Skip to content
عشرۂ ذی الحجہ: فضائل ومسائل
ازقلم:مفتی عمر فاروق حسامی
استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ ازہر العلوم للبنات
خطیب: مسجد ومدرسہ اسلامیہ گلزار مدینہ
اسلامی سال کے آخری مہینے ذو الحجہ کا آغاز ہوچکا ہے، ہم سب کو معلوم ہے کہ اس مہینے میں حج جیسی رفیع الشان عبادت انجام دی جاتی ہے، اسی مناسبت سے اس مہینے کا نام ذو الحجہ یعنی حج والا مہینہ پڑ گیا، اللہ عز وجل نے جنہیں توفیق بابرکت عطا کی وہ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوچکے ہیں، اور اپنی اپنی عبادتوں میں مشغول ہوچکے ہیں؛ لیکن اس مہینے کو ایک اور وجہ سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی دوسری بڑی عید عید الاضحیٰ اسی مہینے کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے، اور اس دن ہر صاحب استطاعت مسلمان اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرتا ہے؛ لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لوگ ماہ ذی الحجہ کو صرف قربانی کے نام سے یاد رکھتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں عام مسلمانوں کے لیے قربانی ہی ایک اہم عبادت ہے، بےشک قربانی ایک عظیم الشان عبادت ہے، اور اللہ کے قرب کو حاصل کرنے کا نہایت اہم ذریعہ ہے؛ لیکن ذو الحجہ میں دیگر عبادتوں کی فضیلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، خصوصا ذو الحجہ کا پہلا عشرہ؛ کیوں کہ اللہ عز وجل کے نزدیک ان دس دنوں کی بڑی اہمیت ہے، اور ان دنوں کی عبادت رب تعالی کو بہت پسند آتی ہے، ان دنوں میں روزہ رکھنے، تہجد پڑھنے اور تسبیح و تہلیل کا ثواب عام دنوں کے مقابلے بہت زیادہ ہے، اسی طرح تکبیر تشریق کا آغاز بھی اسی عشرے میں ہوتا ہے، اور یوم عرفہ بھی انہی دنوں میں آتا ہے، جسے خاص قدر و منزلت حاصل ہے؛ لہذا ہم مسلمانوں کو عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت سے واقف ہونا چاہیے، اور ان دس دنوں کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے مختصر سی عبادتیں کرکے ابدی ثواب کو حاصل کرنا چاہیے، اور جو کچھ مسائل ان دنوں پیش آتے ہیں ان کو بھی اپنی معلومات کا حصہ بنانا چاہیے؛ تاکہ عبادتوں کو صحیح طور پر ادا کیا جائے۔
ماہ ذی الحجہ کی فضیلت
دور جاہلیت سے ہی چند مہینوں کو محترم و متبرک سمجھا جاتا تھا، اور لوگ ان کی عظمت کی وجہ سے قتل وقتال کو سخت ناپسند کرتے تھے، انہی مہینوں میں یہ ذو الحجہ کا مہینہ بھی ہے؛ لیکن زمانہ جاہلیت میں لوگ اغراض نفسانی کی تکمیل کے لیے اشہر حرم کی ترتیب میں تقدیم وتاخیر کیا کرتے تھے، چنانچہ اللہ عز وجل نے لوگوں کی اس حرکت کی مذمت فرمائی، اور کہا کہ آسمان وزمین کی تخلیق کے وقت سے ہی مہینوں کی تعداد بارہ ہے، اور ان میں چار مہینے محترم ہیں، ارشاد ربانی ہے: اِنَّ عِدَّةَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْھَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ،ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ( سورہ توبہ، آیت نمبر: 36) ترجمہ: بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے ، جو اللہ کے فیصلہ کے مطابق اسی دن سے ہے ، جس دن کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا ، ان میں سے چار مہینے خاص ادب کے ہیں ، یہی دین مستقیم ہے۔
آیت مبارکہ میں چار محترم مہینے کونسے ہیں اس کا ذکر نہیں ہے؛ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اس کی وضاحت کی ہے، ارشاد فرمایا:الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَكَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلاَثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو القَعْدَةِ، وَذُو الحِجَّةِ، وَالمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ، الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ(بخاری، حدیث نمبر: 4406) ترجمہ: زمانہ گھوم پھر کر اسی حالت میں آچکا ہے جس حالت میں آسمان و زمین کی تخلیق کے دن تھا، سال میں بارہ مہینے ہیں، ان میں چار مہینے محترم ہیں، ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب مضر جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔خلاصہ یہی نکلا کہ اللہ عزوجل کے نزدیک ماہ ذی الحجہ کی اہمیت دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ہے؛ کیوں کہ یہ اشہر حرم میں داخل ہے، اور اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اس مہینے کی عبادت دیگر مہینوں کے مقابلے زیادہ عظمت والی ہے، جیساکہ حضرت مفتی شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں کہا ہے: ان(چار مہینوں) کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا ہے، ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، ان میں سے پہلا حکم تو شریعت اسلام میں منسوخ ہوگیا؛ مگر دوسرا حکم احترام وادب اور ان میں عبادت گزاری کا اہتمام اسلام میں باقی ہے۔(معارف القرآن4 /372)
عشرہ ٔذی الحجہ کی عبادت
ذو الحجہ کا پورا مہینہ بابرکت ہے؛ لیکن اس کا پہلا عشرہ بڑی فضیلت کا حامل ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالی نےقرآن مجیدمیں ان دس دنوں کی قسم کھائی ہے: وَ لَیَالٍ عَشْرٍ(الفجر:2) اور (قسم ہے) دس راتوں کی۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد، سدی، ضحاک، کلبی، ائمہ تفسیر کے نزدیک ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں(معارف القرآن8 /739)
