Skip to content
دھرمستھلا کی گمنام قبریں
ایک اجتماعی ضمیر کا مقدمہ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون 09422724040
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”
بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزّت و کرامت عطاء کی۔ (سورۃ الاسراء: 17:70)
اسلام، وہ دین ہے جس نے انسان کی جان، مال، عزّت اور وقار کو اتنی حرمت عطاء کی کہ ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا: "جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا”۔ (سورۃ المائدہ: 5:32)۔ اسلام میں نہ صرف مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا فرض ہے، بلکہ ظالم کو روکنا بھی ایمان کا تقاضا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے؛ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے؛ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے نفرت کرے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے” (صحیح مسلم)
ایسے میں جب انسانی لاشیں گمنام قبروں میں دفن کی جائیں، جب معصوم بچیوں کے جسموں کو بے نام راکھ میں تبدیل کر دیا جائے، اور جب کسی کو جبر و خوف کے عالم میں سچ بولنے پر مجبور ہونا پڑے، تو سوال صرف قانون کا نہیں رہتا بلکہ یہ ایمان، ضمیر اور انسانیت کی غیرت کا سوال بن جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات نہ صرف عدل و انصاف کو ہر حال میں لازم قرار دیتی ہیں، بلکہ خوف، مصلحت اور طاقت کے دباؤ کے آگے اختیار کی جانے والی خاموشی کو بھی جرم کے زمرے میں شمار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سانحات خصوصاً کرناٹک کے معروف مذہبی مقام دھرمستھلا میں حالیہ دنوں سامنے آنے والے مبینہ اجتماعی تدفین کے واقعات کو محض اخباری سرخیوں یا عدالتی فائلوں کی حد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں اسلامی تعلیمات کے آئینے میں پرکھا جائے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ کہیں ہم ان مظالم پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر باطل کے معاون تو نہیں بن گئے؟
’دی ہندو‘، ’انڈین ایکسپریس‘، اور ’نیوز 18 کنڑا‘ سمیت مختلف معتبر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، ایک دلت صفائی ملازم نے حلفیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے متعدد نامعلوم لاشوں کو جلا کر یا دفن کر دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تعداد 4 سو سے زائد ہو سکتی ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیوں کی لاشیں شامل تھیں، جن کی نہ شناخت کی گئی، نہ ہی ان کی گمشدگی کی کوئی رپورٹ درج ہوئی۔ ان دعوؤں کی تائید ویڈیو گواہیوں اور CCTV فوٹیجز سے بھی ہوئی ہے، جنہیں SIT (Special Investigation Team) نے باقاعدہ طور پر اپنی تفتیش کا حصّہ بنایا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مذہب انسان کو امن، ہمدردی اور حق گوئی کی راہ دکھاتا ہے، مگر جب مذہب کے محافظ ہی مبینہ طور پر ظلم و ستم کے آلہ کار بن جائیں، تو نہ صرف ایمان متزلزل ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ ایک اخلاقی زوال کی طرف لڑھکنے لگتا ہے۔ کرناٹک کے معروف مذہبی مقام دھرمستھلا میں جو انکشافات حالیہ دنوں منظر عام پر آئے ہیں، وہ محض ایک شکایت، ایک ویڈیو یا ایک عدالت کی فائل نہیں، بلکہ ایک اجتماعی انسانی المیہ کی دہلیز پر کھڑے ہمارے معاشرے کی بے حسی اور بے بسی کی دستاویز ہیں۔
دھرمستھلا کی مٹی میں جو سچ دفن ہے
اسے آواز دو، وہی تمہارا وزن ہے
