Skip to content
ماہنامہ’’ الاصلاح‘‘کے دس برس کی تکمیل
کریم نگر کے علماء کرام کی علمی وقلمی خدمات کا ایک سنگ میل
ازقلم:مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
ڈایریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز حیدرآباد
نفع دینی دیکھ ! تو دنیا کی بہبودی نہ دیکھ
مرضی رب دیکھ! اپنی مصلحت کوئی نہ دیکھ
سنہری تلنگانہ کے وہ اضلاع جہاں کے علمائکرام وحفاظ عظام اور اہل علم واصحاب دانش کی محبتیں بندے کو ملیں ، اور جہا ں کے علمائ کرام کی علمی وعملی خدمات، سماجی وفلاحی سرگرمیاں ،تعلیمی وتربیتی کاوشیں،انفرادی واجتماعی تگ و دو، عوامی وعلمی محنتیں، زمینی ومیدانی کارگذاریاں،دینی مدارس وتحریکیں،اور سچ پوچھیے تو علمائ کرام کا عوام سے ربط ضبط مثالی اور معیاری ہے، اور ایک شہر جہاں تقریبا پچھلے ۱۵ سے ۱۸ برس سے مستقل جانا آنا ہے، وہاں کی زمینی حقائق سے واقفیت کے بعد راقم الحروف یہ مذکورہ بالا بلند وبے لاگ الفاظ لکھ رہا ہے،حجاج کرام کی تربیت کے سلسلہ میں یہاں پہنچنا ہوتا ہے اور ہر سال دو مرتبہ ان حضرات سے ملاقات ہوتی ہے اور سال رواں ۲۰۲۵ کے عازمین کی تربیت کے لئےتو تین مرتبہ حاضری ہوئی، یہاں کے علمائ کرام کی یہ خدمات نا صرف تلنگانہ ریاست اور سابقہ آندھراپردیش بلکہ پورے ہندوستان اور پوری دنیا کے علمائ کرام کے لئے مشعل راہ ہے۔ہر میدا ن میں وہ سرگرم عمل ہیں، وہ ہر وقت عوام کے درمیان ہیں اور عوام انہیں اپنے دل میں بسائے ہوئے ہیں،یہ مثالی ضلع کریم نگر ہے، ایک اللہ والے بندے کے نام پر موسوم اس شہر پر رب کریم کی بھی بڑی مہربانی ونوازش ہے۔یہاں میرے استاذ محترم امیر شریعت آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد برکت اللہ قاسمی رحمہ اللہ کی دل آویز شخصیت رہی ہے۔اور اب جو نئی پود آگے بڑھی ہےوہ زیور علم سے آراستہ ، پیرہن عمل سے مزین، اخلاق حمیدہ سے متصف ،ملی وقومی معاملات کے ادارک واحتساب کے ساتھ ساتھ باعمل ومخلص بھی ہے۔
ہر دور کے اپنے تقاضےہیں، ہر وقت اپنا حق مانگتا ہے، زمانہ کی نبض شناسی بلکہ زمانہ آشنائی کی دولت اللہ تعالی جس فرد وجماعت میں عطا فرمادیتے ہیں وہ اپنے دور کی امامت وقیادت کے منصب پر فائز ہوکر سرخرو ہوتا ہے، وہ نا صرف اپنی صلاحیتوں اور خداد اد استعداد کو پہچانتاہے بلکہ وہ ان کا حق ادا کرتا ہے۔ اور شکر کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ فطری صلاحیتیں میدان عمل میں کام میں آئیں، وہ محددوہونے کے بجاے وسیع ہوں، کسی کے شخصی مفادات کی پہرہ داری اور کسی جمشید کی غلامی کےبجائے انسانیت کی خدمت ، ملت کی فلاح وبہبود اس کا محور ومقصد اور مقصود ہوتو نور علی نور ہے۔وہ دین ودنیا میں رشک کی نگاہوں سے دیکھی گئی ہیں ،زمانہ کی خرابی اور حالات کے بگاڑ اور عوام کی ناقدری کا رونا وہی روتے رہتے ہیں جو یاتو قابل نہیں ہیں، اور یا تو وہ اپنے میدان میں مخلص اور اپنے موضوع کے ماہر نہیں ہیں، اس وقت مجھے اپنے شیخ ومربی اور مرشدی حضرت مولانا علی میاں صاحب رحمہ اللہ تعالی کے وہ سنہری جملے اور قیمتی کلمات یاد آرہے جو آپ کی کتابوں میں اور آپ کے نورانی خطابوں میں دلوںکو گرماتے ہیں، مردہ ضمیروں کو جگاتے ہیں، روح پرواز کو راستہ سجھاتے ہیں،اور قوت فکر وعمل کے پروں کو طاقت بخشتے ہیں کہ ہر دور میں اخلاص اور اختصاص کی ضرورت ہے، زمانہ اسی کا جو اپنے کام میں مخلص اور جو اپنے میدان میں ماہر ہے۔