نیز عشرۂ ذی الحجہ کی عبادت اللہ کو دیگر دنوں میں جہاد کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مَا مِنْ أَيَّامٍ العَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ العَشْرِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.(ترمذی، حدیث نمبر: 757) ترجمہ: اِن دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں ہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہو، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان و مال لےکر اللہ کے راستے میں نکلا، پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا۔حدیث شریف میں جن دنوں کی فضیلت بتائی گئی ہے اس سے مراد ذو الحجہ کے دس دن ہیں، جیساکہ دیگر حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے۔
اسی طرح عشرہ ٔذی الحجہ میں رکھے گئے ہر روزے کا ثواب ایک سال کے روزے کے برابر ہے، اور عشرۂ ذی الحجہ کی ہر رات شب قدر کی طرح ہے، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الحِجَّةِ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ القَدْرِ.(ترمذی، حدیث نمبر: 758) ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں کی عبادت تمام دنوں کی عبادت سے زیادہ پسندیدہ ہے، ان ایام میں سے ایک دن کا روزہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہے،اور راتوں کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔
ان احادیث سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ عشرۂ ذی الحجہ کی بڑی قدر و منزلت ہے،اور یہ دس دن رحمت الٰہی کو متوجہ کرنے اور رضا ئے الہی کو حاصل کرنے کا زریں موقع ہے، ہمیں چاہیے کہ ان دنوں میں صیام وقیام اور اذکار واستغفارکے ذریعہ اپنے رب کو راضی کریں،اور سالوں سال کا ثواب حاصل کرلیں۔
یوم عرفہ کی فضیلت
ذو الحجہ کی نوتاریخ کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے؛کیوں کہ اس دن تمام حاجی میدان عرفات میں وقوف کرتے ہیں،اور اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتےہیں،یقینا اس دن میدان عرفات کا منظر لائق دید اور قابل رشک ہوتا ہے،اور اس دن کو اس لیے بھی فضیلت حاصل ہے کہ اسی روز اللہ عز وجل نے دین محمدی کی تکمیل کا اعلان کیا تھا،حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے: أَنَّ رَجُلًا، مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا. قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟ قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا)قَالَ عُمَرُ:قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ(بخاری، حدیث نمبر: 45)
ترجمہ: ایک یہودی نے ان سے کہا: ائے امیر المومنین ! آپ لوگوں کی کتاب میںایک ایسی آیت ہے جس کو آپ لوگ پڑھتے ہیں،اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن مناتے، حضرت عمر نے پوچھا:وہ کونسی آیت ہے؟یہودی نے جواب دیا: اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا(آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے،اور تم پر اپنی نعمت کو تام کردیا ہے،اور میں نے تمہارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کیا ہے) حضرت عمر نے کہا: ہمیں وہ دن اور جگہ معلوم ہےجہاں یہ آیت نبی ﷺپر نازل ہوئی،آپ ﷺ عرفہ میں تھے،اور جمعہ کا دن تھا۔
نیز حضور ﷺ نے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق فرمایا ہے :صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ (ترمذي، حدیث نمبر:749) ترجمہ: یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں مَیں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اللہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹادے گا۔
مذکورہ نصوص سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ذو الحجہ کاپہلا عشرہ تو بابرکت ہے:لیکن اس میں بھی یوم عرفہ اعلیٰ فضلیت رکھتا ہے،لہذااگر کسی کو پورے عشرے میں عبادت کا موقع نہ ملے تب بھی یوم عرفہ کی عبادت سے غافل نہ ہو،ایک دن کا روزہ دو سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوگا،یہ موقع بہت خاص ہے، جس سے امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد غافل ہے، ہم سبھی کو چاہیے کہ اپنے گھروں میں اس عشرے کی فضلیت بیان کریں،اور ان دنوں میں روزہ رہنے اور رات کو کم از کم دو رکعت تہجد پڑھنے کی ترغیب دلائیں۔
چند اہم مسائل
* عشرۂ ذی الحجہ کے روزوں کی فضیلت اپنی جگہ ہے؛لیکن وہ واجب نہیں ہیں،لہٰذا اگر کوئی یہ روزے نہ رکھے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ہوگا
* قربانی ہر اس عاقل،بالغ ،مقیم ،مسلمان مرد وعورت پر واجب ہے جوعید الاضحی کے ایام میں نصاب کا مالک ہے
* احناف کے نزدیک گھر کے ہر صاحب نصاب فردپر قربانی واجب ہے،ایک قربانی گھر کے تمام افراد کی طرف سے کافی نہیں ہوگی
* ذو الحجہ کے آغاز سے پہلے بال اور ناخن کاٹنے کاحکم مستحب تھا؛لہٰذا اگر کسی کے بال اور ناخن زیادہ بڑھ گئے ہوں،اور وہ ذو الحجہ سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹ سکا ،تو ان دنوں میں بھی کاٹ سکتا ہے، قربانی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
* تکبیر تشریق :اللہ اکبر اللہ اکبر، لاالٰہ الا اللہ واللہ اکبر،اللہ اکبر وللہ الحمد
* تکبیر تشریق کا وقت: ۹ ذی الحجہ کی فجر سے ۱۳ ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعدمردوں کےلیے بآواز بلند ایک مرتبہ کہنا واجب ہے،اور عورتیں آہستہ آواز میں کہیں
* مذکورہ دنوں میں اگر کسی کی رکعت چھوٹ جائے تو وہ بھی اپنی رکعت مکمل کرنے کے بعد تکبیر تشریق کہے
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...