Skip to content
﷽
I.P.L اور دیگر موجودہ کھیل
اسلامی نقطہ نظر سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: مفتی محمد تمیم احمد قاسمی
خادم کہف الایمان ٹرسٹ،
بورابنڈہ، حیدرآباد
۔۔۔ ۔۔۔۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، اس دینِ فطرت نے جن نعمتوں پر انسان کو شکر کا درس دیا ہے، اُن میں سے ایک عظیم نعمت وقت ہے، وقت درحقیقت انسان کی زندگی کا سرمایہ ہے، بلکہ یوں کہنا بجا ہوگا کہ وقت ہی اصل زندگی ہے، ایک ایک لمحہ جو گزر رہا ہے، وہ دراصل ہماری زندگی کے صفحات سے ایک صفحہ کم کر رہا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر اس کی اہمیت واضح کی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ(سورۃ العصر: 1-2) ترجمہ:زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔علماء کرام فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں، تو وہ چیز معمولی نہیں ہوتی۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر انسان نے اپنے وقت کو صحیح طور پر استعمال نہ کیا، تو وہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو جائے گا۔
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾ (سورۃ المؤمنون )اور جو بے ہودہ باتوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔(لغو باتوں اور کاموں سے دوری ایمان کی علامت بتائی گئی ہے۔)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقت کی قدر و قیمت پر بہت زور دیا۔
ایک حدیث میں فرمایا: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ(بخاری) ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں: صحت اور فراغت۔یہ حدیث اس بات کی روشن دلیل ہے کہ وقت (فراغت) کو ضائع کرنا نقصان ہے، اور اسے فائدہ مند کاموں میں لگانا انسان کی کامیابی کا زینہ ہے۔ مسلمان کے لیے وقت صرف دنیاوی معاملات کو سنوارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ آخرت کی تیاری کا موقع بھی ہے۔وقت ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین وقت کے ایک ایک لمحے کی قیمت جانتے تھے اور اسے عبادت، علم، دعوت، اور خیر کے کاموں میں صرف کرتے تھے۔سورہ عصر میں زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کی۔تفسیر: اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر اس کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور انسان کو چار بنیادی کاموں (ایمان، اعمالِ صالحہ، حق کی تلقین، صبر) کی طرف متوجہ کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 508)
احادیث میں وقت کی قدر
(1)قیامت کے دن بندے سے عمر، جوانی، مال اور علم کے بارے میں سوال ہوگا۔ صحیح بخاری (حدیث 6412)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وقت کا صحیح استعمال آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔
2دو قدم بھی اللہ کی راہ میں نہ اٹھاؤ مگر یہ دیکھ کر کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے ہوں۔سنن الترمذی (حدیث نمبر 2304)
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ ہر لمحہ اللہ کی اطاعت میں گزارنا ضروری ہے۔
(3) نبی ﷺ نے فرمایا: اپنی پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو: جوانی کو بڑھاپے سے، صحت کو بیماری سے، مال کو مفلسی سے،
فرصت کو مصروفیت سے، اور زندگی کو موت سے۔(کتاب: صحیح ابن حبان، جلد 1، صفحہ 361)
وقت کی قدر شناسی اور ہمارے اسلاف
ہمارے اسلاف و بز ر گانِ دین کی تابناک سیرت اور پاکیزہ زندگی، اس سلسلہ میں بھی عمل کا داعیہ رکھنے والوں کے لیے بہترین اسوہ ہے کہ ان حضرات نے اپنی حیات ِ فانی کاسفر پوری ہوش مندی اور بیداری کے ساتھ مکمل فرمایا اور زندگی کے تمام مراحل میں وقت کے لمحات و او قات قدر دانی اور انضباط کے ساتھ گزارے ۔
