Skip to content
فیس بک
ایک جدید سماجی انقلاب یا اخلاقی زوال؟
═══•○ ا۩۩ا ○•═══
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو "اشرف المخلوقات” بنایا اور اسے عقل و شعور کی دولت عطاء کی، تاکہ وہ اپنی زندگی کو حقیقت اور سچائی کے اصولوں پر گزارے۔ اسلام ہمیں اجتماعیت، اخوت، اور سچائی کی تلقین کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
(اور سب مل کر اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔) [سورہ آلِ عمران: 103]۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی، جو ہمارے درمیان قربتیں پیدا کرنے کے لیے بنی تھی، اسی نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ہمیں ایک مصنوعی دنیا میں قید کر دیا ہے، جہاں رشتے بھی دکھاوے کے، محبتیں بھی وقتی، اور تعلقات بھی محض ایک "لائک” اور "کمنٹ” تک محدود ہو چکے ہیں۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "مومن مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو مضبوط کرتا ہے” (صحیح بخاری، حدیث: 2446)۔ لیکن کیا آج ہم واقعی ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں؟ یا ہم اس ڈیجیٹل سراب میں گم ہو چکے ہیں، جہاں حقیقی رشتے نظر انداز ہو رہے ہیں، اور مجازی دنیا ہماری زندگی کا مرکز بنتی جا رہی ہے؟ یہ وقت ہے کہ ہم قرآن و سنّت کی روشنی میں اپنی زندگیوں پر غور کریں، اور اس فتنے سے خود کو اور اپنے معاشرے کو بچائیں۔ کیونکہ اصل کامیابی وہی ہے جو اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہو، نہ کہ وہ جو "فیس بکی دنیا” میں مقبولیت اور شہرت کے چند لمحوں میں قید ہو۔
فیس بک، جو محض ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر متعارف ہوا تھا، آج ایک ایسا سماجی آئینہ بن چکا ہے جس میں زمانے کے ہر رنگ کی جھلک نمایاں ہے۔ اس کا خالق، مارک زکربرگ، ایک نوجوان خواب دیکھنے والا تھا، جس نے نہ صرف اپنی ذہانت سے ایک نئی دنیا تخلیق کی، بلکہ خود کو دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں بھی شامل کروا لیا۔ فیس بک نے روابط کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا ہے کہ فاصلے مٹ گئے، دیواریں گر گئیں، اور برسوں سے بچھڑے لوگ پھر سے ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔
کہاں وہ وقت تھا کہ کوئی عزیز جدائی کی دھند میں کھو جاتا تو زندگی بھر اس کے نشان ڈھونڈنا محال ہو جاتا، اور کہاں آج کا دور کہ محض ایک کلک پر بچھڑے ہوئے رشتے پھر سے جڑنے لگے۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی ایک ایسی داستان سامنے آئی کہ ایک خاتون جو ساٹھ برس قبل اپنے خاندان سے جدا ہو گئی تھی، فیس بک کے ذریعے انہیں دوبارہ پا سکی۔ یہ محض ایک قصہ نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی وہ کرامت ہے جس نے آنسوؤں کو خوشیوں میں اور فراق کو وصال میں بدل دیا۔
لیکن فیس بک محض جذباتی کہانیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ علم و دانش کا ایک وسیع میدان بھی ہے۔ یہاں بے شمار معلوماتی گروپس موجود ہیں جو ہر لمحہ نئی تحقیق، تازہ خبروں اور مفید مشوروں سے آراستہ ہوتے ہیں۔ دنیا کی نامور شخصیات، ماہرین اور مفکرین اپنی آراء کا تبادلہ کرتے ہیں، اور یوں ایک ایسا علمی و فکری ماحول جنم لیتا ہے جو عام ذرائع ابلاغ میں کم کم دکھائی دیتا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کی محدود اور یک طرفہ خبر رسانی کے برعکس، فیس بک ایک ایسا آزاد منبر ہے جہاں ہر نقطۂ نظر کو جگہ ملتی ہے، اور جہاں وہ باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں جو روایتی میڈیا پردۂ اخفا میں رکھنے کا عادی ہوتا ہے۔