مذہب کے سائے تلے 1995ء سے کام کرنے والے ایک دلت صفائی کارکن کا دعویٰ کہ اُسے "متعدد خواتین اور بچیوں کی لاشیں جلانے اور دفن کرنے پر مجبور کیا گیا” محض ایک الزام نہیں بلکہ ایک صدیوں پر محیط ذات پات، طاقت اور ظلم کے امتزاج کی بازگشت ہے۔ ابتدائی طور پر، اُس شخص نے سمجھا کہ یہ لاشیں خودکشی یا ڈوبنے جیسے سانحات کا نتیجہ ہیں۔ تاہم، جلد ہی اُسے احساس ہوا کہ وہ غلطی پر تھا۔ اپنے بیان میں اُس نے کہا: "کئی خواتین کی لاشیں بغیر کپڑوں یا زیر جاموں کے ملی تھیں۔ بعض لاشوں پر جنسی زیادتی اور تشدّد کے واضح نشانات تھے زخم یا گلا گھونٹے جانے کے نشان، جو اس پر ہونے والے تشدّد کو ظاہر کرتے تھے، اُن پر نمایاں تھے”۔
اس نے دعویٰ کیا کہ اسے سیکڑوں لاشوں کی تدفین پر مجبور کیا گیا، جن میں کئی کم عمر لڑکیاں تھیں۔ ایک واقعے میں ایک اسکول کی طالبہ کی لاش اس کی یادداشت میں آج تک محفوظ ہے: "وہ اسکول یونیفارم کی قمیص پہنے ہوئی تھی، لیکن اس کی اسکرٹ اور دیگر کپڑے غائب تھے۔ جسم پر جنسی زیادتی کے آثار تھے اور گردن پر گلا گھونٹے جانے کے نشانات تھے۔ مجھے حکم دیا گیا کہ ایک گڑھا کھود کر اسے اس کے اسکول بیگ کے ساتھ دفن کر دوں”۔
یہ شخص اُس وقت مندر سے فرار ہوا جب اس کے خاندان کی ایک لڑکی کو بھی مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ اب اس کی خواہش ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور دفن شدہ لاشوں کو دوبارہ نکال کر انہیں باعزّت آخری رسومات دی جائیں۔ مزید کہا کہ میں یہ شکایت نہایت بوجھل دل کے ساتھ کر رہا ہوں تاکہ اپنی گناہ گار یادوں کے بوجھ سے چھٹکارا پا سکوں… میں مزید ان قتلوں کی یادوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، جنہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مجھے مسلسل دھمکیاں دی گئیں کہ اگر لاشوں کو دفن نہ کیا تو مجھے بھی ان کے ساتھ دفن کر دیا جائے گا۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ویڈیو شواہد نے اس راز کی پرتیں کھولیں، جن میں چار سو سے زائد لاشوں کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر یہ درست ثابت ہوتا ہے، تو یہ مہذب معاشرے کے چہرے پر ایسا بدنما داغ ہے جسے وقت کی کوئی بارش بھی دھو نہیں سکتی۔ یہ صرف قانون کا معاملہ نہیں بلکہ انسانیت، اقدار اور عقیدے کی بنیادوں کو ہلا دینے والا حادثہ ہے۔
اسی ضمن میں ایک گمنام شکایت کنندہ نے باقاعدہ حلفیہ بیان کے ذریعے اس اجتماعی دفن کے انکشافات کیے۔ انکشافات اس قدر سنگین تھے کہ ریاستی حکومت نے ایس آئی ٹی کی تشکیل دی۔ اس شخص کی دو روزہ پوچھ گچھ نہایت رازداری کے ماحول میں کی گئی، جہاں اس کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی، بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی، اور قانون کی گرفت سے پہلے سچائی کی گرفت کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں قانون، اخلاق اور انصاف ایک ہی میز پر بیٹھے اور انسانی ضمیر نے سوال اٹھایا: "کیا ہم ایسے سانحات پر خاموشی اختیار کر کے خود شریکِ جرم تو نہیں بن رہے؟”۔
جب SIT چیف پرنو موہنتی تفتیش کی نگرانی کے لیے خود بنگلورو سے پہنچے، تو یہ واضح پیغام تھا کہ معاملہ اب ریاستی و قومی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ موقعِ واردات کی مجوزہ کھدائی، فورنسک تجزیہ، ادارہ جاتی ریکارڈز کی جانچ، اور دیگر گواہوں کی تلاش یہ سب وہ اقدامات ہیں جو ایک جانب حقیقت کی پرتیں کھولیں گے، تو دوسری طرف یہ طے کریں گے کہ آیا ہندوستان کا انصاف نظام واقعی ہر بے صدا لاش کو آواز دے سکتا ہے یا نہیں۔
اب دھرمستھلا میں گمشدہ یا مشتبہ حالات میں ہلاک ہونے والی لڑکیوں کے اہل خانہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اُن پرانے کیسز کو دوبارہ کھولا جائے جو برسوں سے بند پڑے ہیں، جن میں بعض کی تاریخیں 1980ء کی دہائی تک جاتی ہیں۔ ہر دور میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کی پیشانی پر لہو سے لکھے جاتے ہیں ایسے نام جن کا ذکر محض ماتم نہیں ہوتا بلکہ وہ سماجی، اخلاقی اور ادارہ جاتی زوال کی علامت بن جاتے ہیں۔ دھرمستھلا کے سائے میں ایسے ہی چند نام ابھرے ہیں: سوجنیا، پدمالتا، ویداولّی، یمونا اور اننیا بھٹ۔ یہ محض ماضی کے المناک واقعات نہیں ہیں، بلکہ موجودہ تفتیش کے زندہ ضمیر کی صورت ہمارے سامنے کھڑے ہیں، جن کی چیخیں نظامِ عدل کو جھنجھوڑنے کا تقاضا کر رہی ہیں۔
