Skip to content
یہ جنگ جنگ نہیں تھی بھلا تو پھر کیا تھی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا یہ انکشاف دلچسپ ہے کہ ’’آپریشن کے آغاز میں پاکستان کو ایک پیغام بھیج کر بتادیا تھا کہ ہم دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر رہے ہیں مگر فوج پر نہیں ۔ اس لیے پاک فوج کے پاس مداخلت کرنے کے بجائے الگ رہنے کا متبادل ہے۔ لیکن انھوں نے ہمارےنیک مشورےکا انتخاب نہیں کیا‘‘۔یہ مختصر بیان آپریشن سندور کا گھونگھٹ اٹھانے کے لیے کافی ہے ۔ کسی بھی حملے کی کامیابی کے لیے اس کا اچانک ہونا اس لیےاہمیت کا حامل ہوتا ہے تاکہ دشمن کے ردعمل سے قبل زیادہ سے زیادہ نقصان کردیا جائے۔ مودی سرکار نے اس اصول کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کو تیاری کا بہترین موقع عطا کر دیا۔ ماضی میں چار مرتبہ یہ دونوں پڑوسی آپس میں نبرد آزما ہوچکے ہیں لیکن ایسی حماقت کبھی نہیں ہوئی ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنگا فساد میں ماہر سنگھ پریوار میدان جنگ کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہے ۔یہ بیچارےتواول روز سے صرف خانہ جنگی کی مشق کررہے ہیں ۔
ہندو پاک کے تصادم کی تاریخ میں 1971کو چھوڑ دیا جائے تو باقی تین جنگوں کا محورکشمیر رہا ہے اور اب پانچویں تصادم کے مرکز بھی وہی ہے ۔ ان میں سے پہلی اور آخری کو روایتی جنگ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایک بھی حکومت نےرسماً اعلانِ جنگ نہیں کیا تھا ۔ 2019میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلتے وقت وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک خطرناک جھوٹ بول دیا ۔ ایوانِ پارلیمان میںا نہوں نے کہا کہ اگر ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کشمیر کی بابت اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل کا مشورہ تسلیم کرلیتے تو ایک تہائی کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نہیں جاتا ۔ مسئلۂ کشمیر کاٹھیکرا پنڈت نہرو پر پھوڑتے ہوئےشاہ جی نے الزام لگایا کہ انہوں نے بار بار کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کوقلیل المدتی قرار دے کر کشمیری عوام خود اپنا حق خود ارادیت کا عہد بار بار دوہرایا تاکہ وہ ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ جانے کا فیصلہ خود کرسکیں ۔
امیت شاہ نے پنڈت نہرو کی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کشمیر میں استصواب رائے کرانے کے عہد پر کاربند رہنے کی بات تو یاد دلائی لیکن بڑی چالاکی سے کشمیر کے حوالے سے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مشورے پر پردہ ڈال دیا۔ اتفاق سے وہ صلاح زبانی نہیں بلکہ ایک خط کی صورت میں محفوظ ہے اس لیے امیت شاہ اس کا انکار نہیں کرسکتے ۔ سردار پٹیل نے 13 ستمبر 1947 کو اپنے ایک خط میں واضح کیا تھا کہ اگر کشمیر نے پاکستان کی طرف جانے کاراستہ اختیار کیا تو وہ اس کے فیصلے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ ان کی اس رائے کو مان لیا جاتا تو پورا کشمیر ہاتھ سے نکل جاتا ۔ سچ تو یہ ہے کہ جو دو تہائی کشمیر امیت شاہ کے پاس ہے وہ سردار پٹیل کے نہیں بلکہ پنڈت نہرو کی وجہ سے ہے۔ ویسے بیچارے امیت شاہ کا آج کل برا حال ہے کیونکہ انہوں نے آئین کی دفع 370کو ختم کرتے وقت کشمیر میں امن و امان کی جو نوید سنائی تھی وہ تو پہلگام میں غلط ثابت ہوگئی۔ موصوف نے نہ تو وہاں موجود سیاحوں کو تحفظ فراہم کیا اور نہ قتل و غارتگری کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کرسکے ۔
