Skip to content
تہذیبِ شکم یا بندگیِ ربّ؟
ایک فکری احتساب
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون📱09422724040
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا اور بے شمار نعمتوں سے نوازا، جن میں خوراک ایک اہم نعمت ہے۔ اسلام خوراک میں اعتدال اور توازن کی تعلیم دیتا ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: "کھاؤ، پیو، مگر حد سے تجاوز نہ کرو” (الاعراف: 31)۔ نبی کریمﷺ نے بھی میانہ روی کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں، اور اگر زیادہ کھانا ہو تو پیٹ کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے۔ بدقسمتی سے آج کل بسیار خوری، فضول خرچی اور بے احتیاطی عام ہو چکی ہے، جو صحت کے مسائل اور معاشرتی بے توازن کا سبب بن رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے ہم نہ صرف صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ خوراک کی منصفانہ تقسیم بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خوراک میں اعتدال اپنائیں، فضول خرچی سے بچیں اور اپنی، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ اگر ہم اپنی ضروریات کو محدود اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں تو ایک متوازن اسلامی معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا معاشرہ تضادات سے بھرپور ہے، مگر ایمان اور ضمیر کی چنگاری اب بھی زندہ ہے۔ یہی چنگاری امید کی کرن ہے، جو اگر بھڑک اٹھی تو معاشرتی زوال کو روشنی میں بدل سکتی ہے۔ معاشرتی بگاڑ کے باوجود تبدیلی ممکن ہے! بس ہمیں سچائی، انصاف اور توازن کو اپنانا ہوگا۔
خوراک انسانی زندگی کی بقاء کے لیے ضروری ہے، اور اگر اسے اعتدال سے استعمال کیا جائے تو یہ عبادت بن سکتی ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں شکم پرستی اور بسیار خوری عام ہو چکی ہے، جس کا نتیجہ نہ صرف صحت کے بگاڑ بلکہ خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تقریبات میں حد سے زیادہ کھانا فخر کی علامت بن چکا ہے، جو ہمارے اخلاقی اور معاشرتی زوال کی نشانی ہے۔ ہمارے معاشرے میں سیاسی، مذہبی اور عوامی تقریبات میں کھانے پر ٹوٹ پڑنا معمول بن چکا ہے، جہاں نان، روٹی اور بریانی کی دیگوں پر دھاوا بولنا، پلیٹوں کی چھینا جھپٹی اور بے ہنگم کھانے کی دوڑ عام نظر آتی ہے۔ یہ طرزِ عمل ہمارے اخلاقی زوال اور بدتہذیبی کی علامت ہے۔
شکم پرستی کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں! معدے کی جلن، گیس اور ہاضمے کی خرابیاں عام ہو گئی ہیں۔ اسپتالوں میں معدے کے مریضوں کی بھرمار ہے، اور اینٹی ایسڈ دوائیں روزمرّہ زندگی کا حصّہ بن چکی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، رمضان میں صرف پہلی افطاری کے بعد ہزاروں افراد بسیار خوری کے باعث اسپتال پہنچے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ رویہ وقتی نہیں، بلکہ مستقل نقصان کا سبب ہے۔ موٹاپا بسیار خوری کا سب سے بڑا نقصان ہے، جس سے نجات کے لیے لوگ طرح طرح کے طریقے اپناتے ہیں! دم درود، بیلٹ، چائنیز چائے، جم، ڈائیٹنگ اور مہنگی ادویات۔ مگر اصل مسئلہ یعنی خوراک میں بے اعتدالی پر توجہ نہیں دیتے، جو اس تمام بحران کی جڑ ہے۔
❶ بسیار خوری اور تہذیبی زوال: تاریخ سے آج تک
