Skip to content
آسمانی عدالت ابھی باقی ہے
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
انسانوں کےآپسی رشتہ کو رشتہ انسانی اور رشتہ آدمی کہا جاتا ہے ،انسانوں کے درمیان کا یہ رشتہ تمام انسانی رشتوں میں سب سے قدیم اور پُرانا ہے ،اسی رشتہ سے باقی تمام رشتے وجود میں آئے ہیں ،انسانی رشتہ دراصل ابوالبشر سیدنا آدمؑ سے وجود میں آیا ہے ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کردہ آخری کتاب’’ قرآن مجید‘‘ میں اس کی صراحت موجود ہے کہ سیدنا آدمؑ سب سے پہلے انسان اور آدمی ہیں اور سارے انسان انہی کی اولاد ہیں ، قرآن مجید میں ارشاد رب العالمین ہے:یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَأُنثٰی(الحجرات:۱۳)’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا‘‘ اسی رشتہ انسانی کی بنیاد پر ہر انسان دوسرے انسان کا بھائی کہلاتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر سیدنا محمد الرسول اللہؐ نے جہاں انسانی رشتوں کے حقوق وآداب بتلائے ہیں وہیں بہت ہی اہتمام اور نہایت وضاحت کے ساتھ انسانی رشتے کے حقوق وآداب بھی بیان فرمائے ہیں اور آپؐ نے انسانی رشتہ کا عملی پاس ولحاظ کرتے ہوئے پوری دنیا اور خصوصاً اپنے ماننے والوں کو تعلیم فرمائی کہ انسان چاہے جس قبیلے سے تعلق رکھتا ہو یا کسی ملک کا باشندہ ہو یا پھر کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو محض انسانی بنیاد پر اس کی تعظیم وتکریم اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا ضروری ہے ،آپؐ نے متعدد مواقع پر انسانوں کے ساتھ انسانیت کا برتاؤ کرنے ، آدب و احترام کا پاس ولحاظ ر کھنے ، ترحم کا معاملہ کرنے ،حسن سلوک سے پیش آنے ، ایثار وہمدردی دکھانے اور آپس میں محبت ومؤدت کے ساتھ میل جول قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے ،ایک موقع پر انسانوں کے ساتھ ترحم سے پیش آنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا :جو شخص محض انسانی بنیاد پر کسی دوسرے انسان کے ساتھ ترحم کا معاملہ کرتا ہے تو خدائے رحمن بھی اس پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے ، انسانیت کے ساتھ ومحبت وہمدردی اور ترحم وحسن سلوک کرنے والے کو رحمت الٰہی کا مستحق قرار دیتے ہوئے آپؐ نے ارشاد فرمایا : مخلوق ِ خدا پر رحم کھانے والوں اور ان کے ساتھ ترحم کا معاملہ کرنے والوں پر خدائے رحمن کی خاص رحمت ہوگی ،( اس لئے اے انسانوں!) تم زمین والی مخلوق پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحمت فرمائے گا(ابوداؤد:۴۹۴۳)، برخلاف جو انسان کسی دوسرے انسان پر زیادتی کرتا ہے ،اپنی قوت وطاقت اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھا تے ہوئے اس پر ظلم وزیادتی کرتا ہے تو وہ یقینا ظالم ہے ،ایسا انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت ،شفقت اور عنایت سے دور ہوجاتا ہے، آپؐ نےسخت دل اور ظلم کرنے والے شخص کو رحمت الٰہی سے محروم بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: اُس شخص پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوگی جو اس کے پیدا کئے ہوئے انسانوں پر رحم نہ کھائے اور ان کے ساتھ رحمت وشفقت کا معاملہ نہ کرے(بخاری:۷۳۷۶)، پھر جب ظالم ظلم وزیادتی میں حد سے تجاوز کرتا ہے اور بلاوجہ انسانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے ،ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا ہے ،ان کو ناحق تکلیف دیتا ہے اور ان کے ناحق قتل سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرتا ہے تو ایسا شخص صرف ایک انسان کا قاتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قتل کرنے والا ہے ،قرآن مجید میں رب العالمین کا ارشاد ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا(المائدہ:۳۲)’’جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والاہو،قتل کر ڈالیں تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا‘‘ ،اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے زمین پر بسنے والے ایک ایک انسان کی عظمت و اہمیت اور اس کے جان کی قدر وقیمت کا اندازہ ہوتا ہے ،یقینا اللہ تعالیٰ کی نظر میں کسی انسان کا ناحق قتل کرنا زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے،ایسا شخص بدترین قسم کا مجرم اور