Skip to content
حِکمتِ نوری
عدل کی دیر آمد، مگر نہ آمد
سچائی کی فتح یا نظام کا دیوالیہ پن؟
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون 09422724040
جب تاریخ خاموش ہو جائے، اور انصاف طویل نیند سو جائے، تو مظلوموں کی آہیں وقت کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ کبھی ان سسکیوں کو سننے میں برسوں لگ جاتے ہیں، اور کبھی صدیوں۔ مگر جب حق بولتا ہے تو وہ صرف ایک فرد یا قوم کی نہیں، انسانیت کی جیت بن جاتا ہے۔ یہ تحریر ایک ایسے ہی عدالتی فیصلے پر قلم اٹھاتی ہے جو صرف ایک مقدمہ کا اختتام نہیں، بلکہ ایک اذیت ناک عہد کے انکار، اور ایک نئی فکری بیداری کا آغاز ہے۔ 7/11 ممبئی بم دھماکوں کے بعد جن معصوم مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر تختۂ مشق بنایا گیا، برسوں کی خاموشی، قید، تذلیل اور ناانصافی کے بعد، آج انہیں وہ صداقت ملی ہے جس کے لیے وہ صبر کی صلیب پر چڑھے رہے۔
گھٹتی جوانیاں، قید کی دیواروں سے لپٹیں
آنکھیں بھی سوکھ گئیں تھیں امیدیں پی کر
یہ مضمون انصاف کے اس لمحے کو صرف بیان نہیں کرتا، بلکہ اس کے پسِ منظر، اس کی قیمت، اور اس سے جڑے سوالات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ یہ ان خاموش چیخوں کا ترجمان ہے جو برسوں تک جیلوں کی دیواروں سے سر ٹکراتی رہیں، اور ان سوالات کا آئینہ ہے جو صرف عدالتوں ہی نہیں، ہماری قیادت، ہمارے نظام، اور ہمارے اجتماعی ضمیر سے بھی کیے جانے چاہییں۔ آیئے، ہم صرف خوشی نہ منائیں کہ فیصلہ آیا؛ بلکہ سمجھیں، سوچیں اور سوال کریں کہ فیصلہ اتنی دیر سے کیوں آیا؟ اور پھر عہد کریں کہ ایسا ظلم دوبارہ کسی کے ساتھ نہ ہو۔
انیس برس کی طویل، صبر آزما اور اذیت ناک عدالتی جدوجہد کے بعد آخر کار وہ دن آ پہنچا جب حق نے زبان پائی، اور انصاف نے ظلم کی دھند چھانٹ کر اپنا چہرہ دکھایا۔ آج بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ایک ایسا فیصلہ صادر کیا جو نہ صرف قانونی تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، بلکہ یہ ہندوستانی عدلیہ کے ضمیر کی جاگرتا، اور مظلوموں کی آہوں کی بازگشت کا عملی ثبوت بھی ہے۔
7 جولائی 2006ء کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہوئے بم دھماکوں کے بعد ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جس میں انصاف کی بجائے انتقام کا رجحان غالب آ گیا۔ اس سانحے کو لے کر جس عجلت، تعصب اور بے بنیاد قیاس آرائیوں کے ساتھ کچھ مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، وہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی تھی بلکہ عدالتی وقار کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان بن گئی تھی۔ ان نوجوانوں پر مکوکا جیسے سخت قانون کے تحت مقدمات قائم کیے گئے، جنہیں برسوں تک بغیر ٹھوس شواہد کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی فضا میں ‘دہشت گرد’ کا مفہوم ایک مخصوص شناخت سے جوڑ دیا گیا تھا۔
تاہم آج، جب بامبے ہائی کورٹ نے خصوصی مکوکا عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا، اور پانچ ملزمین کی پھانسی کی سزا کو غیر قانونی ٹھہرا کر منسوخ کیا، تو گویا ایک صدیق صدا بلند ہوئی کہ "عدل تاخیر سے سہی، مگر اندھا نہیں ہوتا۔” اسی طرح سات دیگر ملزمین کو دی گئی عمر قید کی سزا بھی عدالتِ عالیہ نے منسوخ کر دی، اور یوں ان تمام افراد کو وہ عدالتی شفافیت اور آئینی تحفّظ فراہم کیا گیا جس کے وہ برسوں سے منتظر تھے۔