تاریخ میں کئی اقوام محض عیش و عشرت، بسیار خوری اور حد سے بڑھی آسائشوں کے باعث زوال کا شکار ہوئیں۔ رومی سلطنت ایک روشن مثال ہے، جو دنیا کی طاقتور ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، مگر اس کا زوال عوام کی عیش پرستی، جسمانی کمزوری اور اخلاقی بگاڑ کے باعث ہوا۔
رومی اشرافیہ غیر معمولی پُرتعیش زندگی گزارتی تھی، بڑی ضیافتوں میں درجنوں اقسام کے مہنگے کھانے اور شرابیں پیش کی جاتیں۔ حتیٰ کہ وہ الٹی کرنے کے لیے Vomitariums استعمال کرتے تاکہ دوبارہ کھا سکیں۔ یہ طرزِ زندگی آخرکار جسمانی بیماریوں اور معاشرتی انحطاط کا سبب بنا۔ رومی فوج ابتداء میں سخت محنت اور مشقت کی عادی تھی، مگر جب عیش پرستی اور بسیار خوری عام ہو گئی، تو ان کی جنگی صلاحیت کمزور پڑ گئی۔ فوجی جنگ کی بجائے ضیافتوں میں مشغول ہوگئے، اور جب 476ء میں جرمن قبائل نے حملہ کیا تو ایک وقت کی طاقتور رومی سلطنت بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ٹوٹ گئی۔
عباسی خلافت کے ابتدائی دور میں بغداد علم و تہذیب کا مرکز تھا، مگر وقت کے ساتھ عیش پرستی، ضیافتیں اور آرام طلبی نے حکمرانوں کو کمزور کر دیا۔ ہارون الرشید اور اس کے جانشینوں کے دربار میں شاہانہ کھانے، شراب نوشی اور کاہلی عام ہوگئی، جس سے فوجی نظم کمزور پڑا۔ 1258ء میں جب منگولوں نے حملہ کیا تو عباسی خلافت بغیر مزاحمت کے ختم ہوگئی۔ اسی طرح مغل سلطنت بھی ابتداء میں طاقتور تھی، مگر بعد میں حکمران عیش پرستی اور بسیار خوری میں مبتلا ہوگئے۔ بادشاہ جہانگیر شراب نوشی اور حد سے زیادہ کھانے کی عادت کے باعث کمزور حکمران ثابت ہوا، جس کا اثر سلطنت کی طاقت پر بھی پڑا۔
مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کا دور عیش پرستی، ضیافتوں اور موسیقی کی محفلوں سے بھرپور تھا، جب کہ سلطنتی امور نظر انداز ہوتے رہے۔ نتیجتاً، 1739ء میں نادر شاہ کے حملے کے وقت مغل فوج کمزور پڑ چکی تھی، اور دہلی تباہ ہوگیا۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ قومیں جو ابتدا میں سادگی، محنت اور نظم و ضبط سے ترقی کرتی ہیں، عیش پرستی اور بسیار خوری کے باعث زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج فاسٹ فوڈ، موٹاپا اور غیر متوازن خوراک جدید معاشروں کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں۔ لہٰذا، سادگی، اعتدال اور جسمانی سرگرمی کو اپنانا ہی بقا کا راستہ ہے۔
ہندوستان میں حالیہ برسوں میں موٹاپے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2015ء کی ایک تحقیق کے مطابق، 1980ء سے 2015ء کے درمیان مردوں میں موٹاپا چار گنا بڑھا۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) کے مطابق، 2019ء–2021ء کے دوران خواتین میں موٹاپے کی شرح 21% سے 24% اور مردوں میں 19% سے 23% تک پہنچ گئی۔ کئی ریاستوں جیسے کیرالہ، پنجاب، اور دہلی میں 34–46% خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔ 2013ء میں لانسیٹ میں شائع تحقیق کے مطابق، ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور اسے موٹاپے کے شکار افراد کے لحاظ سے نویں نمبر پر رکھا گیا۔ یہ صورت حال صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
❷ بسیار خوری اور جدید بیماریوں کا گٹھ جوڑ: ایک سائنسی و طبی جائزہ
