ریپ: فرد کا گناہ یا نظام کی ناکامی؟
(اول و دوم)
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون 09422724040
ہمارے معاشرے میں جنسی جرائم، بالخصوص ریپ کے واقعات، ایک نہایت حساس، ہولناک اور مسلسل بگڑتے ہوئے المیے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ صرف چند افراد کا اخلاقی انحطاط نہیں بلکہ ایک پورے سماجی و فکری نظام کی ناکامی کا مظہر ہے۔ بدقسمتی سے، ایسے واقعات اس وقت میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں جب کسی معصوم جان پر ظلم کی لرزہ خیز داستان عام ہوجاتی ہے، ورنہ عام حالات میں یہ مسئلہ ایک غیر اہم موضوع سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی اندوہناک واقعہ سامنے آتا ہے، تب سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور دانشوروں کے حلقے شور مچاتے ہیں۔ حکومتی نمائندے چند مذمتی بیانات جاری کرتے ہیں، تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، اور چند روز بعد سب کچھ بھول بھال کر پھر معمول کی بےحسی کی طرف لوٹ آتے ہیں، جیسے کسی انسانی المیے نے کبھی جنم ہی نہ لیا ہو۔
معاشرے میں ایک مخصوص طبقہ جو خود کو جدّت پسند، لبرل اور سماجی انصاف کا علمبردار سمجھتا ہے، اس مسئلے کی جڑ معاشرتی ڈھانچے میں مردانہ بالادستی کو قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق مرد، عورت کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھ کر ایک جنسی شے کی صورت دیکھتا ہے، اور جب اس کی "خواہشات” کو قانونی یا اخلاقی رکاوٹیں روکنے سے قاصر ہوں، تو وہ عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے۔ یہ طبقہ دعویٰ کرتا ہے کہ ریپ کا عریانی یا فحاشی سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ صرف طاقت، اختیار اور صنفی عدم مساوات کا مسئلہ ہے۔ ان کے نزدیک عورت کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی حدود کے بارے میں مکمل خودمختاری رکھے، حتیٰ کہ اگر وہ نکاح جیسے مذہبی و اخلاقی بندھن کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنا چاہے تو یہ اُس کا ذاتی حق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص سماج میں بڑھتی ہوئی عریانی، مغرب زدہ ثقافتی یلغار یا خواتین کے لباس و طرزِ زندگی کے متعلق خدشات ظاہر کرتا ہے، تو اُسے فوراً "ریپسٹ مائنڈ سیٹ” کا حامل قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایسے شخص کو گویا مجرم کے ساتھ کھڑا کر دیا جاتا ہے، اس کی نیت کو مشکوک بنا دیا جاتا ہے اور اس کی دلیل کو بغیر سنے رد کر دیا جاتا ہے۔ مگر جب ہم اس بیانیے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ یہ محض سطحی تجزیہ ہے جو حقیقت کے صرف ایک محدود پہلو کو بیان کرتا ہے۔ اس میں نہ تو انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، نہ ہی معاشرتی و دینی اقدار کی معنویت کو۔ یہ بیانیہ مغرب کی اُس لبرل فکر سے ماخوذ ہے جو انسان کو ایک "آزاد اکائی” مان کر ہر قسم کی اخلاقی، مذہبی اور سماجی حدود سے ماورا دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ نظریہ جو فرد کو کامل خودمختار مان کر فطری خواہشات کو آزادی کا نام دیتا ہے، درحقیقت تہذیبی انارکی کا پیش خیمہ ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اگر دیکھا جائے، تو انسان کی خواہشات اور جبلّتوں کا انکار نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں ایک پاکیزہ، مہذب اور ذمّہ دارانہ راستہ دیا گیا ہے، وہ ہے نکاح کا ادارہ۔ اسلام نے مرد و عورت کے تعلق کو نہ صرف اخلاقی دائرہ عطا کیا بلکہ ایک ایسا سماجی نظام بھی فراہم کیا جو ان تعلقات کو معاشرتی فلاح، خاندان کی بنیاد اور باہمی عزّت و محبت پر استوار کرتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ عریانی، فحاشی، بے حیائی اور مغربی طرزِ زندگی کا ان بڑھتے ہوئے جرائم سے کوئی تعلق نہیں، ایک خطرناک خود فریبی ہے۔ انسانی فطرت جب مسلسل اشتعال انگیزی، برہنگی اور اخلاقی انارکی سے دوچار ہو، تو خواہش کی سرکشی کسی نہ کسی مقام پر قانون و اخلاق کی تمام حدود توڑ دیتی ہے۔ ایسے میں صرف "صنفی مساوات” کی رٹ لگانا یا "مردانہ ذہنیت” کو کوسنا حل نہیں بلکہ خود احتسابی، اقدار کی بحالی، اور معاشرتی اصلاح کی ضرورت ہے۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ عورت محفوظ ہو، تو ہمیں اس بحث کو محض نعروں اور جذباتی الزامات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ہمیں ایک جامع اور متوازن حکمتِ عملی درکار ہے، جو فرد کی تربیت، سماج کی تنظیم، قانون کی عملداری اور دینی اخلاقیات کے احیاء پر مبنی ہو۔ اس کے بغیر یہ المیہ بڑھتا ہی جائے گا، اور ہم ہمیشہ کی طرح وقتی جذباتی شور شرابے کے بعد پھر اسی خاموشی اور غفلت میں لوٹ جائیں گے، جہاں مسئلہ موجود تو ہوتا ہے، مگر احساسِ زیاں مفقود ہوتا ہے۔
فہمِ انسانی فطرت: معاشرتی جرائم کی تہہ میں جھانکنے کی پہلی شرط
اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم، بالخصوص جنسی تشدد اور ریپ جیسے المناک مظاہر کی درست تفہیم حاصل کریں اور ان کے سدباب کے لیے کوئی مؤثر اور پائیدار راہ تلاش کر سکیں، تو سب سے پہلے ہمیں انسانی فطرت اور معاشرتی تشکیل کے بارے میں ایک گہری، غیر متعصب اور فطری بصیرت حاصل کرنا ہوگی۔ انسان، خواہ مرد ہو یا عورت، کسی حادثاتی یا اندھی قوت کا نتیجہ نہیں، بلکہ اُس علیم و خبیر خالق کی ایک باحکمت تخلیق ہے جس نے اپنی مخلوق کو ایک معین فطرت پر پیدا کیا ہے۔ قرآنِ مجید اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ وہی فطرتِ الٰہی ہے جس پر اُس نے انسانوں کو پیدا فرمایا” (الروم: 30)۔
انسان کی یہی فطرت اُس کی شخصیت، اُس کے رجحانات، اور اُس کے سماجی کردار کا نقطۂ آغاز ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انسانی بقاء اور تمدنی تسلسل کے لیے مرد و عورت کے درمیان فطری کشش پیدا فرمائی اور اسی کشش کے تحت دونوں کے ملاپ کو نسلِ انسانی کے جاری رہنے کا ذریعہ بنایا۔ مرد و عورت میں بہت سے حیاتیاتی، جذباتی اور نفسیاتی فرق ہونے کے باوجود، دونوں کی تخلیق میں ایک بنیادی وحدت پائی جاتی ہے وہ یہ کہ دونوں صاحبِ عقل، صاحبِ شعور اور ارادے کے مالک ہیں۔ ہر انسان سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے، ترجیحات طے کرتا ہے، اور پھر انہی ترجیحات کی روشنی میں عمل کرتا ہے۔ اسی لیے یہ بات قطعی مسلمہ ہے کہ انسان کا عمل اس کی فکر کا نتیجہ ہوتا ہے، اور جب فکر مسخ ہوجائے تو عمل میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
