Skip to content
ترکیہ کا حوصلہ مند سفارتی اقدام: افغانستان سے تعلقات اور عالمی سیاست پر اس کے اثرات
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین،اکولہ،مہاراشٹر
ترکیہ اور افغانستان کے تعلقات ایک صدی پر محیط تاریخی، ثقافتی اور سیاسی رشتوں کا تسلسل ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان تعلقات کو غیر معمولی سفارتی چیلنجز اور مواقع کا سامنا رہا ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی عالمی سطح پر تنہائی نے خطے کے ممالک کو نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا۔ ترکیہ نے اس پس منظر میں نہایت محتاط اور تدبر سے کام لیتے ہوئے کابل میں اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا، انسانی امداد جاری رکھی اور افغان حکومت کے ساتھ عملی روابط کو برقرار رکھا۔ جنوری 2025 میں افغان وزیر خارجہ اور ترکی کے سفیر کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور سیاسی و اقتصادی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد ترکیہ نے افغان سفارت خانہ طالبان حکومت کے حوالے کر دیا، جو طالبان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی گئی۔
یہ اقدام نہ صرف افغانستان کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ خطے اور عالمی سیاست میں بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ترکیہ کی جانب سے افغان سفارت خانہ طالبان کے سپرد کرنے سے ایک طرف طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر جزوی سفارتی قبولیت ملی، دوسری طرف ترکیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں عملی حقیقت پسندی اور علاقائی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ترکیہ نے واضح کیا کہ اس کا مقصد افغان عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لانا اور انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھنا ہے، نہ کہ طالبان حکومت کی مکمل سیاسی توثیق۔ اس حکمت عملی کے ذریعے ترکیہ نے نہ صرف خطے میں اپنی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ مغربی دنیا اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی توازن پیدا کیا۔
عالمی سطح پر اس اقدام کے کئی پہلو سامنے آئے ہیں۔ سب سے پہلے، ترکیہ نے ایک ایسے وقت میں طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی روابط کو وسعت دی جب بیشتر ممالک اب تک طالبان کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس عمل سے ترکیہ نے نہ صرف خطے میں اپنی سفارتی خود مختاری کا اظہار کیا بلکہ افغانستان میں انسانی بحران اور مہاجرین کے مسائل کے حل میں اپنا کردار بھی بڑھایا۔ ترکیہ کی اس پالیسی کو عالمی برادری میں ایک محتاط اور تدبر پر مبنی سفارت کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں اس نے نہ تو طالبان حکومت کی کھلی حمایت کی اور نہ ہی افغان عوام کو تنہا چھوڑا۔
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ترکیہ کے اس قدم نے دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کی ہے۔ آذربائیجان اور پاکستان جیسے ممالک نے بھی افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو برقرار رکھا ہے، لیکن ترکیہ کی حیثیت ایک نیٹو رکن اور مغربی دنیا کے اہم اتحادی کے طور پر اس فیصلے کو زیادہ اہم بناتی ہے۔ ترکیہ کا کردار کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی اور بین الاقوامی رابطوں کے فروغ میں بھی کلیدی رہا ہے، جس سے افغانستان کی عالمی برادری سے جڑت برقرار رہی۔
تیسرا پہلو ترکیہ کی داخلی اور خارجہ پالیسی کے توازن سے متعلق ہے۔ ترکیہ نے افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھ کر نہ صرف خطے میں اپنی اسٹریٹجک اہمیت کو مستحکم کیا بلکہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ سفارتی روابط میں بھی توازن قائم رکھا۔ اس اقدام سے ترکیہ کو امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ملا، جبکہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق اور خواتین کی صورتحال پر بھی محتاط انداز میں آواز اٹھاتا رہا۔
آخر میں، ترکیہ کا یہ سفارتی قدم عالمی سیاست میں ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں علاقائی طاقتیں عملی حقیقت پسندی اور انسانی بنیادوں پر خارجہ پالیسی کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ترکیہ نے طالبان حکومت کے ساتھ براہ راست سفارتی روابط قائم کر کے نہ صرف افغانستان کے عوام کے لیے ایک امید کی کرن پیدا کی بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دیا کہ سفارتی تنہائی مسائل کا حل نہیں، بلکہ عملی تعاون اور تدبر ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ اس سے نہ صرف افغانستان میں جاری انسانی بحران کے حل میں مدد ملے گی بلکہ خطے میں امن و استحکام کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...