دین کے لئے اور دینی کاموں میں لگایا گیا وقت دنیا وآخرت دونوں میں کام آئے گا،عقلمند وہ ہے جو عارضی زندگی کے لئے نہیں بلکہ دائمی زندگی کے لئے اپنی قیمتی زندگی اور اس کے نایاب اوقات صرف کرتا ہے اور نادان وہ ہے جو اسے یوں ہی ضائع کردیتا ہے اور جب موت کا فرشتہ دستک دیتا ہے تو کف افسوس ملتے ہوئے نہایت حسرت سے یہ کہتا ہے ؎ہٹ بھی نہ محسوس ہوئی ختم سفر تک ٭ یہ عمر رواں کتنا دبے پاؤں چلے ہے
Like this:
Like Loading...