بسیار خوری انسانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے اور سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ ذیابیطس، دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور کینسر جیسے مہلک امراض کا سبب بنتی ہے۔ غیر متوازن، فاسٹ اور پراسیسڈ فوڈ کے استعمال نے ان بیماریوں کو مزید عام کر دیا ہے۔ ذیابیطس (خصوصاً ٹائپ 2) کا تعلق زیادہ کھانے اور غیر صحت بخش طرزِ زندگی سے ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 500–1000 اضافی کیلوریز انسولین مزاحمت کو بڑھا دیتی ہیں۔ 2021ء میں دنیا بھر میں 537 ملین اور بھارت میں 77 ملین افراد ذیابیطس کا شکار تھے، جو 2045ء تک 125 ملین تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح، بسیار خوری کولیسٹرول اور بلڈ پریشر بڑھاتی ہے، جو ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، چکنائی اور نمک سے بھرپور غذا دل کی بیماریوں کا بڑا سبب ہے۔
دنیا میں ہر سال تقریباً 18 ملین افراد دل کی بیماریوں سے ہلاک ہوتے ہیں، جن میں 40% اموات کا تعلق بسیار خوری اور غیر متوازن غذا سے ہے۔ بھارت میں ہر پانچواں شخص ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ فاسٹ فوڈ کا بڑھتا رجحان ہے۔ موٹاپا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جو ذیابیطس، دل کے امراض، جوڑوں کے درد اور کینسر کا باعث بنتا ہے۔ NIH کے مطابق، موٹاپے کی بڑی وجہ بسیار خوری اور فاسٹ فوڈ ہے، جو جسم میں چربی اور سوزش بڑھا کر ہارمونی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ عالمی سطح پر 1.9 بلین بالغ افراد زائد الوزن ہیں، جن میں 650 ملین موٹاپے کا شکار ہیں۔ بھارت میں یہ شرح 2023ء تک 23% مردوں اور 24% خواتین تک پہنچ چکی ہے۔ زیادہ وزن سے جوڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے گھٹنوں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد عام ہو جاتا ہے۔ AAOS کے مطابق، موٹاپے کے مریضوں میں جوڑوں کے امراض کا خطرہ 60% زیادہ ہوتا ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق بسیار خوری اور غیر صحت بخش خوراک کئی اقسام کے کینسر، خاص طور پر آنتوں، جگر، لبلبے اور معدے کے کینسر کا سبب بنتی ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق، موٹاپا اور بسیار خوری سے 13 اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں 9.6 ملین افراد کینسر سے ہلاک ہوتے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد غیر صحت مند خوراک کے متاثرین کی ہوتی ہے۔ بھارت میں سالانہ 1.3 ملین نئے کیسز میں سے 30–35% کا تعلق خوراک سے جوڑا جاتا ہے۔
فاسٹ اور پراسیسڈ فوڈز میں زیادہ چکنائی، نمک، چینی اور مصنوعی کیمیکل ہوتے ہیں، جو موٹاپا، ذیابیطس، دل کے امراض اور ہارمونی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ WHO کے مطابق، فاسٹ فوڈ کھانے والوں میں موٹاپے اور بیماریوں کا خطرہ 40–60% زیادہ ہوتا ہے۔ احتیاطی تدابیر میں متوازن غذا، جنک فوڈ سے پرہیز، روزانہ ورزش، اور چینی، نمک و چکنائی کا کم استعمال شامل ہیں۔ صحت مند زندگی کے لیے اعتدال اور سادہ خوراک ضروری ہے۔
❸ بسیار خوری: ایک نفسیاتی، سماجی اور جدید ثقافتی بحران