اسی انسانی فطرت کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خالقِ کائنات نے انسان کو بعض ایسی بنیادی ضروریات کے ساتھ پیدا کیا ہے جنہیں پورا کیے بغیر اس کا وجود ممکن نہیں۔ ان ضروریات میں کھانے پینے، سانس لینے اور رفع حاجت جیسے افعال شامل ہیں۔ ان کا انکار یا ترک ممکن ہی نہیں، اور نہ ہی کوئی انسان ان سے مستثنیٰ ہے۔ تاہم، ان بنیادی حیاتیاتی تقاضوں کے علاوہ انسان میں کچھ ایسی جبلتیں بھی رکھی گئی ہیں جو زندگی کے لیے ناگزیر تو نہیں، لیکن ان کے پورا نہ ہونے کی صورت میں انسان ایک اضطراب، بےچینی اور داخلی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔ جنسی جبلت انہی جبلتوں میں سے ایک ہے، جو نہ صرف انسان کی فطرت کا بنیادی حصّہ ہے بلکہ انسانی سماج کی ترتیب و استحکام کا بھی ایک ناگزیر عنصر ہے۔
یہ جبلت انسان کے جذبات، اس کی نفسیات، حتیٰ کہ اس کے خواب و خیالات تک پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ وہ سچائی ہے جس سے انکار نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی دانش مندانہ۔
یہ خالصتاً انسانی فطرت کا عطیہ ہے کہ انسان میں جنسی کشش پیدا کی گئی، اور یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت کا مظہر ہے کہ اس جبلت کو تسکین دینے کے لیے اس نے نکاح جیسے پاکیزہ، مہذب اور باقاعدہ راستے کا انتظام فرمایا، جو نہ صرف فرد کی اخلاقی تطہیر کرتا ہے بلکہ ایک مستحکم، محفوظ اور باوقار خاندان کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے جب انسان، اپنی خواہشات کو حدود سے آزاد کرنے لگتا ہے اور اس فطرتِ الٰہی سے بغاوت کرتا ہے تو پھر وہی جبلت جو معاشرتی حسن کی بنیاد بن سکتی تھی، فتنہ و فساد کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ ایسے میں جنسی تسکین کے غیر فطری اور غیر اخلاقی ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں، جو بالآخر ریپ، جنسی ہراسانی، بے راہ روی اور اخلاقی زوال جیسے جرائم کو جنم دیتے ہیں۔
یہ بات بخوبی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ انسانی جبلتوں کو دبانا ممکن نہیں، لیکن انہیں مہذب اور پاکیزہ طریقے سے قابو میں رکھنا اور صحیح راہ دکھانا فرد اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ جو معاشرہ اس فطری حکمت کو نظر انداز کرتا ہے، وہاں فکری انارکی، جنسی آزادی کے نام پر انتشار، اور بالآخر ظلم و زیادتی کی بھیانک شکلیں جنم لیتی ہیں۔ پس، اگر ہم انسانی فطرت کو، جیسا کہ وہ ہے، تسلیم کر کے اس کے مطابق ایک متوازن، اخلاقی اور دینی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں، تو ہم نہ صرف جرائم کی روک تھام کر سکتے ہیں بلکہ ایک ایسے تمدّن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو انصاف، عفت اور فطرت کی ہم آہنگی پر قائم ہو۔
جبلت، آزادی اور معیارِ راستی: فطرتِ انسانی کا اخلاقی امتحان
اللّٰہ ربّ العزّت! نے انسان کو محض ایک جسمانی ڈھانچے کے طور پر تخلیق نہیں کیا، بلکہ اُسے ایک متوازن فطرت، شعور، ارادہ اور بلند اقدار کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ انسان کے وجود میں اللّٰہ تعالیٰ نے مختلف جبلتیں (instincts) رکھیں، جو اُس کی فطری محرکات ہیں۔ ان جبلتوں کے بغیر نہ صرف انسانی زندگی نامکمل ہوتی ہے بلکہ خود انسان کی فطرت بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ ان جبلتوں میں سے تین بنیادی جبلتیں ایسی ہیں جو ہر انسان میں فطری طور پر پائی جاتی ہیں:
1. جبلّتِ بقاء (Survival Instinct) — جو انسان کو اپنی زندگی، آرام، تحفظ اور آسائشوں کے لیے متحرک رکھتی ہے؛
2. جبلّتِ تناسل (Procreation Instinct) — جو مرد و عورت کے درمیان کشش اور نسل انسانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے؛