سخت ترین سزا کا مستحق ہے ،ایسے مجرم کو فوراً کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے کیونکہ اس نے اپنے گھناؤنے عمل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے اس کے غضب کو دعوت دی ہے اور زمین کو رنگین کرتے ہوئے اسے ناپاک کر دیا ہے ،لہذا ظالم کا قصاصاً قتل ہی زمین کی پاکی،ظلم کا سد باب اور انسانیت کے لئے چین وسکون کا ذریعہ ہے۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم وتشدد کا بازار گرم ہے اور ظالم چاہے جس علاقے اور جس مذہب کے ماننے والے ہوں ظلم تو بہرحال ظلم ہے، مظلوم کی فوراً فوراً مدد کرنا اور ظالم کو ظلم سے روکنا ہر انسان کا انسانی فریضہ ہے اور ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانا ہی دراصل ظلم کے سد باب کی طرف پیش رفت کرنا ہے، عمومی طور پر ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طور پر اور اپنی طاقت وقوت کے مطابق ظلم کے خاتمہ کی کوشش کریں ، بہر حال دو چیزوں کے ذریعہ ہر انسان ظلم کو روکنے کی کوشش وسعی کر سکتا ہے ،ایک اپنی زبان کے ذریعہ اور دوسرے اپنے دل میں اس عمل کو بُرا سمجھتے ہوئے ،اہل علم تیسری چیز بیان کرتے ہیں کہ انسان اپنی ذات سے کسی کے اوپر ظلم ہونے نہ دیں ، رہی بات بقیہ ظالموں پر پکڑ کرنا ،ان پر شکنجہ کسنا اور انہیں سزا دینا تو یہ ملکی حکومتوں ،عدالتوں اور قانون کے محافظوں کی ذمہ داری ہے ، ظلم پر تماشائی بنے رہنا اور صرف زبانی مذمت کرنا ظالموں کی طرف داری کے مترادف ہے، ظلم وستم کے بعد اگر ظالم آزاد گھوم رہاہے اور مظلوم دہشت زدہ ہے ،ان کی فریاد سننے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے اور حکام وعہد دار آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں تو یہ بھی ایک طرح کے مجرم اور ظالموں کے ساتھ ظلم میں برابر کے شریک ہیں، ظالم کی پشت پناہی کرنے کے جرم میں یہ بھی مجرم کے ساتھ سزا کے مستحق ہیں، ہمارےملک کی بدقسمتی کہ یہاں پچھلے چند سالوں سے بعض شر پسند عناصر مذہبی تعصبیت میں ڈوب کر ، اپنے دبدبہ قائم کرنے کے لئے اور اپنے منفعت کی خاطر مخصوص طبقہ کو اپنے ظلم کا نشانا بناتے جارہے ہیں ، ملک کے مختلف علاقوں میں آئے دن کچھ نہ کچھ واقعات پیش آتے جارہے ہیں ،ظالم منظم طریقہ سے ظلم وبربریت کا مظاہرہ کرتے جارہے ہیں ،مخصوص طبقہ بالخصوص مسلمانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے جارہے ہیں ، کبھی یہ ظالم اپنی طاقت کے نشے میں چور ہوکر کسی نہتے اور مظلوم مسلمان کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں تو کبھی صف نازک کو اپنے فریبی محبت کے جال میں پھنسا کر اس کی عصمت کو تارتار کررہے ہیں ،کبھی کسی مسلمان غیر ضروری الزام عائد کرتے ہوئے اس کی جائداد کو تباہ وبرباد کر رہے ہیں تو کبھی کسی تعلیم یافتہ نوجوان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اس پر جھوٹے مقدمات دائر کرتے ہوئے انہیں سلاخوں کے پیچھے بند کر رہے ہیں اور خاص کر اکثرتی طبقہ کے لوگ اپنے عید وتہوار کے موقع پر مسلمانوں کے املاک کو نشانا بنارہے ہیں اور اپنے غیر اخلاقی بلکہ غیر جمہوری حرکتوں کے ذریعہ اقلیتی طبقہ میں خوف ودہشت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، جب بھی چھوٹی چھوٹی عیدیں اور تہوار آتے ہیں تو لوگ خوف میں مبتلا ہورہے ہیں ، ابھی چند روز قبل مسلمانوں کی عیدالاضحی کے موقع پر جس میں مسلمان مخصوص جانوروں کی قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور اس کے ذریعہ تقرب الٰہی کو پانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کی آئین ہند نے انہیں مکمل اجازت بھی دی ہے مگر اس موقع پر بعض شر پسند عناصر کھلے عام ظلم زیادتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو جانور لانے سے روکتے رہے بلکہ انہیں بُری طرح سے پیٹ کر زخمی بھی کرتے رہے ،حالانکہ اس کے لئے حکومت ہر سال زبردست بندوبست کرتی ہے اور غیر قانونی کام کرنے والوں پر اپنا شکنجہ کستی بھی ہے مگر نہ جانے کس نے ان ظالموں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دی ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ ان کی اس غیر قانونی حرکت پر قانون کے رکھوالے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ،جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ظالموں نے ظلم وجبر کی انتہا کردی ، سوشل میڈیا پر بعض تصویریں دیکھ کر ایسا معلوم ہورہا تھا کہ یہ لوگ قانون سے بالا تر ہیں اور قانون تو ان کے لئے بنایا ہی نہیں گیا ہے ، یہ کوئی ایک دو واقعات نہیں ہیں بلکہ روزانہ اخبارات ،ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر اس کی بھر مار ہے اور ہر دن ظلم وستم کے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ جسے سن کر اور دیکھ کر جسم پر لرزہ طاری ہوتاجا رہا ہے، آنکھیں اشک بار ہوجاتی جارہی ہیں،دل رورہا ہے اور معمولی سی بھی انسانیت رکھنے والا مغموم ہے ۔