بسیار خوری صرف جسمانی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور سماجی پہلوؤں پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری اور جذباتی بے چینی کے باعث لوگ "اسٹریس ایٹنگ” یا "ایموشنل ایٹنگ” کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا، فوڈ بلاگنگ، اور موک بنگ ویڈیوز بھی اس رجحان کو بڑھا رہے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق، موٹاپا اور کم خود اعتمادی کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور ایسے افراد اکثر زیادہ کھانے میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ ذہنی دباؤ کے دوران جسم میں کورٹی سول ہارمون کی زیادتی بھوک بڑھا دیتی ہے۔ امریکن سائیکو لوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق، 43% بالغ افراد دباؤ میں جنک فوڈ کھاتے ہیں۔ "کمفرٹ فوڈ” جیسے فاسٹ فوڈ اور چاکلیٹ وقتی خوشی تو دیتے ہیں، مگر طویل مدتی جسمانی و ذہنی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا، فوڈ بلاگنگ، اور فاسٹ فوڈ کلچر نے بسیار خوری کو فروغ دیا ہے۔ فوڈ بلاگرز اور انسٹاگرام انفلوئنسرز کی جانب سے نت نئے کھانوں کی تشہیر دیکھ کر صارفین میں غیر ضروری طور پر کھانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، ایسے افراد میں 30% زیادہ غیر صحت مند کھانے کا رجحان پایا گیا۔ موک بنگ ویڈیوز، جن میں وی لاگرز غیر معمولی مقدار میں کھاتے ہیں، بہت سے ناظرین کو متاثر کرتی ہیں۔ 2022ء کی ایک تحقیق کے مطابق، موک بنگ دیکھنے والے افراد میں بسیار خوری کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ASMR فوڈ ویڈیوز، جن میں کھانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، ناظرین میں "آڈیٹری پلیژر” پیدا کر کے بھوک بڑھاتی ہیں، خاص طور پر رات کے وقت، اور یہ عادت غیر صحت بخش ثابت ہو سکتی ہے۔
بسیار خوری نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔ خاندانی تقریبات، شادیوں اور "بوفے کلچر” میں حد سے زیادہ کھانے کو خوش حالی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جو غیر ضروری کھانے کی عادت کو فروغ دیتا ہے۔ سوشل میڈیا چیلنجز، جیسے "10,000 کیلوری چیلنج”، نوجوانوں میں کھانے کے عوارض کا سبب بن رہے ہیں۔ بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ہنگر اور ایموشنل ایٹنگ میں فرق سمجھا جائے، ذہنی دباؤ کا مثبت حل تلاش کیا جائے، سوشل میڈیا پر کھانے کے غیر ضروری رجحانات سے بچا جائے، اور خاندانی ماحول میں متوازن غذا کو فروغ دیا جائے۔ اس شعوری کوشش سے ہم جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
❹ پیٹ کی پوجا یا بندگیِ ربّ؟ اسلامی فکر اور جدید رویے کا تضاد
اسلام میں اعتدال اور فضول خرچی سے اجتناب کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "کھاؤ، پیو، مگر اسراف نہ کرو، بے شک اللّٰہ فضول خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” (الاعراف 7:31)۔ اسی طرح سورۃ الفرقان (25:67) میں خرچ میں میانہ روی کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ تعلیمات کھانے پینے سمیت ہر معاملے میں اعتدال اپنانے کی تلقین کرتی ہیں، جو اسلامی طرزِ زندگی کا بنیادی اصول ہے۔
رسول اللّٰہﷺ کا طرزِ خوراک سادگی اور اعتدال پر مبنی تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: "چند لقمے ابن آدم کے لیے کافی ہیں… اگر زیادہ ہو تو ایک تہائی کھانے، ایک تہائی پانی، اور ایک تہائی سانس کے لیے ہو” (ترمذی 2380)، اور فرمایا: "مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، کافر سات میں” (بخاری 5393)۔ حضرت عائشہؓ کے مطابق، نبیﷺ کے گھر میں اکثر کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا۔ حضرت علیؓ سادہ غذا پسند کرتے اور فرماتے: "زیادہ لذت سے جسم کمزور اور دل سخت ہو جاتا ہے”۔ حضرت عمرؓ بھی بسیار خوری سے بچتے اور اسے جسمانی و روحانی نقصان کا سبب قرار دیتے۔ یہ سب سیرتیں کھانے میں سادگی اور میانہ روی کا عملی نمونہ ہیں۔
