Skip to content
بھارت کی معیشت: چمکتی سرخیاں یا کھوکھلا سراب؟
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
———
دور حاضر میں بھارت کی معاشی کہانی ایک ایسی پہیلی ہے جو بظاہر چمکتی دمکتی سرخیاں بٹورتی دکھائی دیتی ہے مگر زمینی حقائق پوری طرح اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ جب حکومتی ایوانوں سے ترقی کے بلند بانگ دعوے گونجتے ہیں، تو عام شہری کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ عروج واقعی اس کی زندگی کو چھو رہا ہے، یا یہ محض اعداد و شمار کا ایک پر فریب جال ہے؟ مئی 2025 میں، جب نیتی آیوگ کے سربراہ بی وی آر سبرامنیم نے اعلان کیا کہ بھارت جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا ہے، تو یہ خبر سیاسی جلسوں سے لے کر میڈیا تک ایک طوفان کی طرح پھیلی۔ لیکن محض دو دن بعد، اسی ادارے کے ایک سینئر رکن اروند ویرمانی کی تردید نے اس دعوے کی چمک کو ماند کر دیا۔ یہ تضاد ایک گہرے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے: کیا بھارت کی معاشی ترقی ایک ٹھوس حقیقت ہے، یا سیاسی مقاصد کے لیے بنایا گیا ایک سراب؟ اس مضمون میں، ہم بھارت کی معاشی کہانی کا تنقیدی جائزہ لیں گے، مستند اعداد و شمار، معتبر ماہرین کے اقتباسات، اور عالمی تناظر کے حوالوں سے اس کے عروج اور چیلنجز کو کھنگالیں گے، تاکہ اس چمکتی تصویر کے پیچھے چھپی سچائی کو عیاں کیا جا سکے۔
معاشی ترقی کسی بھی ملک و قوم کی طاقت اور اس کی عالمی ساکھ کا آئینہ ہوتی ہے۔ جب نیتی آیوگ نے بھارت کو چوتھی بڑی معیشت قرار دیا، تو اس دعوے نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں جوش بھرا بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک امید کی کرن جگائی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’نیو انڈیا‘ کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم جلد ہی تیسری بڑی معیشت بن جائیں گے۔‘‘ لیکن یہ دعویٰ زمینی حقائق سے کتنا میل کھاتا ہے؟ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مئی 2025 کے تخمینوں کے مطابق، بھارت کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) 4.1 ٹریلین ڈالر تھی، جبکہ جاپان کی معیشت 4.2 ٹریلین ڈالر کے قریب تھی۔ عالمی بینک کی 2024 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت کی معاشی شرح نمو (6.8 فیصد) جاپان سے کہیں زیادہ ہے، اور 2025 کے اختتام تک جاپان کو پیچھے چھوڑنے کا امکان ہے۔ تاہم، نیتی آیوگ کا قبل از وقت اعلان ایک سیاسی چال تھا، جس کا مقصد انتخابی ماحول کو گرم کرنا تھا۔ معروف معاشی ماہر امیارتھیا سین نے اسے ’’اعداد و شمار کی غیر ضروری جلد بازی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’حقیقی ترقی وہ ہے جو عوام کی زندگیوں میں بہتری لائے، نہ کہ صرف سرخیوں میں۔‘‘ اس طرح کے دعوؤں سے نہ صرف حکومتی اداروں کی ساکھ داؤ پر لگتی ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، شفافیت کی کمی ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ یہ سرمایہ کاری کے مواقع کو کمزور کرتی ہے۔
معاشی ترقی کا اصل پیمانہ مجموعی ملکی پیداوار کا حجم نہیں، بلکہ اس کے ثمرات کی تقسیم اور شہریوں کی زندگیوں میں بہتری ہے۔ بھارت کی فی کس آمدنی اس دعوے کی چمک کے برعکس ایک کڑوی حقیقت پیش کرتی ہے۔ عالمی بینک کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کی فی کس آمدنی 2,880 ڈالر ہے، جو کہ امریکہ ($85,812)، جرمنی ($49,890)، جاپان ($32,500)، اور حتیٰ کہ چین ($13,000) سے کہیں کم ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کا بڑھتا حجم عام شہریوں کی زندگیوں پر اثر نہیں ڈال رہا۔ Oxfam کی 2024 کی رپورٹ ایک چونکا دینے والی تصویر پیش کرتی ہے: بھارت کی کل دولت کا 40 فیصد سے زائد صرف 1 فیصد امیر ترین افراد کے پاس ہے، جبکہ آبادی کا 50 فیصد غریب طبقہ محض 13 فیصد دولت رکھتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ معاشی عدم مساوات بھارت کا ایک سنگین چیلنج ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسی معیشت کی نشاندہی کرتی ہے جہاں ترقی کی چمک چند ہاتھوں تک محدود ہے، اور عام آدمی اس سے محروم ہے۔ معروف معاشی ماہر تھامس پیکیٹی اپنی کتاب Capital in the 21st Century میں لکھتے ہیں کہ ’’جب دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہو، تو یہ معاشرتی ہم آہنگی اور اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ بنتا ہے۔‘‘ بھارت میں یہ خطرہ واضح ہے، جہاں شہری اشرافیہ اور کارپوریٹ سیکٹر ترقی کے فوائد سمیٹ رہے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں زرعی بحران اور روزگار کی کمی نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔
بھارت کی معاشی داستان کا ایک اہم پہلو اس کا غیر متوازن ڈھانچہ ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کی 2024 کی رپورٹ دعویٰ کرتی ہے کہ آمدنی کی تقسیم میں بہتری آئی ہے اور درمیانہ طبقہ تیزی سے ابھر رہا ہے، لیکن Oxfam اور ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹس اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں۔ نیشنل اسٹیٹسٹکل آفس (NSO) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 8.2 فیصد ہے، جو شہری علاقوں (7.8 فیصد) سے زیادہ ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی 2024 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں 90 فیصد سے زائد ملازمتیں غیر رسمی شعبے میں ہیں، جہاں تنخواہیں کم اور ملازمت کی حفاظت نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسی معیشت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں تو تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن دیہی معیشت، جو آبادی کے 65 فیصد سے زائد کی نمائندگی کرتی ہے، زرعی بحران سے دوچار ہے۔ زرعی شعبہ، جو بھارت کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے، اب کم پیداوار، قرضوں، اور غیر مستحکم قیمتوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، زرعی شعبے کی شرح نمو 2024 میں صرف 3.5 فیصد تھی، جو مجموعی معاشی شرح نمو (6.8 فیصد) سے کہیں کم ہے۔
سیاسی بیانیہ سازی نے بھارت کی معاشی کہانی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ نیتی آیوگ کا قبل از وقت دعویٰ ایک سیاسی حربہ تھا، جس کا مقصد انتخابی ماحول کو سازگار بنانا تھا۔ معاشی ماہر کوشیک باسو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’جب حکومتیں اعداد و شمار کو سیاسی ہتھیار بناتی ہیں، تو یہ عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘ اس دعوے کی تردید نے نہ صرف نیتی آیوگ کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ حکومتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کو بھی عیاں کیا۔ میڈیا کا کردار بھی اس سلسلے میں تنقید کی زد میں ہے۔ حکومتی حمایت یافتہ چینلز نے اس دعوے کو بغیر تحقیق کے ’تاریخی کامیابی‘ قرار دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر افواہوں نے عوام میں الجھن پیدا کی۔ صحافتی اخلاقیات کے ماہر پروفیسر پرن جوی نے کہا کہ ’’میڈیا کا فرض ہے کہ وہ حقائق کی جانچ کرے، نہ کہ حکومتی بیانیوں کو بغیر تنقید آگے بڑھائے۔‘‘ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت میں میڈیا بعض اوقات جمہوریت کے چوتھے ستون کے بجائے سیاسی ایجنڈوں کا آلہ کار بن جاتا ہے۔
بھارت کی معاشی ترقی کے دعوؤں کے باوجود، عام شہری کے لیے زندگی اب بھی چیلنجز سے بھری ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ نیشنل اسٹیٹسٹکل آفس کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 7.8 فیصد ہے، اور خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کی شرح صرف 23 فیصد ہے، جو عالمی اوسط (47 فیصد) سے کہیں کم ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اگرچہ غربت کی شرح 10 فیصد سے کم ہوئی ہے، لیکن آبادی کے ایک بڑے حصے کو معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، اور صاف پانی تک رسائی نہیں۔ خوشحالی انڈیکس (Happiness Index) 2024 میں بھارت 136 ممالک میں 126ویں نمبر پر ہے، جو نیپال (93) اور بنگلہ دیش (101) سے پیچھے ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ معاشی ترقی کے دعوے عام شہریوں کی زندگیوں میں بہتری نہیں لا رہے۔
بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار کو متوازن کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 3.8 فیصد خرچ ہوتا ہے، جو عالمی اوسط (4.8 فیصد) سے کم ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں فی کس صحت کا بجٹ صرف 86 ڈالر ہے، جو چین (456 ڈالر) سے کہیں کم ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سالانہ 10 سے 12 ملین نئی ملازمتوں کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ شرح (5 ملین سالانہ) اس سے کہیں کم ہے۔ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے کے لیے بھی خصوصی پالیسیوں کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومتی شفافیت اور جوابدہی معاشی ترقی کی بنیاد ہیں۔ نیتی آیوگ کے متضاد بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی ہے۔ سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروند سبرامنیم نے کہا کہ ’’حقیقی ترقی وہ ہے جو ہر شہری کی زندگی کو بہتر بنائے، نہ کہ صرف اعداد و شمار کی چمک دمک۔‘‘ بھارت کو معاشی عدم مساوات کم کرنے کے لیے تعلیم، صحت، اور دیہی روزگار پر سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ بجٹ اس کا ایک تہائی بھی پورا نہیں کرتا۔
بھارت اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف معاشی عروج کے بلند بانگ دعوے ہیں، اور دوسری طرف بے روزگاری، عدم مساوات، اور بنیادی سہولیات کی کمی کی تلخ حقیقت۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اعداد و شمار کی شعبدہ بازی کے بجائے زمینی مسائل پر توجہ دے۔ غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو بھی تنقیدی سوچ اپنانے اور میڈیا کے دعوؤں کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط اور خوشحال بھارت کے لیے ضروری ہے کہ حقائق کا سامنا کیا جائے، اور ترقی کے ثمرات ہر طبقے تک پہنچائے جائیں۔ معاشی ترقی تب ہی معنی خیز ہوگی جب وہ ہر شہری کی زندگی میں بہتری لائے، نہ کہ صرف سیاسی سرخیوں اور اعداد و شمار کی چمک تک محدود رہے۔
Like this:
Like Loading...