Skip to content
مجھے رہزنوں سے غرض نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے دنوں اپنے عہدے پر 11 سال مکمل کرلیے ۔ اس موقع پر اپنی آبائی ریاست کے سوراشٹر میں انہوں نے ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ جاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئےہندوستان کے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔ یہ یقیناً بہت خوشی کی بات ہے لیکن اس کامیابی پر اپنے ملک کے سرمایہ داروں کو مبارکباد دینے کے بجائے انہوں نے پاکستانی عوام کو اپنی قوم کے موقف پر غور کرنے کی تلقین فر مادی ۔وزیر اعظم مودی بولے ،’’میں پاکستان کے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کیا حاصل کیا ہے؟ آج ہندوستان دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے۔ لیکن آپ کا کیا حال ہے؟ جنہوں نے دہشت گردی کو فروغ دیا انہوں نے آپ کا مستقبل تباہ کر دیا۔‘‘ تقریر کے اس حصے کو سنتے ہوئے یہ گمان گزرتا ہے گویا اگلا انتخاب وہ وارانسی کے بجائے کراچی سے لڑنے والے ہیں اور ہندوستان چھوڑ کر پاکستان کا وزیر اعظم بننے کےخواب دیکھ رہے ہیں ورنہ اس خوشی کے موقع پر اپنوں کو بھول کر غیروں کی یاد کیوں آئی؟
وزیر اعظم کی اس شیخی کے جواب میں ہندوستان کے عوام اپنے وزیر اعظم سے سوال کرسکتے ہیں کہ اس کامیابی سے اپنے ملک کے سرمایہ داروں کی تجوری تو خوب بھری مگر عام لوگوں کو کیا ملا ؟ قومی معیشت کے علاوہ فی فرد جی ڈی پی کی بھی ایک فہرست شائع ہوتی ہے۔ اس میں بھوٹان اور سری لنکا بالترتیب 127اور 126 پر ہیں ۔ ہندوستان ان سے بھی نیچے 132پر ہے اور بنگلا دیش و پاکستان بالترتیب 140اور 155 پر ہیں ۔ اس لیے عوامی سطح پر جنوب مشرقی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ان سارے ممالک کے عوام مسکین ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو تو ویسے بھی اسیّ کروڈ لوگوں کو پانچ کلو اناج مفت دینے پر فخر ہے حالانکہ یہ غرور کی نہیں شرم کی بات ہے۔ ایسے میں ہندو ہردیہ سمراٹ کو اڈانی و امبانی سے ہٹ کر ملک کے عام لوگوں کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے ۔ وزیر اعظم نے بڑی چالاکی سے معیشت کے ایک پہلو کا تو ذکر کیا مگر اسی دوران شائع ہونے والی فوربز کی جانب سے جاری ہونے والی پہلے دس ممالک کی فہرست سے ہندوستان کے باہر ہوجانے کو چھپا دیا۔
ہندوستان فی الحال دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ فوجی طاقت اور معیشت دونوں اعتبار سے وہ امریکہ ، چین اور روس کے بعد چوتھے نمبر پر آتا ہے اس کے باوجود فوربز نے 2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی فہرست جاری کی تو ہندوستان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بھی پیچھے ڈھکیل دیا کیونکہ یہ درجہ بندی صرف جی ڈی پی کی کمیت نہیں بلکہ دیگر کیفیات کو بھی مدنظر رکھ کر ترتیب دی جاتی ہے۔ اس میں ملک کی قائدانہ صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس حوالے سے مودی جی کٹہرے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ اگر قیادت کی قوت سے مالا مال ہوتے تو ملک کا نام اتنے نیچے نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اقتصادی اثر و رسوخ اور سیاسی طاقت کو بھی جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ اس کسوٹی پر بھی مودی سرکار پوری نہیں اتر سکی ۔ تیسرے اور چوتھے نمبر پر عالمی اتحاد اور فوجی طاقت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ عالمی اتحاد میں وہ ملک کیا کرسکے گا جو خود تنہائی کا شکار ہوگیا ہے اور فوجی طاقت صرف ہتھیار خرید کر اس پر لیمو مرچی لگانا نہیں ہے۔ ائیر چیف مارشل جگجیت سنگھ خود اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس حوالے سے اپنی تشویش کااظہار کرچکے ہیں ۔
وارٹن اسکول کے پروفیسر ڈیوڈ ری بسٹین اور بی اے وی گروپ کے محققین نے یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے تعاون سےمذکورہ بالا دستاویز تیار کرتے وقت چونکہ مذکورہ بالا ۵؍ عوامل کو پیش نظر رکھا اس لیے ہندوستان پیچھے چلا گیا ۔ یہ فہرست اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ہندوستان جو پچھلے کئی سالوں میں ٹاپ 10 میں شامل ہوتا تھا، اس بار 12ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ وزیر اعظم اگر کسی کامیابی پر فخر جتاتے ہیں تو انہیں اس ناکامی کا الزام بھی لے کر بتانا ہوگا کہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) اور فوجی طاقت کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہونے کے باوجود یہ گراوٹ کیوں آئی؟ ہندوستان کا دنیا کی سب سے تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والی معیشت ہونے کے باوجود اس سال ٹاپ 10 میں جگہ نہ بناپانا حیرت ناک ہے ۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان کی معیشت اگر اسی تیزی سے ترقی کرتی رہی ہے اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری جاری رہے نیز بین الاقوامی تعلقات مضبوط ہوتےر ہیں تب بھی سال 2030 سے پہلےوہ ٹاپ 10 میں واپس نہیں آ سکےگا ۔