مگر ہر سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں، اور جہاں فیس بک نے مثبت اثرات مرتب کیے ہیں، وہیں اس کے سائے میں کئی تاریک گوشے بھی پروان چڑھے ہیں۔ اس جدید عہد میں جہاں ہر شخص کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا، وہیں بدقسمتی سے یہ آزادی بعض ہاتھوں میں ایک ایسا ہتھیار بن گئی جس سے دوسروں کی عزّت و وقار پر حملے ہونے لگے۔ فیس بک پر جعلی اکاؤنٹس کی بھرمار ہے۔ لوگ اپنی اصل شناخت کو چھپاتے ہوئے "بلورانی” کے نقاب میں "بلا بندری” بن جاتے ہیں۔ انہیں نہ کسی اخلاقی حد کا خیال ہوتا ہے، نہ کسی معاشرتی قدر کی پرواہ۔ وہ بے دھڑک جسے چاہتے ہیں نشانہ بناتے ہیں، اور دوسروں کی عزّت کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایک معیاری، دانشورانہ پوسٹ پر بھی ایسے شرمناک تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسان کی روح تک کانپ اٹھتی ہے۔
لیکن معاملہ صرف اخلاقی زوال تک محدود نہیں۔ یہاں ایک اور سنگین مسئلہ بھی جنم لے چکا ہے—بے جا ملامت اور کردار کشی۔ فیس بک پر بعض افراد نے ایک نیا فریضہ سنبھال لیا ہے: دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا، بے بنیاد الزامات لگانا، اور اپنی فرسٹریشن کا بوجھ کسی اور کی عزّت پر ڈال دینا۔ ایک لمحے میں جھوٹے الزامات کا طوفان برپا ہوتا ہے، اور اگلے ہی لمحے سچائی کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو فیس بک کو ایک زہر آلود ماحول میں بدل دیتا ہے، جہاں الفاظ خنجر بن جاتے ہیں، اور رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ وہی پلیٹ فارم جو محبتیں بانٹنے اور علم پھیلانے کے لیے تھا، بعض لوگوں کے ہاتھوں ایک ایسی جنگ کا میدان بن گیا ہے جہاں عزّتوں کی نیلامی ہوتی ہے، اور جہاں بے لگام الفاظ، بارود سے زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں۔
فیس بک، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہماری اجتماعی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ اگر ہم اسے ایک مثبت ذریعہ بنائیں تو یہ علم، محبت، اور رابطے کا بہترین وسیلہ ثابت ہو سکتا ہے، مگر اگر ہم اسے نفرت، بغض، اور الزام تراشی کا میدان بنا دیں، تو یہ ایک ایسا جنگل بن جائے گا جہاں ہر شخص دوسرے کی عزّت کا شکاری ہوگا۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کے مثبت استعمال کی طرف توجہ دیں، جعلی شناختوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے اپنی حقیقی پہچان کے ساتھ علم و اخلاق کے چراغ جلائیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ ٹیکنالوجی، جس نے ہمیں قریب لایا تھا، ہمیں مزید تقسیم کر دے گی۔
فیس بک اور لائیکس کا جنون: ایک جدید نشہ