یہ سوجنیا، پدمالتا، اننیا کی کہانی ہے
ہر بچّی کی قبر پہ لکھی زباں بے زبانی ہے
سوجنیا: 2012ء میں، صرف 17 برس کی طالبہ سوجنیا کی لاش دھرمستھلا کے قریب درختوں کے جھنڈ میں نیم برہنہ حالت میں ملی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دے کر فائل بند کر دی جیسے کہ کئی دیگر معاملات میں ہوتا رہا ہے۔ مگر ظلم کی خاکستر میں سچ کی چنگاری بجھتی نہیں۔ عوامی احتجاج، طلبہ تنظیموں کی للکار اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جدوجہد نے معاملہ CID تک پہنچایا۔ آج، 13 برس بعد، نئے شواہد اور نئی گواہی نے اس کیس کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ یہ صرف ایک کیس کی بحالی نہیں، بلکہ اس نظامِ انصاف کی آزمائش ہے جس نے برسوں تک خاموشی کا ساتھ دیا۔
پدمالتا: 1987ء میں، ایک نابالغ لڑکی پدمالتا کی لاش مندر کے احاطے کے قریب ملی۔ ثبوت نہ ہونے کے سبب کیس بند کر دیا گیا۔ مگر سوالات نہ مرے، نہ سہمے بلکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ وہ اور تیز ہو گئے۔ اب، جب اجتماعی تدفین اور گمشدہ لاشوں کی حقیقتیں دھیرے دھیرے کھل رہی ہیں، پدمالتا کا کیس بھی نئے تناظر میں کھولا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کی فائل بند ہو سکتی ہے، مگر اس کی گونج بند نہیں کی جا سکتی۔
اننیا بھٹ: 2003ء میں، ایک ذہین طالبہ اننیا بھٹ دھرمستھلا کے ایک تعلیمی دورے پر گئی۔ وہ سفر علم کا ہونا تھا، مگر وہ واپسی کا دروازہ کبھی نہ دیکھ سکی۔ فائلیں بند ہو گئیں، سوال دفن ہو گئے، اور خاندانوں نے خاموشی کو نصیب مان لیا۔ مگر اب، SIT کی گہری نظر اس کیس پر بھی جا ٹھہری ہے۔ جو فائلیں "گمشدگی” کے خانوں میں دفن تھیں، وہ اب "سچائی کی کھوج” کے عنوان سے دوبارہ کھل رہی ہیں۔
یہ سوجنیا ہو، پدمالتا یا اننیا بھٹ یہ تینوں کہانیاں ایک مشترکہ المیہ کا اظہار ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں طاقت مند ادارے معصوموں کی چیخوں کو دبا دیتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں سماجی حیثیت، ذات پات اور تقدس کے نام پر خاموشی مسلّط کی جاتی ہے۔ اور ایک ایسا دور جہاں مظلوم کی فریاد کو "بے بنیاد” کہہ کر بند دراز میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مگر وقت بدل رہا ہے، اور آج کے سوال کل کی قبروں سے بھی زیادہ بولنے لگے ہیں۔ یہ محض پرانے کیسز کی تفصیلات نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ضمیر کی بیداری کا لمحہ ہیں۔
مذہبی خوف، ذات پات کی بنیاد پر پسماندگی، اور ادارہ جاتی طاقت کی وجہ سے کئی غریب خاندان خاموشی میں دب جاتے ہیں، یا انہیں "دان” (donation/deity offering) سمجھ کر مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ بولیں۔ قانونی پہلو سے اگر دیکھا جائے تو CrPC کی دفعہ 174 کے تحت غیر فطری موت کی اطلاع پر پولیس کا پوسٹ مارٹم اور تحقیقات کرنا لازم ہوتا ہے۔ اگر یہ 400 سے زائد لاشیں بغیر اس قانونی عمل کے دفن کی گئیں، تو یہ مجرمانہ غفلت اور ادارہ جاتی ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ محض لاشیں نہیں، گمشدہ تقدیریں ہیں۔ ان مبینہ دفن شدہ لاشوں میں کون تھیں یہ بچیاں؟ کون تھیں یہ عورتیں؟ کیا ان کی گمشدگی کی کوئی رپورٹ تھی؟ یہ سوالات نہ صرف تفتیشی اداروں کے لیے چیلنج ہیں بلکہ ہر بیدار شہری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست نکلتے ہیں، تو ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: "کیا ہمارے معاشرے کی ساخت اس قدر کھوکھلی ہو چکی ہے کہ کسی مذہبی مقام کی آڑ میں سینکڑوں انسان لاپتا ہو جائیں اور ہمیں خبر تک نہ ہو؟”۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی روحانی یا ادارہ جاتی مقام سے ایسا بھیانک راز باہر آیا ہو۔
