Skip to content
جمعہ نامہ: فِطرت افراد سے اغماض بھی نہیں کر تی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے‘‘۔ اشرف الخلوقات کا ازخود وجود میں آجانا دنیا کا سب سے احمقانہ تصور ہے لیکن دنیا میں دانشوروں کی ایک بڑی تعداد اس گمرہی پر بھی ایمان رکھتی ہے۔ نفس کی بندگی کے لیے خدا سے انکارکی ضرورت نے حضرتِ انسان کو خالق و مالک کا منکر بنا کر اپنے مقصد حیات سے بے بہر ہ کردیا۔ اس خیالِ خام کی تردید میں ارشادِ فرقانی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نہ صرف ابتداء کی بلکہ :’’ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا، پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے‘‘۔ یعنی دنیا کی زندگی پہلی یاآخری نہیں بلکہ درمیانی مرحلہ ہے۔ فرمانِ قرآنی ہے کہ: ’’لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟” انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں”۔ ابتدائے آفرینش میں بنی نوع انسان سے حق کی گواہی کا مقصد یہ بتایا گیا کہ :’’ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبر تھے،” ۔
دنیوی آزمائش کے بعد برپا ہونے والی آخرت میں منکرین کی کیفیت یوں بیان کی گئی کہ :’’اور جب وہ ساعت برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے ۔ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے ‘‘۔ قیامت کی منظر کشی کے بعد انجام کار سے اس طرح خبردار کیا گیا کہ :’’ جس روز وہ ساعت برپا ہو گی، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بنٹ جائیں گے ۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے ‘‘۔ ان حقائق کے بعدپنجوقتہ نمازوں کی تلقین کرنےکے بعد آخرت کےحوالے سے ایمان و یقین کا اضافہ کی خاطر آفاقی نشانیوں کو گواہ بناکر فرمایا :’’ وہ زندہ میں سے مُردے کو نکالتا ہے اور مُردے میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے‘‘۔ بار بار زمین کی مردنی کےبعد زندہ ہوجانے کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے آخرت کی زندگی کا انکار چہ معنیٰ دارد؟
کتاب الٰہی ایک اورشہادت اس طرح پیش کی گئی کہ :’’ اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو‘‘ ابن آدم کے مٹی سے پیدا ہونے کا سب سے بڑا ثبوت اس کی لاش کا قبر میں رل مل جانا ہے ۔ آگے فرمان ربانی ہے:’’ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں ‘‘۔ انسان کا اپنے زوج سے محبت اور سکون حاصل کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے ۔ یہ نہ صرف نسل انسانی کی بقاء کے لیے ضروری ہے بلکہ قلبی سکون و چین کاذریعہ بھی ہے۔ اس کے بغیر انسان کرب و اضطراب کا شکار رہتا ہے۔
ازدواجی زندگی کے روحانی فوائد کا انکار کرنے والے مغربی ماہرین بھی اس کی طبی و نفسیاتی اہمیت کے معترف ہیں ۔ ماہرین طب کے مطابق نکاح کئی بیماریوں اور امراض مثلاً مالیخولیا تک سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔نیویارک مینٹل ہاسپٹل میں ڈاکٹر ہاولبرگ کے مطابق: ’’مینٹل ہاسپٹل میں عام طور پر داخل ہونے والوں میں ایک شادی شدہ کے بالمقابل چار غیر شادی شدہ ہوتے ہیں‘‘۔ برٹلن نامی ماہر عمرانیت کی تحقیق کے اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کی بہ نسبت غیر شادی شدہ لوگ زیادہ تعداد میں خودکشی کاارتکاب کرتے ہیں، کیونکہ اکثر شادی شدہ افراد کی دماغی اور اخلاقی حالت متوازن اور ٹھوس ہوتی ہے ۔ شادی شدہ خواتین خانہ داری کے بے شمار مسائل میں گھرے رہنے کے باوجود غیر شادی شدہ عورتوں کے مقابلہ زیادہ مطمئن اور خوش ہوتی ہیں۔
مادی ترقی کی خاطر جب انسان قانونِ فطرت سے انحراف کرتا ہے تو اپنے آپ کو مختلف مسائل میں جھونک دیتا ہے ۔ چینی معاشرہ اس کی تازہ مثال ہے۔ چین کی مادی ترقی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور آپریشن سندور کےبعد تو اس نے میدان جنگ میں بھی اپنا لوہا منوا لیا ہے لیکن معاشری سطح پر وہ سنگین مسائل سے دوچار ہوچکا ہے ۔ خاندانی منصوبہ بندی کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے والے چین کو اب بچوں کی پیدائش پر ترغیب دینے کی ضرورت پیش آرہی ہے مگر لوگ رجوع ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ 2020 کی مردم شماری کے مطابق وہاں 105 مردوں کے مقابلے خواتین کی تعداد صرف 100 ہے۔ 10-14 سال کی عمر کے لوگوں میں تو یہ توازن بگڑ کر 118 کے مقابلے 100 پر پہنچ جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق 2020 سے 2050 تک تقریباً 3 سے 5 کروڈ مرد چینی عورتوں سے شادی نہیں کرپائیں گے۔
اپنی فطری ضرورت کی تکمیل کے لیے چینی اب غیر ملکی بیویاں لانے پر مجبور ہورہے ہیں۔ سرکار انہیں دھوکہ دھڑی سے ڈرا کرجاسوسی کے خطرات سے خبردار کر رہی ہے۔ مادی ترقی کے باوجود فطرت انسانی سے بے نیازی کا یہ دنیوی خسارہ ہے۔ اخلاقی خرابیوں اور جنسی مظالم کا معاملہ اضافی ہے۔ وطن عزیز کی حالت بھی بہت مختلف نہیں ہے بلکہ ہریانہ جیسے صوبوں میں تو بدتر ہے۔ اس اجتماعی تباہی سے بچنے کی خاطر قرآن حکیم میں یہ رہنمائی فرمائی گئی ہے کہ:’’پس یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔ اقبال کے مطابق ؎
فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف
Like this:
Like Loading...