3. جبلّتِ تدیُّن (Reverence Instinct) — جو انسان کو کسی بلند تر ہستی کی جستجو، پرستش اور روحانی تسکین کی طرف راغب کرتی ہے۔
یہ تینوں جبلّتیں اللّٰہ کی تخلیقی حکمت کا شاہکار ہیں۔ مگر ان جبلتوں کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی تسکین کے جائز و ناجائز، صحیح و غلط، پاکیزہ و فاسد طریقوں کی بھی رہنمائی عطا فرمائی ہے۔
یہ ممکن ہی نہیں کہ خالق، جو حکیم مطلق ہے، وہ انسان میں کوئی فطرت تو پیدا کرے مگر اس کے اظہار کا جائز راستہ نہ بتائے۔ وہ ربّ جس نے بھوک پیدا کی، اُس نے رزق بھی پیدا کیا اور ساتھ ہی حلال و حرام کی تمیز بھی سکھائی۔ وہ ربّ جس نے انسان میں جنسی رغبت رکھی، اُس نے اس کا طیب و پاکیزہ طریقہ بھی سکھایا یعنی نکاح، جو نہ صرف جسمانی تعلق کا ایک باعزّت ذریعہ ہے بلکہ روحانی ہم آہنگی، محبت، سکون اور خاندان کی بنیاد کا سرچشمہ بھی۔ یہ کہنا کہ چونکہ انسان میں کوئی جبلت موجود ہے، لہٰذا وہ جس انداز میں چاہے، جب چاہے اور جس سے چاہے، اُس جبلت کی تسکین کرے یہ ایک انتہائی سطحی، فکری طور پر ناپختہ اور تباہ کن تصور ہے۔
ذرا سوچیے، کیا بقاء کی جبلّت کے تحت کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اُسے آسائشیں درکار ہیں، اس لیے وہ چوری کرے، ذخیرہ اندوزی کرے، یا منشیات فروشی جیسے حرام ذرائع سے دولت کمائے؟ ظاہر ہے کہ کسی بھی مہذب، اخلاقی یا قانونی نظام میں ایسی آزادی کو قبول نہیں کیا جاتا۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: جب دیگر جبلّتوں کی تسکین پر اصول، قانون اور اخلاقی حدود عائد کی جا سکتی ہیں، تو جنسی جبلّت اس استثنا کی مستحق کیوں؟
مزید برآں، اگر ہم لبرل ازم کے اس دعوے کو مان بھی لیں کہ "دو بالغ افراد اپنی باہمی رضامندی سے جس طرح چاہیں اپنی جبلّت پوری کرنے کے لیے آزاد ہیں”، تو یہ اصول کہاں جا کر رُکے گا؟ کیا اس اصول کی رو سے ایک مرد اور عورت نکاح کے بغیر، فقط ایک اجرت یا وقتی تعلق پر راضی ہو کر "جائز” تعلق بنا سکتے ہیں؟ کیا ہم جنس پرستی، خواجہ سراؤں کے ساتھ جنسی تعلق، یا حتیٰ کہ انسانی و حیوانی تعلق کو بھی محض باہمی رضامندی کی بنیاد پر درست مانا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو پھر یہ سوال بھی اٹھے گا: کیا ایک شخص ملکی راز فروخت کرنے پر بھی آزاد ہے اگر وہ اور دوسرا فرد "رضامند” ہوں؟ یقیناً نہیں! کیونکہ ایسی آزادی اجتماعی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ پس، اگر اجتماعی امن اور قومی مفاد کے لیے ہم کچھ آزادیوں پر قدغن لگانا تسلیم کرتے ہیں تو انسانی معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کے تحفظ کے لیے بھی کچھ حدود و قیود ناگزیر ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں لبرل ازم کی خودساختہ آزادی کا فلسفہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ ایک طرف وہ انسان کی فطری آزادی کی دہائی دیتا ہے، اور دوسری طرف وہ ان جبلّتوں کے اظہار پر کسی اخلاقی معیار کو لاگو کرنے سے گریز کرتا ہے۔ نتیجتاً معاشرہ اس راہ پر چل نکلتا ہے جہاں جرم، بےحیائی، استحصال اور درندگی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور آخرکار وہی انسان جو آزادی کا علمبردار تھا، ظلم کا پجاری بن جاتا ہے۔ پس، اصل سوال یہ ہے کہ جبلّت کی تسکین کا معیار کیا ہوگا؟ جواب سادہ ہے: وہی معیار جو خالقِ فطرت نے مقرر فرمایا یعنی ایسا طریقہ جو نہ صرف فرد کی نفسیاتی اور جسمانی تسکین کرے بلکہ معاشرے کی اخلاقی فضاء کو بھی محفوظ رکھے، خاندان کے ادارے کو برباد نہ کرے، عزّت و عفت کو پامال نہ کرے، اور انسانیت کی قدروں کو پامال نہ کرے۔ یہی راستہ شریعت نے دکھایا ہے وہ شریعت جو فطرت سے ہم آہنگ بھی ہے، اور حکمت سے معمور بھی۔