یہ زمانہ وہ ہے جہاں انسانی جذبات کا ترازو اب لفظوں یا حقیقی تعلقات سے نہیں، بلکہ اسکرین پر چمکتے لائیکس، کمنٹس اور شیئرز سے تولا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ لوگ داد و تحسین کے لیے کسی اعلیٰ محفل یا کسی معتبر مجلس کا رخ کرتے تھے، مگر اب یہ معیار ایک نیلی اسکرین پر سکڑ کر رہ گیا ہے۔ فیس بک کی دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں اس "ڈیجیٹل دولت” کے تعاقب میں ہے—یہاں نہ زمین خریدنی پڑتی ہے، نہ دکان سجانی پڑتی ہے، مگر مقابلہ ایسا کہ گویا ایک بازار سجا ہو اور ہر کوئی اپنی "پوسٹ” کو سب سے زیادہ منافع بخش ثابت کرنے میں لگا ہو۔
یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کی لت ایک بار لگ جائے تو چھٹکارا پانا ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہو جاتا ہے۔ معاملہ صرف ایک عام دلچسپی تک محدود نہیں، بلکہ جنون کی سرحدیں پار کر چکا ہے۔ ہر فیس بک صارف کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اس کی پوسٹ پر لائیکس کی بارش ہو، کمنٹس کے دریا بہنے لگیں، اور تبصرے بھی ایسے ہوں جو اس کی توقعات کے عین مطابق ہوں۔ وہ ہر چند لمحے بعد اپنی پوسٹ کا حال دیکھتا ہے، جیسے کوئی دکاندار دن کے آخر میں اپنی کمائی گن رہا ہو۔ اگر لائیکس کی گنتی میں اضافہ نہ ہو، تو وہی احساس جاگ اٹھتا ہے جو کسی سیلز مین کو مندی کے دنوں میں ہوتا ہے—دل بجھ سا جاتا ہے، ایک عجیب خالی پن محسوس ہوتا ہے، اور بے قراری بڑھنے لگتی ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ اکثر لوگ دوسروں کے مسائل پر مبنی پوسٹس تو خود اپلوڈ کر دیتے ہیں، مگر اگر وہی پوسٹ کسی اور نے پہلے کر دی ہو، تو نہ اسے شیئر کرتے ہیں، نہ تعریف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس رویے کی جڑ کہاں ہے؟ یہی کہ "کاش یہ پوسٹ میں نے کی ہوتی، اور یہ لائیکس اور کمنٹس میرے حصے میں آتے!”۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے فیس بک کو ایک ایسا کاروباری میدان بنا دیا ہے جہاں جذبات کی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل داد و تحسین کی بولی لگتی ہے۔ ہر کوئی اپنی ریٹنگ کو بڑھانے کے لیے بے تاب ہے، ہر کوئی سب سے پہلے اپ لوڈ کرنے کے خبط میں مبتلا ہے، اور اس جلد بازی میں اکثر حقائق کی تصدیق کیے بغیر بے بنیاد معلومات کا طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یوں ایک "ڈیجیٹل کنفیوژن” پیدا ہوتی ہے، جس میں سچ جھوٹ میں گڈمڈ ہو جاتا ہے، اور حقیقت افواہوں کے دھند میں گم ہو جاتی ہے۔
یہ کھیل بے ضرر نہیں، کیونکہ اس دوڑ میں نہ صرف سچائی کی قربانی دی جا رہی ہے، بلکہ حقیقی انسانی تعلقات بھی مجازی دنیا کی دھند میں کھو رہے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے—کیا واقعی ہماری خوشی اور ہماری پہچان صرف چند ڈیجیٹل "لائیکس” اور "کمنٹس” میں قید ہو کر رہ گئی ہے؟ یا پھر ہمیں اپنے حقیقی رشتوں، سچائی اور مثبت رویے کو اپنانے کا وقت آ چکا ہے؟
فیس بک کے مبلغین اور حقیقت کی دنیا
یہ کیسی عجب دنیا ہے جہاں الفاظ کے موتی تو صفحۂ اسکرین پر بکھرے نظر آتے ہیں، مگر حقیقت کی زمین پر وہی الفاظ بکھرتے ہی نہیں، بلکہ قدموں تلے روندے جاتے ہیں۔ فیس بک کی اس نیلی دنیا میں ہر کوئی عالم، فقیہ، مفکر اور دانشور بنا نظر آتا ہے۔ اقوالِ زریں ہوں یا احادیثِ مبارکہ، حکمت کے موتی ہوں یا نصیحت کے چراغ—یہ سب کچھ بڑی نفاست سے فیس بک کی دیوار پر سجا دیا جاتا ہے، جیسے کوئی کتبہ ہو جو گزرتے ہر راہگیر کو متوجہ کرے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ سنہری الفاظ، یہ نیک نصیحتیں، یہ تقویٰ سے لبریز جملے صرف اس ورچوئل دیوار تک ہی محدود رہتے ہیں۔
