Skip to content
ماہ ذی قعدہ فضیلت و اہمیت
از قلم مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآبادی
استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد
اسلامی سال کا آغاز ماہ محرم الحرام سے ہوتاہے اور ماہ ذی الحجہ پر ختم ہوتا ہے اس حساب سے ماہ ذی قعدہ اسلامی سال کا گیارہواں مہینہ کہلاتا ہے یہ مہینہ بھی گوناگوں خصوصیت اور فضیلت کا حامل ہے اس مہینے کی عظمت و فضیلت اس بات سے عیاں ہوجاتی ہے کہ اس مہینہ میں حج جیسی عظیم الشان عبادت جو اسلام کا اہم ترین رکن بھی ہے اداکرنے کےلئے حجاجِ کرام کے قافلے دنیا بھر سےحرمین شریفین کی طرف رخت سفر باندھ تے ہیں اوروہاں پہنچ کر حرمین شریفین کی حاضری اور زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں
ماہ ذی قعدہ کا شمار ان چار حرمت وعظمت والے مہینوں میں ہوتا ہے جن کی عظمت وحرمت اسلام سے پہلے سے چلتی ہوئ آرہی ہے جن کے تعلق سے قرآن مجید کے اندر ارشاد باری تعالٰی ہے
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ( سورہ توبہ)
ترجمہ:
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اور تم سب مل کر مشرکوں سے اسی طرح لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔
( آسان ترجمۂ قرآن)
مفسرین اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آگیا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ تین مہینے تو پہ درپہ ہیں یعنی ذیقعدہ، ذی الحجۃ ، محرم اور چوتھا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں آتا ہے
اس تفسیر کی روشنی میں ماہ ذی قعدہ اشہر حرم (چار عظمت والے مہینوں میں ) پہلا مقام رکھتا ہے
ماہ ذی قعدہ کی فضیلت اس طرح بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اس کو حج کی تیاری کا مہینہ کہا گیا ارشاد باری تعالٰی ہے اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ(سورہ بقرہ)
ترجمہ:
حج کے چند متعین مہینے ہیں جو مشہور ہیں ایک شوال دوسرا ذی قعدہ اور تیسراذی الحجہ کی دس تاریخیں۔( معارف القرآن)
اس تفسیر کی روشنی میں ماہ ذی قعدہ حج کا درمیانی مہینہ کہلاتا ہے اور دنیا بھر میں حجاج کرام کے اکثر قافلے اسی ماہ میں روانہ ہوتے ہیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں کل چار عمرے کیے ہیں، اور یہ تمام کے تمام ذی قعدہ کے مہینے میں کیے، سوائے اس عمرہ کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا
امام نووی رحمہ اللہ کی صحیح مسلم میں موجود صراحت کے مطابق رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں کل چار عمرے کئےان میں سے ایک عمرہ حدیبیہ کے سال 6 ہجری کو ذی القعدہ میں کیا ، اور دوسرا 7 ہجری کو ذی القعدہ میں کیا ، اور یہ قضا عمرہ تھا۔ اور تیسرا عمرہ 8 ہجری کو ذی القعدہ میں اداکیا ، یہ عام الفتح یعنی فتحِ مکہ کا سال تھا، اور چوتھا عمرہ آپ ﷺ نے اپنے حج کے ساتھ ادا کیا تھا ، اس کا احرام بھی ذی القعدہ میں ہی باندہ تھا لیکن اسے ذی الحجہ کے مہینے میں ادا کیا ، جس کی تصدیق
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کُل چار عمرے کیے، ایک عمرۂ حدیبیہ ، دسورا عمرۂ قضا ، تیسراعمرۂ جعرانہ اور چوتھا عمرہ حجۃ الوداع کے ساتھ۔ (ابوداود)