معیارِ خیر و شر: فطرت، عقل اور وحی کی تکون میں انسانی کردار
جب ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بقاء اور فلاح کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی واضح اور متفقہ معیار کے مطابق طے کرے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، تو فطری طور پر یہ سوال جنم لیتا ہے کہ: "یہ معیار طے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہو؟” اور "کیا ان معیارات کے تعین میں اس کائنات کے خالق کا کوئی کردار ہے یا نہیں؟”۔ یہ سوال محض عقلی نہیں، بلکہ وجودی (existential) ہے کیونکہ اگر انسان اس کائنات میں محض ایک خود رو، اتفاقی مخلوق ہے، اور اس کا کوئی خالق نہیں، تو پھر "درست” اور "غلط” کی کوئی مطلق بنیاد بھی نہیں بچتی۔ ہر شخص اپنی خواہشات، مفادات یا تجربات کی روشنی میں اپنی الگ اخلاقیات وضع کرے گا۔ مگر اگر یہ کائنات ایک باحکمت خالق کی تخلیق ہے، تو لازم ہے کہ اسی خالق کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرے کیونکہ وہی سب سے بہتر جانتا ہے کہ اُس کی تخلیق کی فطرت کیا ہے، اُس کی حاجات کیا ہیں، اور ان حاجات کو کیسے پورا کیا جانا چاہیے۔
یہی اصول قرآنِ حکیم نے ایک مختصر مگر پر معنیٰ آیت میں بیان کر دیا: "أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ؟ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ”۔ "بھلا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا، حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے؟” (الملک: 14)۔ خالق، چونکہ علیم و خبیر ہے، اس لیے وہی انسان کی جبلّتوں کو بھی جانتا ہے اور ان کے صحیح استعمال کا ضابطہ بھی عطا کرتا ہے۔ وہی بتاتا ہے کہ کہاں "جبلّت” کا بہاؤ رکنا چاہیے، کہاں اس کی رہنمائی کی جانی چاہیے، اور کہاں اس کے لیے جائز راہیں کھولنی چاہییں۔
انسانی فطرت کے مشاہدے سے یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ انسان کی عضویاتی حاجات (جیسے بھوک، پیاس، سانس لینا) مستقل اور اندرونی محرکات سے ابھرتی ہیں۔ ایک شخص کو بھوک لگے گی، خواہ کھانا سامنے ہو یا نہ ہو؛ پیاس محسوس ہوگی، چاہے پانی دکھائی دے یا نہ دے۔ یہ تقاضے کسی بیرونی محرک کے محتاج نہیں بلکہ خود جسم کا داخلی نظام انہیں مسلسل متحرک رکھتا ہے۔ لیکن انسان کی جبلّتیں، جیسا کہ جنسی جبلّت، جبلّتِ تدیُّن (روحانی میلان) یا جبلّتِ اولاد، ان کا ابھار عمومی طور پر کسی بیرونی محرک (stimulus) سے جُڑا ہوتا ہے۔ ان جبلّتوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جب محرک موجود ہو تو جبلّت بیدار ہو جاتی ہے؛ جب محرک ہٹ جائے تو اس کی شدت وقتی طور پر مدھم پڑ جاتی ہے؛ لیکن اگر یہ جبلّت مسلسل غیر تسکین یافتہ رہے تو انسان کے اندر ایک داخلی بے چینی، اضطراب اور خلاء پیدا ہوتا ہے جو اس کی زندگی کی معنویت کو متاثر کرتا ہے۔