حقیقت کی دنیا میں وہی شخص جو فیس بک پر دوسروں کو حسنِ اخلاق کا درس دیتا ہے، عملی زندگی میں تلخی، خود غرضی اور بے مروتی کا پتلا بنا نظر آتا ہے۔ جو شخص اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر "خوش اخلاقی، برداشت اور صبر” کی تلقین کرتے نہیں تھکتا، وہ عام زندگی میں ایسا کھردرا، ایسا سخت گیر اور ایسا بے مروت ہوتا ہے کہ دل چاہتا ہے اس سے پوچھا جائے: "بھائی صاحب! آپ وہی فیس بک والے دانشور ہیں نا؟”۔ یہ تضاد صرف ان لوگوں تک محدود نہیں جو علمی یا فکری محاذ پر فیس بک کے سپہ سالار بنے پھرتے ہیں، بلکہ یہ وبا اب ہر سطح تک پھیل چکی ہے۔ وہ لوگ بھی، جو کبھی اسکول کی چوکھٹ تک نہیں پہنچے، وہ بھی فیس بک کے سحر میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ شاید انہیں کتاب کا لمس نصیب نہ ہوا ہو، شاید قلم ان کے ہاتھ میں کبھی نہ آیا ہو، مگر فیس بک کے منبر پر وہ بھی گویا واعظ بن کر بیٹھ چکے ہیں۔ ایک بار کسی سے اکاؤنٹ بنوالیا، پھر کیا تھا—”دمادم مست قلندر!” نہ کوئی تحقیق، نہ کوئی فہم و ادراک، بس جو دل میں آیا، بغیر سوچے سمجھے پوسٹ کر دیا۔
یہ منظر نامہ آج کی ڈیجیٹل دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جہاں علم کا معیار محض "شیئر” اور "لائیک” کی گنتی بن چکا ہے، جہاں حکمت کا مطلب "وائرل ہونے والی پوسٹ” سے زیادہ کچھ نہیں، اور جہاں دانشوری کی سند کسی مستند ادارے سے نہیں، بلکہ چند "کاپی پیسٹ” شدہ جملوں سے حاصل ہو رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے—کیا واقعی دانشمندی کا مطلب صرف اچھی باتیں پوسٹ کرنا ہے؟ کیا نیکی صرف اس وقت شمار ہوگی جب وہ کسی اسکرین پر نظر آئے؟ یا پھر اصل کمال یہ ہے کہ ہم وہی اچھے اصول اپنی حقیقی زندگی میں بھی اپنائیں، جو ہم دوسروں کو سکھانے کے لیے فیس بک پر بڑے فخر سے شیئر کرتے ہیں؟
فیس بک یا فیک بک؟—نام نہاد دانشوروں کی دنیا
یہ کیسی نرالی دنیا ہے، جہاں ہر کوئی خودساختہ مفکر و دانشور ہے، ہر شخص بین الاقوامی امور کا ماہر، اور ہر صارف ملکی سیاست کا نبض شناس۔ فیس بک پر قلم اٹھانے کی آزادی نے علم کے متوالوں کو ایک طرف رکھا، اور نری جذباتی لفاظی کو پروان چڑھایا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ جو چاہے، جب چاہے، جو من میں آئے، بغیر کسی تحقیق کے پوسٹ کر دیتا ہے، اور پھر اپنے خیالات کو عقلِ کل سمجھ کر اس پر ڈٹ بھی جاتا ہے۔
آپ کسی بھی سنجیدہ موضوع پر گفتگو کریں، کوئی نہ کوئی ایسا "عظیم مفکر” ضرور ملے گا جو بغیر کسی مطالعے کے، بغیر کسی تجربے کے، بغیر کسی دلیل کے، ایک ایسا تبصرہ کرے گا کہ اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے والا بھی اپنا سر پکڑ لے۔ بین الاقوامی معاملات پر ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ جیسے یہ لوگ اقوامِ متحدہ کے خفیہ اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے ہوں، اور ملکی سیاست پر ایسے تبصرے ہوتے ہیں کہ جیسے یہ کسی پسِ پردہ سازش کے اصل کرداروں سے براہِ راست واقف ہوں۔