چنانچہ امام محمد علیہ الرحمہ کے حالات میں لکھا ہے کہ دن رات کتابیں لکھتے رہتے تھے، ایک ہزارتک ان کی تعداد بیان کی جاتی ہے، اپنی تصنیف کے کمرہ میں کتابوں کے ڈھیر کے درمیان بیٹھے رہتے تھے، مشغولیت اس درجہ تھی کہ کھانے اور کپڑے کا بھی ہو ش نہ تھا ( انوار الباری ) حضرت مولانا عبد الحی فرنگی محلی کی جو مطالعہ گاہ تھی، اس کے تین در وازے تھے، ان کے والد نے تینوں در وازوں پر جو تے رکھوا ئے تھے؛ تاکہ اگر ضرورت کے لیے باہر جانا پڑے تو جو تے کے لیے ایک آدھا منٹ بھی ضائع نہ ہو شیخ جمال الدین قاسمی کے بارے میں لکھا ہے کہ شیخ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کی قدر فرماتے تھے، سفر میں ہوں یا حضر میں ،گھر میں ہوں یا مسجد میں مسلسل مطالعہ اور تالیف کا کام جاری رکھتے تھے ۔ ( اقوال سلف )
امام رازی کے نزدیک او قات کی اہمیت اس درجہ تھی کہ ان کو یہ افسوس ہو تا تھا کہ کھانے کا وقت کیوں علمی مشاغل سے خالی جاتا ہے؛ چنانچہ فرما یا کر تے تھے : وَاللہِ انّي أتَأسَّفُ فِي الْفَوَاتِ عَنِ الْاشْتِغَالِ بِالْعِلْمِ فِيْ وَقْتِ الْأکْلِ فَانَّ الْوَقْتَ وَالزَّمَانَ عَزِیْزٌ
ترجمہ: خدا کی قسم مجھ کو کھانے کے وقت علمی مشاغل کے چھو ٹ جانے پر افسوس ہو تا ہے؛ کیونکہ وقت متاعِ عزیز ہے ۔
وقت کی قدر دانی نے ان کو منطق و فلسفہ کا ایسا زبر دست امام بنا یا کہ دنیا نے ان کی امامت تسلیم کی حافظ ابن حجر عسقلانی وقت کے بڑے قدر دان تھے، ان کے او قات معمور رہتے تھے، کسی وقت خالی نہ بیٹھتے تھے، تین مشغلوں میں سے کسی نہ کسی میں ضرور مصروف رہتے تھے، مطالعہٴ کتب یا تصنیف و تالیف یا عبادت (بستان المحد ثین ) جب تصنیف و تالیف کے کام میں مشغول ہو تے اور درمیان میں قلم کا نو ک خراب ہو جاتا تو اس کو درست کر نے کے لیے ایک دو منٹ کا جو وقفہ رہتا اس کو بھی ضائع نہ کر تے ، ذکر الٰہی زبان پر جاری رہتا ، اور نوک درست فرماتے اور فرماتے وقت کا اتنا حصہ بھی ضائع نہیں ہو نا چاہیے
حضرت اقدس حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نہایت منتظم المزاج اور اصول و ضوابط کے پابند تھے ، وقت کے لمحات ضائع نہیں ہو نے دیتے تھے کھانے ،پینے، سونے ، جاگنے ، اٹھنے، بیٹھنے غرض یہ کہ ہر چیز کا ایک نظام الاوقات متعین تھا اور اس پر سختی سے عمل فرماتے تھے حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃاللہ علیہ آپ کی سوانح میں لکھتے ہیں : ” آپ کی ایک بہت ہی نمایا ں خصو صیت یہ ہے کہ وقت ضائع نہیں فرماتے، آپ کا انضباط او قات نہایت حیرت انگیز ہے یو ں معلوم ہو تاہے کہ ایک مشین ہے جو ہر وقت چل رہی ہے کسی وقت بیکار نہیں جو ایسا کثیر المشاغل ہو، اس کو بلا انضباطِ او قات چارہ نہیں اور انضباط او قات تب ہی ہو سکتا ہے ، جب اخلاق و مروت سے مغلوب نہ ہو اور ہر کام اپنے وقت اور مو قع پر کر لے، اوروں کو تو چھو ڑ یے،حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیو بندی جو آپ کے استاذ تھے، ایک بار مہمان ہو ئے آپ نے راحت کے سب ضروری انتظامات کر کے جب تصنیف کا وقت آیا توبا ادب عرض کیا کہ حضرت ! میں اس وقت کچھ لکھا کر تا ہوں، اگر اجازت ہو تو کچھ دیر لکھنے کے بعد حاضر ہو جاوٴں ، فرمایا ضرور لکھو ! میری وجہ سے اپنا حرج ہر گز نہ کرو، گو اس روز آپ کا دل لکھنے میں لگا نہیں؛ لیکن ناغہ نہ ہو نے دیا؛تاکہ بے بر کتی نہ ہو، تھو ڑا سا لکھ کر پھر حاضر خدمت ہو گئے۔ (اشرف السوانح ص/ ۳۰)