مثلاً، ایک بے اولاد شخص جب کسی ماں کو اپنے بچّے سے لپٹتے، اسے چومتے یا لوریاں دیتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر اولاد کی طلب شدّت اختیار کر لیتی ہے۔ لیکن وہی شخص اگر کچھ وقت تک ایسے مناظر سے دُور رہے، تو اس کی جذباتی شدّت کم ہو جاتی ہے مگر دل کی گہرائیوں میں ایک مستقل ادھورا پن، ایک خلاء باقی رہتا ہے۔ بعینہٖ یہی معاملہ جنسی جبلّت کا بھی ہے۔ یہ جبلّت اس وقت شدّت اختیار کرتی ہے جب انسان کو کوئی جسمانی منظر، صوتی محرک، فلم، تصور، یا حتیٰ کہ ایک خیال جنسی زاویے سے متأثر کرتا ہے۔ یہ محرک خواہ خارجی ہو یا خیالی، یہ جبلّت کو بھڑکا دیتا ہے، اور انسان اس کی تسکین کے لیے راہ تلاش کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ جبلّت کیوں بھڑکی، سوال یہ ہے کہ "اس کی تسکین کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟”۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں اخلاق، قانون، شریعت اور انسانی فطرت ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر راستہ متعین کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں "آزادی” اور "ذمّہ داری” میں توازن پیدا کیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں "خالق کی رہنمائی” کو قبول نہ کرنا انسان کو حیوانیت، سفاکی اور نفس پرستی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اس لیے یہ طے کرنا کہ "کسی جبلّت کی تسکین کا طریقہ درست ہے یا نہیں”، یہ محض فرد کی مرضی پر چھوڑ دینا معاشرتی بگاڑ، ذہنی خلفشار اور اخلاقی زوال کی راہ ہموار کرنا ہے۔ درست راستہ صرف وہی ہے جو فطرت کے مطابق، عقل سے ہم آہنگ، اور وحی کی رہنمائی میں طے پاتا ہے۔ ایسی ہی رہنمائی میں انسان کو سکون ملتا ہے، معاشرہ امن پاتا ہے، اور جبلّتیں اپنی تسکین کے ساتھ ساتھ اخلاقی رفعت کا ذریعہ بن جاتی ہیں نہ کہ بے راہ روی اور جرم کا محرک۔
فطرت، تصور اور معاشرتی نظم: جنسی جرائم کی فکری جڑیں
انسان محض گوشت، خون اور ہڈیوں کا مرکب نہیں۔ وہ ایک باشعور، فکرمند اور اقدار پر مبنی مخلوق ہے، جس کی شخصیت کا خمیر صرف جبلّتوں سے نہیں، بلکہ افکار، تصورات، عقائد اور معاشرتی شعور سے تیار ہوتا ہے۔ انسانی فطرت کی ایک نہایت اہم حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تصورات اس کی جبلّتوں کی سمت اور نوعیت کو متعیّن کرتے ہیں۔ انسان صرف محسوس نہیں کرتا، بلکہ پہلے سوچتا ہے، اور پھر وہی سوچ اس کی میلانات، خواہشات اور افعال کو صورت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مہذب، بااخلاق اور دینی شعور سے آراستہ انسان کے لیے اپنی والدہ، بہن یا بیٹی کے متعلق کسی بھی قسم کا جنسی خیال یا رجحان ایک نہ صرف مکروہ، بلکہ ناقابل تصور فعل ہے۔ یہ فقط حیاتیاتی جبلّت کا دباؤ نہیں جو اسے روکتا ہے، بلکہ وہ نظری تصورات، اخلاقی حدود، اور دینی تعلیمات ہیں جو اُس کے ذہن و دل پر اس قدر نقش ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ ایسے کسی خیال کو گناہ ہی نہیں، حرام اور غیر انسانی سمجھتا ہے۔
یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں رشتوں کی حرمت، جنس کی پاکیزگی، اور تعلقات کے اخلاقی اصول مضبوطی سے قائم ہوں، تو انسان کی فطری خواہشات بھی ایک مہذب سانچے میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہی وہ فکری دیوار ہے جو درندگی اور شرافت کے درمیان فرق قائم کرتی ہے۔ مگر جب کسی معاشرے میں یہ بنیادیں متزلزل ہونے لگتی ہیں جب لبرل ازم، فریڈم ازم، اور نفس پرستی کے نظریات یوں پروان چڑھتے ہیں کہ ہر خواہش کو ایک حق اور ہر میلان کو ایک "ذاتی فیصلہ” مانا جانے لگے تو پھر انسان کے اندر کی حیوانی جبلّت کو روکنے والا کوئی بند باقی نہیں رہتا۔
