Skip to content
غزہ کا ماتم اور مہذب دنیا کا دوغلاپن:
مغربی تہذیبی دیوالیہ پن کی نقاب کشائی
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین،اکولہ،مہاراشٹر
غزہ کی سرزمین، جہاں ہر سانس درد کی چیخ بن چکی اور ہر گلی خون سے لبریز ہے، نہ صرف فلسطینیوں کے مظالم کی دردناک داستان رقم کر رہی ہے بلکہ مغرب کی خود ساختہ "مہذب دنیا” کے فرضی اورجھوٹے دعوؤں اور اس کے تہذیبی انحطاط کی گواہی بھی دے رہی ہے۔ مغرب نے اپنی جمہوریت، عدل و مساوات، اور انسانی حقوق کے بلند بانگ نعروں کو عالمگیر اقدار کا درجہ دیا، لیکن غزہ کے خون آلود تناظر میں یہ دعوے محض سیاسی چالبازیاں ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جو اس کے جغرافیائی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اسرائیل کی انسانیت سوز جارحیت، جسے مغرب کی زبردست خاموش حمایت اور کبھی کبھار کھلی سرپرستی حاصل ہے، اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مغرب کی تعلیمات کھوکھلی اور دوغلے پن کی بیمار ذہنیت کا شکار ہے۔
غزہ کی پٹی، بحیرہ روم کے کنارے 365 مربع کلومیٹر پر پھیلی ایک چھوٹی سی بستی، 23 لاکھ فلسطینیوں کا گھر ہے، جن میں سے نصف سے زائد بچے ہیں۔ یہ سرزمین 2007 سے اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے ایک کھلی جیل بن چکی ہے، جہاں خوراک، پانی، ادویات، اور بجلی کی شدید قلت نے زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کی جون 2025 کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی 80 فیصد آبادی انسانی امداد پر انحصار کرتی ہے، لیکن اسرائیل کی پابندیوں نے اس امداد کو روک رکھا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ نے غزہ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، جون 2025 تک 56,000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 1,32,000 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 40 فیصد سے زائد خواتین اور بچے ہیں۔ لانسیٹ کے ایک جون 2024 کے مطالعے نے اندازہ لگایا کہ بالواسطہ ہلاکتیں (بھوک، بیماری، اور بنیادی سہولیات کی کمی سے) اس تعداد کو دوگنا کر سکتی ہیں۔ اسرائیل کی بمباری نے ہسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس سے شمالی غزہ کی 70-80 فیصد عمارتیں مکمل تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔ مارچ 2025 سے اسرائیل نے غزہ کی تمام گذرگاہوں کو بند کر دیا، جس سے امدادی ترسیل معطل ہو گئی اور ایک شدید غذائی بحران نے جنم لیا، جو مئی 2025 تک قحط کے خطرے میں تبدیل ہو گیا۔
اسرائیل کی یہ کارروائیاں، جنہیں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے جنگی جرائم قرار دیا، جنیوا کنونشنز کے آرٹیکل 51 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو شہریوں کے تحفظ کو لازمی قرار دیتا ہے۔ اسرائیل نے نہ صرف شہری تنصیبات کو تباہ کیا بلکہ امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) کی جون 2025 کی رپورٹ کے مطابق، 194 امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، جو انسانی امداد کے خلاف اسرائیل کی پالیسی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات زیر سماعت ہیں، اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گالانٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ لیکن مغرب، خاص طور پر امریکہ، نے ان اقدامات کی مخالفت کی اور اسرائیل کی حمایت جاری رکھی۔ امریکی نائب سفیر ڈوروتھی شیا نے 5 جون 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کوئی قرارداد قبول نہیں کی جا سکتی”۔ یہ قرارداد، جسے پاکستان سمیت 10 غیر مستقل اراکین نے پیش کیا تھا، 15 میں سے 14 اراکین کی حمایت حاصل کر چکی تھی۔
مغرب کی یہ خاموشی اور حمایت اس کے دعوؤں کی کھوکھلی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ مغرب نے روشن خیالی کے دور سے اپنی تہذیب کو جمہوریت، عدل و مساوات، اور انسانی حقوق کے اصولوں سے جوڑا۔ جان لاک کی آزادی کے تصورات، ژاں ژاک روسو کے سماجی معاہدے، اور 1948 کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے نے مغرب کو ایک ایسی تہذیب کے طور پر پیش کیا جو عقل اور انصاف کی علمبردار ہے۔ لیکن غزہ کا تناظر اس سراب کو توڑتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3236 (1974) فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن مغرب اسے نظر انداز کرتا ہے۔ امریکہ نے 1972 سے 2025 تک فلسطین سے متعلق 53 قراردادوں کو ویٹو کیا، جن میں سے 5 صرف 2023 کے بعد کی ہیں۔ امریکی کانگریس نے 2023 میں اسرائیل کے لیے 14.3 بلین ڈالر کی اضافی فوجی امداد کی منظوری دی، جس کا بڑا حصہ غزہ کے خلاف آپریشنز میں استعمال ہوا۔ یہ امداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016) کی خلاف ورزی ہے، جو اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ یورپی ممالک، جو انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، یا تو اسرائیل کے مظالم پر نرم تنقید کرتے ہیں یا مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر مذاکرات معطل کیے، لیکن عملی طور پر کوئی سخت اقدام نہیں اٹھایا۔ یہ دوغلاپن مغرب کی خود ساختہ "مہذب دنیا” کے دعوؤں کی قلعی کھولتا ہے۔