حضرت تھانوی خود فرما یا کر تے تھے : ” آج ہم لو گ وقت کی قدر نہیں جانتے؛ حالانکہ زندگی کی ہر ہر گھڑی، ہر ہر سیکنڈ اور منٹ اتنا قیمتی ہے کہ ساری دنیا بھی اس کی قیمت نہیں ہو سکتی ، مر تے وقت اس کی قدر معلو م ہو گی کہ ہائے ہم سے کتنا بڑا خزانہ فضول برباد ہو گیا، اس وقت آپ تمنا کریں گے کہ کاش ہم کو ایک دو منٹ کی اور مہلت مل جائے ، وقت آنے کے بعد نہ ایک منٹ ادھر ہو سکے گا نہ اُدھر ،غرض وقت بہت قابل قدر چیز ہے؛ لیکن لو گ اس کی قدر نہیں کر تے، فضول باتوں میں ضائع کر دیتے ہیں “۔
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ ایک برف فروش سے مجھ کو بہت عبرت ہوئی کہ وہ کہتا جا رہا تھا کہ اے لو گو! مجھ پر رحم کرو میرے پاس ایسا سر مایہ ہے کہ ہر لمحہ تھو ڑا تھو ڑا ختم ہو تا جا رہا ہے ، اس طرح کی ہماری بھی حالت ہے کہ ہر لمحہ برف کی طرح تھوڑی تھو ڑی عمر ختم ہو جاتی ہے، اس کے گھلنے سے پہلے جلدی بیچنے کی فکرکرو، فراغت کے وقت کو مشغولی سے پہلے غنیمت سمجھو زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو کام کر نا شروع کر دو(تحفۃ المدارس ص/ ۱۴۹ ج/ ۲) آخر عمر میں جب حضرت تھانوی ضعیف ہو گئے تھے ، بعض حضرات وعظ وغیرہ کم کر نے کا مشورہ دیتے کہ بات کر نے میں تعب ہو گا تو فر ما تے ” مگر میں سو چتا ہوں وہ لمحاتِ زندگی کس کام کے جو کسی کی خدمت اورنفع رسانی میں صرف نہ ہوں (مأثر حکیم الامت ص/ ۶۶)
حضرت مفتی محمود حسن گنگو ہی کے یہاں بھی حفاظتِ او قات کا بڑااہتمام تھا؛ حتی ٰ کہ کھانا کھا تے ہوئے بھی کتابیں پڑھا کر تے تھے، چو بیس گھنٹے کی زندگی مشین کی طرح متحر ک رہتی تھی، کوئی وقت بھی بیکار نہیں جاتا تھا شیخ الحدیث حضرت مولانا زکر یا صاحب ایک عر صہ سے صرف ایک وقت دو پہر کا کھانا کھاتے شام کو کھا نا تناول نہیں فرما تے ،کہتے کہ میری ایک مشفق ہمشیرہ تھی میں شام کو مطالعہ میں ہو تا تھا، وہ لقمہ میرے منہ میں دیا کر تی تھی، اس طرح مطالعہ کا حر ج نہ ہو تا تھا؛ لیکن جب سے ان کا انتقال ہو گیا اب کوئی میری اتنی ناز بر داری کر نے والا نہیں رہا، مجھے اپنی کتابوں کا نقصان گوارہ نہیں؛ اس لیے شام کاکھانا ہی تر ک کر دیا۔
حضرت جی مولانا محمد یو سف صاحب کے حالات میں لکھا ہے کہ بہت ہی کم عمر ی سے تعلیم کاشوق تھا، عام لڑکوں کی طرح وہ اپنے فرائض سے غافل نہیں رہتے تھے، نہ کھیل کو د میں اپنا وقت ضائع کر تے تھے، جب فقہ وحدیث کی تعلیم شروع کی تو اس مبارک علم میں پوری طرح مشغول ہو گئے، دن کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو تا جس میں خالی بیٹھتے اور کوئی کتاب ہاتھ میں نہ ہو تی، وہ کسی ایسے کا م کو پسند نہ کرتے تھے، جو تعلیم میں کسی طرح مخل ہو ۔ ( اسلاف کی طالب علمانہ زندگی ص/ ۷۵)
حضرت بڑو تی علیہ الرحمہ کو مرض الوفات میں حکیم صاحب نے آرام کے لیے کہا تو فرمایا: ”میں بالکل خالی پڑا رہوں، کچھ بھی نہ کرو ں یہ تو میرے ذوق سے ہٹ کر ہے، کچھ نہ کچھ کام ہوتا رہے، اسی میں مجھے آرام ملتا ہے ، میرا آرام تواسی میں ہے کہ میرا ایک منٹ بھی خالی نہ گزرے، میرا ایک ایک منٹ امت کی فکر میں صرف ہو، خالی نہ جائے، اس سے مجھے آرام ملے گا ، قیامت میں وقت کے بارے میں سوال کر لیا گیا تو کیا جواب دیں گے ۔ پھر فرمایا یہ دنیا ہی تر قی کا باعث ہے، یہاں رہتے ہوئے آدمی بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے، دنیا سے چلے جانے کے بعد وہ ذرہ برابر بھی تر قی نہیں کر سکتا (تذکرئہ مہر بان ص/ ۱۱۲)(مضمون دار العلوم دیوبند میرزاہد مکھیالوی)
کیا dream 11 کھیلنا جائز ہے؟