جب یہ سوچ رواج پا جائے کہ "زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لذّت حاصل کرنا ہے”, "انسان مکمل آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارے”, اور "کوئی بھی اخلاقی پابندی فرد پر زبردستی نہیں تھوپی جا سکتی”, تو یہ نظریاتی فضا انسان کو نہ صرف گمراہ کرتی ہے بلکہ اس کی جبلّتوں کو گمراہی کی سمت ہانکنے لگتی ہے۔ ایسے ماحول میں فرد جب کسی بصری، سمعی یا تخیّلی جنسی محرک کا سامنا کرتا ہے مثلاً نیم برہنہ اشتہارات، عریاں لباس، جنسی موضوعات پر فلمیں، یا شہوانی گفتگو تو اس کی جبلّت بیدار ہوتی ہے، اور اگر اس کے پاس کوئی اخلاقی ڈھال، نظریاتی سدِّباب یا دینی تربیت موجود نہ ہو، تو وہ شہوت کی پیروی کو اپنا فطری اور جائز ردّعمل سمجھنے لگتا ہے۔
یوں، اگر ہم گہرائی سے جنسی جرائم کا فکری تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ریپ اور اس جیسے دیگر جنسی جرائم کے پیچھے دو بڑے بنیادی محرکات کارفرما ہوتے ہیں:
1. بیرونی محرکات (External Stimuli):
یہ وہ عوامل ہیں جو براہِ راست انسان کی جنسی جبلّت کو ابھارتے ہیں مثلاً فحش مواد، اشتعال انگیز لباس، غیر محتاط مخلوط میل جول، میڈیا پر عریانی و فحاشی کی ترغیب، اور جنسی آزادی کی تہذیبی ترویج۔یہ محرکات جبلّت کو فقط "بیدار” نہیں کرتے، بلکہ بعض صورتوں میں اسے "بے قابو” کر دیتے ہیں خاص طور پر اُس شخص کے لیے جسے دینی تعلیم، شعورِ تقویٰ یا معاشرتی نظم نے کسی مضبوط سانچے میں نہ ڈھالا ہو۔
2. تصورات کی بگاڑ (Conceptual Disorder):
یہ زیادہ خطرناک اور گہرا محرک ہے۔ جب انسان کے ذہن میں تعلقات کی نوعیت، مرد و عورت کے رشتے، آزادی کی حدود، اور خواہش و اخلاق کی تفہیم بگڑ جاتی ہے، تو وہ حرام کو حلال، ظلم کو حق، اور خواہش کو اصول سمجھنے لگتا ہے۔ ایسا انسان پھر صرف جنسی تسکین نہیں چاہتا، بلکہ وہ اپنی "آزادی” کے نام پر دوسروں کی حرمت پامال کرنے کو بھی ایک ذاتی حق سمجھ لیتا ہے اور یہیں سے ریپ جیسے جرائم جنم لیتے ہیں۔
لہٰذا اگر ہم واقعی معاشرے کو جنسی جرائم، استحصال، اور اخلاقی زوال سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو صرف قانونی سزائیں یا وقتی مذمتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ ہمیں: معاشرے میں تعلقات کی نوعیت کے متعلق درست تصورات کی تعلیم دینی ہوگی، رشتوں کی حرمت، عزّت، حیاء اور حدودِ تعلقات کے اصولوں کو ازسرِنو مستحکم کرنا ہوگا، اور افراد کے ذہن و قلب میں وہ نظریاتی بنیادیں راسخ کرنا ہوں گی جو ان کی جبلّتوں کو مہذب، متوازن اور پاکیزہ سانچوں میں ڈھال سکیں۔ یہی وہ فکری و تربیتی عمل ہے جو صرف فرد کو نہیں، بلکہ پورے معاشرے کو انسانیت، تہذیب اور دین کا پروردہ بناتا ہے اور وہی اصل دفاع ہے جو انسان کو حیوان بننے سے روکتا ہے۔
جنسی جرائم اور تہذیبی زوال: مغربی بنیادیں، مسلم معاشروں کا بحران اور اسلامی حل
یہ محض ایک اتفاق نہیں کہ جنسی جرائم، بالخصوص ریپ جیسے لرزہ خیز واقعات، سب سے زیادہ اُن معاشروں میں دیکھے جاتے ہیں جہاں "شخصی آزادی” کو زندگی کا سب سے اعلیٰ نصب العین قرار دیا گیا ہے۔ مغربی دنیا، جس نے خدا کے وجود اور آسمانی ہدایت کی نفی کر کے انسان کو خود اپنی خواہشات کا خدا بنا لیا، وہی اب ان سماجی جرائم کا سب سے بڑا گڑھ بن چکی ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں مرد و عورت کے تعلق کو کسی بھی اخلاقی یا شرعی ضابطے کا پابند نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں ایک فرد کی جنسی جبلّت کو جس قدر بھڑکانے والے بیرونی محرکات موجود ہیں، اُتنا ہی نظریاتی سطح پر یہ تعلیم بھی دی جا رہی ہے کہ "جو تمہیں اچھا لگے، وہی کرو!”