الغرض، فیس بک اب صرف ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ ایک "فیک بک” میں بدل چکا ہے—جہاں جذبات بھی مصنوعی ہیں، تعلقات بھی وقتی ہیں، بحثیں بھی سطحی ہیں، اور تجزیے بھی بے بنیاد۔ یہاں پر نہ صرف جھوٹی خبریں برق رفتاری سے پھیلتی ہیں، بلکہ جھوٹے جذبے بھی عام ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی پوسٹس پر بناوٹی محبت اور عزّت کے پھول نچھاور کرتے ہیں، لیکن حقیقت کی دنیا میں ملنے پر سلام تک کا تکلف نہیں کرتے۔
یہی وہ صورتحال ہے جس نے بہت سے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہو سکتا جہاں سچائی کا بول بالا ہو؟ جہاں اخلاقی اقدار کی پاسداری ہو؟ جہاں وقت صرف ضائع نہ ہو بلکہ مثبت سمت میں استعمال ہو؟ اس سوچ کے نتیجے میں "انکم آن” جیسی ویب سائٹس سامنے آئیں، جو نہ صرف ایک سماجی پلیٹ فارم کا متبادل فراہم کرتی ہیں بلکہ صارفین کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔
انکم آن کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ ویب سائٹ وقت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فیس بک کے نشے میں گرفتار لوگ ابھی اس کی طرف متوجہ ہونے کے لیے تیار نہیں۔ کیونکہ جہاں فیس بک ایک "چکاچوند بھری تفریح گاہ” ہے، وہیں انکم آن جیسے پلیٹ فارمز "سنجیدہ ذہنوں” کے لیے ایک عملی میدان ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ فیس بک کو کسی اور ویب سائٹ سے فوراً شکست نہیں دی جا سکتی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ جب اس کے نقصانات کو پوری طرح سمجھیں گے، تو شاید وہ کسی ایسے متبادل کی طرف متوجہ ہوں جہاں حقیقی رشتے، حقیقی گفتگو اور حقیقی سچائی کو ترجیح دی جاتی ہو، اور جہاں محض "لائکس” اور "شیئرز” کی دوڑ نہیں، بلکہ علم اور شعور کی بالادستی ہو۔
فیس بک کی تنہائی—رشتوں کی شکست و ریخت
یہ کیسی عجب دنیا بستی ہے فیس بک کے جہان میں، جہاں ہر کوئی اپنے "ورچوئل محل” میں قید ہے، مگر حقیقت کی دنیا میں تنہا۔ وہ ہاتھ جو کسی وقت محبت سے اپنوں کے کندھے تھپکتے تھے، اب موبائل کی اسکرین پر اس تیزی سے چلتے ہیں کہ حقیقی لمس کو بھول ہی چکے ہیں۔ جو آنکھیں کبھی اپنوں کی مسکراہٹ سے روشن ہوتی تھیں، اب وہ کسی "لائک” کے دیے سے جلنے لگی ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کہتی ہے کہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے انسان کو شدید تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔ حقیقت میں جو ہمارے سب سے قریب ہونا چاہیے تھے، وہ سب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین، بہن بھائی، دوست احباب—سب زندگی کے پس منظر میں دھندلا رہے ہیں، اور سامنے صرف وہی "دوستی” رہ گئی ہے جو فیس بک کی اسکرین پر جگمگاتی ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا، "پانچ ہزار فیس بک فرینڈز اور پندرہ واٹس ایپ گروپس رکھنے والا شخص جب ایک حادثے کے بعد اسپتال میں آنکھ کھولتا ہے، تو وہاں بس اس کے والدین اور بہن بھائی ہی کھڑے ہوتے ہیں۔” اور فیس بک کے یہی "فرینڈز”، جو اس کے ہر اسٹیٹس پر کمنٹس کی برسات کرتے تھے، بس ایک رسمی سی پوسٹ ڈال کر دعاؤں کی اپیل کریں گے، صرف اس نیت سے کہ ان کی یہ پوسٹ وائرل ہو اور زیادہ سے زیادہ لائکس اور کمنٹس ملیں۔ یہ وہ سچ ہے جسے ماننے کو کوئی تیار نہیں، مگر اس کی تلخی ہر روز کسی نہ کسی تنہا دل کو محسوس ہوتی ہے۔