مغرب کا دوغلا معیار اس وقت اور واضح ہوتا ہے جب ہم اس کے دیگر تنازعات کے بارے میں رویے کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا، تو مغرب نے فوری طور پر پابندیاں عائد کیں اور عالمی برادری کو متحرک کیا۔ لیکن غزہ کے قتل عام پر مغرب کی خاموشی اس کی منافقت کو عریاں کرتی ہے۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغرب کے لیے انسانی حقوق عالمگیر اصول نہیں، بلکہ اس کے جغرافیائی سیاسی مفادات کا ہتھیار ہیں۔ مغرب کی جمہوریت فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ عدل و مساوات کا دعویٰ فلسطینیوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک سے داغدار ہوتا ہے۔ انسانی حقوق، جو ہر انسان کو زندگی اور تحفظ کا حق دیتے ہیں، غزہ کے عوام کے لیے ایک خواب بن کر رہ گئے ہیں۔
مغرب کی خاموشی کے نتائج فلسطینیوں کے لیے تباہ کن ہیں۔ اسرائیل کی ناکہ بندی اور بمباری نے غزہ کی 23 لاکھ آبادی کو زبردستی بے گھر کر دیا۔ UNRWA کی جون 2025 کی رپورٹ کے مطابق، غزہ میں امدادی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، اور بھوک سے بلکتے لوگوں کو امداد حاصل کرنے کی کوشش میں گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مارچ 2025 سے اسرائیل نے امداد کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی، جسے اقوام متحدہ نے "بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال” قرار دیا۔ یہ خاموشی فلسطینیوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ ان کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ ناانصافی مایوسی کو جنم دیتی ہے، جو انتہا پسندی اور تشدد کو ہوا دے سکتی ہے۔ عالمی سلامتی کونسل کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، غزہ میں جاری بحران عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
غزہ کی سرزمین پر جاری اسرائیلی جارحیت تاریخ انسانی کا سب سے بڑا نسل کشی کا سانحہ ہے، جو مہذب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے، لیکن یہ دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے، بلکہ اپنی منافقت اور مفادات کی خاطر اس خونریز تماشے سے مزے لے رہی ہے۔ ہسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری، ہزاروں بے گناہ بچوں اور خواتین کی ہلاکت، اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والا یہ ظلم پتھر کے دور سے بھی بدتر دور کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انسانیت کی چیخیں مغرب کے جھوٹے دعوؤں اور اس کی خاموش سرپرستی کے نیچے دب کر رہ گئی ہیں۔
مغرب کی ساکھ عالمی سطح پر داغدار ہو رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ، اور ایشیا کے ممالک مغرب کے دوغلے معیاروں کو واضح طور پر دیکھتے ہیں۔ ترکی اور قطر جیسے ممالک نے مغرب کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی ہے، جبکہ عالمی جنوب (Global South) مغرب کی تہذیبی برتری کے دعوؤں کو مسترد کر رہا ہے۔ مغرب کے اپنے شہری بھی اس دوغلے پن سے بیزار ہیں۔ 2023 سے 2025 تک لندن، پیرس، اور نیویارک میں لاکھوں افراد نے فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے، جو مغرب کی عوام اور اس کی حکومتوں کے درمیان گہری خلیج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ عوامی بیداری مغرب کی تہذیب کے زوال کی ایک اور علامت ہے۔
مغرب کی تعلیمات کی ناکامی منطقی طور پر تین نکات سے عیاں ہوتی ہے۔ اول، جمہوریت کا دعویٰ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت نہ کرنے سے جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ دوم، عدل و مساوات کا اصول فلسطینیوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک سے داغدار ہوتا ہے۔ سوم، انسانی حقوق کے دعوے غزہ کے شہریوں کی پامالی پر مغرب کی خاموشی سے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہ ناکامی مغرب کی تہذیبی برتری کے دعوے کو چیلنج کرتی ہے۔ مغرب کا سورج، جو کبھی عقل اور انصاف کی روشنی پھیلانے کا دعویٰ کرتا تھا، اب ڈوب رہا ہے۔ غزہ کا خونریز افسانہ اس کی اخلاقی پستی اور تہذیبی دیوالیہ پن کا آئینہ ہے۔
غزہ کا تناظر عالمی برادری کے لیے ایک سوال ہے: ہم کب تک اس ظلم پر خاموش رہیں گے؟ اقوام متحدہ کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ ناکہ بندی ختم کرے اور جنگی جرائم بند کرے۔ مغرب کے عوام کو اپنی حکومتوں سے ان کی دوغلی پالیسیوں پر سوال اٹھانا چاہیے۔ عالمی میڈیا کو فلسطینیوں کی آواز کو اجاگر کرنا چاہیے۔ غزہ کی چیخیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ مغرب کی خاموشی اس کے تہذیبی انحطاط کی گواہ ہے۔ اس کا سورج ڈوب رہا ہے، اور غزہ کا خون اس کی جھوٹی تعلیمات کو ہمیشہ کے لیے داغدار کر چکا ہے۔
Like this:
Like Loading...