یوکرین: گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
روس یوکرین کی حالیہ جنگ اس ہفتہ1200؍دن مکمل کرلے گی۔ ۶؍ ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دن میں جنگ بند کرنے کادعویٰ کرکے اقتدار سنبھالا تھا ۔ ۶؍ دن قبل دونوں متحارب ممالک استنبول میں امن مذاکرات کررہے تھے مگر پھر اچانک ایک غیر معمولی واقعہ رونما ہوگیا ۔ یوکرین نےاچانک ایک ڈرون حملے میں چار روسی فضائی مراکز اور چالیس جنگی طیارے تباہ کرنے کا دعوی کردیا ۔ یوکرین کے روس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملےنے عالمی عسکری ماہرین کو چونکا دیا۔ یکم جون کے حملے کوسیندور جیسا سیاسی نام نہیں بلکہ آپریشن ’’مکڑی کا جال‘‘ (Spider Web) سے منسوب کیاگیا۔ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے میں تیاری شدہ اس مکڑی کے جال نے ہزاروں کلومیٹر دور واقع روسی فضائی اڈے کو اپنی زد میں لےکر تباہ کردیا ۔ اس طرح روس تو کجا امریکہ بھی پریشان ہوگیا۔ یہ حملہ ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو اپنی طاقت کے نشے میں چور ہوکربظاہر کمزور نظر آنے والے ہم سایہ ممالک پر چڑھ دوڑنےکے بعد منہ کی کھا کر رسوا ہوجاتے ہیں۔
آپریشن سیندور کے برعکس ’مکڑی کا جال‘ کی میڈیا کو ہوا بھی نہیں لگی ۔ اس کے تحت لکڑی کے موبائل کنٹینرز میں چھپا کر مخصوص قسم کے ڈرونزکو روس میں اہداف کے قریب اسمگل کیا گیا ۔ اس کے بعد منصوبہ بند طریقہ بیک وقت ان کنٹینرز کی چھتوں کوریموٹ کنٹرول کے ذریعے کھول کر ڈرونز سےمنتخبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مہم کی کامیابی کے بعد یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی نے اسے یوکرین کی جنگی تاریخ کا ’’سب سے دور مار کرنے والا آپریشن‘‘ قرار دیا ۔یوکرینی سکیورٹی سروس کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن میں روس کے 40 سے زائد Tu-95 اور Tu-22M طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک بمبار طیارے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔ ان طیاروں کو یوکرین پر کروز میزائل حملوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔یوکرینی سکیورٹی سروس کے مطابق روسی فضائی میزائل بردار بیڑے کا تقریباً 34 فیصد ایک جھٹکے میں تباہ ہوگیا۔ روس جیسے سُپر پاور کی ایک تہائی فضائی قوت کو نیست و نابود کردینے کا دعویٰ ایسا ہی ہے جیسے ؎
پِلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوز،کہ آتی نہیں فصلِ گُل روز روز
اُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے،لڑا دے ممولے کو شہباز سے
جنگ کے دوران اپنی کامیابی بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور نقصان کو گھٹا کر بتانا عام سی بات ہے۔ اسی اصول کے تحت روسی وزارتِ دفاع نے حملوں کی تصدیق توکی تاہم ان میں سےبیشترکو ناکام بنا کر کچھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کردیانیز روس کی وزارت دفاع نے مرمانسک، ایرکوتسک، ایوانوو، ریازان اور امور نامی پانچ اہم فضائی اڈوں پر حملوں کا اعتراف بھی کرلیا۔ مرمانسک اور ایرکوتسک کے اندرطیاروں میں آگ لگنے کی تصدیق کے ساتھ آگ پر قابو پا نے اور کسی جانی نقصان کےنہیں ہونے کی بات کہی گئی جو بظاہر ناممکن ہے۔ اس عسکری مہم کی خصوصیت یوکرین کی سرحد سے 4300 کلومیٹرکی دوری پر واقع ایرکوتسک فضائی اڈہ پر حملہ ہے۔ روسی فوجی حلقے اس حملے کو ’’سیاہ دن‘‘ قرار دےکراسے ماسکو کے لیے ’’شدید دھچکہ‘‘ اور انٹیلی جنس کی ’’سنگین ناکامی‘‘ بتا رہےہیں تاہم غرور چکنا چور ہوجانے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن صدمے میں خاموش ہیں ۔
