Skip to content
زہراورتریاق
ازقلم:سید عباس، پونہ
آج ہمارے ملک میں لوگوں کے دلوں کی زمین پر زہر کی فصلیں اگائی جارہی ہیں۔ دل کی زمین جو زرخیز بھی ہوتی ہے اور بنجر بھی !ز رخیز زمین پرتو محبت کی فصلیں لہلہاتی ہیں، ان فصلوں کی آبیاری تمام تعصبات سے پرے خالص انسانی تقاضوں کے پیش نظر بھائی چارے اور ہمدردی کے جذبات سے کی جاتی ہے اور اس کے برخلاف مذہب وذات پات کے تعصب کے زیر اثر اجڑ کر بنجر ہورہی زمین کو نفرت کے جذبات سے سینچ کر زہریلی فصلوں کی کاشت کی جارہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نفرت کی یہ کھیتیاں ہر دم پھل پھول رہی ہیں اور ملک میں بھائی چارے کی فضا کوزہر آلود کر رہی ہیں۔
یہ زہر ہماری آنے والی نسلوں پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس ماحول میں پل کر جوان ہو رہی ہماری اگلی نسلوں کے دلوں میں کیا محبت اور بھائی چارے کے لئے جگہ ہوگی ؟ انسانی سماج میں نفرت کی یہ فصلیں آخر کیوں اگائی جارہی ہیں ؟ دل تو محبت سے جیتے جاتے ہیں پھر یہ نفرت کی تخم ریزی کیوں؟ اپنی حکومت کی پائیداری کے لئے حکمراں، عوام کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کو وسیلہ بنا رہے ہیں۔ ملک کا الکٹرانک میڈیا اس کام میں حکومت کا معاون و مددگار ہے۔ دیگر ذرائع ابلاغ کو بھی انہیں کی طرح غلام بنایا گیا ہے جو ہر دم ایک دوسرے کے مذاہب کی آڑ میں لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے رہتے ہیں۔ کچھ اس طرح کے حالات پیدا کر دئیے گئے ہیں کہ کوئی احتجاج کی جسارت ہی نہ کر سکے۔۔۔
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
کے مصداق ماحول بنا دیا گیا ہے۔ مذاہب جولوگوں کے دلوں سے نفرت کے جذبات و احساسات کو نکال باہر کرتے ہیں ،ان میں ٹکراؤ کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ ہم اگر آج ماحول کا جائزہ لیں تو یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اکثریتی عوام کے دلوں میں زہر کی فصلیں اس مذہب کو مٹانے کے لئے لگائی جارہی ہیں جو انسان ہی نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود تمام ذی روح کی زندگیوں میں توازن اور میانہ روی کی تلقین کرتا ہے، اعتدال کی راہ کی رہنمائی کرتا ہے۔ اب ان زہریلی فصلوں سے پوری فضا مسموم ہو چکی ہے۔ ہر دن اس زہر سے اپنی سفلی جبلت کو سرشار کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نشہ بازوں کی آخری سطح زہر ہی ہے۔ تو کیا ہمارے ملک میں اقتدار کے لالچ نے بعض لوگوں کو اس سطح تک پہنچا دیا ہے کہ اب وہ نفرت کے اس زہر کے بغیر جی ہی نہیں سکتے ہیں۔
گذرے وقت کی بات ہے کہ سیاست کا مفہوم تھا۔۔۔ ملک کی خدمت ، جو فرد کے اطراف کھنچے دائرے سے نکل کر سماج کا احاطہ کرتی ہوئی ملکی سطح تک پہنچتی تھی ۔ آج لگتا ہے فرد کی قیمت صفر ہو گئی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہر فرد کی اپنی قیمت تو صفر ہے لیکن آج یہ صفر نفرت کی اکائی پر فرداََ فردا ََ لگ کر نفرت کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں۔ حالاں کہ اس میں بعض افراد کی اپنی مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے لیکن جب آندھی چلتی ہے تو سب کچھ اڑا لے جاتی ہے۔ آج انتہائی تیز رفتار سے چل رہی اس آندھی کا ہم مقابلہ نہیں کر پارہے ہیں۔ بے شک محبت کے چھڑکاؤ سے ہی نفرت کے شعلے بجھائے جاسکتے ہیں لیکن اقتدار کی پشت پناہی اس آگ کو اس تیزی سے بھڑ کا رہی ہے کہ محبت کی پھوار کی بے بسی عیاں ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ محبت کی اخلاقی طاقت ہی ان بھڑکتے شعلوں کو زیرکر سکتی ہے۔