۔ اس کے نتیجے میں فرد محض ایک آزاد حیوان میں ڈھل گیا ہے، جو جسمانی لذّت کے تعاقب کو زندگی کا مقصد اور کسی بھی اخلاقی یا رشتے دارانہ حدبندی کو ایک "رکاوٹ” تصور کرتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر مغرب کی بےخدائی، شخصی آزادی، اور لذت پرستی کی تہذیب ہی ان جرائم کا منبع ہے تو پھر وہ ممالک، جہاں اکثریت مسلمان ہیں، وہاں بھی ایسے جرائم میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب واضح ہے: اگرچہ ان معاشروں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، مگر نظامِ زندگی اسلامی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی بیشتر ریاستوں میں آج بھی وہی استعماری نظامِ حکومت، قانون، معیشت، عدل، اور تعلیم جاری و ساری ہے جو انگریز یا دیگر نوآبادیاتی قوتیں چھوڑ گئی تھیں۔ اسلام بطور ایک مکمل نظام، آج بھی ان معاشروں میں غیر فعال، منقسم اور جزوی حیثیت میں موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک طرف شرعی سزاؤں کی بات کی جاتی ہے، مگر عدالتی نظام مغرب سے درآمد شدہ ہے، پردے اور حجاب کی تلقین کی جاتی ہے، مگر تعلیمی اداروں میں لبرلزم کی تعلیم دی جاتی ہے، اسلامی اقدار کی بات کی جاتی ہے، مگر میڈیا پر مغربی کلچر کی ترویج ہو رہی ہوتی ہے۔ یوں ایک طرف شرعی شعائر کی ظاہری موجودگی ہے، تو دوسری طرف نظامِ فکر و عمل مغرب کا مرہونِ منت ہے۔ یہ تضاد، یہ فکری کشمکش، خود مسلم معاشروں کے اندر الجھن، انتشار، اور اخلاقی زوال کو جنم دے رہی ہے۔
جزوی نفاذ نہیں، بلکہ کامل نظام درکار ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر صرف خواتین کو پردے کا پابند بنا دیا جائے یا محض اسلامی سزائیں نافذ کر دی جائیں تو معاشرہ پاکیزہ ہو جائے گا۔ لیکن یہ تصور اسلام کے مزاج کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی ہے۔ اسلام ایک جامع نظامِ حیات ہے، جس کے احکامات ایک دوسرے سے جُدا اور خود مختار نہیں، بلکہ باہم مربوط اور ایک وحدت کی شکل میں کارفرما ہوتے ہیں۔ اسلامی سزائیں تب مؤثر ہوتی ہیں جب معاشرت، تعلیم، معیشت اور سیاست سب ایک اسلامی سانچے میں ڈھلے ہوں۔ پردے کا حکم تب مؤثر ہوتا ہے جب میڈیا، اشتہار، نصاب اور معاشرتی رجحانات عفت اور حیاء کے اصولوں پر قائم ہوں۔
اسلام کسی ایک شعبے میں "اسلامی رنگ” بھرنے کو انقلاب نہیں سمجھتا۔ یہ وہ دین ہے جو کلی تبدیلی کا داعی ہے ایسی تبدیلی جو فرد سے ریاست، اور ریاست سے عالمی نظام تک ہر سطح پر عدل، طہارت، توازن اور فطرت کے اصولوں کو نافذ کرے۔ چنانچہ جنسی جرائم، سماجی بگاڑ، اور تہذیبی زوال کا واحد حقیقی حل یہ ہے کہ ہم صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ اسلام کے پیروکار بنیں؛ مغرب کے چھوڑے ہوئے قانونی، تعلیمی، عدالتی، اور معاشی سانچوں کو یکسر اکھاڑ پھینکیں؛ اور ان کی جگہ ایک مکمل، ہمہ گیر اسلامی نظامِ زندگی کو رائج کریں جو وحی پر مبنی ہو، عقل سے ہم آہنگ ہو، اور فطرت سے موافق ہو۔ ایسا معاشرہ ہی درحقیقت وہ "خیر اُمّت” ہوگا جو دنیا کے سامنے عفت، عدل، امن اور تہذیب کا عملی نمونہ بن سکے گا ایک ایسا معاشرہ جس میں نہ صرف ریپ جیسے جرائم کا سدباب ممکن ہو گا، بلکہ انسان کو انسان رہنے کی ضمانت بھی حاصل ہوگی۔
(05.08.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
#Rape, #individual, #failure, #system, #RapeAwareness, #SystemicFailure