یوکرینی حملے کا طرۂ امتیاز کی منصوبہ بندی میں رازداری کے ساتھ کمال کی ندرت ہے۔ اس حملےنے ثابت کردیا کہ چھوٹے، سستے ڈرونز بھی جدید ترین، مہنگے ہتھیاروں کو برباد کرسکتے ہیں۔ بمبار طیاروں کے کمزورترین مقام ایندھن کے ٹینک کوڈرون سے نشانہ بنا کر خود اسی کی آگ میں انہیں بھسم کیا جاسکتاہے۔ یوکرین نےنہایت کم خرچ، مگر انتہائی مؤثر کارروائی کے ذریعے روس کی فضائی صلاحیت کو جس طرح نقصان پہنچایا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اعدادو شمار سے لگایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حملے میں روس کوتقریباً سات ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کے لیے جن ڈرونز کا استعمال کیا گیاان کی قیمت صرف 4000 ڈالر فی ڈرون ہے۔ یعنی مہنگے اسلحہ کے علاوہ دولت کا غرورمیں مبتلا لوگ بھی خطرے سے باہر نہیں ہیں۔ جوابی کارروائی میں روس نے یوکرین کے خارکوف علاقے میں اسکندر ایم میزائلوں سے حملہ کرکے 6 ڈرون لانچرز اور تقریباً 30 بلاپائلٹ کی فضائی گاڑیوں کو تباہ کر کے ڈرون لانچ کرنے کا ذریعہ بند کردینےکا دعویٰ کیا ہےلیکن جب چڑیا چگ گئی کھیت تو اب ان حملوں سے کیا حاصل ؟
یوکرین کی فوجی کارروائی نے ماہرین جنگ کے درمیان نئے مباحث کا آغاز کردیا ہے ۔ وار زون نامی مشہور حربی ویب سائیٹ کے مدیر اعلیٰ اور معروف دفاعی تجزیہ کار ٹائلر روگاوے نے تو اس حملے کے بعد امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ، ’یہ حملہ نہ صرف روس بلکہ امریکہ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ کل کو امریکہ میں بھی ایسا حملہ ہو سکتا ہے۔ روگاوے نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں خبردار کیا کہ’ ہمارے سب سے قیمتی طیارے زمین پر بیٹھے بٹھائے نشانہ بن سکتے ہیں‘۔ انہوں نے امریکہ کی عسکری اور سیاسی قیادت کو آنکھیں کھولنے کی تلقین کی۔ روگاوے نے آگاہ کیا کہ ’امریکہ اور بیرون ملک ہمارے ایئربیس میں بم شیلٹر نہیں ہیں۔ چین کے 400 ہارڈن ائیرکرافٹ شیلٹر س کے مقابلے امریکہ کا صرف 22 محفوظ مقامات بنانااس کی عدم سنجیدگی کا ثبوت ہے ۔‘وہ پچھلی دہائی سے خبردار کر تےرہے ہیں کہ اس طرح کا حملہ کسی بھی ملک میں ہو سکتا ہے اور اب چونکہ روس میں یہ ہوچکا ہے اس لیے پوری دنیا کو خوابِ غفلت سے بیدار ہوجانا چاہیے۔
یوکرین کے مذکورہ بالا حملے سے قبل روسی رعونت کا اندازہ استنبول کے اندر اس کی پیش کردہ شرائط سے لگایا جاسکتا ہے۔ امن مذاکرات میں روس نے مطالبہ کیا کہ یوکرین کریمیا اور چار دیگر علاقوں،لوہانسک، دونیتسک، زاپوریزیا اور خیرسون سے مکمل طور پر دستبردار ہوجائے کیونکہ ان پر 2014 سے روس کاقبضہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حالیہ تنازع صرف تین سال تین ماہ پرانا نہیں بلکہ گیارہ سالوں سے جاری ہے۔ پچھلے چالیس ماہ میں تو اس سرد جنگ میں گرمی آگئی ہے۔ امن مذاکرات کے دوران روس نے نہ صرف یوکرین کو اپنی فوج محدود کرنے کی تلقین کی بلکہ نیٹو میں شمولیت اختیار کرنے سے گریز کے علاوہ روسی بولنے والے شہریوں کے حقوق کو تحفظ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے روسی زبان کو سرکاری حیثیت دینے کی بات کہی۔ اس کے علاوہ ’ نازی ازم کی تعریف‘ کے خلاف قانونی پابندی عائد کرنے پر بھی زور دیا ۔ظاہرہے کسی غیر سے اس طرح کے احکامات کو کوئی خود مختار ملک قبول نہیں کرسکتا اس لیے یوکرین نے ان مطالبات کو ’خودسپردگی‘ کے مترادف قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ روس کی یہ شرائط امن قائم کرنے کے بجائے جنگ کو طول دینے کی سازش ہیں۔
مارچ 2022 کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان منعقد ہونے والے ان مذاکرات کا انجام ناکامی کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا؟ بمشکل ایک گھنٹہ جاری رہنے والی اس بات چیت میں دونوں فریق صرف جنگی قیدیوں کے تبادلے اور ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشیں واپس کرنے پر متفق ہوسکے۔یہ بھی کوئی معمولی تعداد نہیں ہے۔ اس معاہدے کے تحت تقریباً 12,000 ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشوں تبادلہ ہوگا۔ دورانِ گفتگویوکرین نے روس پر جبراً 400 یوکرینی بچوں کو لے جانے کا سنگین الزام لگایا۔ تاہم روس نے صرف 10 بچوں کو واپس کرنے کی بات قبول کی۔ روس کا دعویٰ ہے کہ ان بچوں کو جنگ زدہ علاقوں سے ان کی حفاظت کے لیے نکالا گیا تھا، جبکہ یوکرین اس عمل کو اغوا قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک میں تعداد کا وسیع تفاوت شدید عدم اعتماد کی علامت ہے۔ مایوسی کے اس عالم میں بھی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اس ملاقات کو ’مثبت‘قراردیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو ایک ہی میز پر لا سکتے ہیں۔ اس گفتگو میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ نے بارہا اس جنگ کے حوالے سے اپنی فکرمندی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نےحال میں یوکرین جنگ کوBloodbath قرار دے کر اس کے جلد خاتمے کی اپیل بھی کی تھی مگر روس اور یوکرین نے ان سے اتفاق نہیں کیا ۔ روس عارضی جنگ بندی کے بجائے طویل مدتی معاہدہ چاہتا ہےلیکن یوکرین کاالزام ہے کہ پوتن کو امن میں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ ایسے میں اگر میاں بیوی ہی راضی نہ ہوں تو ٹرمپ یا اردوان جیسے قاضی کیا کرلیں گے؟ ویسے اگر اس یوکرینی حملے کے بعد روس عقل کے ناخن لے تو بات بن سکتی ہے کیونکہ یوکرین نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ہار ماننے کے بجائے ’تنگ آمد بجنگ آمد ‘ ہے اور جھکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین اپنا دفاع کر رہا ہے اور روس کو جنگ ختم کرنے کی ضرورت محسوس کروانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ان کے مطابق چونکہ روس نے یہ جنگ شروع کی ہے،اس لیے اسی کو اسے ختم کرنا ہو گا۔ یوکرینی حملے نے بہر حال طاقت کے نشے میں چور دنیا بھر کے حکمرانوں کو جگانے کاکام تو کیا ہے اب وہ کتنے ہوش میں آتے ہیں یہ تو وقت بتائے گا۔ زیلنسکی کے عزمِ مصمم پر ساحر کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
Here To Join Us On WhatsApp Channel