ہماری زندگی ایک سراب بنتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا سراب جہاں ہمیں لگتا ہے کہ ہم ہزاروں دوستوں میں گھرے ہیں، لیکن درحقیقت ہم تنہائی کی بے کراں وادی میں کھڑے ہیں۔ وہ رشتے جو ہمارے حقیقی سہارا تھے، آج ہم نے انہیں ایک اسکرین کے پیچھے دھکیل دیا ہے، اور مصنوعی دنیا کے ان دیکھے چہروں کو گلے لگا لیا ہے۔
خدارا! اس "فیک بک” کی مصنوعی دنیا سے نکلیے۔ اس فریب سے باہر آئیے جہاں جذبات بھی دکھاوے کے، تعلقات بھی وقتی، اور ہمدردی بھی صرف اس وقت تک جب تک کوئی پوسٹ وائرل ہونے کا امکان رہے۔ اپنی حقیقی زندگی میں لوٹیے، ان رشتوں کی طرف واپس جائیے جو ہر دکھ میں، ہر مصیبت میں، ہر لمحے آپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ کیونکہ یاد رکھیں، جب زندگی کے اصل امتحان کا وقت آتا ہے، تو فیس بک کی دوستی نہیں، بلکہ وہی ہاتھ آپ کو سنبھالتے ہیں جو آپ کے اپنوں کے ہوتے ہیں۔
فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی یہ دنیا ہمیں بظاہر قریب لے آئی ہے، مگر حقیقت میں ہمیں ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔ ہم نے اپنی حقیقی زندگی، اپنے اصل رشتے، اور اپنے دین کی حقیقی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر اس عارضی اور فریب زدہ دنیا میں پناہ لے لی ہے۔
اسلام ہمیں اخلاص، سچائی، اور حقیقی تعلقات کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ” (التوبہ: 119)۔
یہی وہ نصیحت ہے جو ہمیں سوشل میڈیا کے اس دھوکے سے نکالنے کے لیے کافی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی آن لائن سرگرمیوں کو بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں، فیس بک یا کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو جھوٹ، بہتان، اور غیبت کا اڈہ نہ بنائیں، بلکہ اسے خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنائیں۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔” (بخاری، مسلم)۔ یہ اصول ہمیں فیس بک کے استعمال میں بھی اپنانا چاہیے—کسی کی عزّت پر حملہ نہ کریں، کسی کی تضحیک نہ کریں، اور حق بات ہی پھیلائیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ڈیجیٹل انقلاب کو صرف تفریح اور بے مقصد بحث مباحثے کے لیے نہ استعمال کریں، بلکہ اسے نیکی، علم اور مثبت پیغام رسانی کا ذریعہ بنائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن ہماری ہر پوسٹ، ہر تبصرہ، اور ہر لائک کے بارے میں سوال ہوگا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہدایت عطاء فرمائے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اسلام کی روشنی کو شامل کریں، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال بھی نیکی، سچائی اور اصلاح کے لیے کریں، اور حقیقی زندگی کے رشتوں کی قدر کرتے ہوئے سچائی اور خلوص کی راہ پر گامزن ہوں۔ اللّٰہ ہمیں حقیقی رشتوں اور سچائی کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ اللّٰہ ہمیں ہدایت دے اور ہمیں وہ سوشل میڈیا صارف بنائے جو دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ ہو، نہ کہ فتنہ اور فساد کا۔ اللّٰہ ہمیں سچ اور حقیقت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین)
(29.04.2025)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...