Skip to content
سنویدھان ہتیا دیوس کا فریب: 1975 کی ایمرجنسی کی غیر بیان شدہ سچائیاں
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین،اکولہ،مہاراشٹر
بھارت کی جمہوری تاریخ میں 25 جون 1975 کا دن ایک ایسے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس پر آج نصف صدی بعد بھی بحث و تمحیص کے طویل سائے گہرے ہیں۔ سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے اس فیصلے کو، جس کے تحت ملک میں داخلی ایمرجنسی نافذ کی گئی، عموماً دو انتہاؤں پر پرکھا جاتا ہے: ایک بیانیہ اسے خالصتاً آمریت، اقتدار کی ہوس اور جمہوری اقدار کا قتل قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا بیانیہ اسے وقت کی ناگزیر ضرورت اور ملک کو داخلی و خارجی سازشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انارکی سے بچانے کی ایک آئینی کوشش گردانتا ہے۔ موجودہ مودی حکومت کی جانب سے اس دن کو "یومِ قتلِ آئین” (संविधान हत्या दिवस) کے طور پر منانا دراصل ایک سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخ کے ایک پیچیدہ واقعے کو سادہ بنا کر سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ لہٰذا، تاریخ کے اس اہم باب کا متوازن مطالعہ کرنے کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کے پس پردہ موجود کثیر الجہتی عوامل کا غیر جانبدارانہ تجزیہ ناگزیر ہے۔
ایمرجنسی کا نفاذ کسی ایک واقعہ کا فوری ردعمل نہیں تھا، بلکہ یہ 1971 کے بعد سے پکنے والے معاشی اور سیاسی لاوے کا منطقی نتیجہ تھا۔ اس کی جڑیں ان گہرے بحرانوں میں پیوست تھیں جو بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ 1973 کے عالمی تیل کے بحران نے بھارتی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے، جس کے نتیجے میں 1974 تک افراطِ زر کی شرح 20 فیصد سے تجاوز کر گئی اور اشیائے خور و نوش عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئیں۔ اس معاشی بدحالی نے عوامی بے چینی اور حکومت مخالف جذبات کو شدید ہوا دی۔ اسی اثنا میں، بزرگ سوشلسٹ رہنما جے پرکاش نارائن (جے پی) نے "سمپورن کرانتی” (مکمل انقلاب) کا نعرہ بلند کیا، جو ابتدا میں بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئی لیکن جلد ہی اس نے مرکز میں اندرا گاندھی کی حکومت کے خلاف ایک قومی محاذ کی شکل اختیار کر لی۔ اس تحریک کے طریقہ کار، جن میں پارلیمنٹ کا گھیراؤ، منتخب نمائندوں سے استعفوں کا مطالبہ، اور سرکاری کاموں میں رکاوٹ شامل تھی، جمہوری اصولوں سے متصادم ہونے لگے۔ اس تحریک کا نقطہ عروج 25 جون 1975 کو دہلی کے رام لیلا میدان میں جے پی کا وہ خطاب تھا، جس میں انہوں نے مسلح افواج، پولیس اور سرکاری ملازمین سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے "غیر اخلاقی” احکامات کو تسلیم نہ کریں۔ کسی بھی قائم شدہ ریاست کے لیے یہ اقدام مسلح بغاوت کی دعوت کے مترادف تھا، جس نے حکومت کو یہ باور کرایا کہ ملک خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔ اس سیاسی انتشار میں مزید اضافہ جارج فرنینڈس کی قیادت میں ہونے والی 20 روزہ ملک گیر ریلوے ہڑتال (مئی 1974) اور وزیر ریلوے للت نارائن مشرا کے قتل (جنوری 1975) سے ہوا، جس نے ثابت کیا کہ سیاسی اختلافات پرتشدد شکل اختیار کر چکے ہیں۔
ملک کو درپیش ان داخلی خطرات کے ساتھ ساتھ، بین الاقوامی سطح پر بھی حالات سازگار نہ تھے۔ 1971 کی جنگ میں پاکستان پر فیصلہ کن فتح اور 18 مئی 1974 کو پوکھران میں کامیاب ایٹمی دھماکے نے مغربی طاقتوں، بالخصوص امریکہ، کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ جنوبی ایشیا میں بھارت کو ایک خود مختار طاقت کے طور پر ابھرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ خدشات محض وہم نہیں تھے، کیونکہ امریکی خفیہ ایجنسی CIA کے سابق آفیسر ولیم کولبی نے اپنی سوانح عمری ‘Honorable Men: My Life in the CIA’ میں بالواسطہ طور پر اعتراف کیا کہ امریکہ نے بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو مالی معاونت فراہم کی تھی۔ اندرا گاندھی کا یہ یقین کہ جے پی تحریک کو بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے، اسی بین الاقوامی تناظر میں بے بنیاد نہیں تھا۔