ایک وقت وہ بھی تھا کہ سیاست کا راستہ خدمت خلق کے گلیاروں سے ہو کر گذرتا تھا۔ کئی سماجی کارکن تو ایسے ہوا کرتے تھے جنہیں سیاست سے ہی پر ہیزتھا۔ ابھی بہت دن نہیں گذرے ہم نے دیکھا ہے کہ ہماری فلمیں سماج میں پھیلی برائیوں کی بیخ کنی میں اپنا مثبت رول ادا کرتی تھیں اور ایک طرح سے حب الوطنی ، سماجی ہم آہنگی ، سماجی اقدار، انصاف ، آپسی بھائی چارہ ورواداری کی رجحان ساز ہوا کرتی تھیں ۔ علاقائی اور عالمی زبانوں میں تخلیق ہوتا شعری ونثری ادب بھی ان ہی اقدار کا آئینہ دار ہوا کرتا تھا۔ اب ان زہریلی فضاؤں نے سب کچھ تہس نہس کر دیا ہے۔ فلمیں جو سماج کی ذہن سازی کا نہایت ہی زوداثر وسیلہ ہیں اور بہت ہی مئوثر انداز میں سماجی رجحانات میں دیر پا تبدیلیوں کا ذریعہ بھی ہیں، آج اپنی منفی اور متنازع پیشکش سے نفرت کی آبیاری کر رہی ہیں۔
شعری و نثری ادب کے میدان پر بھی اب وہ پوری طرح قابض ہونا چاہتے ہیں۔ ادب جو صرف سماجی شعور کی بیداری کا پر اثر ذریعہ ہی نہیں بلکہ افراد کی کردار سازی کا وسیلہ بھی ہے ، اب وہ بھی زہر آلود ہوتا جارہا ہے۔ جس طرح دن کی روشنی رات کے اندھیروں کے حوالے ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے اسی طرح پچھلے وقتوں کے مثبت سماجی رویے اپنا وجود کھوتے چلے جارہے ہیں۔۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ رات کی کوکھ سے پھر دن طلوع ہوگا کیونکہ یہی قدرت کا نظام ہے۔ لیکن لوگوں کی اس زہر آلود سوچ میں تبدیلی کیوں کر ہوگی؟ اب تو یہ ہورہا ہے کہ رجحان ساز شخصیات بھی زہر کی ان فصلوں کی آبیاری میں لگی ہوئی ہیں۔۔۔ مذہبی رہنماؤں میں بھی لوگوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کی ایک قسم کی ہوڑ لگی ہے۔ اب تو ایک مخصوص ذہنیت کے مذہبی رہنما مختلف کاروبار میں بھی اپنا سکہ جمارہے ہیں جہاں سے سیاست میں داخلے کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔
بے شک کاروبار کرنا کسی کے لئے بھی ممنوع نہیں ہے۔ لیکن مذہبی رہنما ہونے کے ناطے اپنے برتاؤ میں شفافیت برتتے ہوئے انہیں چاہیئے کہ وہ اپنی خطابت کی صلاحیتوں سے لوگوں کے دلوں میں پنپ رہے نفرت و تفریق کے جذبات کی بیخ کنی کر محبت اور بھائی چارے کا ماحول پیدا کریں کہ آج ہمارے ملک کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ انسانی دل ہی وہ جگہ ہے جہاں نفرت پہنچتی ہے اور مذہب ہی اس نفرت کو مٹا کر محبت کے لئے جگہ فراہم کرتا ہے تا کہ تمام انسان اس دنیا میں امن و آشتی سے رہ سکیں۔ یوں تو اللہ تعالی نے اس روئے زمین کی خلافت ہمیں سونپی تھی لیکن ہم اپنا فرض منصبی پوری طرح نبھا نہیں سکے ۔ آج ہم اس کوتاہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم اس ظلم و بربریت کی فضا کو اسلامی اصولوں کی بنیاد پر تبدیل کر ہماری اس زمین کو اس قابل بنا ئیں کہ ہر کوئی یہاں سکھ وچین سے جی سکے۔ ہماری زمین پر چاہے پھر وہ جنگلات ہوں کے میدانی علاقوں میں رہ رہے جانور اور بے شمار حشرات الارض ہوں یا پھر سمندروں میں رہنے والے جاندار ،سبھی قدرت کے مروجہ قانون کے تحت اپنی زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی بھوک بھی مٹاتے ہیں اور اپنی نسلوں کی افزائش بھی کرتے ہیں۔ اپنی بھوک مٹانے کی خاطر وہ دیگر جانداروں کا شکار کرتے ہیں لیکن ان کے شکار کرنے کا مقصد اپنی بھوک مٹانا ہوتا ہے نہ کہ کسی جاندار کی نسل کشی ! ایک مضبوط و با ہمی تال میل کے تحت یہ سلسلہ چل رہا ہے۔۔۔ پھر انسان یہ سب کیوں کر رہا ہے؟