ایسا نہیں کہ ان واقعات پر ہر طرف سے خاموشی چھائی ہوئی ہے اور لوگ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں بلکہ سنجیدہ ، انسانیت کا درد رکھنے والے اور امن وامان کا مزاج رکھنے والے افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور اپنے اپنے طور پر غم وغصہ کا اظہار بھی کر رہے ہیں ،مگر افسوس اس بات پر ہے کہ حکومت کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ان واقعات پرسرد مہری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنی خاموشی کے ذریعہ اس گھناؤنے عمل کی گویا خاموش تائید کر رہے ہیں،ان لوگوں کی خاموشی شرپسندوں کے حوصلے بلند کر رہی ہےحالانکہ یہ حکومت اور حکومت کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ذمہ داروں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ مجرموں کو چاہے وہ کسی مذہب وملت سے تعلق رکھتے ہوں ان پر قانی شکنجہ کستے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچا ئیں تاکہ دوسروں کو اس طرح کی گھناؤنی حرکتیں کرنے سے بازرکھا جاسکے اور جو امن کے اورانسانیت کے دشمن ہیں انہیں اس طرح کی حرکتیں کرنے کے لئے آئندہ ہمت نہ ہو ،یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ظلم تو بالآخر ظلم ہی ہے اور اس کی کسی مذہب میں اجازت نہیں ہے اور جب ظالم ظلم کرتا ہے تو مذہب اس سے برأت کا اظہار کرتا ہے چاہے وہ خود کو اس مذہب کا ماننے والا گردانتا کیوں نہ ہو ،یہ بات بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سبھی کے نزدیک مجرموں کی تائید کرنا اور ان کی پشت پناہی کرنا بھی ایک گھناؤنا جرم ہے ، آج اگر کسی اور کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے چاہے ظلم و زیادتی کرنے والے طاقتور ہیں مگر انہیں یاد ر کھنا چاہئے کہ ظلم کا بھی ایک دن ہوتا ہے اور اس دن کو بھی بالآخر غروب ہونا ہے۔
حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی تمام رعایا کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے ، سب پر یکساں نظر رکھے اور ملک کی یکجہتی کو بنائے رکھے اور اگر کوئی امن وامان کے بگاڑ نے کی کوشش کرے تو اس پر قانونی شکنجہ کستے ہوئے اس کی خبر لے ،یہ کام حکومت اچھی طرح کر سکتی ہے ،اسے کرنا بھی چاہئے اور اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے،اگر ظالم ظلم پر جری ہے اور مظلوم شکستہ دل اور انصاف سے محروم ہے تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے بلکہ تعصبیت کا شکار ہے ،چونکہ مظلوم کے پاس فریاد رسی کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے تو آخر میں وہ اپنا معاملہ ایسی ہستی کے حوالے کردیگا جس کی قدرت وطاقت سب سے بڑی ہے اور جس کی حکومت لازوال ہے ،وہ جس وقت پکڑتا ہے تو اس طاقت سے پکڑتا ہے جسے کوئی چھڑا نہیں سکتا اور جس وقت سزا دیتا ہے تو ایسی عبرتناک سزا دیتا ہے کہ جس کا دنیا والے تصور نہیں کر سکتے ہیں ،دنیا کی عدالتیں چاہے مجرموں کو آزاد کردے مگر آسمانی عدالت سے وہ بچ نہیں سکتے ، قیامت کے دن خدائی عدالت قائم ہوگی اور مجرموں کو فرشتے پکڑ کر لائیں گے اور ان کے حق میں ایسی سزا کا فیصلہ سنایا جائے گا جسے سن ان کی روح کانپ اٹھے گی ، انہیں منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں داخل کیا جائے گا ،اس دن انہیں پتا چلے گا کہ وہ تو دنیا کی دعدالت سے تو بچ گئے تھے لیکن الٰہی عدالت سے بچ نہیں پائے ،اس دن ان ظالموں کے ساتھ انہیں بھی سزا دی جائے گی جو انہیں دنیا میں بچانے کی کوشش کئے تھے ،ہر طرح کے گھناؤنے جرم کرکے بچ جانے والوں کے لئے شاعر نے کہا ہے اور بہت سچ کہا ہے ؎
اک رہائی تو مل گئی لیکن
اس کی باقی ابھی عدالت ہے
Like this:
Like Loading...