اخلاص رب کی رضاجوئی ولانے والی ، اختصاص مخلوق خدا کے دل جیتنے والی خوبی ہے الحمد للہ ، رب کریم نے کریم نگر کے علمائ کرام میں یہ خوبی وکمال بخشا ہے۔وہ زمانہ شناس،نباض وقت، حالات سے واقف، واقعات پرفکرمند اور مسائل کے حل میں مخلص وجفاکش ہیں،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام انہیں دل وجان سے چاہتی ہے، اور ان سے وابستہ رہنے میں فخر وسرور محسوس کرتی ہے۔
صلاح واصلاح یہ وہ د و کام ہیں جو ہمیں بحیثیت امت کرنا ہے، اپنی ذات کی اچھائیوں سے آراستہ کرنا، اسے عمرمیں اضافہ کے ساتھ ساتھ نکھارنا ضروری ہے، اور دنیا جہاں کی بھلائی وخیر خواہی سے پہلے اپنی ذات کو مقدم رکھنا ہے، اور یہ وہ بنیادی کام ہےجس کو فراموش کرکے انسان اس دنیا میں کامیاب ہوسکتا ہے اور نا ہی اللہ کے یہاں اسے اعزاز واکرام حاصل ہوسکتا ہے۔ اسلام کی زریں تعلیمات کی خوبی ہی یہ ہےکہ وہ دوسروں کی خیر خواہی کی فکر سے پہلے خودی کی معرفت اور اپنی ذات کی اصلاح اوراس کے صلاح وفلاح ، صلاحیت وصالحیت، قابلیت وقبولیت کی بات کرتا ہے، قرآن مجید کی یہ دو مثالیں کافی ہیں، کہ ایک میں اچھائی کے حاصل کرنے میں اپنی ذات کو پیش پیش رکھا گیا ہےکہ سورہ ابراہیم کی آیت نمبر ۴۰ میں یوں ابراہیمی دعا وفکر پیش کی گئی ۔ رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ۔ ترجمہ : اے میرےپالنہار ،مجھے نمازی بنااو رمیری نسل کو ۔اسی طرح سورہ تحریم آیت نمبر ۶ میں اللہ تعالی فرماتےہیں کہ یاایھا الذین آمنوا قو اانفسکم واھلیکم نارا، ترجمہ : ائے ایمان والو ، اپنی ذات کو او راپنے گھر والوں کو جہنم سے بچائو۔معلم انسانیت ، رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وخصوصیات میں یہ بات شامل ہے کہ خودی کی تلاش کا کام پہلا کام ہے ، اسی کو شاعر اسلام علامہ اقبال رحمہ اللہ نے یوں کہا ہے
اپنے من میں ڈوب کر پا بجا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا ، نہ بن ، اپنا تو بن
صلاح کے بعد اسلامی فکر اصلاح کی ہے ،اور ہمیں بڑا افسوس ہے کہ ہم نے اصلاح کے کام کو محدود کرکے رکھ دیا ہے، جتنا وسیع یہ میدان ہے اتنا ہی تنگ نظریہ ہمارے یہاں پیدا کردیا گیاہے، اصلاح کے کام کو قیود وشروط میں جکڑکر بے روح وبے جان کرکے چھوڑدیا گیا ، ہمیں صاف طورپر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اصلاح کا کام متنوع ، مختلف الجہات،علاقہ وزمانہ، زبان وبیان بلکہ ہر فر د بشر کی صلاحیتوں کے اعتبار سے مختلف اور پیش نظرمخاطب کے اعتبار سے بھی مختلف ہےاور ہوتا ہے، لیکن ہمارے یہاں ایک لاٹھی سےسب کو ہانکنے کی فکر اوراسی روایتی طرز پر اڑجانے کامزاج عام ہے۔داعی اور مدعو کے درمیان کا رشتہ کسی ایجنڈہ کے تحت طے نہیں ہوگا بلکہ وہ وقت وحالات ، زمانہ کے مطابق بدلتا ہے اور بدلتا رہے گا۔اسی لئے آج اصلاح کے میدان میں جو قدرتی وسائل ، ترقی یافتہ ذرائع ملے ہیں انہیں استعمال کیا جائے۔ جس سے اصلاحی وتعمیری کام کرنے والوں کی محنتیں مختصر وقت میں دیر پا اور پائیدار ہوسکتی ہیں۔اور اصلاح کا کارواں جانب منزل کامیابی کے ساتھ رواں دواں رہ سکتا ہے۔