اس پیچیدہ صورتحال میں جہاں حکومت بیرونی سازشوں سے نمٹ رہی تھی، وہیں ملک کے اندر نظریاتی تنظیموں کا کردار بھی انتہائی متنازع اور معنی خیز تھا، بالخصوص راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا۔ آج آر ایس ایس اور اس سے وابستہ جماعتیں ایمرجنسی کو جمہوریت پر سیاہ دھبہ قرار دیتی ہیں، لیکن تاریخ کا ریکارڈ ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جب آر ایس ایس پر پابندی عائد ہوئی، تو اس وقت کے سرسنگھ چالک، بالاصاحب دیوراس نے یرودا جیل سے اندرا گاندھی کو متعدد خطوط لکھے، جن میں انہوں نے نہ صرف اندرا گاندھی کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مبارکباد دی بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ "آر ایس ایس کا جے پی کی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے” اور حکومت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ یہ خطوط ان کے موجودہ بیانیے کے برعکس، اس وقت حکومت سے مفاہمت کی شدید خواہش کو ظاہر کرتے ہیں۔
سیاسی اور نظریاتی کشمکش کے اسی ماحول میں، حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے آئین کا سہارا لیا۔ یہ اقدام آئینِ ہند کی دفعہ 352 کے تحت کیا گیا، جو اس وقت صدرِ مملکت کو "داخلی انتشار” (internal disturbance) کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیتی تھی۔ اس فیصلے کو اکثر 12 جون 1975 کے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے جوڑا جاتا ہے جس میں اندرا گاندھی کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، 24 جون 1975 کو سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر ایک مشروط حکم امتناعی جاری کر دیا تھا، جس کے تحت اندرا گاندھی قانونی طور پر وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہ سکتی تھیں۔ اس عدالتی حکم کے بعد ان پر استعفے کا کوئی فوری دباؤ نہیں تھا۔ لہٰذا، اگلے ہی دن ایمرجنسی کا نفاذ محض عدالتی مقدمے سے بچنے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ اس کا اصل محرک ملک گیر انارکی اور قومی سلامتی کو درپیش وسیع تر خطرات تھے۔
تاہم، آئینی جواز کے باوجود، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایمرجنسی کے 21 ماہ کے دوران اختیارات کا بے جا استعمال ہوا اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچا۔ شہری آزادیاں معطل کر دی گئیں، پریس پر سخت سنسرشپ عائد ہوئی، اور ہزاروں سیاسی مخالفین کو MISA جیسے سخت قوانین کے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ سنجے گاندھی کی قیادت میں جبری نسبندی جیسی مہموں نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ یہ اقدامات ناقابلِ دفاع تھے۔ لیکن تاریخ کے ساتھ انصاف کا تقاضا ہے کہ اندرا گاندھی کے کردار کے دوسرے پہلو کو بھی دیکھا جائے۔ انہوں نے جنوری 1977 میں اچانک انتخابات کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا، اور نہ صرف شکست کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا بلکہ بعد ازاں قوم سے ایمرجنسی کی زیادتیوں پر برملا معافی بھی مانگی۔
آج جب ایمرجنسی کی تاریخ پر بحث ہوتی ہے تو اسے اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ کہ جنتا پارٹی نے ایمرجنسی کے قوانین کو سخت کیا، تاریخی طور پر درست نہیں۔ جنتا حکومت نے 44 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مستقبل میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مشکل بنایا اور "داخلی انتشار” کی اصطلاح کو "مسلح بغاوت” سے تبدیل کر دیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آج کے دور میں تحقیقاتی ایجنسیوں کے سیاسی استعمال، سخت قوانین کے اطلاق اور اداروں کی کمزور ہوتی خودمختاری کی شکل میں ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسی صورتحال موجود نہیں؟
خلاصہ کلام یہ ہے کہ 1975 کی ایمرجنسی بھارتی جمہوریت کا ایک پیچیدہ اور تکلیف دہ باب ہے۔ یہ فیصلہ نہ مکمل طور پر درست تھا اور نہ ہی سراسر غلط، بلکہ ان غیر معمولی حالات کا نتیجہ تھا جب ملک معاشی تباہی، سیاسی انارکی اور بین الاقوامی سازشوں کے سنگم پر کھڑا تھا۔ اس کا نفاذ اس وقت کے آئینی دائرہ کار میں کیا گیا اور اس دوران ہونے والی زیادتیاں ایک سیاہ حقیقت ہیں۔ لیکن ایک متوازن تاریخ بینی یہ تسلیم کرتی ہے کہ جہاں ایمرجنسی کے سیاہ پہلو تھے، وہیں اس کے نفاذ کے پیچھے ملکی سالمیت کو بچانے کا ایک مضبوط محرک بھی موجود تھا۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ظاہری عمل کے ساتھ ساتھ پس پردہ کارفرما اسباب اور حتمی نتائج کو دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے۔
(یہ مضمون اپنی نوعیت کا خاص ہے کو ایمرجنسی کے دوسرے پہلو کو اجاگر کرتا ہے)
Like this:
Like Loading...