Skip to content
بہار میں کیچوے کے ذریعہ مچھلی کا شکار
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
قومی انتخابی کمیشن کو ہندی میں ’کیندریہ چناو آیوگ ‘ کہا جاتا ہے۔ اتفاق سے اس کا مخفف کیچوا بنتا ہے۔ اپنی پسند کا کیچوا منتخب کرنے کے لیے حکومت ِ وقت نے سب سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو انتخابی کمیٹی سے نکال باہر کیا۔ اس کے بعد آزاد مچھلی کی مانند تیرنے والے ووٹرس کا شکار کرنے کی خاطر ماہی گیر سرکار نے کانٹے کے آگے کیچوا لگا اس کی مدد سے اپنے گھناونے مقاصد کی تکمیل کا آغاز کیا ۔مودی سرکار نے مچھلی نما ووٹرس کو راغب کرنے کی خاطر اس کیچوے کوخوب پال پوس موٹا تازہ کرنے کے بعد اپنا آلۂ کار بناکر صوبائی انتخابات پر ڈاکہ ڈالنے کی ساز ش رچی ۔ مہاراشٹر قومی انتخاب میں جن حلقۂ انتخاب کے اندر بی جے پی کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا تھا وہاں چور دروازے سے دس فیصد یعنی ایک کروڈ ووٹرس بڑھا کران جعلی رائے دہندگان اور ای وی ایم کی مدد سے انتخابی نتائج پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔ یہ راز کھل گیا تو بہار میں حکمتِ عملی تبدیل کرنی پڑی ۔ اس بار جہاں ہارنے کا اندیشہ ہے وہاں مخالف رائے دہندگان کے نام ووٹر لِسٹ نکالنے کی خاطر تفتیش کا عمل شروع کیا گیا ۔یہ دونوں اقدامات بظاہر متضاد نظر آتے ہیں لیکن ان کا واحد مقصد ووٹ کی لوٹ ہے۔
سپریم کو رٹ کے مطابق رائے دہندگان کی فہرست کو درست کرنا انتخابی کمیشن کی ذمہ داری ہے مگر اس سے یہ تو پوچھنا ہی پڑے گا کہ آخر2003کے بعد اس نےیہ ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی ؟ یہ کام تو اسے پورے ملک میں کرنا ہے مگر اس کی ابتداء الیکشن سے بالکل قریب بہارسے کیوں کی گئی ؟اور کیا عملاً ایک ماہ کے اندرکڑی تفتیش کے بعد اس مشق کی تکمیل ممکن ہے؟ الیکشن کمیشن کے و کیل نے عدالتِ عظمیٰ میں یہ دلیل پیش کی کہ گزشتہ مرتبہ اس نےیہ کام ایک ماہ میں مکمل کرلیا تھا مگر دونوں کاموں بہت بنیادی نوعیت کا فرق تھا ۔ اس وقت تو صرف رائے شماری جیسی مشق کی گئی تھی۔ گیارہ دستاویزات کی بنیاد پر کسی کی شہریت جانچنے کی سعی نہیں کی گئی تھی؟ یہ دستاویز بھی ایسے ہیں کہ مثلاً پاسپورٹ جو صرف ڈھائی فیصد بہاریوں کے پاس ہے۔ صوبے میں صرف 14فیصد لوگوں نے دسویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہیں اس لیے ہائی اسکول سرٹیفکیٹ بھی بہت کم لوگوں کے پاس ہے۔ ذات پات کا سرٹیفکیٹ بھی صرف 30 فیصد لوگوں نےلے رکھا ہے۔
اس کے برعکس عوام کے پاس جو دستاویز موجود ہیں ان کو الیکشن کمیشن نے اپنی لازمی فہرست سے خارج کردیا۔ یعنی وزارت داخلہ کا جاری کردہ آدھار کارڈ الیکشن کمیشن کو قابلِ قبول نہیں ہے ۔ وزیر مالیات کا جاری کردہ پین کارڈ بھی قابلِ اعتناء نہیں ہے اوروزارت غذا کا راشن کارڈ بھی بیکار ہوگیا بلکہ حد تو یہ ہے کہ خود الیکشن کمیشن نے جو ووٹر کارڈ جاری کیا تھا اب اس پر بھی اعتبار کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ ایسی اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا تو تصور بھی محال تھا؟ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر بہا ر میں بی جے پی کو اپنی حکمت عملی کیوں بدلنی پڑی ؟ دراصل بہار وہ ریاست ہے جہاں گوتم بدھ نے ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے مظالم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تو ان کو سمراٹ اشوک کی سرپرستی ملی اور بدھ مذہب کی تعلیمات ہندوستان سے نکل کر پورے مشرقی ایشیا میں پھیل گئی۔ ویسے یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ جہاں بہار نے نتیش کمار جیسا پلٹورام رہنما ملک کو دیا جس نے ابن الوقتی کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے وہیں لالو پرشاد یادو جیسا مستقل مزاج رہنما بھی وہیں سے آیا یعنی چانکیہ کی دھرتی پر ہی اشوک نے جنم لیا۔
عصرِ حاضر میں بھی پورے شمالی ہندوستان کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے والےایل کے اڈوانی کے رام رتھ کو اسی ریاست میں لالو پرشاد یادو نے روک دیا تو ان کی خوب پذیرائی ہوئی ۔ اس لیے آر ایس ایس اس بات کو سمجھ گیا کہ یہاں اس کی اپنی مسور کی نارنگی دال نہیں گلے گی۔ وزیر اعظم بننے کا خواب لے کر نریندر مودی بہار پہنچے تو وہاں کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے انہیں جھڑک دیا ۔ آنجہانی بی جے پی رہنما سشیل مودی تک نے مودی کے بجائے نتیش کمار کو وزارت عظمیٰ کے اجزائے ترکیبی کا حامل رہنما بتایا اور اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ۔ ابتدا میں تو انہیں نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا مگر آگے چل نہ صوبائی انتخاب کا ٹکٹ دیا اور نہ نائب وزیر اعلیٰ بنایا۔ ایوان بالا میں بلایا گیا تو لوگوں نے قیاس آرائی کی مرکز وزارت میں کوئی اہم عہدہ دیا جائے گا لیکن وزیر اعظم کی کینہ پروری نے انہیں محروم ہی رکھا یہاں تک وہ دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہی قبیلے سشیل مودی کو سزا دی ۔
بہار کے اندر بی جے پی کی مرکزی قیادت نے اپنے مقبول و معروف رہنماوں کو کمزور کرکے چاپلوسوں کو آگے بڑھایا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا اس کواپنے بل بوتے پر اقتدار میں آنے کا خواب ترک کرنا پڑا ۔وہ لوگ نتیش کمار کے سہارے اقتدار میں حصے دار بنے مگر اندر ہی اندر اپنے محسن کی جڑوں کو کھوکھلا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پچھلی بار مودی کے ہنومان چراغ پاسوان نے نتیش کی لنکا لگا دی اور پہلی بار بی جے پی کو جے ڈی یو سے زیادہ نشستیں مل گئیں پھر بھی اقتدار ہاتھ نہیں آیا۔ بہار کے اندر نام نہاد اونچی ذات اور شہری علاقوں کے نوجوانوں کو ورغلا کر تو بی جے پی نے اپنے دو عدد نائب وزرائے اعلیٰ تو ریاست پر تھوپ دئیے مگر وہ نتیش کمار کے نہایت غریب رائے دہندگان میں سیندھ نہیں لگا سکے ۔ اب جبکہ نتیش کمار اور جے ڈی یو پر سیاسی موت کے بادل منڈلا رہے ہیں بی جے پی گدھ کی مانند انہیں چٹ کرنا چاہتی ہے۔