مذکورہ بالا ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم کو فرقہ واریت کا ایجنڈا چھوڑ کر پھر سے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کی جانب لوٹنا پڑےگا۔ وزیر اعظم نے ۸؍ سال قبل یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے اندراقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا: ‘عقیدے کے نام پر تشدد کو ہندوستان میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ ملک امن، اتحاد اور خیر سگالی سے چلتا ہے۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہماری تہذیب اور ثقافت ہے۔’ وقت کے ساتھ مودی جی ان باتوں کو بھول گئے اور اس کا نتیجہ ہر کوئی بھگت رہا ہے ۔عالمی سطح پر وقار میں اضافہ کے بجائے کمی آرہی ہے۔ ان خوبصورت جملوں کے تناظر میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اے پی سی آرنامی انسانی حقوق کی تنظیم نے 22؍ اپریل سے 8 مئی تک کی مدت کا احاطہ کرنے والی ایک رپورٹ میں چشم کشا انکشافات کیے ہیں ۔
ایسوسی ایشن آف پروٹیکشن آف سول رائٹس کی رپورٹ کے مطابق، پہلگام حملے کے بعد پورےملک میں مسلمانوں اور کشمیریوں کو نشانہ بنانے والے کم از کم 184 نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کیا گیا یعنی اوسطاً ہر روز گیارہ سے زیادہ کی تعداد درج ہوئی ۔ان میں 84 تو نفرت انگیز تقاریر تھیں اس کے علاوہ 39 حملے، 19 توڑ پھوڑ اور 3 قتل کی وارداتیں تھیں۔پہلگام کی دہشت گردی کا تو شور شرابہ ہوا مگر اس سو دیشی تشدد کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ اس پر وزیر اعظم زبان کیوں نہیں کھولتے؟؟قتل کے واقعات کو دیکھیں تو یہ سبھی جماعتوں کے تحت چلنے والی سرکاروں میں ہوئے۔پہلا واقعہ تو بیشک بی جے پی کے یوپی میں ہوا مگر دوسرا کرناٹک کے اندر جہاں کانگریس برسرِ اقتدار ہے اور تیسرا جے ایم ایم کے جھارکھنڈ میں ہوا۔ وہاں ’انڈیا‘ محاذ کی حکومت ہے لیکن ہر جگہ قاتلوں کا تعلق ہندوتوانوازوں سے تھا۔ چندی گڑھ اور ہماچل پردیش میں کشمیری طالب علموں پر حملے کیے گئے۔ اتراکھنڈکے مسوری میں شال فروشوں سمیت، مسلم دکانداروں پر بھی وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔”
اس دستاویز میں ممبئی جیسے روشن خیال اور ترقی یافتہ شہر ،میں بی جے پی کارکنوں کے مقامی رکن اسمبلی کی قیادت میں بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا کر ہندو ہاکر کے مسلم ملازم پر حملہ کرنےکا افسوسناک واقعہ بھی درج ہے۔ مدھیہ پردیش کے بھوپال میں تو ایک مسلمان ہیڈ کانسٹیبل پر ڈیوٹی پر حملہ کردیا گیا۔ ایک مسلم خاتون کے بچے کو "جے شری رام” کہنے یا "گھسیٹنے” کی دھمکی دی گئی۔علی گڑھ، اترپردیش میں ایک نابالغ مسلمان لڑکے کو پاکستانی جھنڈے پر پیشاب کرنے پر مجبور کیا گیا، اور اتر پردیش کے وارانسی میں غلطی سے خاتون کو چھونے پر ایک نابالغ لڑکے پر حملہ کیا گیا اور آسام میں مسلم رکن اسمبلی امین الاسلام کو این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ وجئے شاہ جیسے نہ جانے کتنے سنگھی سانڈ سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے کے باوجود آزاد گھوم رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم کی تقریر کا وہ جملہ یاد آتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’ ایک وقت بھارت چھوڑو کا نعرہ تھا اور آج بھارت جوڑو کا نعرہ ہے‘۔ راہل گاندھی نے یاترائیں نکال کر بھارت کو جوڑنے کی کوشش تو کی مگر سوال یہ ہے کہ خود مودی اور ان کے بھگتوں نے کیا کیا؟ بھارت کوایسے جوڑا جاتا ہےیا توڑا جاتا ہے؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے ابھی حال میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی نوجوانوں کی نصیحت کی کہ ’’پاکستان کو دہشت گردی کی بیماری سے نجات دلانے کے لیے پاکستان کے عوام، بالخصوص پاکستان کے نوجوانوں کو آگے آنا ہو گا۔‘‘ کاش کے وہ اسی طرح کا مشورہ اپنے بھگتوں کو بھی دیتے جو ان بے قصور لوگوں پر نزلہ اتار رہے ہیں جن کا پہلگام تشدد سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی پاکستانیوں کے علاوہ ہندوتونواز دہشت گردوں کو مخاطب کرکے بھی اگر کہتے کہ ’’سُکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ، ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔‘‘ تو ملک کے اندر امن و امان کی فضا بنانے میں مدد ملتی۔ وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی افواج کی کارروائی کے بعد ’’پاکستان کے ایئربیسز ابھی تک آئی سی یو میں ہیں۔‘‘ مگراس کے باوجود عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیےوفود بھیجنا پڑرہا ہے ۔اس طرح کی نمائشی سرگرمیوں سے نہ ملک کا وقار بلند ہوگا اورنہ فوربز کی فہرست میں نام اوپر نہیں آئے گا بلکہ دنیا تو ٹھوس اقدامات سے متاثر ہوں گے۔ وزیر اعظم چونکہ اپنی ساری ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے پاکستان کو گھسیٹ لاتے ہیں اس لیے ان پرشہاب جعفری کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
تری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہزن سے غرض نہیں
Like this:
Like Loading...