یہ فیصلہ محض ایک قانونی موڑ نہیں، بلکہ ایک فکری بیداری، اور قوم کی اجتماعی ضمیر کی بازگشت ہے۔ اس نے نہ صرف ان نوجوانوں کی بے گناہی کو تسلیم کیا بلکہ اس نظام پر بھی سوال اٹھایا جو تفتیش کے نام پر تعصب کا شکار ہو جائے، اور انصاف کے نام پر اندھیرے میں تیر چلائے۔ آج ان نوجوانوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں، مگر یہ آنسو شکست کے نہیں، صبر کی کامیابی کے، مظلوم کی سچائی کے، اور ایک دیر سے آنے والے مگر ناقابل تردید انصاف کے گواہ ہیں۔ مشہور انگریزی کہاوت ہے:
"Justice delayed is justice denied.”
تاخیر سے دیا گیا انصاف، انصاف نہیں ہوتا۔ انصاف کے آنے کا کہا جا رہا ہے، اور سب کہہ رہے ہیں کہ آخرکار انصاف ہوا… مگر جسے ہم انصاف کہہ رہے ہیں، وہ دراصل اتنی دیر سے آیا ہے کہ انصاف کہلانے کے قابل ہی نہیں رہا۔
ایسے واقعات سے کئی پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور الم انگیز پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں پر جو سنگین، جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے، وہ اُن ہی ادوارِ حکومت میں قائم ہوئے جنہیں مسلمان برسوں تک اپنی سیاسی پناہ گاہ، ہمدرد، اور خیرخواہ سمجھتے رہے۔ یہ وہی سیاسی پارٹیاں ہے، جسے مسلمانوں نے بارہا اپنی امیدوں کا مرکز جانا، اپنے ووٹوں کی طاقت سے اسے کامیاب کیا، مگر اس کی حکومتوں کے سائے تلے ہی ہزاروں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردی، بغاوت اور دیگر گھناؤنے الزامات میں پھنسا دیا گیا۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ جنہوں نے آنکھیں بند کر کے ان پر اعتماد کیا، اُنہیں ہی اندھی کوٹھریوں میں قید کر کے ان کا شعور، ان کی جوانیاں، اور ان کے خواب چھین لیے گئے۔
جو اپنے کہے جاتے تھے، وہی بیچ گئے ہم کو
زخم بھی دیے، مرہم بھی دینے نہ آئے
لیکن اس سے بھی زیادہ قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ جب یہ مظلوم نوجوان سالوں بعد عدالتوں سے باعزّت بری ہو کر نکلے، تب ہماری قیادت نے اسے ایک فتح قرار دے کر اپنی پیٹھ تھپتھپائی، مگر جس نظام نے ان کی زندگیاں برباد کیں، اس پر کوئی سوال نہ اٹھایا۔ ہمارے قائدین کی تمام توانائیاں اور وسائل صرف ضمانتیں دلانے، وکلا کی فیسیں ادا کرنے، اور قانونی چارہ جوئی کے اخراجات تک محدود رہے۔ لاکھوں روپے اس پر خرچ ہوئے کہ ظلم کے بعد صرف جیل سے رہائی ممکن ہو جائے، مگر ظلم کے تدارک کے لیے، اس کے تدارک کے لیے، اور انصاف کے حقیقی قیام کے لیے کوئی دیرپا اور منظم کوشش نہیں کی گئی۔
نہ کسی نے اُن سیاسی جماعتوں کا محاسبہ کیا جنہوں نے جھوٹے مقدمات گھڑے، نہ اُن پولیس افسران اور خفیہ ایجنسیوں کو جواب دہ بنایا گیا جنہوں نے معصوموں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا۔ ان افسران نے جن کی فائلوں کے بوجھ تلے انسانیت کراہتی رہی، جن کی جھوٹی رپورٹوں نے پورے خاندانوں کو معاشرتی بائیکاٹ، معاشی بدحالی، اور نفسیاتی اذیت کا شکار بنا دیا، ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہوئی۔ وہ بدستور اپنے عہدوں پر فائز رہے، ترقی پاتے رہے، تمغے لیتے رہے، اور مظلوم اپنے زخم چاٹتے رہے۔