اسلام بسیار خوری سے اجتناب اور متوازن خوراک کی تلقین کرتا ہے، جب کہ جدید دور میں فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ نے صحت کے سنگین مسائل پیدا کر دیے ہیں، جیسے موٹاپا، ذیابیطس اور دل کے امراض۔ اگر ہم نبی کریمﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی سادہ اور متوازن زندگی کو اپنائیں تو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ اسلامی طرزِ زندگی اپنانے کے لیے! سادگی اور اعتدال سے کھائیں، بھوک کے بغیر نہ کھائیں، فضول خرچی سے بچیں، اور سنّت کے مطابق کھانے میں توازن رکھیں۔ بدقسمتی سے آج کل بے اعتدالی اور بسیار خوری عام ہو چکی ہے، جس نے ہمیں جسمانی طور پر کمزور اور روحانی طور پر غافل بنا دیا ہے، حالانکہ زندگی کا اصل مقصد اللّٰہ کی بندگی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہم نے زندگی کا مقصد صرف پیٹ بھرنے کو بنا لیا ہے، حالانکہ قرآن و حدیث میں کھانے میں اعتدال کی واضح ہدایات موجود ہیں۔ جدید تحقیق بھی ثابت کرتی ہے کہ بسیار خوری جسمانی بیماریوں، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سبب بنتی ہے۔ اکثر لوگ جذباتی پریشانیوں سے بچنے کے لیے غیر ضروری کھانے کی طرف مائل ہوتے ہیں، جو مسائل کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرتی اور مذہبی ادارے اس سنگین مسئلے پر توجہ نہیں دیتے، حالانکہ مہذب معاشروں میں ایسی اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصّہ بنایا جاتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بسیار خوری اور اس جیسے مسائل کے خلاف شعور بیدار کیا جائے، اور لوگوں میں اعتدال کی عادت پیدا کی جائے۔ ایک مؤثر حکمتِ عملی کے تحت فالتو کھانے کو بھوکوں تک پہنچایا جائے تاکہ ہم ایک متوازن اور باوقار معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کر سکیں۔
بسیار خوری اور خوراک کے ضیاع سے نمٹنے کے لیے اسلامی تعلیمات، سائنسی تحقیق اور عملی اقدامات کو یکجا کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی سطح پر فاسٹ فوڈ کلچر اور غیر متوازن خوراک کے نقصانات سے آگاہی دینا اہم ہے۔ حل: تعلیمی نصاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں خوراک کے اصول شامل کیے جائیں، جیسے "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا” (الاعراف 7:31) اور "مومن ایک آنت میں کھاتا ہے…” (بخاری 5393)۔ متوازن غذا، بسیار خوری سے بیماریوں کا تعلق، اور صحت مند عادات سکھائی جائیں۔ اسکولوں میں "ہیلتھی ایٹنگ” پر ورکشاپس ہوں، "ایجوکیشنل فوڈ گارڈنز” قائم کیے جائیں، اور خوراک سے متعلق آگاہی نصابی مواد میں شامل کی جائے۔
دنیا بھر میں سالانہ 1.3 بلین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے، جب کہ کروڑوں لوگ بھوک کا شکار ہیں۔ نبی کریمﷺ نے کھانے کی عزّت اور ضیاع سے بچنے کی تعلیم دی، اور صحابۂ کرامؓ اسے حرام سمجھتے تھے۔
❺ جدید اور اسلامی اقدامات، حل و تجاویزات:
اضافی کھانے کے مؤثر استعمال اور اس کے ضیاع کو روکنے کے لیے چند عملی اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور موجودہ دور کی ضروریات دونوں کے عین مطابق ہیں۔ ان میں سب سے پہلے تقسیم خوراک "شیئر یور میل” کی مہم ہے، جس کے تحت اضافی کھانا مستحق افراد تک پہنچانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ یہ کام مساجد اور مدارس کے تعاون سے مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد تک مدد پہنچ سکے۔
اسی طرح "کمیونٹی فریج” مشترکہ فریج جہاں ضرورت مند افراد کے لیے خوراک رکھی جاتی ہے، کا نظام متعارف کرایا جاسکتا ہے، جس میں عوامی مقامات پر فریج رکھے جائیں جہاں لوگ اپنا اضافی کھانا رکھ سکیں، اور ضرورت مند افراد بلا جھجک اسے لے سکیں۔ یہ طریقہ کار نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے بلکہ کھانے کے ضیاع کو بھی کم کرتا ہے۔
تیسرا اہم قدم خوراک کی حفاظت "ریسکیو دی فوڈ” جیسا نظام ہے، جس کے ذریعے ہوٹلوں، شادی ہالوں اور دیگر تقریبات میں بچ جانے والے کھانے کو محفوظ انداز میں مستحقین تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے لیے خصوصی ٹیمیں اور رضاکار ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔
آخر میں، خوراک کے ضیاع سے مکمل اجتناب کی پالیسی "زیرو فوڈ ویسٹ پالیسی” کو گھریلو سطح پر اپنانا بھی ضروری ہے، جس کے تحت گھروں میں بچا ہوا کھانا دوبارہ قابل استعمال بنا کر ضیاع روکا جاتا ہے۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف بھوک اور محتاجی کے خاتمے میں مددگار ہیں بلکہ اسلامی اصولوں کے تحت امانت داری، سخاوت اور رفاہ عامہ کے جذبے کو بھی تقویت دیتے ہیں۔
رمضان المبارک صبر، شکر اور سادگی کا مہینہ ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے دور میں یہ مہینہ اکثر بسیار خوری اور کھانے کے ضیاع کا مظہر بن گیا ہے۔ حالانکہ رسول اللّٰہﷺ کی سنّت ہمیں سادگی اور اعتدال کی راہ دکھاتی ہے۔ آپﷺ کا افطار نہایت سادہ ہوتا تھا، چند کھجوریں اور پانی پر اکتفا فرماتے، اور امت کو بھی یہی نصیحت فرماتے کہ کھانے میں اعتدال رکھا جائے تاکہ عبادت میں رکاوٹ نہ آئے۔
اسی شعور کو عام کرنے کے لیے چند عملی اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے "سادہ افطار مہم” کا آغاز کیا جائے، جس کے تحت مساجد اور گھروں میں سادہ اور صحت بخش افطار کو فروغ دیا جائے۔ اس مہم کا مقصد نمود و نمائش سے بچ کر اصل روحِ رمضان کو زندہ رکھنا ہے۔ اسی طرح "افطار شیئرنگ” کا نظام قائم کیا جائے، تاکہ زائد کھانا ضائع ہونے کے بجائے مستحقین تک پہنچے۔ یہ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے بلکہ معاشرتی ہمدردی کو بھی بڑھاتا ہے۔
رمضان کے موقع پر "متوازن غذا کی آگاہی” کے لیے عوامی مہمات بھی چلائی جائیں، تاکہ لوگ غذائیت سے بھرپور اور اعتدال والی خوراک کا انتخاب کریں۔ اس طرح صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ ملے گا اور کھانے کی فضول خرچی سے بچا جا سکے گا۔ آخر میں، "بچّوں کی تعلیم” نہایت ضروری ہے۔ بچپن ہی سے خوراک کی قدر، سادگی اور میانہ روی کی اہمیت سکھائی جائے تاکہ یہ خوبیاں ان کی عادت بن جائیں۔
اسلامی تعلیمات اور جدید سائنسی تحقیق دونوں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اعتدال، سادگی اور خوراک کے احترام کو اپنانا ایک صحت مند اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ رمضان کا حقیقی پیغام بھی یہی ہے: شکرگزاری، میانہ روی اور دوسروں کا خیال رکھنا۔
(16.07.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...