ماہنامہ الاصلاح جو کریم نگر کے قابل وفاضل ، مخلص وباتوفیق، جفاکش ومحنتی علما ئ کرام کی قلمی وعلمی صلاحیتوں کا امین ہے، اپنے نام سے خو د ایک دعوت کا کام کررہا ہے، اور پوری کامیابی کے ساتھ امت کی فکری وشعوری بیداری کا کام انجام دے رہا ہے۔ وہ ہر ماہ اپنے جلو میں ذہن ودماغ کےلئے روحانی غذا، فکری سرمایہ، نور بصارت کے ساتھ ساتھ سرمہ بصیرت لئے منصہ شہود پرجلو گر ہوتاہے۔اور ناصرف تلنگانہ وآندھرا پردیش او رہندوستان بلکہ انٹر نیٹ کی وساطت سے دنیا بھر میں پہنچتا ہے، پڑھا جاتا ہے ، اور اس کی ظاہری وباطنی خوبیوں کی وجہ سے قدر کی نگا ہ سے دیکھا جاتا ہےاو راس کےعمدہ ومعیاری ہونے کو سراہا جاتا ہے۔یہ خود ایک بڑا کام ہے، قابل اجر وثواب عمل ہے۔ہر ہر صفحہ پر اللہ تعالی کے یہاں نیکی کا ذریعہ ہے۔معلوم ہوا کہ آغاز سے لے کر لاک ڈائون تک اس کی ہارڈ کاپی بھی شائع ہوتی تھی لیکن لاک ڈائون کے بعد سے اس کی برقی اشاعت عمل میں آرہی ہے۔اس استقامت وتسلسل کو قبول فرمائیں اور کتابی شکل میں ہر ماہ جلوہ گری کے اسباب پیدا فرمائے۔
ماہنامہ الاصلاح کے علمی وقلمی سفر کے ۱۰ برس کی تکمیل پر دل کی گہرائیوں سے پرخلوص مبارکبادی پیش کرتاہوں ، اور دعا گو ہوں کہ علمائ کرام کا یہ قافلہ تھکن نا آشناہو، کارواں منزل آخرت کے سفر پر مدام پا بہ رکاب رہے، اور ہر دم جواں ، ہر لمحہ تازہ ہے کے مطابق ہر آنے والے وقت کا ہمرکاب رہے،وہ شوق کے ہاتھوں لیا جائے ، ذوق کی نگاہوں سے پڑھا جائے اور عمل کے ارادے سے دل ودماغ میں بسایاجائے، نیزاس موقعہ پر راقم الحروف مدیر محترم جناب مولانا محمد عمر فاروق قاسمی صاحب، مدیر تحریر محترمی مولانا مفتی محمد صادق حسین قاسمی صاحب،نائب مدیر مفتی وایڈوکیٹ محمد نوید سیف حسامی صاحب، مجلس ادارت میں شامل مولانا سید خواجہ فرقان علی قاسمی، مولانا حیدر اسعدی، مولانا مرزا مرتضی علی بیگ قاسمی، مولانا ولی اللہ مفکر حسامی، مفتی محمد عبد الحمید قاسمی، او راسی طرح مجلس مشاورت کے پیانل میں شامل محترمی مولانا مفتی محمد غیاث محی الدین، حافظ محمد وسیم الدین، حافظ اسماعیل راشد، حافظ عبد المجید اشتیاق ،مولانا محمد شاداب تقی ،تمام اہل علم واصحاب قلم کو بہت بہت مبارکباد ہے۔اور اس کارواں کے میر کارواں ہمارےریاست کے بزرگ عالم دین، دنیائے صحافت ومیدان قلم کے سرخیل، مکرم ومحترم حضرت مولاناسید احمد ومیض ندوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی سرپرستی سونے پہ سہاگہ ہے۔میں تمام معاونین وخرایداروں کو بھی مبارکبادی پیش کرتاہوں کہ وہ اس کامیاب سفر کے شریک ہیں، اور ہم امید کرتے ہیںکہ وہ مستقبل میں بھی اصلاح وانقلاب کے اس ملی فریضہ کی ادائیگی، اور دینی ذمہ داری کو پورا کرنے میں اپنا گراں قدر تعاون پیش کریں گے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اور ہماری کاوشوں کو اپنی بارگاہ ذو الجلال میں قبول فرمائے ۔
تو ادھر ادھر کی نا بات کر مجھے یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں ، تری رہبری کا سوال ہے
آمین یا رب العالمین ۲۸ ، اپریل ۲۰۲۵
Like this:
Like Loading...