مقبوضہ کشمیر کے لیے جان لڑا دینے کا جملہ تو تمام عمر امیت شاہ کےمنہ چڑھاتا رہےگا کیونکہ اس جنگ کے دوران اس کا نادر موقع ہاتھ آیا تھا مگر وہ ایک انچ زمین بھی واپس نہیں لے سکے اور جنگ کے دوران چپیّ سادھ لی ۔ امید ہے بہار انتخابی مہم میں وہ پھر سے گرجیں گے ۔ وزیر داخلہ سے تو مہلوکین کے اہل خانہ سے مل کر ان کی تعزیت تک نہیں ہوسکی حالانکہ جب مودی جی وزیر اعلیٰ تھے تو جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا وہ وہاں سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے پہنچ جاتے لیکن اب وہ زمانہ گزرگیا۔ مودی اور شاہ کی جوڑی اس خوبی سے بے بہرہ ہوچکی ہے۔اس جملۂ معترضہ سے ہٹ کر یہ سوال قابلِ توجہ ہے کہ آخر سردار پٹیل جیسے سخت گیر رہنما کا کشمیر کی بابت اتنا لچکدار موقف کیوں تھا ؟ آزادی کےبعد برطانوی استعمار نے جب اپنے زیر نگیں ریاستوں کے حکمرانوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کرلیں تو راجہ ہری سنگھ کے سامنے ایک دھرم سنکٹ کھڑا ہوگیا ۔
مہاراجہ ہری سنگھ ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کےمعاملے میں تذبذب کا شکار اس لیے تھےکیونکہ کشمیر کی حالت حیدر آباد اور جونا گڑھ سے یکسر مختلف تھی ۔ ریاستِ جموں کشمیر ایک مسلم اکثریتی صوبہ تھا مگر اس کا فرمانروا ہندو تھا ۔ اس لیے مسئلۂ کشمیر کو مسلمانوں اور پنڈت نہرو سے جوڑنے والوں کو یہ حقائق پیش ِ نظر رکھنے چاہئیں کہ جموں و کشمیر کے مہاراجا ہری سنگھ اور ان کے وزیر اعظم رام چندر کاک نے ہندو پاک میں سے کسی کے ساتھ بھی جا نے کے بجائےالگ تھلگ رہنے فیصلہ کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی ہندوستان میں شامل ہونے پر مطمئن نہیں ہو گی اور اگروہ پاکستان میں شامل ہو گئے تو ہندو اور سکھ اقلیتیں غیر محفوظ ہو جائیں گی۔ یہ شیخ عبداللہ یا پنڈت نہرو کا خیال نہیں بلکہ ریاست کے ہندو راجہ اور ہم مذہب وزیر اعظم کی رائے تھی ۔ کشمیری پنڈت وزیر اعظم کی رائے اس قدر مستحکم تھی کہ ہندوستان سے الحاق کرنے کی خاطرراجہ ہری سنگھ کو انہیں برطرف کرنا پڑا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا اقتدار کسی فوج کشی کے ذریعہ حاصل نہیں کیا تھا بلکہ وہ انگریزی استعمار کے ساتھ ایک سودے بازی کا انعام تھا ۔1845-46میں سکھ سلطنت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس میں سکھوں نے کشمیر پر اپنی خود مختاری کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد لاہور معاہدے میں، سکھوں کو بیاس اور ستلج کے درمیان کا قیمتی علاقہ (جالندھر دوآب) چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور 12 لاکھ روپئے کا جرمانہ ادا کرنے کی شرط رکھی گئی۔ یہ رقم چونکہ وہ فوری طور پر نہیں جمع کر سکے اس لیے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ کو سکھ سلطنت سے کشمیر حاصل کرنے کی اجازت اس شرط پر دی کہ وہ کمپنی کو 7لاکھ 50 ہزار روپئے کی ادائیگی کریں گے۔ اس طرح گویا جوڑ توڑ کے نتیجے میں گلاب سنگھ جموں و کشمیر کی نئی تشکیل شدہ ریاست کے پہلے مہاراجا بن گئے اور ان کی خاندانی حکمرانی آزادی تک جاری رہی۔