جے ڈی یو کے وفادار رائے دہندگان چونکہ نظریاتی اعتبار سے مہا گٹھ بندھن سے قریب تر ہیں اس لیے ان کے کمل کے بجائے لالٹین کی جانب کھسکنے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے ان غریب اور پسماندہ ووٹرس کا نام ہی فہرست سے نکالنے کی سازش رچی گئی تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ۔ اس طرح نتیش کمار کو ان کے ووٹر سمیت سیاسی بن باس پر بھیجنے کی یہ چال جب بے نقاب ہوئی تو بہارمیں وبال ہوگیا ۔ عوام کو سڑک پرلانے کی بات کرنا جتنا آسان ہے اس پر عملدرآمد اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ عام لوگ تو ہر روز کنواں کھود کر پانی پیتے ہیں اور مودی سرکار کی غریب دشمن کارگزاری نے زمین اور بھی سخت کردی ہے نیز پانی کی سطح پر بہت نیچے چلی گئی ہے۔ عام لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔عام لوگوں کو سڑک پر لانے کی خاطرجومدعا درکار تھا اور جو ان کے من کی بات تھی وہ الیکشن کمیشن نے فراہم کردی اور سرکار بدلنے کی خاطر عوام اپنا کام دھام روزی روٹی چھوڑ کر وہ میدان میں کودپڑے۔
عوام کو آج کل اپنی سرکاروں سے کسی خیر کی امید نہیں ہے مگر انہیں جب یہ محسوس ہوتا ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے وہ بھی چھن جائے گا تو وہ بے چین ہوجاتےہیں۔ سیاستداں اسی طرح ان کو خوفزدہ کرکے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ۔ پچھلی قومی انتخابی مہم نے اسی حکمت عملی کے تحت مودی نے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا تھا کہ حزب اختلاف ان سے منگل سوتر چین لےگا ۔ ان کی بھینس اور ٹونٹی تک کھول کر لے جائے گااور اس کو زیادہ بچے پیدا کرنے والے (یعنی مسلمانوں ) میں تقسیم کردے گا۔ اس دوران جب ایک بی جے پی رہنما نے آئین بدلنے کے لیے 400 پار کی بات کہی تو حزب اختلاف نے اسے اچک لیا۔ پسماندہ اور دلت طبقات کو ڈرایا گیا کہ دیکھو دستور بدلا تو تمہارے حقوق مطلب ریزرویشن ختم ہوجائے گا۔ پارلیمانی انتخاب میں حزب اختلاف کا خوف کم ازکم اس حد تک تو کارگر ثابت ہوا کہ400 پار ہدف 240 پر سمٹ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مودی جی کو پہلی بار بیساکھیوں کے سہارے حکومت سازی کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
موجودہ سرکار جن دو بیساکھیوں پر سوار ہے ان میں سے ایک بہار اور دوسری آندھرا پردیش سے آتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی سرکار کو ان دونوں ریاستوں کے علاوہ گجرات میں بھی انتخاب ہار جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اقتدار کے ہوس میں پاگل ہوکر اگر نتیش کمار کا صفایہ نہیں کیا جاتا تو وہ اپنی پارٹی کے رہنماوں اور رائے دہندگان کو لاکر بی جے پی کے قدموں ڈالتے لیکن اب وہ کھونٹا بھی ٹوٹ گیا ہے۔ نظریاتی طور پر جنتا دل (یو) کے رائے دہندگان چونکہ آرجے ڈی سے قریب ہیں اس لیے اگر ووٹرسرکا تو اس کے پیچھے ارکان پارلیمان بھی کھسک جائیں گے اور مودی سرکار دھڑام تختہ ہوجائے گی۔اُدھر سرسنگھ چالک موہن بھاگوت بھی اسی موقع کی تاک لگائے بیٹھے ہیں اور سپریم کورٹ بھی اپنی پرانی رسوائی کا انتقام لے سکتا ہے۔مذکورہ بالا مسائل نے مودی سمیت شاہ کی نیند حرام کررکھی ہے بہار کے علاوہ قومی سطح پر بھی ان کا ایسا برا حال ہے کہ وہ دو سالوں سے پارٹی کا صدر تک نہیں بنا پارہے ہیں ۔ بہار میں بی جے پی کی ناکامی کا بنیادی سبب آپسی رنجش اور باہمی عدم اعتماد جو پارٹی کو لے کر ڈوب رہا ہے۔
Like this:
Like Loading...