ماضی کے مشابہہ سانحات کا حوالہ:
آصف آباد (تلنگانہ) کی اجتماعی قبریں، 2019ء میں تلنگانہ کے قبائلی علاقے میں درجنوں نامعلوم لاشیں ایک سنسان مقام پر ملی تھیں، جن پر آج تک مکمل وضاحت سامنے نہ آ سکی۔
نندوربار (مہاراشٹر) میں قبائلی عورتوں کی گمشدگی، جہاں مندر کے احاطوں میں کام کرنے والی خواتین کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کے کیس دبائے گئے، جن کی گمشدگی پر کوئی FIR درج نہ ہوئی اور کبھی مکمل تفتیش نہ ہو سکی۔
کیرالا 1992ء کی "سستر ابھیا” قتل کہانی، جہاں مذہبی ادارہ چرچ، پولیس اور سیاست نے مل کر 28 سال تک ایک معصوم سسٹر کے قتل پر پردہ ڈالے رکھا، جب تک عدالت نے 2020ء میں فیصلہ سنا کر پادری اور راہبہ کو مجرم قرار نہ دیا۔
کشمیر کی اجتماعی قبریں، 2008ء میں انسانی حقوق کمیشن نے ایسی قبروں کا انکشاف کیا جہاں نامعلوم افراد کی 2700 لاشیں پائی گئیں، مگر آج تک سچ مکمل سامنے نہیں آیا۔
یہ محض ایک کیس نہیں، ایک سوال ہے! دھرمستھلا کا یہ معاملہ صرف ایک مذہبی ادارے کی بدنامی کا باعث نہیں، بلکہ یہ سب کے ضمیر، انصاف، انسانیت، اور حق گوئی کے دعوؤں کا امتحان ہے۔ اگر ہم نے اسے محض ایک "خبر” سمجھ کر اگلے صفحے کی جانب بڑھا دیا، تو کل جب تاریخ ہمارے دروازے پر دستک دے گی، ہمارے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ یہ صرف چار سو لاشیں نہیں، یہ 400 سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہم سے مانگے گا۔ کیا ہم اُس وقت بھی خاموش رہیں گے؟
یہ واقعات ملک میں ذات پات، مذہب، خواتین کے تحفّظ اور عدلیہ کے کردار جیسے کئی اہم اور حساس مسائل پر سوال اٹھاتا ہے۔ تحقیقات کے نتائج نہ صرف متاثرین کے لیے انصاف کا دروازہ کھول سکتے ہیں بلکہ پورے نظام کو آئینہ بھی دکھا سکتے ہیں۔
اسلام کا نظامِ عدل صرف عدالتوں کی چہار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہر فرد کے دل و دماغ میں ایک بیدار ضمیر کو بٹھاتا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: ظلم قیامت کے دن اندھیری گھاٹیوں کی صورت اختیار کرے گا۔ (بخاری، مسلم)۔ دھرمستھلا جیسے سانحات پر خاموشی اختیار کرنا صرف اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ انسانی غفلت ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم ظالموں کی طرف جھکاؤ بھی نہ رکھو، ورنہ تمہیں بھی آگ چھو لے گی (سورۃ ہود: 11:113)۔ یہ آیت ہم سب کے لیے تنبیہ ہے کہ ظلم پر خاموشی بھی شراکت کے مترادف ہے۔
دھرمستھلا کی گمنام لاشیں ہمیں پکار رہی ہیں ان کی پکار سننا صرف پولیس، عدالت یا تحقیقاتی اداروں کا فرض نہیں بلکہ بحیثیت اُمّتِ مسلمہ ہماری بھی اخلاقی و ایمانی ذمّہ داری ہے۔ کیونکہ ایک جگہ رسولﷺ نے فرمایا: سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔ (سنن نسائی)۔ ان نامعلوم، بے زبان عورتوں، بچیوں اور انسانوں کی لاشیں دراصل ہماری سماجی بے حسی اور مذہبی ادارہ جاتی زوال کا ماتم ہیں۔ اگر ہم خاموش رہے، تو کل جب ہمارا نام بھی کسی گمنام قبر پر لکھا جائے گا، تو شاید ہمیں بھی کوئی آواز دینے والا نہ ملے۔
اے اللّٰہ! ہمیں مظلوم کا ساتھ دینے والوں میں بنا، اور سچ کہنے کی ہمت عطاء فرما اگرچہ وہ ہمارے خلاف ہی ہو۔ ہمیں بصیرت دے کہ ہم ظلم کو پہچان سکیں اور طاقت دے کہ اس کا مقابلہ کریں، جس طرح تو چاہے، اور جیسے تو پسند فرمائے۔ بے شک تُو ہر چیز پر قادر ہے۔
(30.07.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...