سوال:بعدہ عرض اسطرح ہے کہ آج کل انڈیا میں ایک ایپلیکیشن (dream 11) کے نام سے آئی ہے جسمیں انسان کو ایک ٹیم منتخب کرنی پڑھتی ہے . جیسے کہ آج میچ ہو رہا ہو football یا cricket کا تو اس ایپلیکیشن میں ہمیں چند روپیہ 50. …یا 40 لگاکر اپنی جانب سے کھیلاڈی منتخب کرنے پڑھتے ہے اور پھر اگر ہمارے کھیلاڈی اچھا کھیل لیتے ہے یا ہم پہلے نمبر پر اتے ہے تو ہمیں انعام کے طور ایک لاکھ یا ایک کروڑ ملتا ہے یا اور کچھ رقم. تو کیا یہ انعام لینا جائز ہے .اور ہاں اس میں لازمی طور پر کچھ رقم لگانی پڑھتی ہے ہر میچ کے لے . اگر یہ کھیل جائز نہیں ہے لیکن اب کسی کو یہ پیسے مل گئے ہے جیت کر کیا انکا استعمال وہ خود کے لے کرسکتا ہے . اگر نہیں تو پھر وہ یہ رقم کہاں خرچ کرے ؟
جواب نمبر بسم الله الرحمن الرحیم
مذکورہ بالا صورت قمار (جوا) کی شکل ہے ؛اس لیے رقم دے کر اس کھیل میں شامل ہونا اور انعام حاصل کرنا جائز نہیں ۔اگر اس طرح سے رقم حاصل کرلی گئی ہو تو اس کو بلانیتِ ثواب فقراء مساکین پر صدقہ کردیا جائے ۔یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون (المائدة:90) لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ اہ(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 6/ 385)
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند
(IPL (Indian Premier Leagu
ایک کرکٹ ٹورنامنٹ ہے جو تفریح کے نام پر گھنٹوں وقت مانگتا ہے۔ اس کا شرعی حکم درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہے۔
کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہوگا۔
(1) وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائزبات نہ ہو۔
(2) اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔
(3) کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، مثلاً جوا وغیرہ۔
(4) کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔
(5) وہ کھیل تصاویر اور ویڈیوز سے پاک ہو۔
وقت کا ضیاع
IPL میچز دیکھنے میں گھنٹوں صرف ہوتے ہیں، جو نہ جسمانی فائدہ دیتے ہیں نہ دینی۔ یہ لغو میں شامل ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: فإذا فرغت فانصب (سورہ الشرح، آیت 7) یعنی جب فارغ ہو تو (عبادت میں) محنت کر۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالی وقت کو عبادت یا مفید کام میں لگانا چاہیے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 557)-
نشہ اور غفلت:فقہاء نے کرکٹ جیسے طویل کھیلوں کو مکروہ قرار دیا کیونکہ یہ غفلت کا باعث بنتے ہیں۔ (رد المحتار، جلد 6، صفحہ 402)- عملی نقصان
طلبہ اپنی تعلیم، ملازمت پیشہ افراد اپنے کام، اور عام لوگ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوجاتے ہیں، جو شرعاً ناجائز ہے۔
حاصل یہ ہے کہ اگر کسی گیم میں مذکورہ خرابیاں پائی جائیں، یعنی اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلاً: جان دار کی تصاویر، موسیقی اور جوا وغیرہ ہوں، یا مشغول ہوکر شرعی فرائض اور واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اسے محض لہو لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو تو خود اس طرح کا گیم کا کھیلنا بھی جائز نہیں ہوگا اور اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو بھی موبائل پر گیم کھیلنے میں نہ جسمانی ورزش ہے، نہ دینی یا بامقصد دنیوی فائدہ ہے، بلکہ وقت اور بعض اوقات پیسے کا ضیاع ہے؛ اسلیے بہرصورت اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
وقت ضائع کرنے والی چیزوں سے بچنے کے اسلامی طریقے
(1)نیت کی اصلاح اور خود احتسابی
حدیث:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔(صحیح البخاری، حدیث 1) ہر کام شروع کرنے سے پہلے نیت کو اللہ کی رضا کے لیے خالص کرنا۔ روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا کہ کہیں وقت ضائع تو نہیں ہو رہا۔
(2)مقاصد طے کرنا اور شیڈول بنانا