عمرہ کے لیے اس مہینے کو منتخب کرنے کی وجہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ ذوالقعدہ میں یہ عمرے اس لیے ادا فرمائے تاکہ لوگ اس مہینے کی عظمت وفضیلت سے واقف ہو جائیں اور اہلِ جاہلیت کی مخالفت بھی ہو کیونکہ وہ اس مہینے میں عمرہ کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے تھے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پے در پے اس مہینے میں عمرے ادا فرمائے تاکہ لوگ اس کے جواز کو اچھی طرح سمجھ لیں اور ان کے ذہنوں سے زمانۂ جاہلیت کے اثرات پوری طرح ختم ہو جائیں
اور اسی طریقے سے قرآنِ مجید کی آیت مبارکہ ( واذ وعدنا موسی أربعین لیلۃ ) کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جو یہ واقعہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نئی شریعت اور کتاب دینے کے لئے کوہِ طور پر پہلے تیس راتوں کا اعتکاف کرنے کا حکم دیا اور پھر مزید اس میں دس راتوں کا اضافہ فرماکر کل چالیس راتیں مکمل کرنے کا حکم دیا پھر اس کے بعد آپ کو نئ شریعت اور توارۃ دی گئ اس کے بارے میں حضرات مفسرین نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق لکھا ہے کہ یہ چالیس راتیں ذی قعدہ کے مکمل تیس راتیں اور ذی الحجہ کے پہلےعشرے کی دس راتیں تھیں اور پھرحضرت موسیٰ علیہ السلام کے اعتکاف کی میعاد یوم النحر کو مکمل ہوئی اور اسی دن آپ کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف نصیب ہوا اور توارت کی شکل میں عطیہ خداوندی بھی حاصل ہوا (معارف القرآن)
بہر حال خلاصہ یہ ہیکہ یہ بندوں کو پروردگار عالم کی جانب سے وقتًا فوقتًا کچھ ایسے لمحات و اوقات عطاء کئے جاتے ہیں جن کی قدردانی اور جن کا صحیح استعمال کرکے بندہ قرب خداوندی حاصل کرسکتا ہے اور اپنے گناہوں کو مٹا سکتا ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح یہ عظمت و حرمت والے مہینے ہوتے ہیں اور ان میں کئے جانے والے اعمال صالحہ دیگر مہینوں کے مقابلہ میں زیادہ اجروثواب کا باعث بنتے ہیں ایسے ہی ان عظمت والے مہینے میں گنا ہوں سے بھی احتراز بہت ضروری ہے کیونکہ بندہ اگر اپنے گھر پر گناہ کرتا ہے تو اس کا گناہ ملتا ہے اور اگر حرم شریف میں گناہ کرتا ہے تو بہت بڑا گناہ کا مرتکب ہوجاتا ہے کیونکہ وہ مقام عظمت کا ہے لہذا اصل چیز عظمت واحترام ہے لہذا ان مومہینوں کا بھی احترام کرنا چاہیے اور اپنے اعمال میں عبادتوں میں اضافہ کی فکر کرنی چاہئے ویسے تو سارے دن سارے مہینے اللہ رب العزت کے بنائے ہوئے ہیں انسان کی زندگی کا ہر لمحہ قابل قدر ہے اور وقت برف کی مانند زندگی کو ختم کررہا ہے اور انسان ہر وقت اپنی موت کے قریب ہورہا ہے لہذا ہر شخص ہر وقت گناہوں پر شرمندہ ہونے اور ان سے توبہ کرنے اور رجوع الی اللہ کا محتاج ہے بارگاہِ ایزدی میں دعاء ہے کہ اللہ تعالٰیٰ امت مسلمہ کو ان لمحات کی قدردانی کی توفیق نصیب فرمائے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت پہ نہ نوری ہے نا ناری ہے
اور کسی نے کہا ہے کہ
تیرے اعمال سے ہے تیرا پریشاں ہونا
ورنہ مشکل نہیں مشکل کا آسان ہونا
تمام عالم پہ حکومت ہوتیری اے مسلم
تو سمجھ جائے اگر اپنا مسلماں ہونا
Like this:
Like Loading...
الحمدللہ ہر جمعہ کے دن بیان کرنے کے لئے ایسی تحریر بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے
میری گزارش ہے کہ آپ ہر جمعہ کو اس طرح کچھ بیان بھیجا کریں جس سے عوام الناس کو حالاتِ حاضرہ پر مطلع کیا جاتا رہے
میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہر جمعہ کو حالاتِ حاضرہ پر مشتمل بیان بھیجینگے۔والسلام مع الاحترام محمد حسام الدین حسامی