ڈوگرہ راجہ کے خلاف پونچھ میں بغاوت کے بعد جب پاکستان کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے کشمیر پر حملہ کر دیا تو مجبوراً مہاراجہ نے بھارت سے مدد مانگی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس پہلی جنگ کے بعد جنوری 1949 میں اقوام متحدہ نے 770 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول کھینچ کر کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔اس پہلی جنگ کے تناظر میں ۲۲؍ اپریل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے اور ۶؍ مئی کے سرجیکل اسٹرائیک کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ہندوستانی حملے سے قبل گودی میڈیا کے شور شرابے نے پاکستان کو ہوشیار کردیا تھا کہ وہ بالاکوٹ جیسے کسی سرجیکل اسٹرائیک سے نمٹنے کی تیاری کرلے لیکن پھر بھی وہ تو ایک قیاس آرائی تھی یہاں تک کہ وزیر خارجہ نے خود تصدیق فرما دی ۔ اس زبردست چوک کے سبب ہونے والے والے نقصان کے لیے ایس جئے شنکر ذمہ دار ہیں ۔
وزیر خارجہ کے بیان میں یہ اعتراف موجود ہے کہ پاکستانی فوج کے پاس ان کے پیش کردہ متبادل کو مسترد کرنے کا اختیار موجود تھا اور دوسری صورت میں ردعمل کا امکان تھا ۔ ایسے میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نےوزیر خارجہ کی ویڈیو کا اشتراک کرتے ہوئے ٹھیک ہی لکھا ہے کہ ’’ہمارے حملے کے شروع میں ہی پاکستان کو مطلع کرنا ایک جرم تھا۔وزیر خارجہ نے عوامی طور پر حکومت ہند کے ایسا کرنے کا اعتراف کیا ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ ’’اس کی اجازت کس نے دی؟ اس کے نتیجے میں ہماری فضائیہ نے کتنے طیارے کھوئے؟‘‘ سوال یہ بھی ہے کہ وزیر خارجہ کو اس جرم کی سزا کب اور کیا ملے گی؟ یہ کس قدر سنگین معاملہ اس سمجھنے کے لیے تصور کریں پاکستان کی جانب سے اگر اسی قسم کی اطلاع دی جاتی کہ وہ کسی ایسے ٹھکانے پر حملہ کررہا ہے جو اس کے خیال میں دہشت گردی کا اڈہ ہے اور فوج اس سے دور رہے تو حکومت ہند کا ردعمل کیا ہوتا ؟ کیا ہم کہتے کہ ’جی ہاں آپ تشریف لائیے وہاں آپ کو سرخ قالین بچھا ہوا ملے گا اور لوٹنے سے پہلے چائے پانی ضرور پی کر جائیں؟ یا ہم یہ کہتے کہ ایسی غلطی کبھی نہ کرنا ورنہ انجام ٹھیک نہیں ہوگا؟ ‘پاکستان نے چالاکی سے چپیّ سادھ کر بھولے بھالے وزیر خارجہ نن سوچا کہ وہ سے الگ تھلگ رہنے پر راضی ہوگیا ہے لیکن اس نے جواب میں زور دار حملہ کردیا ۔ پاکستان کے ردعمل سے صرف فضائیہ کے طیاروں کا نقصان نہیں ہوا بلکہ لائن آف کنٹرول پر کئی بیش قیمت جانیں گئیں۔ کئی فوجیوں کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور نہ جانے کتنے سندور مٹ گئے۔اس جانی و مالی خسارے کے لیے مودی سرکار کی ذمہ دار ہے اور وزیر خارجہ نے کھلے عام اس کا اعتراف کرلیا ہے ۔ اسلیے وہ اقراری مجرم ہے۔
Like this:
Like Loading...
سلیم صاحب ! اپ کا اس تجزیہ پر مبارکبادپیش کرتے ھیں اپ نے بڑی بالغ نظری دکھاٸ