قرآن میں ہے اور جو لوگ اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کا خوف رکھتے ہیں اور نفس کو بُری خواہشات سے روکتے ہیں، ان کا ٹھکانا جنت ہے۔وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی۔فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾ (سورۃ النازعات)
دن کے اہداف طے کریں (مثلاً: قرآن پڑھنا، علم سیکھنا، نیک کام کرنا)۔ اکابرِ اُمت کی طرح وقت کو حصوں میں تقسیم کریں (عبادات، تعلیم، معاشرتی خدمات)۔
(3)لغو باتوں اور فضول مشغولیات سے پرہیز
قرآن میں ہے وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾ اور جو بے ہودہ باتوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں ۔فضول گپ شپ، ڈرامے، فلمیں، اور سوشل میڈیا کا بے تحاشہ استعمال ترک کریں۔
حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان کا اپنے بھائی کو حقیر سمجھنا بھی گناہ ہے۔(صحیح مسلم، حدیث 2564)
(4) علمِ دین اور ذکرِ الٰہی میں مشغولیت
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔(سورۃ الرعد: 28) – قرآن کی روزانہ تلاوت اور تفسیر پڑھنا۔ اذکار (سبحان اللہ، الحمدللہ، استغفار) کو معمول بنانا۔ علماء کی مجالس اور دینی کتب کا مطالعہ کرنا۔
(5) نمازوں کی پابندی اور نوافل
قرآن کریم میں ہے کہ نماز قائم کرو، یہ مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض ہے۔(سورۃ النساء: 103) فرض نمازوں کو اول وقت ادا کرنا۔ نوافل (تہجد، اشراق، چاشت) پڑھنا تاکہ وقت برکت سے بھر جائے۔
(6) دوسروں کی خدمت اور معاشرتی ذمہ داریا
حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث 6021) غریبوں کی مدد، بیماروں کی عیادت، اور علم سکھانے میں وقت گزارنا۔
(7) شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ
قرآن میں ہے کہ شیطان تمہیں مفلسی کا ڈرائے اور بے حیائی کا حکم دے، اللہ تمہیں اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ دیتا ہے۔ (سورۃ البقرہ: 268)
عملی تدبیر بے مقصد کھیلوں (جیسے ویڈیو گیمز، جوئے والے کھیل) سے دور رہنا۔ گناہ کی طرف لے جانے والی جگہوں اور لوگوں سے اجتناب۔
(8) اکابرِ اُمت کی پیروی
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ وقت زندگی کا سرمایہ ہے، اسے ضائع کرنے والا درحقیقت اپنی ہی جان کا دشمن ہے۔(مفتاح دار السعادۃ، جلد 2، صفحہ 214)
(9) علماء کی سیرت پڑھیں (جیسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی علمی محنت، امام مالک رحمہ اللہ کی عبادت)۔دعا اور اللہ سے مدد طلب کرناقرآن میں ہے اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کروں۔(سورۃ الاحقاف: 15)
(10)عملی اقدامات
عملی اقدامات کی فہرست 1. صبح جلدی اٹھیں ،فجر کی نماز کے بعد ذکر و اذکار۔ 2. وقت کا چارٹ بنائیں:ہر گھنٹے کا ریکارڈ رکھیں۔ 3. مفید دوست بنائیں ،جو وقت کی قدر کرتے ہوں۔ (4)موبائل کے استعمال کو محدود کریں۔
آخر میں یہی بات کہی جا ئیگی کہ وقت وہ قیمتی متاع ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتی۔کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو وقت کی قدر کرتا ہے، ہر لمحہ کو مفید بناتا ہے، اور وقت کو اپنے مقاصد کے مطابق استعمال کرتا ہے۔
لہٰذا آیئے! ہم سب وقت کی قدر پہچانیں، اس کی حفاظت کریں، اور اپنی زندگی کو مفید، با مقصد اور نتیجہ خیز بنائیں،کیونکہ وقت کی قیمت وہی جانتا ہے جس کے پاس وقت نہیں بچتا،اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کو قیمتی سرمایہ سمجھنے، اس کا صحیح استعمال کرنے اور آخرت کے لیے تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Thanks
Like this:
Like Loading...