ہمارے نوجوان جنہوں نے زندگی کے سب سے قیمتی ایّام جیل کی تاریکی میں گزارے، جب وہ واپس آئے تو نہ ان کے پاس روزگار تھا، نہ سماجی وقار، نہ معاشی استحکام۔ ان کے ضعیف والدین کی آنکھیں ان کے انتظار میں پتھرا چکی تھیں، اور بعض والدین نے قبریں جا دیکھیں، ان کی بیویاں تنگدستی و تذلیل کے عذاب سے دوچار ہو چکی تھیں، اور ان کے معصوم بچّے اپنی معصومیت کے ساتھ معاشرے کی تحقیر برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہماری قیادت کا تصورِ انصاف صرف وقتی ریلیف تک محدود ہے، وہ نظام کی اصلاح، ظلم کی جڑ کاٹنے، اور مظلوم کی مکمل بحالی کی فکر سے محروم ہے۔ ہماری جدوجہد اس وقت تک ادھوری اور بےاثر رہے گی، جب تک ہم ظالم کو اس کے انجام تک نہ پہنچا دیں، اور مظلوم کو صرف رہائی نہیں، بلکہ وہ وقار، عزّت، اور معاوضہ نہ دلوا دیں جس کا وہ حق دار ہے۔
افسوس صد افسوس! ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں انصاف ترازو تو رکھتا ہے، مگر اس کے پلڑے طاقت و حیثیت کے مطابق جھکتے اور اٹھتے ہیں۔ عام شہری کا جرم اگر ایک معمولی لغزش ہو تو وہ برسوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی بےگناہی کی دہائیاں دیتا رہتا ہے، لیکن وہ سیاسی لیڈران جو قتل و غارت گری، عصمت دری، ڈاکہ زنی، اور ریاستی خزانے کو لوٹنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں، نہ صرف آزاد گھومتے ہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں راج کرتے نظر آتے ہیں۔
ان پر مقدمات تو قائم ہوتے ہیں، کچھ کاغذی ایف آئی آرز بھی درج ہوتی ہیں، لیکن عدالتوں کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ نرم رہتے ہیں، ضمانتیں ان کے لیے فوری، اور فیصلے اکثر "ثبوت ناکافی” کی بنیاد پر اُن کے حق میں آ جاتے ہیں۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنہیں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خصوصی اختیارات، مراعات، اور تحفّظات حاصل ہیں۔ ان کی جیب میں قانون، اور ان کے پیچھے انتظامیہ کھڑی ہوتی ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے قانون ساز، خود قانون کے سب سے بڑے توڑنے والے بن چکے ہیں؟
اگر واقعی کبھی ایسا وقت آ جائے اور اے کاش کہ آئے جب یہ سیاسی رہنما بھی محض ایف آئی آر درج ہونے پر فوری گرفتار کیے جائیں، ان پر بھی برسوں مقدمے چلیں، ان کی ضمانتیں مسترد ہوں، ان کی شخصیت پر بھی الزام کا داغ چمکنے لگے، اور وہ بھی سلاخوں کے پیچھے، ان ہی جیلوں میں، انہی باسی کھانوں پر، انہی بدبودار کمبلوں میں، انہی غلاظتوں کے درمیان اپنے دن و رات گزارنے پر مجبور ہو جائیں، تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس نظامِ انصاف کے سارے پرزے خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔
پھر نہ تو عدالتیں سالہا سال تک فائلوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالے رکھیں گی، نہ ہی پولیس تفتیش میں جانبداری دکھائے گی۔ جج صاحبان بھی فیصلے صادر کرنے میں تاخیر کے عادی نہ رہیں گے، اور تفتیشی افسران بھی انصاف کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ کیونکہ جب ظالم خود ظلم کا ذائقہ چکھنے لگے، تو اسے مظلوم کی کراہت، اس کی آہیں، اور اس کی اذیت صاف سنائی دینے لگتی ہے۔ لیکن یہ سب تبھی ممکن ہے، جب معاشرہ باشعور ہو، جب عوام اپنی قیمت سمجھے، اور جب ہم یہ طے کر لیں کہ ظالم چاہے کسی بھی جماعت، کسی بھی مذہب، یا کسی بھی لباس میں ہو ہم اس کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ وگرنہ، ہم صرف فیصلوں کی خوشیاں مناتے رہیں گے، اور نظام کی جڑوں میں بیٹھی ناانصافی، ہماری نسلوں کا مقدر بگاڑتی رہے گی۔
ابھی وقت مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نکلا نہیں ہے۔ تاریخ کا ورق مکمل سیاہ ہونے سے قبل، قلم ہمارے ہاتھ میں ہے۔ کئی اہم ریاستوں کے انتخابات سر پر ہیں، اور یہ وہ لمحہ ہے جہاں ایک باشعور قوم اپنی آواز کو اثر انگیز بنا سکتی ہے، اور اپنی خاموشی کو بامعنی احتجاج میں بدل سکتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب قومیں اپنا سیاسی مستقبل طے کرتی ہیں جہاں صرف وعدوں اور نعروں سے نہیں، بلکہ اصولوں اور ترجیحات کے شعور سے انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے۔
اگر ان جھوٹے مقدمات، پولیس اور ایجنسیوں کی زیادتیوں، اور مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کی تباہی جیسے گمبھیر اور اذیت ناک معاملات پر ہم ابھی بھی خاموش رہے، تو ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انتخابی میدان وہ منچ ہے جہاں عوام اپنی آواز کے ذریعے انصاف، عزّت، اور خودداری کا فیصلہ صادر کر سکتی ہے۔ اگر ہم ان معاملات کو مباحث کا مرکز بنا دیں، اگر جلسوں، پریس کانفرنسوں، اور بیانات میں مسلسل ان سوالات کو دہرائیں، تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ آواز رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ گونجے گی، اور ایوانِ اقتدار کی دیواریں بھی اسے سننے پر مجبور ہوں گی۔
لیکن اگر، اس کے باوجود، ہمارے قومی و ملّی رہنما ان نازک مسائل سے نظریں چراتے رہیں، یا صرف وقتی جذباتی بیانات دے کر خاموشی اختیار کر لیں، تو وقت آ گیا ہے کہ ہم ان سے سوال کریں، اور اگر وہ جواب دینے سے قاصر رہیں، تو ان کے بائیکاٹ کی تحریک چھیڑ دی جائے۔ ہمیں یہ یاد دلانا ہوگا خود کو بھی اور ان کو بھی کہ یہ لوگ ہمارے "صاحب” یا "مالک” نہیں ہیں، یہ ہماری رعیت یا اُمّت نہیں ہیں کہ ان پر تنقید کو گناہ سمجھا جائے۔ یہ پبلک سرونٹ ہیں، عوام کے خادم اور انہیں خادم ہی بن کر رہنا چاہیے۔
یہ طرزِ فکر جو ہماری رگ و پے میں غلامی کے زہر کی طرح سرایت کر گیا ہے کہ "قائد کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا”، اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔ قائد وہی جو جواب دہ ہو، جو عوام کے درد کو محسوس کرے، اور جو اپنی غلطیوں پر عوام کے سامنے جھکنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ورنہ ایسی قیادت صرف بت بن جاتی ہے جس کی پوجا ہوتی ہے، مگر جو قوم کی قسمت کا تعین زمینی سچائیوں سے نہیں بلکہ آسمانی دعووں سے کرتی ہے۔ لہٰذا، وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنا ہوگا۔ خاموشی جرم بن چکی ہے، اور خاموش تماشائی رہنا خود ظلم کے شریک ہونے کے مترادف ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی اجتماعی قوت کو آواز نہ دی، تو آئندہ ہمیں صرف پچھتاوے، کرب اور شکست خوردگی ورثے میں ملے گی۔