آخر یہ ظلم کب رکے گا۔ نفرت ایک زہر ہے، اس زہر کے زیر اثر ہی ظالم ظلم پر آمادہ ہوتا ہے۔ نفرت کا زہر ظلم کے پودے کی جڑوں کو خوراک بہم پہنچا کر ایک مضبوط اور تناور درخت بنادیتا ہے۔ آج ہر طرف ظلم کا بازار گرم ہے اور پورا معاشرہ ظلم و زیادتی کا شکار ہے۔ حالانکہ اللہ تعالی ظالموں سے نفرت کرتے ہیں ، اسی بناء پر ان کی ہلاکت یقینی ہے ، لیکن مظلوموں کو بھی چاہئیے کہ وہ ظلم کے خلاف جدو جہد کریں کیوں کے ظلم کے خلاف جدو جہد نہ کرنے والے ذلت میں مبتلا ہوتے ہیں اور آج ہمارے ساتھ یہی تو ہورہا ہے۔ قرآن کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو وہ ایک جاندار کو بھی زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دیے جاتا ہے پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں ( سور ہ النحل)۔ کیوں ہم نے یہ بات ان ظالموں تک نہیں پہنچائی ؟ کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں تھی کہ ہم ان ظالموں کو اللہ کے کلام سے آگاہ کرتے ، اور پھر انہیں ہدایت دینے والی ذات تو اللہ ہی کی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں۔ ہمیں اپنے معمولات زندگی میں کتاب الہی کی تعلیمات کا نمونہ پیش کرنا ہوگا۔آج ہم سے نفرت کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارا انفرادی طرز عمل بھی ہے، افراد ہی تو قوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔سب سے پہلے ہمیں اپنے بکھراؤ پرقابو پا کر بطور قوم متحد ہونا ہوگا، جو کہ موجودہ حالات میں بظاہر تو مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ ذات پات کے کئی خانوں میں بٹے ہوئے لوگ محض ہم سے نفرت کی بنیاد پر متحد ہو سکتے ہیں تو پھر ہم میں یہ بکھراؤ کیوں ہے؟
ہماری کمزوریاں جو کہ ہماری برائیاں بن چکی ہیں بتدریج حکومت کے نشانے پر آتی جارہی ہیں اور وقفے وقفے سے یکے بعد دیگرے ان میں سدھار کے جھوٹے دعوؤں کے نام پر بالواسطہ مذہبی امور میں مداخلت کی جارہی ہے اور مذہب کو کھلے عام نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کیا اب ہماری یہ حیثیت بھی نہیں رہی کہ ہم ارباب اقتدار سے کہہ سکیں کہ کلام پاک میں فرمان خداوندی ہے ”آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا ہے۔۔۔ اور تمہارے لئے اسلام کے دین کامل ہونے پر رضامند ہو گیا۔“۔۔۔ تو پھر اب دین میں بقول ارباب اقتدار سدھار کی گنجائش کہاں؟ اور پھر اللہ تعالی کے کامل کردہ دین میں یہ باطل طاقتیں سدھار کریں گی؟
۔۔۔ کیوں ہمارا ایمان اسقدر کمزور ہو گیا ہے کہ ہم باطل طاقتوں سے مرعوب ہیں؟ ہمارے ملک کی باطل طاقتوں کے ذریعے اللہ کی شریعت میں مداخلت کیا ہمارے کمزور ایمان کی دلیل نہیں ہے؟ ان طاقتوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہو گا اور یہ طاقت ہمیں علم سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ علم کی طاقت اٹوٹ ہوتی ہے۔حصول علم ہی ہمارا مقصد حیات ہونا چاہیئے تب ہی ایک بار پھر وقت ہمارا ہوسکتا ہے۔۔۔!
*****
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بہت بہترین مضمون لکھ کر آپ نے ملت کو جھجوڑنےکی کوشیش کہی ہے
افسوس ملت بیدار نہی ہوگی فرعون سے اللہ تعالی اسکے بندوں کو بچایا اگر اسکو رحم آیا تو ان ظالموں سے نجات دے گا
مگر ہمارے اعمال کا اس میں کافی دخل ہے ہم کو اس کا جائزہ لینا ہے