اسلام نے عدل کو نہ صرف ایک سماجی اصول قرار دیا ہے بلکہ اُسے ایمان کا لازمی تقاضا بھی ٹھہرایا ہے۔ قرآنِ مجید کی صریح تعلیم ہے: "اے ایمان والو! انصاف پر سختی سے قائم رہو، اللّٰہ کی خاطر گواہی دینے والے بنو، اگرچہ وہ (گواہی) خود تمہارے خلاف یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو” (سورۃ النساء: 135)۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، مظلوم کا ساتھ دینا، اور ظالم کے ہاتھ روکنا محض سیاسی یا قانونی ذمّہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فرض ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "تم میں سے جو کوئی ظلم کو دیکھے، تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے روکے، اگر نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے”۔ (صحیح مسلم)
ہمارے دین کا مزاج سراپا عدل ہے۔ اگر ایک عام فرد پر ظلم ہو رہا ہو، اور ہم خاموش رہیں، تو ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک قرار پاتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کا وہ مشہور قول یاد رکھنے کے لائق ہے: "کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام کبھی نہیں چل سکتا”۔
آج جن مسلم نوجوانوں کو تقریباً دو دہائیوں کے بعد انصاف ملا ہے، وہ یقیناً ایک فتح کا لمحہ ہے، مگر اس فتح کے پیچھے ہمارے اجتماعی غفلت کی شکست بھی چھپی ہوئی ہے۔ اسلام ہمیں محض مظلوم کی رہائی پر جشن منانے کا نہیں، بلکہ ظالم کی بازپُرس کا سبق دیتا ہے۔ اگر ظالم کو سزا نہ دی جائے، اگر جھوٹے گواہوں، جانبدار افسران، اور تعصب زدہ تفتیشی اداروں کا محاسبہ نہ کیا جائے، تو ہمارا معاشرہ مسلسل ان ہی زخموں کا شکار رہے گا۔ لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم صرف فیصلوں پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ نظام کی اصلاح اور عدل کے قیام کے لیے منظم، پُرامن اور باشعور جدوجہد کریں۔ یہ جدوجہد ہماری نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرح ایک عبادت ہے، کیونکہ یہ انسانیت کی بھلائی اور ظلم کے ازالے کے لیے ہے۔
آخر میں، وہ دعا جو قرآن نے ہمیں سکھائی، آج بھی ہمارے لبوں پر ہونی چاہیے۔
"رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا، وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا، وَتَرْحَمْنَا، لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ” (سورۃ الاعراف: 23)
"اے ہمارے ربّ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے، تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے”۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اس فیصلے کو صرف ایک عدالتی مثال نہ سمجھیں، بلکہ ایک دعوتِ بیداری، اور تحریکِ انصاف کا نقطۂ آغاز بنائیں تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود، کسی باپ کی امید، کسی بیوی کا سہاگ، اور کسی بچّے کا بچپن، جھوٹے مقدموں کی بھینٹ نہ چڑھے۔
یہی دعا ہے مظلوم کے لبوں سے آج
ربِّ! ظلمت میں روشنی کی راہ دکھا
(22.07.2025)
Masood M. Khan (Mumbai)
Like this:
Like Loading...